Class 9 Urdu Jamuna Chapter 1 Panchayat Solutions (NCERT 2026–27) – پنچایت

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 1 ‘Panchayat’ (پنچایت) – a famous afsana (short story) by Munshi Premchand – with author intro, a key excerpt, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، عبارت کی تفہیم، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، اقتباس کے سوالات), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے پہلے سبق ’پنچایت‘ کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 1 صنف: افسانہ (Afsana) ادیب: منشی پریم چند Session: 2026–27

سبق کا تعارف (Chapter Overview)

’پنچایت‘ منشی پریم چند کا ایک مشہور و معروف افسانہ ہے جو ان کے اسی نام کے افسانے ’پنچ پرمیشور‘ کا اردو روپ ہے۔ اس کہانی میں دیہی معاشرت، گاؤں کی پنچایت کے نظام اور سچائی و انصاف کی اخلاقی قدر کو نہایت سادہ اور دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کے دو مرکزی کردار الگو چودھری اور جمن شیخ ہیں جو ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔ جب ان میں سے ہر ایک باری باری پنچ (سرپنچ) کے عہدے پر بیٹھتا ہے تو وہ دوستی اور ذاتی مفاد کو بھلا کر صرف انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ افسانے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کی جگہ بیٹھ جاتا ہے، اِس لیے اُسے ذات، دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر صرف سچائی کا ساتھ دینا چاہیے۔

ادیب کا تعارف – منشی پریم چند (1880–1936)

منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کی پیدائش 1880ء میں بنارس کے قریب گاؤں لمہی میں ہوئی۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد انھوں نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت کی، مگر انگریزی دورِ حکومت میں سرکاری نوکری اُن کے حق پسند مزاج کے خلاف تھی، چنانچہ انھوں نے ملازمت ترک کر کے تصنیف و تالیف کو اپنا لیا۔ پریم چند کو اردو افسانے کا باقاعدہ بانی اور حقیقت نگاری کا سب سے بڑا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’سوزِ وطن‘ (1907) تھا۔ شروع میں وہ ’نواب رائے‘ کے نام سے لکھتے تھے، بعد میں ’پریم چند‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سو افسانے اور ایک درجن ناول لکھے، جن میں گؤدان، نرملا، بیوہ، گبن اور میدانِ عمل خاص طور پر مشہور ہیں۔ ان کی تحریروں میں ہندوستانی کسان اور دیہی سماج کے دکھ درد اپنی اصل صورت میں جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔ ان کا انتقال 1936ء میں ہوا۔

منتخب اقتباس (Key Excerpt)

(افسانے کا مرکزی پیغام بیان کرنے والا ایک منتخب اقتباس – پوری کہانی یہاں نقل نہیں کی گئی۔)

”پنچ نہ کسی کے دوست ہوتے ہیں نہ دشمن۔ جب آدمی پنچ کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو نہ اُس کا کوئی اپنا رہتا ہے، نہ پرایا۔ اُس وقت اُس کے دل میں نہ دوستی ہوتی ہے، نہ دشمنی – صرف انصاف اور سچائی ہوتی ہے۔ پنچ کی زبان سے خود خدا بولتا ہے۔“

خلاصہ (Summary)

الگو چودھری اور جمن شیخ گہرے دوست تھے – ہم خیال، ہم نوالہ و ہم پیالہ۔ جب کبھی کوئی جھگڑا یا فیصلہ آن پڑتا تو دونوں ایک دوسرے کی پنچایت میں نمایاں حیثیت رکھتے۔ جمن شیخ کی ایک بوڑھی خالہ تھیں جن کے پاس کچھ جائیداد تھی۔ جمن نے اُن سے تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کر کے جائیداد اپنے نام لکھوا لی۔ شروع میں خالہ کی خاطر تواضع ہوتی رہی، مگر جب جائیداد ہاتھ آ گئی تو خالہ کی خبرگیری بند ہو گئی اور اُن کے ساتھ بدسلوکی ہونے لگی۔ تنگ آ کر خالہ نے گاؤں میں پنچایت بٹھائی۔

پنچایت میں خالہ نے الگو چودھری کو سرپنچ مقرر کرنا چاہا۔ جمن کو یقین تھا کہ الگو اُس کا دوست ہے، اِس لیے فیصلہ اُسی کے حق میں ہوگا۔ مگر جب الگو پنچ کی کرسی پر بیٹھا تو اُس نے دوستی کو بھلا کر سچائی کا ساتھ دیا اور خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا کہ جمن یا تو خالہ کو روٹی کپڑا دے یا جائیداد واپس کرے۔ اِس فیصلے سے جمن دل ہی دل میں الگو کا دشمن ہو گیا اور دونوں کی پرانی دوستی میں دراڑ پڑ گئی۔

کچھ عرصے بعد الگو کا ایک بیل مر گیا اور اُسے اپنے دوسرے بیل کو سستے داموں بیچنا پڑا۔ خریدار نے بیل سے بہت کام لیا مگر چارہ پانی نہ دیا، جس سے بیل مر گیا۔ اب یہ معاملہ پنچایت میں پہنچا اور اتفاق سے اِس بار جمن شیخ سرپنچ بنا۔ الگو کو اندیشہ تھا کہ جمن پرانا بدلہ لے گا۔ مگر پنچ کی کرسی پر بیٹھتے ہی جمن کے دل سے دشمنی نکل گئی اور اُس نے بھی انصاف کے ساتھ الگو کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اِس کے بعد دونوں دوستوں کی دوستی پہلے سے بھی زیادہ گہری ہو گئی۔ افسانے کا پیغام یہی ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کا روپ ہو جاتا ہے اور اُسے ذات، دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر صرف سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔

Hindi gist: अलगू और जुम्मन गहरे दोस्त थे। पंच की कुर्सी पर बैठकर अलगू ने दोस्ती छोड़ बूढ़ी खाला के हक़ में फ़ैसला दिया; बाद में जुम्मन ने भी पंच बनकर अलगू के हक़ में न्याय किया। कहानी का संदेश — पंच की कुर्सी पर इंसान ख़ुदा बन जाता है, उसे सिर्फ़ सच और न्याय का साथ देना चाहिए।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظहिन्दी अर्थEnglish meaning
ہم مشربएक ही विचार/मत के लोगOf the same persuasion / like-minded
ہم نوالہ و ہم پیالہसाथ खाने-पीने वाले, घनिष्ठ मित्रClose friends (eat & drink together)
ہم خیالएक जैसी सोच रखने वालेOf one mind / agreeing
زانوے ادب تہہ کرناशागिर्दी करना, अदब से बैठनाTo become a disciple, sit respectfully
وعدہ و وعیدटाल-मटोल करनाEmpty promises / evasion
بہی خامہबिक्री का इक़रारनामा/दस्तावेज़Deed / written agreement of sale
اُدسرबंजर ज़मीन जिसमें कुछ पैदा न होBarren / fallow land
شرمندۂ منتएहसानमंद, ममनूनObliged / grateful
رسوخपहुँच, असरInfluence / standing
منطقतर्क, अक़्ली दलीलLogic / reasoning
دانستसमझ, ज्ञानUnderstanding / knowledge
ثقلِ سماعتसुनने में कठिनाई, बहरापनHardness of hearing / deafness
رضا جوئیमर्ज़ी, इजाज़त / प्रसन्न करनाSeeking consent / pleasing
تاحینِ حیاتज़िंदगी भर, जीते जीFor one’s whole life
سپرढाल, पनाहShield / shelter
رزم گاہयुद्ध का मैदानBattlefield
تنگ ظرفیओछापन, कम-ज़र्फ़ीNarrow-mindedness / pettiness
وارفتہआपे से बाहर, बेक़ाबूBeside oneself / overcome
سرپنچ / پنچपंचायत का मुखिया / पंचHead of the village council / arbiter
فریقینदोनों पक्ष (वादी-प्रतिवादी)Both parties to a dispute

تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)

’پنچایت‘ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ پنچ کا عہدہ ایک مقدس امانت ہے۔ جب کوئی شخص پنچ کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ کسی کا دوست رہتا ہے نہ دشمن، اور اُس کی زبان سے گویا خود خدا بولتا ہے، اِسی لیے اُسے ”پنچ پرمیشور“ کہا گیا ہے۔ افسانے میں پریم چند نے دو سچائیاں دکھائی ہیں: ایک یہ کہ سچائی اور انصاف ذاتی دوستی و دشمنی سے بلند ہیں – الگو نے دوست جمن کے خلاف اور جمن نے دشمن بن چکے الگو کے حق میں صرف انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ دوسری یہ کہ وقتی ناراضی سچے رشتوں کو ختم نہیں کرتی – جب دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کیا تو ٹوٹی ہوئی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ پریم چند نے دیہی پنچایت کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ سماج کا نظام دیانت، فرض شناسی اور انصاف پر قائم رہتا ہے۔

سوالات و مشق (Exercise)

سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لی گئی ہے؛ جوابات ClearStudy کے مولّفہ ہیں۔ (کتاب کے کئی حصے گروہی سرگرمی، تخلیقی اظہار، پروجیکٹ اور عملی کام پر مبنی ہیں، جن کا مارگ-درشن دیا گیا ہے۔)

سوچیے اور بتائیے

i. جمن کو پنچایت کے فیصلے سے متعلق کوئی اندیشہ کیوں نہیں تھا؟

جوابجمن کو اندیشہ اِس لیے نہیں تھا کیونکہ خالہ نے سرپنچ الگو چودھری کو مقرر کیا تھا، اور الگو جمن کا گہرا دوست تھا۔ جمن کو پورا یقین تھا کہ دوستی کی بنا پر الگو ضرور اُسی کے حق میں فیصلہ سنائے گا، اِس لیے وہ بے فکر تھا۔

ii. اگر اُس دن خالہ کے ساتھ انصاف نہ ہوتا تو کیا صورتِ حال ہوتی؟

جواباگر خالہ کے ساتھ انصاف نہ ہوتا تو ایک بے سہارا بوڑھی عورت اپنی ہی جائیداد سے محروم رہ جاتی اور روٹی کپڑے کو محتاج ہو جاتی۔ پنچ کی کرسی کی عزت مٹ جاتی، لوگوں کا پنچایت اور انصاف پر سے اعتبار اٹھ جاتا، اور یہ ثابت ہوتا کہ دوستی و رشوت کے آگے سچائی ہار جاتی ہے۔

iii. خالہ نے کیوں کہا کہ یہ تمنا کبھی کر نہیں سکتی؟

جوابخالہ بے سہارا، بوڑھی اور کمزور تھیں؛ اُن کے پاس نہ طاقت تھی نہ کوئی پشت پناہ۔ جمن نے اُن کا حق دبا لیا تھا، اِس لیے خالہ نے یہ کہا کہ وہ خود اپنا حق زبردستی نہیں لے سکتیں – اُن کی واحد اُمید پنچایت اور انصاف ہی ہے، اِسی لیے وہ پنچوں کے سامنے فریاد لے کر آئی ہیں۔

iv. الگو اور جمن کی دوستی کی بنیادیں کس وجہ سے ہل گئیں؟

جوابجب الگو سرپنچ بنا تو اُس نے دوستی کو بھلا کر خالہ کے حق میں، یعنی جمن کے خلاف فیصلہ سنایا۔ جمن کو یہ بات بہت بری لگی اور وہ اِسے دوستی سے غداری سمجھنے لگا۔ اِسی رنجش اور بدگمانی کی وجہ سے دونوں کی برسوں پرانی دوستی کی بنیادیں ہل گئیں۔

v. الگو کو کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ اُس کے حق میں فیصلہ نہیں ہو گا؟

جواببیل والے مقدمے میں اِس بار سرپنچ جمن شیخ بنا تھا، جو پہلے فیصلے کے بعد الگو کا دشمن بن چکا تھا۔ الگو کو ڈر تھا کہ جمن پرانا بدلہ لینے کے لیے اُس کے خلاف فیصلہ سنائے گا، اِسی لیے اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ اُس کے حق میں فیصلہ نہیں ہوگا۔

عبارت کی تفہیم

نیچے دی گئی سطروں کو سبق میں تلاش کیجیے اور اُن کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔

i. ”رجسٹری کی مہر پڑتے ہی خاطر داریوں پر مہر ہوگی۔“

مفہوممطلب یہ ہے کہ جیسے ہی جائیداد کی رجسٹری (دستاویز) جمن کے نام ہو گئی، اُسی لمحے سے خالہ کی خاطر مدارات اور خدمت ختم ہو گئی۔ غرض پوری ہوتے ہی جمن نے خالہ کی دیکھ بھال بند کر دی۔

ii. ”مجھے بھی رات دن کا ابال پسند نہیں۔“

مفہومیہاں ’رات دن کا ابال‘ سے مراد روزمرہ کے جھگڑے، شکوے شکایتیں اور کھٹ پٹ ہیں۔ کہنے والے کا مطلب ہے کہ اُسے ہر وقت کی لڑائی جھگڑا اور بے چینی پسند نہیں، وہ سکون اور صلح صفائی چاہتا ہے۔

iii. ”کہاں وہ مناز و نعمت، کہاں یہ آنکھیں پھیر کی پلٹ۔“

مفہوماِس میں خالہ کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کا نقشہ ہے – ایک طرف پہلے کی عزت، آرام اور خاطر تواضع تھی، اور اب آنکھیں پھیرنے یعنی بے رخی، بے توجہی اور بدسلوکی ہے۔ مطلب: حالات اور رویّہ یکسر بدل گئے۔

iv. ”جرح ہوئی، شہادتیں گزریں، فریقین کے مددگاروں نے بہت کھینچ تان کی۔“

مفہومپنچایت میں باقاعدہ مقدمے کی طرح کارروائی ہوئی – سوال جواب (جرح) ہوئے، گواہیاں پیش ہوئیں اور دونوں فریقوں کے حمایتیوں نے اپنے اپنے فریق کے حق میں خوب بحث و دلیل بازی کی۔

v. ”دوستی کا مرجھایا ہوا درخت پھر سے ہرا ہو گیا۔ اب وہ بیاہ کی زمین، حق اور انصاف کی زمین پر کھڑے تھے۔“

مفہومانصاف ہو جانے کے بعد الگو اور جمن کی ٹوٹی ہوئی دوستی دوبارہ تازہ ہو گئی۔ اب اُن کی دوستی محض دوستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سچائی، حق اور انصاف کی مضبوط بنیاد پر قائم تھی، اِسی لیے پہلے سے زیادہ پختہ ہو گئی۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے (طنز)

دیے گئے جملے پر غور کیجیے: ”خالہ نے تاک کر اشارہ مارا: بیٹا، کیا اگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟“ اِس جملے میں طنز کا پہلو نمایاں ہے۔ ایسا جملہ جو وضاحت یا طنز کے لیے لکھا یا بولا جائے، ’طنزیہ جملہ‘ کہلاتا ہے۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں طنز کا پہلو ہو۔

مارگ-درشن و نمونہ i. ”واہ! آپ تو بڑے انصاف پسند نکلے – دوست کے حق میں فیصلہ سنانا کوئی آپ سے سیکھے۔“ ii. ”خالہ کی خدمت تو ایسی ہو رہی ہے کہ بے چاری دو وقت کی روٹی کو ترس گئیں۔“ iii. ”جائیداد ہاتھ آتے ہی بھتیجے کی محبت بھی خوب جاگ اٹھی!“ iv. ”پنچ صاحب کو دوستی اِتنی عزیز ہے کہ سچائی کی پروا ہی نہیں۔“ v. ”کیا کہنے! بدلے کا اتنا اچھا موقع کوئی پنچ ہی پا سکتا ہے۔“ (طالبِ علم سبق سے بھی ایسے طنزیہ جملے تلاش کر کے لکھیں۔)

توسیعِ مبتدا (مبتدا و خبر)

جملے میں دو حصے ہوتے ہیں – مبتدا اور خبر۔ مثال: ”تناور درخت حق کا ایک بھونکا بھی نہ سہہ سکا۔“ اِس جملے میں درخت ’مبتدا‘ ہے اور اُس کی وضاحت کے لیے ’تناور‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جب مبتدا کی وضاحت کے لیے کوئی لفظ آئے تو اُسے ’توسیعِ مبتدا‘ کہتے ہیں۔ سبق سے ایسے پانچ جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں توسیعِ مبتدا کے الفاظ شامل ہوں۔

نمونہ جوابات (توسیعِ مبتدا موٹے حرفوں میں) i. بوڑھی خالہ بے سہارا تھیں۔ ii. سچا دوست کبھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑتا۔ iii. بے زبان بیل چارے پانی کے بغیر مر گیا۔ iv. گہری دوستی ایک فیصلے سے ہل گئی۔ v. عادل پنچ خدا کا روپ ہوتا ہے۔ (طالبِ علم اپنے مطالعے کی بنا پر سبق میں سے بھی پانچ جملے منتخب کریں۔)

محاورے

دیے گئے جملوں پر غور کیجیے: ”سبز باغ دکھا کر خالہ اہاں سے وہ ملکیت اپنے نام کرا لی تھی۔“ / ”اتنی دیر میں ایسی کایا پلٹ ہوگئی کہ میری جڑ کھودنے پر آمادہ ہے۔“ اِن میں محاورے شامل ہیں۔ اِن محاوروں کو تلاش کیجیے، اُن کے مفہوم لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے۔

محاورہمفہومجملہ میں استعمال
سبز باغ دکھاناجھوٹے سبز خواب/لالچ دلانادلال نے سبز باغ دکھا کر اُس کی ساری جمع پونجی ہتھیا لی۔
کایا پلٹ ہوناحالات یا رویّے کا یکسر بدل جانامحنت سے اُس غریب گھرانے کی کایا پلٹ ہو گئی۔
جڑ کھودناکسی کو بنیاد سے تباہ کرنے کے درپے ہوناحاسد لوگ ہمیشہ دوسروں کی جڑ کھودنے میں لگے رہتے ہیں۔
آنکھیں پھیرنابے رخی برتنا، بے وفائی کرنامطلب نکلتے ہی اُس نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں۔
دامن چھڑاناکسی ذمہ داری سے پیچھا چھڑاناجمن نے خالہ کی خدمت سے دامن چھڑا لیا۔

مندرجہ ذیل اقتباس کو پڑھیے اور دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے

(اقتباس: جمن شیخ کی تقریر، جس میں وہ خالہ کو تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے اور خبرگیری کرنے کی بات کہتا ہے، اور انصاف کی دہائی دیتا ہے۔)

i. ”تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کا عہدہ“ سے کیا مراد ہے؟

جواباِس سے مراد یہ ہے کہ جمن نے خالہ سے یہ وعدہ (معاہدہ) کیا تھا کہ وہ خالہ کو زندگی بھر، یعنی اُن کے مرنے تک، روٹی کپڑا اور دیگر ضروریات فراہم کرتا رہے گا۔ اِسی شرط پر خالہ نے اپنی جائیداد جمن کے نام کر دی تھی۔

ii. ”کیوں اب بے کسی کا آولیتا ہے۔“ خالہ نے یہ کیوں کہا؟

جوابخالہ نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ جائیداد لے لینے کے بعد جمن اُن کی بے کسی اور بے بسی سے فائدہ اٹھا کر اُن کے ساتھ بدسلوکی کر رہا تھا۔ ایک بے سہارا بوڑھی عورت کا سہارا بننے کے بجائے وہ اُسی کی مجبوری کو نشانہ بنا رہا تھا، اِسی دکھ میں خالہ نے یہ بات کہی۔

iii. ”اگر میری برائی دیکھو میرے منہ پر تھپڑ مارو، جمن، میری برائی دیکھو تو اُسے سمجھ“ کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔

جواباِس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ بولنے والا اپنی سچائی پر اِتنا پُریقین ہے کہ وہ کہتا ہے – اگر مجھ میں کوئی خرابی یا قصور نظر آئے تو بے شک سامنے ٹوک دو یا سزا دو، مگر بے سبب الزام نہ لگاؤ۔ یہ صاف گوئی اور سچائی پر اعتماد کا اظہار ہے۔

iv. اس عبارت کا عنوان تجویز کیجیے۔ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں منتخب کیا؟

جواب (نمونہ)مناسب عنوان: ”انصاف کی پکار“ یا ”سچائی کا سہارا“۔ میں نے یہ عنوان اِس لیے منتخب کیا کیونکہ پورا اقتباس انصاف، سچائی اور بے کس کی فریاد کے گرد گھومتا ہے۔ خالہ اور جمن دونوں اپنے اپنے دعوے میں سچائی اور انصاف کی دہائی دیتے ہیں، اِسی لیے یہی عنوان موضوع کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔

تخلیقی اظہار / گفتگو / پروجیکٹ / عملی کام (مارگ-درشن)

گفتگو کیجیے – جھوری کے بیلوں کے ساتھ سلوک اور آقا کے رویّے سے متعلق دیے گئے اقتباس پر گروپ میں بات چیت کیجیے کہ کیا یہ سلوک درست تھا؛ بے زبان جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور احسان کا رویّہ ہی انسانیت ہے۔

تخلیقی اظہار – اپنے بیانیہ میں پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری اور وحدتِ عمل پر توجہ دیتے ہوئے ایک واقعہ لکھیے۔ نیز اسکول کی چھٹیوں میں گاؤں جا کر خاندان کے کسی فرد کی پریشانی پر ہونے والی گفتگو کو مکالموں کی شکل میں لکھیے۔

پروجیکٹ – طلبہ کے گروپ بنا کر افسانے کے الگ الگ پہلوؤں (پلاٹ، کردار، منظر، زبان) پر گفتگو کیجیے، اور پنچایت کا نام، تصویر، بجٹ اور خرچ دکھاتا ہوا ایک اشتہار تیار کیجیے۔

عملی کام – استاد اور ساتھیوں کی مدد سے ’پنچایت‘ سبق کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیجیے، اور لائبریری سے پریم چند کے افسانوں کے مجموعے حاصل کر کے اُن کا مطالعہ کیجیے۔

یہ سرگرمیاں طالبِ علم خود اپنی صلاحیت کے مطابق انجام دیں؛ یہاں صرف رہنمائی دی گئی ہے۔

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. افسانہ ’پنچایت‘ کس ادیب کی تخلیق ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟

جواب’پنچایت‘ منشی پریم چند کی تخلیق ہے اور اِس کی صنف افسانہ (مختصر کہانی) ہے۔ یہ ان کے مشہور افسانے ’پنچ پرمیشور‘ کا اردو روپ ہے، جس میں دیہی پنچایت اور انصاف کا موضوع پیش کیا گیا ہے۔

2. الگو چودھری اور جمن شیخ کی دوستی کیسی تھی؟

جوابدونوں گہرے، بے تکلف دوست تھے – ہم خیال، ہم نوالہ و ہم پیالہ۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ہر معاملے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ گاؤں میں دونوں کی دوستی مثالی سمجھی جاتی تھی۔

3. جمن نے خالہ کی جائیداد کیسے حاصل کی؟

جوابجمن نے بوڑھی خالہ کو سبز باغ دکھا کر اور تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کر کے اُن کی جائیداد اپنے نام لکھوا لی۔ مگر جائیداد ملتے ہی اُس نے خالہ کی خبرگیری چھوڑ دی۔

4. الگو نے سرپنچ بن کر کیا فیصلہ کیا اور اِس کا کیا اثر ہوا؟

جوابالگو نے دوستی کو بھلا کر سچائی کے مطابق خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا کہ جمن خالہ کو خرچ دے یا جائیداد واپس کرے۔ اِس کا اثر یہ ہوا کہ جمن ناراض ہو گیا اور دونوں کی دوستی میں دراڑ پڑ گئی۔

5. افسانے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

جوابمرکزی پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کے روپ میں آ جاتا ہے؛ اُسے ذات، دوستی اور دشمنی سے بلند ہو کر صرف سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. افسانہ ’پنچایت‘ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جوابالگو چودھری اور جمن شیخ گہرے دوست تھے۔ جمن کی بوڑھی خالہ نے تاحینِ حیات خرچ پانے کی شرط پر اپنی جائیداد جمن کے نام کر دی، مگر جائیداد ملتے ہی جمن نے اُن کی خبرگیری چھوڑ دی۔ تنگ آ کر خالہ پنچایت میں گئیں، جہاں سرپنچ الگو نے دوستی کے باوجود انصاف کے ساتھ خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اِس پر جمن ناراض ہو گیا اور دوستی ٹوٹ گئی۔ بعد میں الگو کے بیل والے مقدمے میں جمن سرپنچ بنا اور اُس نے بھی دشمنی بھلا کر الگو کے حق میں انصاف کیا۔ نتیجتاً دونوں کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ افسانے کا پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی انصاف اور سچائی کی امانت ہے۔

7. ”پنچ پرمیشور“ کے تصور کی روشنی میں الگو اور جمن کے فیصلوں کا جائزہ لیجیے۔

جواب’پنچ پرمیشور‘ کا تصور یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھا شخص خدا کی جگہ بیٹھتا ہے، اِس لیے اُس کی زبان سے انصاف ہی نکلنا چاہیے۔ افسانے میں الگو اور جمن دونوں اِس تصور کی عمدہ مثال ہیں۔ جب الگو سرپنچ بنا تو اُس نے اپنے گہرے دوست جمن کے خلاف، صرف سچائی کی بنیاد پر خالہ کے حق میں فیصلہ کیا۔ اِسی طرح جب جمن سرپنچ بنا تو اُس نے دشمنی بھلا کر اپنے مخالف الگو کے حق میں انصاف کیا۔ دونوں نے ذاتی جذبات کو ایک طرف رکھ کر فرض اور سچائی کو ترجیح دی۔ یہی پیغام ہے کہ پنچ کا فرض ذات، دوستی اور دشمنی سے بالاتر صرف انصاف ہے۔

8. اِس افسانے کے ذریعے پریم چند نے دیہی سماج کے کن پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے؟

جوابپریم چند حقیقت نگار ادیب تھے، اِس لیے اِس افسانے میں انھوں نے ہندوستانی دیہی سماج کی سچی تصویر کھینچی ہے۔ انھوں نے گاؤں کی پنچایت کے قدیم نظام کو دکھایا، جہاں جھگڑے عدالت کے بجائے پنچوں کے سامنے طے ہوتے تھے۔ ساتھ ہی بے سہارا بوڑھوں کی بے بسی، جائیداد کے لالچ میں رشتوں کی بے قدری، دوستی اور دشمنی کے جذبات، اور بے زبان جانوروں کے ساتھ سلوک جیسے سماجی پہلو بھی پیش کیے۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے یہ پیغام دیا کہ ایک صحت مند سماج دیانت، فرض شناسی اور انصاف پر قائم رہتا ہے۔ سادہ زبان اور جیتے جاگتے کرداروں نے افسانے کو اثرانگیز بنا دیا ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. افسانہ ’پنچایت‘ کس ادیب کی تخلیق ہے؟

(الف) سعادت حسن منٹو

(ب) منشی پریم چند

(ج) کرشن چندر

(د) راجندر سنگھ بیدی

جواب(ب) منشی پریم چند۔

2. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) غزل

(ب) ڈراما

(ج) افسانہ

(د) انشائیہ

جواب(ج) افسانہ۔

3. کہانی کے دو مرکزی دوست کون ہیں؟

(الف) الگو چودھری اور جمن شیخ

(ب) ہوری اور دھنیا

(ج) جھوری اور گیا

(د) ہلکو اور جبرا

جواب(الف) الگو چودھری اور جمن شیخ۔

4. جمن نے کس شرط پر خالہ کی جائیداد اپنے نام کرائی؟

(الف) نقد رقم دینے کی

(ب) تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کی

(ج) حج کرانے کی

(د) مکان بنوانے کی

جواب(ب) تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کی۔

5. پہلی پنچایت میں سرپنچ کس کو مقرر کیا گیا؟

(الف) جمن شیخ

(ب) خالہ

(ج) الگو چودھری

(د) رمضان

جواب(ج) الگو چودھری۔

6. الگو نے پہلی پنچایت میں کس کے حق میں فیصلہ کیا؟

(الف) جمن کے

(ب) خالہ کے

(ج) اپنے

(د) کسی کے نہیں

جواب(ب) خالہ کے۔

7. دوسری پنچایت کس بات پر بیٹھی؟

(الف) زمین کے جھگڑے پر

(ب) الگو کے بیل کے معاملے پر

(ج) شادی کے جھگڑے پر

(د) چوری کے الزام پر

جواب(ب) الگو کے بیل کے معاملے پر۔

8. دوسری پنچایت میں سرپنچ کون بنا؟

(الف) الگو چودھری

(ب) خالہ

(ج) جمن شیخ

(د) سمجھو ساہو

جواب(ج) جمن شیخ۔

9. ’سبز باغ دکھانا‘ محاورے کا مفہوم ہے—

(الف) باغ کی سیر کرانا

(ب) جھوٹے لالچ یا خواب دلانا

(ج) مدد کرنا

(د) سچ بولنا

جواب(ب) جھوٹے لالچ یا خواب دلانا۔

10. افسانے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) دولت ہی سب کچھ ہے

(ب) دوستی سچائی سے بڑی ہے

(ج) پنچ کو صرف انصاف کا ساتھ دینا چاہیے

(د) بدلہ لینا ضروری ہے

جواب(ج) پنچ کو صرف انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔
جوابی کلید: 1-(ب)، 2-(ج)، 3-(الف)، 4-(ب)، 5-(ج)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ج)، 9-(ب)، 10-(ج)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason) – نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں صحیح، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں صحیح، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A صحیح، R غلط۔ (د) A غلط، R صحیح۔

1. تصدیق (A): الگو نے پہلی پنچایت میں اپنے دوست جمن کے خلاف فیصلہ سنایا۔

وجہ (R): پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر اُس نے دوستی کے بجائے انصاف اور سچائی کو ترجیح دی۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

2. تصدیق (A): جمن نے خالہ کی جائیداد ہتھیانے کے بعد اُن کی خدمت چھوڑ دی۔

وجہ (R): جمن خالہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہمیشہ اُن کا خیال رکھتا تھا۔

جواب(ج) A صحیح ہے، مگر R غلط ہے – جائیداد ملنے کے بعد جمن نے خالہ سے بے رخی برتی۔

3. تصدیق (A): دوسری پنچایت میں جمن نے الگو کے حق میں انصاف کیا۔

وجہ (R): پنچ کی کرسی پر بیٹھتے ہی جمن کے دل سے دشمنی نکل گئی اور صرف انصاف باقی رہا۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

4. تصدیق (A): پہلے فیصلے کے بعد الگو اور جمن کی دوستی ٹوٹ گئی۔

وجہ (R): جمن، الگو کے انصاف پر مبنی فیصلے کو دوستی سے غداری سمجھ بیٹھا۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

5. تصدیق (A): افسانے کے آخر میں دونوں کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔

وجہ (R): اب اُن کی دوستی محض جذبات کے بجائے سچائی اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہو گئی تھی۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • افسانے کے دو مرکزی کردار (الگو چودھری، جمن شیخ) اور دونوں پنچایتوں کا فرق اچھی طرح یاد رکھیں۔
  • ’پنچ پرمیشور‘ کا تصور اور افسانے کا مرکزی پیغام (انصاف، فرض شناسی) لکھنا نہ بھولیں۔
  • مشکل الفاظ اور محاورے (سبز باغ دکھانا، کایا پلٹ، جڑ کھودنا، آنکھیں پھیرنا) مفہوم اور جملے کے ساتھ یاد کریں۔
  • اقتباس والے سوالوں میں پہلے سیاق و سباق پہچانیں، پھر مفہوم اپنی زبان میں واضح لکھیں۔
  • پریم چند کا اصل نام (دھنپت رائے)، سنہ پیدائش (1880) اور پہلا مجموعہ (سوزِ وطن) درست لکھیں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • دونوں پنچایتوں کے سرپنچ آپس میں اُلٹ دینا – پہلے میں الگو، دوسرے میں جمن سرپنچ تھا۔
  • فیصلے کا رخ غلط لکھنا – الگو نے خالہ کے حق میں، جمن نے الگو کے حق میں فیصلہ کیا۔
  • افسانے کی صنف کو غلطی سے ڈراما یا انشائیہ لکھ دینا – یہ افسانہ ہے۔
  • محاوروں کا لفظی ترجمہ کر دینا (مثلاً ’سبز باغ‘ کو سچ مچ کا باغ سمجھ لینا)۔
  • پریم چند کا اصل نام ’نواب رائے‘ لکھ دینا – اصل نام دھنپت رائے ہے، نواب رائے قلمی نام تھا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کلاس 9 کا پہلا سبق ’پنچایت‘ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کا ادیب کون ہے؟

’پنچایت‘ ایک افسانہ (مختصر کہانی) ہے اور اِس کے ادیب منشی پریم چند ہیں۔ یہ ان کے مشہور افسانے ’پنچ پرمیشور‘ کا اردو روپ ہے۔

افسانہ ’پنچایت‘ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

مرکزی پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کا روپ ہو جاتا ہے؛ اُسے دوستی اور دشمنی سے بلند ہو کر صرف سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔

الگو اور جمن کی دوستی پہلے ٹوٹی اور پھر کیسے مضبوط ہوئی؟

جب الگو نے سرپنچ بن کر جمن کے خلاف خالہ کے حق میں انصاف کیا تو دوستی ٹوٹ گئی۔ بعد میں جمن نے سرپنچ بن کر دشمنی بھلا کر الگو کے حق میں انصاف کیا، جس سے دوستی سچائی کی بنیاد پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔

مشق/سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top