Class 9 Urdu Jamuna Chapter 1 Panchayat Solutions (NCERT 2026–27) – پنچایت
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 1 ‘Panchayat’ (پنچایت) – a famous afsana (short story) by Munshi Premchand – with author intro, a key excerpt, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، عبارت کی تفہیم، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، اقتباس کے سوالات), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے پہلے سبق ’پنچایت‘ کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔
- سبق کا تعارف (Overview)
- ادیب کا تعارف (About Premchand)
- منتخب اقتباس (Key Excerpt)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)
- سوالات و مشق (Exercise)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
سبق کا تعارف (Chapter Overview)
’پنچایت‘ منشی پریم چند کا ایک مشہور و معروف افسانہ ہے جو ان کے اسی نام کے افسانے ’پنچ پرمیشور‘ کا اردو روپ ہے۔ اس کہانی میں دیہی معاشرت، گاؤں کی پنچایت کے نظام اور سچائی و انصاف کی اخلاقی قدر کو نہایت سادہ اور دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کے دو مرکزی کردار الگو چودھری اور جمن شیخ ہیں جو ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔ جب ان میں سے ہر ایک باری باری پنچ (سرپنچ) کے عہدے پر بیٹھتا ہے تو وہ دوستی اور ذاتی مفاد کو بھلا کر صرف انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ افسانے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کی جگہ بیٹھ جاتا ہے، اِس لیے اُسے ذات، دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر صرف سچائی کا ساتھ دینا چاہیے۔
ادیب کا تعارف – منشی پریم چند (1880–1936)
منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کی پیدائش 1880ء میں بنارس کے قریب گاؤں لمہی میں ہوئی۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد انھوں نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت کی، مگر انگریزی دورِ حکومت میں سرکاری نوکری اُن کے حق پسند مزاج کے خلاف تھی، چنانچہ انھوں نے ملازمت ترک کر کے تصنیف و تالیف کو اپنا لیا۔ پریم چند کو اردو افسانے کا باقاعدہ بانی اور حقیقت نگاری کا سب سے بڑا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’سوزِ وطن‘ (1907) تھا۔ شروع میں وہ ’نواب رائے‘ کے نام سے لکھتے تھے، بعد میں ’پریم چند‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سو افسانے اور ایک درجن ناول لکھے، جن میں گؤدان، نرملا، بیوہ، گبن اور میدانِ عمل خاص طور پر مشہور ہیں۔ ان کی تحریروں میں ہندوستانی کسان اور دیہی سماج کے دکھ درد اپنی اصل صورت میں جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔ ان کا انتقال 1936ء میں ہوا۔
منتخب اقتباس (Key Excerpt)
(افسانے کا مرکزی پیغام بیان کرنے والا ایک منتخب اقتباس – پوری کہانی یہاں نقل نہیں کی گئی۔)
خلاصہ (Summary)
الگو چودھری اور جمن شیخ گہرے دوست تھے – ہم خیال، ہم نوالہ و ہم پیالہ۔ جب کبھی کوئی جھگڑا یا فیصلہ آن پڑتا تو دونوں ایک دوسرے کی پنچایت میں نمایاں حیثیت رکھتے۔ جمن شیخ کی ایک بوڑھی خالہ تھیں جن کے پاس کچھ جائیداد تھی۔ جمن نے اُن سے تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کر کے جائیداد اپنے نام لکھوا لی۔ شروع میں خالہ کی خاطر تواضع ہوتی رہی، مگر جب جائیداد ہاتھ آ گئی تو خالہ کی خبرگیری بند ہو گئی اور اُن کے ساتھ بدسلوکی ہونے لگی۔ تنگ آ کر خالہ نے گاؤں میں پنچایت بٹھائی۔
پنچایت میں خالہ نے الگو چودھری کو سرپنچ مقرر کرنا چاہا۔ جمن کو یقین تھا کہ الگو اُس کا دوست ہے، اِس لیے فیصلہ اُسی کے حق میں ہوگا۔ مگر جب الگو پنچ کی کرسی پر بیٹھا تو اُس نے دوستی کو بھلا کر سچائی کا ساتھ دیا اور خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا کہ جمن یا تو خالہ کو روٹی کپڑا دے یا جائیداد واپس کرے۔ اِس فیصلے سے جمن دل ہی دل میں الگو کا دشمن ہو گیا اور دونوں کی پرانی دوستی میں دراڑ پڑ گئی۔
کچھ عرصے بعد الگو کا ایک بیل مر گیا اور اُسے اپنے دوسرے بیل کو سستے داموں بیچنا پڑا۔ خریدار نے بیل سے بہت کام لیا مگر چارہ پانی نہ دیا، جس سے بیل مر گیا۔ اب یہ معاملہ پنچایت میں پہنچا اور اتفاق سے اِس بار جمن شیخ سرپنچ بنا۔ الگو کو اندیشہ تھا کہ جمن پرانا بدلہ لے گا۔ مگر پنچ کی کرسی پر بیٹھتے ہی جمن کے دل سے دشمنی نکل گئی اور اُس نے بھی انصاف کے ساتھ الگو کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اِس کے بعد دونوں دوستوں کی دوستی پہلے سے بھی زیادہ گہری ہو گئی۔ افسانے کا پیغام یہی ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کا روپ ہو جاتا ہے اور اُسے ذات، دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر صرف سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔
Hindi gist: अलगू और जुम्मन गहरे दोस्त थे। पंच की कुर्सी पर बैठकर अलगू ने दोस्ती छोड़ बूढ़ी खाला के हक़ में फ़ैसला दिया; बाद में जुम्मन ने भी पंच बनकर अलगू के हक़ में न्याय किया। कहानी का संदेश — पंच की कुर्सी पर इंसान ख़ुदा बन जाता है, उसे सिर्फ़ सच और न्याय का साथ देना चाहिए।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| ہم مشرب | एक ही विचार/मत के लोग | Of the same persuasion / like-minded |
| ہم نوالہ و ہم پیالہ | साथ खाने-पीने वाले, घनिष्ठ मित्र | Close friends (eat & drink together) |
| ہم خیال | एक जैसी सोच रखने वाले | Of one mind / agreeing |
| زانوے ادب تہہ کرنا | शागिर्दी करना, अदब से बैठना | To become a disciple, sit respectfully |
| وعدہ و وعید | टाल-मटोल करना | Empty promises / evasion |
| بہی خامہ | बिक्री का इक़रारनामा/दस्तावेज़ | Deed / written agreement of sale |
| اُدسر | बंजर ज़मीन जिसमें कुछ पैदा न हो | Barren / fallow land |
| شرمندۂ منت | एहसानमंद, ममनून | Obliged / grateful |
| رسوخ | पहुँच, असर | Influence / standing |
| منطق | तर्क, अक़्ली दलील | Logic / reasoning |
| دانست | समझ, ज्ञान | Understanding / knowledge |
| ثقلِ سماعت | सुनने में कठिनाई, बहरापन | Hardness of hearing / deafness |
| رضا جوئی | मर्ज़ी, इजाज़त / प्रसन्न करना | Seeking consent / pleasing |
| تاحینِ حیات | ज़िंदगी भर, जीते जी | For one’s whole life |
| سپر | ढाल, पनाह | Shield / shelter |
| رزم گاہ | युद्ध का मैदान | Battlefield |
| تنگ ظرفی | ओछापन, कम-ज़र्फ़ी | Narrow-mindedness / pettiness |
| وارفتہ | आपे से बाहर, बेक़ाबू | Beside oneself / overcome |
| سرپنچ / پنچ | पंचायत का मुखिया / पंच | Head of the village council / arbiter |
| فریقین | दोनों पक्ष (वादी-प्रतिवादी) | Both parties to a dispute |
تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)
’پنچایت‘ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ پنچ کا عہدہ ایک مقدس امانت ہے۔ جب کوئی شخص پنچ کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ کسی کا دوست رہتا ہے نہ دشمن، اور اُس کی زبان سے گویا خود خدا بولتا ہے، اِسی لیے اُسے ”پنچ پرمیشور“ کہا گیا ہے۔ افسانے میں پریم چند نے دو سچائیاں دکھائی ہیں: ایک یہ کہ سچائی اور انصاف ذاتی دوستی و دشمنی سے بلند ہیں – الگو نے دوست جمن کے خلاف اور جمن نے دشمن بن چکے الگو کے حق میں صرف انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ دوسری یہ کہ وقتی ناراضی سچے رشتوں کو ختم نہیں کرتی – جب دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کیا تو ٹوٹی ہوئی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ پریم چند نے دیہی پنچایت کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ سماج کا نظام دیانت، فرض شناسی اور انصاف پر قائم رہتا ہے۔
سوالات و مشق (Exercise)
سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لی گئی ہے؛ جوابات ClearStudy کے مولّفہ ہیں۔ (کتاب کے کئی حصے گروہی سرگرمی، تخلیقی اظہار، پروجیکٹ اور عملی کام پر مبنی ہیں، جن کا مارگ-درشن دیا گیا ہے۔)
سوچیے اور بتائیے
i. جمن کو پنچایت کے فیصلے سے متعلق کوئی اندیشہ کیوں نہیں تھا؟
ii. اگر اُس دن خالہ کے ساتھ انصاف نہ ہوتا تو کیا صورتِ حال ہوتی؟
iii. خالہ نے کیوں کہا کہ یہ تمنا کبھی کر نہیں سکتی؟
iv. الگو اور جمن کی دوستی کی بنیادیں کس وجہ سے ہل گئیں؟
v. الگو کو کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ اُس کے حق میں فیصلہ نہیں ہو گا؟
عبارت کی تفہیم
نیچے دی گئی سطروں کو سبق میں تلاش کیجیے اور اُن کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
i. ”رجسٹری کی مہر پڑتے ہی خاطر داریوں پر مہر ہوگی۔“
ii. ”مجھے بھی رات دن کا ابال پسند نہیں۔“
iii. ”کہاں وہ مناز و نعمت، کہاں یہ آنکھیں پھیر کی پلٹ۔“
iv. ”جرح ہوئی، شہادتیں گزریں، فریقین کے مددگاروں نے بہت کھینچ تان کی۔“
v. ”دوستی کا مرجھایا ہوا درخت پھر سے ہرا ہو گیا۔ اب وہ بیاہ کی زمین، حق اور انصاف کی زمین پر کھڑے تھے۔“
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے (طنز)
دیے گئے جملے پر غور کیجیے: ”خالہ نے تاک کر اشارہ مارا: بیٹا، کیا اگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟“ اِس جملے میں طنز کا پہلو نمایاں ہے۔ ایسا جملہ جو وضاحت یا طنز کے لیے لکھا یا بولا جائے، ’طنزیہ جملہ‘ کہلاتا ہے۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں طنز کا پہلو ہو۔
توسیعِ مبتدا (مبتدا و خبر)
جملے میں دو حصے ہوتے ہیں – مبتدا اور خبر۔ مثال: ”تناور درخت حق کا ایک بھونکا بھی نہ سہہ سکا۔“ اِس جملے میں درخت ’مبتدا‘ ہے اور اُس کی وضاحت کے لیے ’تناور‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جب مبتدا کی وضاحت کے لیے کوئی لفظ آئے تو اُسے ’توسیعِ مبتدا‘ کہتے ہیں۔ سبق سے ایسے پانچ جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں توسیعِ مبتدا کے الفاظ شامل ہوں۔
محاورے
دیے گئے جملوں پر غور کیجیے: ”سبز باغ دکھا کر خالہ اہاں سے وہ ملکیت اپنے نام کرا لی تھی۔“ / ”اتنی دیر میں ایسی کایا پلٹ ہوگئی کہ میری جڑ کھودنے پر آمادہ ہے۔“ اِن میں محاورے شامل ہیں۔ اِن محاوروں کو تلاش کیجیے، اُن کے مفہوم لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے۔
| محاورہ | مفہوم | جملہ میں استعمال |
|---|---|---|
| سبز باغ دکھانا | جھوٹے سبز خواب/لالچ دلانا | دلال نے سبز باغ دکھا کر اُس کی ساری جمع پونجی ہتھیا لی۔ |
| کایا پلٹ ہونا | حالات یا رویّے کا یکسر بدل جانا | محنت سے اُس غریب گھرانے کی کایا پلٹ ہو گئی۔ |
| جڑ کھودنا | کسی کو بنیاد سے تباہ کرنے کے درپے ہونا | حاسد لوگ ہمیشہ دوسروں کی جڑ کھودنے میں لگے رہتے ہیں۔ |
| آنکھیں پھیرنا | بے رخی برتنا، بے وفائی کرنا | مطلب نکلتے ہی اُس نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں۔ |
| دامن چھڑانا | کسی ذمہ داری سے پیچھا چھڑانا | جمن نے خالہ کی خدمت سے دامن چھڑا لیا۔ |
مندرجہ ذیل اقتباس کو پڑھیے اور دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے
i. ”تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کا عہدہ“ سے کیا مراد ہے؟
ii. ”کیوں اب بے کسی کا آولیتا ہے۔“ خالہ نے یہ کیوں کہا؟
iii. ”اگر میری برائی دیکھو میرے منہ پر تھپڑ مارو، جمن، میری برائی دیکھو تو اُسے سمجھ“ کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
iv. اس عبارت کا عنوان تجویز کیجیے۔ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں منتخب کیا؟
تخلیقی اظہار / گفتگو / پروجیکٹ / عملی کام (مارگ-درشن)
گفتگو کیجیے – جھوری کے بیلوں کے ساتھ سلوک اور آقا کے رویّے سے متعلق دیے گئے اقتباس پر گروپ میں بات چیت کیجیے کہ کیا یہ سلوک درست تھا؛ بے زبان جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور احسان کا رویّہ ہی انسانیت ہے۔
تخلیقی اظہار – اپنے بیانیہ میں پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری اور وحدتِ عمل پر توجہ دیتے ہوئے ایک واقعہ لکھیے۔ نیز اسکول کی چھٹیوں میں گاؤں جا کر خاندان کے کسی فرد کی پریشانی پر ہونے والی گفتگو کو مکالموں کی شکل میں لکھیے۔
پروجیکٹ – طلبہ کے گروپ بنا کر افسانے کے الگ الگ پہلوؤں (پلاٹ، کردار، منظر، زبان) پر گفتگو کیجیے، اور پنچایت کا نام، تصویر، بجٹ اور خرچ دکھاتا ہوا ایک اشتہار تیار کیجیے۔
عملی کام – استاد اور ساتھیوں کی مدد سے ’پنچایت‘ سبق کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیجیے، اور لائبریری سے پریم چند کے افسانوں کے مجموعے حاصل کر کے اُن کا مطالعہ کیجیے۔
یہ سرگرمیاں طالبِ علم خود اپنی صلاحیت کے مطابق انجام دیں؛ یہاں صرف رہنمائی دی گئی ہے۔
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
1. افسانہ ’پنچایت‘ کس ادیب کی تخلیق ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟
2. الگو چودھری اور جمن شیخ کی دوستی کیسی تھی؟
3. جمن نے خالہ کی جائیداد کیسے حاصل کی؟
4. الگو نے سرپنچ بن کر کیا فیصلہ کیا اور اِس کا کیا اثر ہوا؟
5. افسانے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
6. افسانہ ’پنچایت‘ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
7. ”پنچ پرمیشور“ کے تصور کی روشنی میں الگو اور جمن کے فیصلوں کا جائزہ لیجیے۔
8. اِس افسانے کے ذریعے پریم چند نے دیہی سماج کے کن پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے؟
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. افسانہ ’پنچایت‘ کس ادیب کی تخلیق ہے؟
(الف) سعادت حسن منٹو
(ب) منشی پریم چند
(ج) کرشن چندر
(د) راجندر سنگھ بیدی
2. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟
(الف) غزل
(ب) ڈراما
(ج) افسانہ
(د) انشائیہ
3. کہانی کے دو مرکزی دوست کون ہیں؟
(الف) الگو چودھری اور جمن شیخ
(ب) ہوری اور دھنیا
(ج) جھوری اور گیا
(د) ہلکو اور جبرا
4. جمن نے کس شرط پر خالہ کی جائیداد اپنے نام کرائی؟
(الف) نقد رقم دینے کی
(ب) تاحینِ حیات روٹی کپڑا دینے کی
(ج) حج کرانے کی
(د) مکان بنوانے کی
5. پہلی پنچایت میں سرپنچ کس کو مقرر کیا گیا؟
(الف) جمن شیخ
(ب) خالہ
(ج) الگو چودھری
(د) رمضان
6. الگو نے پہلی پنچایت میں کس کے حق میں فیصلہ کیا؟
(الف) جمن کے
(ب) خالہ کے
(ج) اپنے
(د) کسی کے نہیں
7. دوسری پنچایت کس بات پر بیٹھی؟
(الف) زمین کے جھگڑے پر
(ب) الگو کے بیل کے معاملے پر
(ج) شادی کے جھگڑے پر
(د) چوری کے الزام پر
8. دوسری پنچایت میں سرپنچ کون بنا؟
(الف) الگو چودھری
(ب) خالہ
(ج) جمن شیخ
(د) سمجھو ساہو
9. ’سبز باغ دکھانا‘ محاورے کا مفہوم ہے—
(الف) باغ کی سیر کرانا
(ب) جھوٹے لالچ یا خواب دلانا
(ج) مدد کرنا
(د) سچ بولنا
10. افسانے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
(الف) دولت ہی سب کچھ ہے
(ب) دوستی سچائی سے بڑی ہے
(ج) پنچ کو صرف انصاف کا ساتھ دینا چاہیے
(د) بدلہ لینا ضروری ہے
تصدیق-وجہ (Assertion-Reason) – نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں صحیح، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں صحیح، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A صحیح، R غلط۔ (د) A غلط، R صحیح۔
1. تصدیق (A): الگو نے پہلی پنچایت میں اپنے دوست جمن کے خلاف فیصلہ سنایا۔
وجہ (R): پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر اُس نے دوستی کے بجائے انصاف اور سچائی کو ترجیح دی۔
2. تصدیق (A): جمن نے خالہ کی جائیداد ہتھیانے کے بعد اُن کی خدمت چھوڑ دی۔
وجہ (R): جمن خالہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہمیشہ اُن کا خیال رکھتا تھا۔
3. تصدیق (A): دوسری پنچایت میں جمن نے الگو کے حق میں انصاف کیا۔
وجہ (R): پنچ کی کرسی پر بیٹھتے ہی جمن کے دل سے دشمنی نکل گئی اور صرف انصاف باقی رہا۔
4. تصدیق (A): پہلے فیصلے کے بعد الگو اور جمن کی دوستی ٹوٹ گئی۔
وجہ (R): جمن، الگو کے انصاف پر مبنی فیصلے کو دوستی سے غداری سمجھ بیٹھا۔
5. تصدیق (A): افسانے کے آخر میں دونوں کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔
وجہ (R): اب اُن کی دوستی محض جذبات کے بجائے سچائی اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہو گئی تھی۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- افسانے کے دو مرکزی کردار (الگو چودھری، جمن شیخ) اور دونوں پنچایتوں کا فرق اچھی طرح یاد رکھیں۔
- ’پنچ پرمیشور‘ کا تصور اور افسانے کا مرکزی پیغام (انصاف، فرض شناسی) لکھنا نہ بھولیں۔
- مشکل الفاظ اور محاورے (سبز باغ دکھانا، کایا پلٹ، جڑ کھودنا، آنکھیں پھیرنا) مفہوم اور جملے کے ساتھ یاد کریں۔
- اقتباس والے سوالوں میں پہلے سیاق و سباق پہچانیں، پھر مفہوم اپنی زبان میں واضح لکھیں۔
- پریم چند کا اصل نام (دھنپت رائے)، سنہ پیدائش (1880) اور پہلا مجموعہ (سوزِ وطن) درست لکھیں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- دونوں پنچایتوں کے سرپنچ آپس میں اُلٹ دینا – پہلے میں الگو، دوسرے میں جمن سرپنچ تھا۔
- فیصلے کا رخ غلط لکھنا – الگو نے خالہ کے حق میں، جمن نے الگو کے حق میں فیصلہ کیا۔
- افسانے کی صنف کو غلطی سے ڈراما یا انشائیہ لکھ دینا – یہ افسانہ ہے۔
- محاوروں کا لفظی ترجمہ کر دینا (مثلاً ’سبز باغ‘ کو سچ مچ کا باغ سمجھ لینا)۔
- پریم چند کا اصل نام ’نواب رائے‘ لکھ دینا – اصل نام دھنپت رائے ہے، نواب رائے قلمی نام تھا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جمنا کلاس 9 کا پہلا سبق ’پنچایت‘ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کا ادیب کون ہے؟
’پنچایت‘ ایک افسانہ (مختصر کہانی) ہے اور اِس کے ادیب منشی پریم چند ہیں۔ یہ ان کے مشہور افسانے ’پنچ پرمیشور‘ کا اردو روپ ہے۔
افسانہ ’پنچایت‘ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
مرکزی پیغام یہ ہے کہ پنچ کی کرسی پر بیٹھ کر انسان خدا کا روپ ہو جاتا ہے؛ اُسے دوستی اور دشمنی سے بلند ہو کر صرف سچائی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔
الگو اور جمن کی دوستی پہلے ٹوٹی اور پھر کیسے مضبوط ہوئی؟
جب الگو نے سرپنچ بن کر جمن کے خلاف خالہ کے حق میں انصاف کیا تو دوستی ٹوٹ گئی۔ بعد میں جمن نے سرپنچ بن کر دشمنی بھلا کر الگو کے حق میں انصاف کیا، جس سے دوستی سچائی کی بنیاد پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔
مشق/سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔
