Class 9 Urdu Jamuna Chapter 8 Ghazal (Mir Taqi Mir) Solutions (NCERT 2026–27) – غزل: اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 8 – the غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ by Mir Taqi Mir (میر تقی میرؔ): the full اشعار reproduced verbatim, شاعر کا تعارف, خلاصہ, مشکل الفاظ کے معانی, شعر بہ شعر تشریح, and original, exam-ready answers to every سوال of the book’s سوچیے اور بتائیے / پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے / لسانی سرگرمی exercises, plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ جماعت نہم اردو ‘جمنا’ کے سبق 8، میر تقی میرؔ کی مشہور غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ کی مکمل، آسان اور امتحانی تیاری کے لیے ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 8 صنف: غزل شاعر: میر تقی میرؔ Session: 2026–27

شاعر کا تعارف (About the Poet)

میر تقی میرؔ اردو شاعری کے سب سے بڑے اور محترم شاعروں میں سے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد تقی اور تخلص میرؔ تھا۔ وہ 1722ء میں آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے اور 1810ء میں لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی مشکلات اور صدمات سے گزری، اسی لیے ان کے کلام میں دردِ دل، سوز و گداز اور اداسی کا گہرا رنگ نمایاں ہے۔ انھوں نے آگرہ، دہلی اور پھر لکھنؤ میں زندگی بسر کی۔ سادہ، بامحاورہ اور دل میں اُتر جانے والی زبان، اور انسانی جذبات کی سچی عکاسی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ان کی غزل گوئی اتنی بلند ہے کہ انھیں ‘خدائے سخن’ کہا جاتا ہے۔ اپنے بعد آنے والے کئی بڑے شاعروں نے ان کی استادی کا اعتراف کیا ہے۔

منتخب اشعار (The Ghazal)

(NCERT جمنا، سبق 8 سے غزل کے سات اشعار بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا

ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا

صبر تھا ایک مونسِ ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا

دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا

عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا

جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا بہ لب نہیں آتا

دور بیٹھا غبارِ میرؔ اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
— میر تقی میرؔ

خلاصہ (Summary)

یہ غزل میر تقی میرؔ کے اُس درد بھرے لہجے کی بہترین مثال ہے جس نے انھیں ‘خدائے سخن’ بنایا۔ مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ آنسو تو آنکھوں میں ہر وقت رہتے ہیں؛ اصل کیفیت اُس وقت کی ہے جب غم اتنا بڑھ جائے کہ آنسوؤں کی جگہ خون نکلنے لگے۔ اگلے شعر میں عشق کی عجیب حالت بیان ہوئی ہے—ہوش بالکل ختم نہیں ہوا، مگر جب محبوب سامنے آتا ہے تو ہوش باقی نہیں رہتا۔ تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جدائی کے دنوں میں صبر ہی اُس کا واحد ساتھی (مونس) تھا، مگر اب مدت سے وہ صبر بھی نہیں آتا، یعنی غم نے صبر کا دامن بھی چھین لیا ہے۔

آگے شاعر کہتا ہے کہ اب دل سے ہر خواہش رخصت ہو چکی ہے، اِسی لیے رونا بے سبب نہیں آتا—ہر آنسو کے پیچھے کوئی نہ کوئی دکھ ہوتا ہے۔ پھر وہ عشق کا اصول بیان کرتا ہے کہ عشق میں سب سے ضروری چیز حوصلہ ہے؛ حوصلہ نہ ہو تو بات کرنے کا کوئی سلیقہ یا ڈھنگ نہیں آتا۔ اگلے شعر میں دل کی بے بسی ہے کہ دل میں بہت کچھ کہنے کو ہے مگر بات ہونٹوں تک (تا بہ لب) نہیں آتی۔ مقطع میں شاعر اپنے آپ کو ‘غبارِ میر’ کہہ کر محبوب سے دوری اور عشق کے ادب کا ذکر کرتا ہے کہ عشق کے بغیر یہ ادب اور سلیقہ نہیں آتا۔ مختصراً، یہ غزل عشق، ہجر، صبر اور بے بسی کے جذبات کو نہایت سادہ اور پُراثر زبان میں پیش کرتی ہے۔

Hindi gist: इस ग़ज़ल में मीर तक़ी मीर ने इश्क़, हिज्र (जुदाई), सब्र और बेबसी के दर्द को बहुत सादा और असरदार ज़बान में बयान किया है – आँसू तो हमेशा रहते हैं, पर ग़म इतना है कि अब लहू बहता है, सब्र भी साथ छोड़ चुका है और दिल की बात होंठों तक नहीं आती।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

(NCERT جمنا کے ‘لفظ و معنی’ حصے سے، مع ہندی اور انگریزی مفہوم۔)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
اشکआँसूTear
لہو / لوہوख़ून, रक्तBlood
مونسदोस्त, उन्स रखने वालाCompanion, comforter
ہجراں / ہجرजुदाई, विरहSeparation
مدتलंबा समय, अरसाA long while
گریہरोनाWeeping
بے سببबिना किसी कारणWithout reason
حوصلہहिम्मत, साहसCourage, spirit
ارنہ (ورنہ)वरना, अन्यथाOtherwise
کسو (کسی)किसीAny (archaic form)
ڈھبतरीक़ा, ढंगManner, way
ہمدمसाथीClose companion
سخنबात, गुफ़्तगू, शेरSpeech, words, verse
تا بہ لبहोंठों तकUp to the lips
غبارख़ाक, मिट्टी, धूलDust
ادبआदर, तमीज़, सलीक़ाDecorum, etiquette

تشریح (Tashreeh / Explanation)

شعر 1 — مطلع

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا

شاعر کہتا ہے کہ آنسو تو ہر وقت آنکھوں میں موجود رہتے ہیں؛ آنسوؤں کا آنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل دکھ تو اُس لمحے کا ہے جب غم اِس قدر شدید ہو جائے کہ آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون نکلنے لگے۔ یہاں شاعر نے غم کی انتہائی شدت کو نہایت پُراثر انداز میں بیان کیا ہے۔

شعر 2

ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا

شاعر اپنی کیفیت بیان کرتا ہے کہ ویسے تو اُس کے ہوش و حواس قائم ہیں، مگر جب اُس کا محبوب سامنے آ جاتا ہے تو ہوش باقی نہیں رہتا۔ یعنی محبوب کی موجودگی شاعر کو بے خود اور بے ہوش کر دیتی ہے۔ یہ شعر عشق میں ہوش کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کیفیتوں کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے۔

شعر 3

صبر تھا ایک مونسِ ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا

جدائی کے دنوں میں صبر ہی شاعر کا واحد ساتھی اور غم گسار تھا، مگر اب ایک مدت سے وہ صبر بھی نہیں آتا۔ یعنی غم اتنا بڑھ گیا ہے کہ صبر بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ اِس شعر میں صبر کو ایک جیتے جاگتے دوست کی صورت میں پیش کر کے ‘تجسیم کاری’ (شخصیت سازی) کی گئی ہے۔

شعر 5

عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا

شاعر عشق کا ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے کہ عشق کے لیے سب سے ضروری چیز حوصلہ اور ہمت ہے۔ اگر حوصلہ نہ ہو تو بات کرنے کا، اپنے دل کی بات کہنے کا کوئی سلیقہ یا ڈھنگ نہیں آتا۔ یعنی عشق میں کامیابی کے لیے دل کا مضبوط اور پُرعزم ہونا لازمی ہے۔

شعر 7 — مقطع

دور بیٹھا غبارِ میرؔ اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

مقطع میں شاعر اپنا تخلص ‘میر’ استعمال کرتے ہوئے خود کو ‘غبارِ میر’ یعنی خاک و مٹی کہتا ہے۔ وہ محبوب سے دور اور باادب بیٹھا ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ ادب، احترام اور تمیز عشق ہی سکھاتا ہے—عشق کے بغیر دل میں یہ سلیقہ اور ادب پیدا نہیں ہوتا۔

سوالات و مشق (Exercise)

سوچیے اور بتائیے

(i) ہجر کے ایام میں کس کو مونس قرار دیا گیا ہے؟

جوابہجر (جدائی) کے دنوں میں شاعر نے ‘صبر’ کو اپنا مونس (ساتھی اور غم گسار) قرار دیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ‘صبر تھا ایک مونسِ ہجراں’، یعنی جدائی میں صبر ہی اُس کا واحد دوست تھا، مگر اب وہ بھی نہیں رہا۔

(ii) غم کے لمحے کی شدت کو کن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے؟

جوابغم کی شدت کو شاعر نے مطلع کے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے—‘لہو آتا ہے جب نہیں آتا’۔ یعنی جب غم اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون بہنے لگتا ہے۔ خون کے آنسو غم کی سب سے شدید کیفیت کی علامت ہیں۔

(iii) غمِ یار کا دورہ پیشتر کس صورت میں ظاہر ہوتا ہے؟

جوابغمِ یار (محبوب کے غم) کا دورہ پہلے آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے—آنکھوں میں ہر وقت اشک موجود رہتے ہیں۔ مگر جب یہ غم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر آنسوؤں کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے۔

(iv) اس شعر میں کس جذبے کی تجسیم کاری کی گئی ہے؟‘صبر تھا ایک مونسِ ہجراں / سو وہ مدت سے اب نہیں آتا’

جواباِس شعر میں ‘صبر’ کے جذبے کی تجسیم کاری (شخصیت سازی) کی گئی ہے۔ شاعر نے صبر کو ایک جیتے جاگتے انسان/دوست کی طرح پیش کیا ہے جو پہلے ساتھ تھا (مونسِ ہجراں) اور اب ‘نہیں آتا’، جیسے کوئی ساتھی ملنے آنا چھوڑ دے۔ اِسی لیے یہ تجسیم کاری کی عمدہ مثال ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

(1) غزل میں لفظ ‘تا بہ لب’ آیا ہے، جس کے معنی ہیں ‘ہونٹوں تک’، یہاں ‘تا’ سے مراد ‘تک’ ہے۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے معنی معلوم کر کے لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

جواب (i) تاحیات — معنی: زندگی بھر، تمام عمر۔ جملہ: استاد محترم نے تاحیات تعلیم کی خدمت کی۔ (ii) تاحال — معنی: اب تک، اِس وقت تک۔ جملہ: تاحال اُس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ (iii) تاحدِ نظر — معنی: جہاں تک نظر جائے، نظر کی حد تک۔ جملہ: تاحدِ نظر ہریالی ہی ہریالی پھیلی ہوئی تھی۔ (iv) تاعمر — معنی: ساری عمر، زندگی بھر۔ جملہ: ہم تاعمر اپنے والدین کے احسان مند رہیں گے۔

(2) درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے، ان میں کہی گئی بات جن اشعار میں پیش کی گئی ہے، اسے تلاش کر کے لکھیے:

جواب (i) ہوش کی موجودگی اور غیر موجودگی کی بات کہی گئی ہے۔
→ ہوش جاتا نہیں رہا لیکن / جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
(ii) دل کی بات زبان تک نہ آنے کا [ذکر]۔
→ جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم / پر سخن تا بہ لب نہیں آتا
(iii) رونے کا سبب بیان کیا ہے۔
→ دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش / گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
(vi) عشق کے سلیقے کی بات کی گئی ہے۔
→ عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ / بات کا کسو ڈھب نہیں آتا
(vii) جب دل میں جذبات کی یلغار ہو تب اظہار کے لیے الفاظ زبان تک نہیں آپاتے۔
→ جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم / پر سخن تا بہ لب نہیں آتا

(3) دیے گئے مصرعے کو غور سے پڑھیے: ‘بات کا کسو ڈھب نہیں آتا’ — اِس میں الفاظ ‘کسو’ اور ‘ڈھب’ کا مفہوم واضح کیجیے۔

جواب‘کسو’ دراصل ‘کسی’ کی پرانی (متروک) صورت ہے، جس کے معنی ہیں ‘کوئی/کسی’۔ ‘ڈھب’ کے معنی ہیں طریقہ، سلیقہ یا ڈھنگ۔ مصرعے کا مفہوم یہ ہے کہ (حوصلے کے بغیر) بات کرنے کا کوئی ڈھنگ اور سلیقہ نہیں آتا۔

(4) نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور بتائیے کہ کون سا جملہ سوالیہ ہے اور کس جملے میں سوال نہیں بلکہ محض اظہار ہے:

جواب (i) کیا بات ہے — محض اظہار / تعجب (اصلاً سوال نہیں)۔ (ii) کون نہیں جانتا — محض اظہار (مطلب: سب جانتے ہیں)، اصل سوال نہیں۔ (iii) آپ کی کتاب کہاں ہے — حقیقی سوالیہ جملہ۔ (iv) کہاں تک بتاؤں — محض اظہار (مطلب: بہت کچھ ہے، بتایا نہیں جا سکتا)۔ (v) کس نے تمھارا گانا نہیں سنا — محض اظہار (مطلب: سب نے سنا)۔ (vi) تم نے یہ خط کس کو لکھا ہے — حقیقی سوالیہ جملہ۔ (vii) اُس کا نام کیا ہے — حقیقی سوالیہ جملہ۔

لسانی سرگرمی

(1) دیے گئے متروک الفاظ کے مروجہ (رائج) الفاظ معلوم کر کے لکھیے:

جواب (i) تلک → تک (ii) آوے → آئے (iii) کاہے → کیوں / کس لیے (iv) یاں → یہاں (v) کسو → کسی

(2) غزل کو دوبارہ پڑھیے اور درج ذیل الفاظ کے مترادفات تلاش کر کے لکھیے:

جواب آنسو → اشک دوست → مونس / ہمدم تمنا → خواہش بات → سخن گرد → غبار سلیقہ → ڈھب

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (Short, 30–40 الفاظ)

(1) اِس غزل کے شاعر کون ہیں اور انھیں کس لقب سے یاد کیا جاتا ہے؟

جواباِس غزل کے شاعر میر تقی میرؔ ہیں، جن کا اصل نام محمد تقی تھا۔ وہ اردو شاعری کے سب سے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اور انھیں دردِ دل کی بے مثال شاعری کی وجہ سے ‘خدائے سخن’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

(2) شاعر نے گریہ (رونے) کو ‘بے سبب نہیں’ کیوں کہا ہے؟

جوابشاعر کہتا ہے کہ دل سے ہر خواہش رخصت ہو چکی ہے، اِسی لیے رونا بے سبب نہیں آتا۔ یعنی ہر آنسو اور ہر گریے کے پیچھے کوئی نہ کوئی گہرا دکھ اور محرومی چھپی ہوتی ہے۔

(3) شاعر کے نزدیک عشق میں سب سے ضروری چیز کیا ہے؟

جوابشاعر کے نزدیک عشق میں سب سے ضروری چیز حوصلہ اور ہمت ہے۔ اگر حوصلہ نہ ہو تو دل کی بات کہنے اور عشق نبھانے کا کوئی سلیقہ اور ڈھنگ نہیں آتا۔

(4) ‘تا بہ لب’ سے شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

جواب‘تا بہ لب’ کے معنی ہیں ‘ہونٹوں تک’۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دل میں بہت کچھ کہنے کو ہے، مگر جذبات کی شدت کے باعث وہ بات زبان اور ہونٹوں تک نہیں آپاتی، یعنی اظہار ممکن نہیں ہوتا۔

(5) شاعر نے خود کو ‘غبارِ میر’ کیوں کہا ہے؟

جوابشاعر نے عاجزی اور محبوب سے دوری ظاہر کرنے کے لیے خود کو ‘غبارِ میر’ یعنی خاک اور مٹی کہا ہے۔ اِس سے اُس کی انکساری اور باادب دوری دونوں ظاہر ہوتی ہیں۔

طویل سوالات (Long, 100–120 الفاظ)

(1) اِس غزل میں میر تقی میرؔ نے غم اور درد کی کیفیت کو کس طرح پیش کیا ہے؟ وضاحت کیجیے۔

جواباِس غزل کا سب سے نمایاں رنگ غم اور درد ہے، جو میر تقی میرؔ کی شاعری کی خاص پہچان ہے۔ مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ آنسو تو ہر وقت آنکھوں میں رہتے ہیں، مگر جب غم انتہا کو پہنچ جائے تو آنسوؤں کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے—یہ غم کی شدید ترین صورت ہے۔ آگے وہ جدائی میں صبر کے ساتھ چھوڑ جانے، خواہشوں کے ختم ہو جانے، اور دل کی بات ہونٹوں تک نہ آنے کی بے بسی بیان کرتا ہے۔ شاعر نے یہ سب نہایت سادہ، بامحاورہ اور دل میں اُتر جانے والی زبان میں کہا ہے۔ اِسی سچائی اور سوز و گداز کی وجہ سے میرؔ کا غم قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

(2) اِس غزل میں عشق سے متعلق شاعر کے کیا خیالات ہیں؟ تفصیل سے لکھیے۔

جواباِس غزل میں شاعر نے عشق کو محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک پورا سلیقہ اور طرزِ حیات بنا کر پیش کیا ہے۔ اُس کے نزدیک عشق میں سب سے ضروری چیز حوصلہ ہے—‘عشق کو حوصلہ ہے شرط’؛ حوصلے کے بغیر بات کرنے اور عشق نبھانے کا کوئی ڈھنگ نہیں آتا۔ عشق ہی انسان کو ادب، احترام اور تمیز سکھاتا ہے، جیسا کہ مقطع میں کہا گیا ہے کہ ‘عشق بن یہ ادب نہیں آتا’۔ ساتھ ہی عشق میں محبوب کی موجودگی شاعر کو بے خود کر دیتی ہے اور دل کی باتیں زبان تک نہیں آپاتیں۔ یوں شاعر عشق کو حوصلے، ادب، بے خودی اور خاموش اظہار کا حسین امتزاج قرار دیتا ہے۔

(3) میر تقی میرؔ کی زبان اور اندازِ بیان کی خصوصیات اِس غزل کی روشنی میں بیان کیجیے۔

جوابمیر تقی میرؔ کی زبان نہایت سادہ، صاف اور بامحاورہ ہے، جو سیدھے دل میں اُتر جاتی ہے۔ اِس غزل میں مشکل اور بھاری بھرکم الفاظ کے بجائے روزمرہ کے سادہ الفاظ (آنسو، صبر، خواہش، حوصلہ، بات، دل) استعمال ہوئے ہیں۔ میرؔ نے جذبات کو بناوٹ کے بغیر، سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے، اِسی لیے اُن کے اشعار میں سوز و گداز اور اثر آفرینی پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے تجسیم کاری (صبر کو دوست بنانا) اور مناسب تلمیحات و استعارے بھی استعمال کیے ہیں۔ زبان کی روانی، مصرعوں کا بہاؤ اور غم کا سچا اظہار—یہی وہ خوبیاں ہیں جنھوں نے میرؔ کو ‘خدائے سخن’ بنا دیا۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. اِس غزل کے شاعر کون ہیں؟

(الف) مرزا غالب

(ب) میر تقی میرؔ

(ج) علامہ اقبال

(د) مومن خاں مومن

جواب(ب) میر تقی میرؔ

2. میر تقی میرؔ کا اصل نام کیا تھا؟

(الف) محمد تقی

(ب) اسد اللہ

(ج) محمد رفیع

(د) نظیر احمد

جواب(الف) محمد تقی

3. اِس صنفِ سخن کا نام کیا ہے؟

(الف) نظم

(ب) غزل

(ج) قطعہ

(د) مرثیہ

جواب(ب) غزل

4. مطلع کے مطابق غم بڑھ جانے پر آنکھوں سے کیا نکلتا ہے؟

(الف) آنسو

(ب) لہو (خون)

(ج) دھواں

(د) کچھ نہیں

جواب(ب) لہو (خون)

5. جدائی میں شاعر کا مونس کون تھا؟

(الف) ہمدم

(ب) صبر

(ج) خواہش

(د) غبار

جواب(ب) صبر

6. شاعر کے نزدیک عشق کی ‘شرط’ کیا ہے؟

(الف) دولت

(ب) حوصلہ

(ج) علم

(د) خاموشی

جواب(ب) حوصلہ

7. ‘تا بہ لب’ کے معنی ہیں—

(الف) دل تک

(ب) ہونٹوں تک

(ج) آنکھوں تک

(د) ہاتھوں تک

جواب(ب) ہونٹوں تک

8. ‘ڈھب’ کا مفہوم کیا ہے؟

(الف) طریقہ، ڈھنگ

(ب) راستہ

(ج) آواز

(د) خوشبو

جواب(الف) طریقہ، ڈھنگ

9. مقطع میں شاعر نے اپنے لیے کون سا لفظ استعمال کیا ہے؟

(الف) اشک

(ب) غبارِ میرؔ

(ج) ہمدم

(د) مونس

جواب(ب) غبارِ میرؔ

10. میر تقی میرؔ کس لقب سے مشہور ہیں؟

(الف) شاعرِ مشرق

(ب) خدائے سخن

(ج) ملک الشعرا

(د) لسان الغیب

جواب(ب) خدائے سخن
جوابی کلید: 1-(ب)، 2-(الف)، 3-(ب)، 4-(ب)، 5-(ب)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(الف)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) — نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): مطلع میں شاعر نے غم کی شدید ترین کیفیت بیان کی ہے۔

وجہ (R): شاعر کہتا ہے کہ غم بڑھ جانے پر آنکھوں سے آنسو کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

2. تصدیق (A): تیسرے شعر میں ‘صبر’ کی تجسیم کاری کی گئی ہے۔

وجہ (R): صبر کو ایک ساتھی (مونس) کی طرح پیش کیا گیا ہے جو پہلے ساتھ تھا اور اب نہیں آتا۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

3. تصدیق (A): شاعر کے نزدیک عشق کے لیے دولت سب سے ضروری ہے۔

وجہ (R): شاعر کہتا ہے ‘عشق کو حوصلہ ہے شرط’۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے—عشق کے لیے دولت نہیں بلکہ حوصلہ شرط ہے۔

4. تصدیق (A): مقطع میں شاعر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہے۔

وجہ (R): مقطع غزل کا وہ شعر ہوتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے، یہاں ‘میرؔ’ آیا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

5. تصدیق (A): شاعر کے دل کی بات آسانی سے ہونٹوں تک آ جاتی ہے۔

وجہ (R): شاعر کہتا ہے ‘پر سخن تا بہ لب نہیں آتا’۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے—شاعر کے مطابق دل کی بات ہونٹوں تک نہیں آتی۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • مطلع اور مقطع کی اصطلاحیں اور اِن کی پہچان یاد رکھیں—سوالات اکثر اِنہی سے آتے ہیں۔
  • مشکل الفاظ (اشک، مونس، ہجراں، تا بہ لب، غبار، ڈھب) کے معنی زبانی یاد کریں۔
  • تشریح لکھتے وقت پہلے شعر نقل کریں، پھر آسان زبان میں مفہوم اور شاعرانہ خوبی لکھیں۔
  • تجسیم کاری، تلمیح اور استعارہ جیسی اصطلاحوں کی ایک ایک مثال غزل سے یاد رکھیں۔
  • میرؔ کے بارے میں چند مستند حقائق (اصل نام، سنِ پیدائش 1722ء، لقب خدائے سخن) ضرور یاد ہوں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • میرؔ اور غالبؔ کو خلط ملط کر دینا—یہ غزل میر تقی میرؔ کی ہے۔
  • اشعار کو غلط لکھنا یا الفاظ بدل دینا—اشعار بعینہٖ یاد کریں۔
  • ‘مونس’ کو دشمن یا ‘ہجراں’ کو خوشی سمجھ لینا—مونس = ساتھی، ہجراں = جدائی۔
  • متروک الفاظ (کسو، تلک، یاں، آوے، کاہے) کے رائج الفاظ غلط لکھنا۔
  • تشریح میں صرف ترجمہ لکھ دینا—شعر کی شاعرانہ خوبی اور جذبہ بھی بیان کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جماعت نہم اردو جمنا سبق 8 کی غزل کس شاعر کی ہے؟

یہ غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ اردو کے عظیم شاعر میر تقی میرؔ کی ہے، جنھیں ‘خدائے سخن’ کہا جاتا ہے۔

مطلع میں ‘لہو آتا ہے’ سے شاعر کیا مراد لیتا ہے؟

اِس سے مراد غم کی انتہائی شدت ہے—جب دکھ حد سے بڑھ جائے تو آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون بہنے لگتا ہے۔

اِس غزل میں شاعر نے کس کو ‘مونسِ ہجراں’ کہا ہے؟

شاعر نے ‘صبر’ کو مونسِ ہجراں یعنی جدائی کا ساتھی کہا ہے، مگر کہتا ہے کہ اب وہ صبر بھی مدت سے ساتھ نہیں دیتا۔

غزل کے اشعار اور سوالات NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں؛ تشریح، خلاصہ، معنی اور جوابات ClearStudy کے مولّفہ و تصدیق شدہ ہیں۔

Scroll to Top