Class 9 Urdu Jamuna Chapter 6 Mian Naseeruddin Solutions (NCERT 2026–27) – میاں نصیر الدین

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 6 ‘میاں نصیر الدین’ – a famous khaka (character-sketch) by Krishan Chandar (کرشن چندر) about a master naan-baker of old Delhi who claims to have inherited the art of cooking from the kitchens of the Mughal emperors. Below you get the author intro, خلاصہ (summary) with a Hindi gist, مشکل الفاظ کے معانی, تشریح, and original, exam-ready answers to every سوال of the lesson, plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs.

یہ صفحہ کلاس 9 اردو ‘جمنا’ کے چھٹے سبق ‘میاں نصیر الدین’ کا مکمل حل پیش کرتا ہے – کرشن چندر کا یہ مشہور خاکہ دلی کے ایک ماہرِ فن نان باز کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہاں ادیب کا تعارف، خلاصہ، معنی، تشریح اور ہر سوال کا اصل اور امتحانی جواب موجود ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 6 سبق: میاں نصیر الدین صنف: خاکہ / مضمون ادیب: کرشن چندر Session: 2026–27

ادیب کا تعارف (Author Intro)

کرشن چندر (1925–2019) اردو کے ممتاز ترین افسانہ نگار، ناول نگار اور خاکہ نویس تھے۔ وہ 1925ء میں پیدا ہوئے اور برطانوی ہند کے مختلف علاقوں میں ان کا بچپن گزرا۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک سے گہرا تعلق رکھا اور اپنی تحریروں میں سماج کے دبے کچلے طبقوں، محنت کشوں اور عام انسان کی زندگی کو موضوع بنایا۔ کرشن چندر کی نثر اپنی شاعرانہ روانی، منظر کشی اور جذبے کی شدت کے لیے مشہور ہے۔ ان کے مشہور افسانوں اور ناولوں میں ‘شکست’، ‘الٹا درخت’، ‘ایک گدھے کی سرگزشت’ اور ‘غدار’ شامل ہیں۔ اردو ادب میں ان کا مقام بہت بلند ہے اور وہ بیسویں صدی کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ زیرِ نظر خاکہ ‘میاں نصیر الدین’ ان کے فنِ مرقع نگاری کا عمدہ نمونہ ہے۔

متن سے اقتباس (Key Excerpt)

(سبق کا ایک نمائندہ اقتباس – مکمل خاکہ کے لیے NCERT جمنا کتاب دیکھیے۔)

مصنف میاں نصیر الدین سے ان کے فن کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو وہ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ کھانا پکانا ایک ایسا فن ہے جو ان کے خاندان کو شاہی باورچی خانوں سے ورثے میں ملا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کئی قسم کی نان اور روٹیاں بنانا جانتے ہیں اور ہر قسم کا اپنا الگ ذائقہ اور انداز ہوتا ہے۔ میاں صاحب کے نزدیک کھانا پکانا محض پیٹ بھرنے کا کام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ہنر اور فن ہے۔

خلاصہ (Summary)

‘میاں نصیر الدین’ کرشن چندر کا ایک دلچسپ خاکہ ہے جس میں مصنف نے پرانی دلی کے ایک ماہرِ فن نان باز کی منفرد شخصیت کو بڑی محبت اور مزاح کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مصنف ایک دن مٹیا محل کے بازار سے گزرتا ہے تو ایک تنور کے پاس کھڑے ایک بزرگ نان باز کی طرف اس کی نظر اٹھتی ہے۔ یہی بزرگ میاں نصیر الدین ہیں، جو طرح طرح کی نانیں اور روٹیاں بنانے میں بے مثال شہرت رکھتے ہیں۔

مصنف ان سے ان کے فن کے بارے میں سوال کرتا ہے تو میاں نصیر الدین بڑے فخر اور اعتماد سے بتاتے ہیں کہ کھانا پکانا ان کے خاندان کا آبائی فن ہے۔ ان کے بزرگ مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے وابستہ رہے ہیں، اور یہ ہنر نسل در نسل انھیں ورثے میں ملا ہے۔ میاں صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چھپن (56) قسم کی نان اور بے شمار طرح کی روٹیاں بنانا جانتے ہیں – ہر ایک کا اپنا الگ نام، ذائقہ، خوشبو اور بنانے کا طریقہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کھانا پکانا محض پیٹ بھرنے کا کام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فن اور علم ہے جس میں مہارت برسوں کی محنت اور ریاضت سے آتی ہے۔

میاں نصیر الدین کی گفتگو میں ایک طرف پرانے کاریگروں کی خود داری اور اپنے فن پر فخر جھلکتا ہے، تو دوسری طرف ایک ٹھیٹھ دلی والے کی شگفتہ مزاجی اور بے تکلفی بھی نمایاں ہے۔ مصنف ان کی باتوں کو دلچسپی سے سنتا ہے اور ان کے فن کی قدر کرتا ہے۔ اس خاکے کے ذریعے کرشن چندر نے یہ پیغام دیا ہے کہ ہر کام، خواہ وہ کھانا پکانے ہی کا کیوں نہ ہو، اگر دل اور لگن سے کیا جائے تو وہ ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے، اور ہر سچے کاریگر کو اپنے ہنر پر فخر کرنا چاہیے۔

हिन्दी सार: कृष्ण चंदर का यह रोचक खाका पुरानी दिल्ली के एक माहिर नान-बाज़ (रोटी पकाने वाले) मियाँ नसीरुद्दीन का चरित्र-चित्रण है। वे गर्व से बताते हैं कि खाना पकाना उनके खानदान को मुग़ल बादशाहों के शाही रसोईघरों से विरासत में मिला फ़न है और वे छप्पन तरह की नान बनाना जानते हैं। लेखक यह संदेश देता है कि हर काम लगन से किया जाए तो वह एक ऊँचा फ़न बन जाता है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
خاکہशब्द-चित्र, चरित्र-चित्रणCharacter-sketch, pen-portrait
نان بازनान/रोटी पकाने वालाBread-baker, naan-maker
تنورतंदूर, भट्ठीClay oven, tandoor
فنकला, हुनरArt, craft
ورثہविरासतInheritance, legacy
باورچی خانہरसोईघरKitchen
شاہیराजसी, बादशाहीRoyal, imperial
آبائیपुश्तैनी, पूर्वजों काAncestral, hereditary
ذائقہस्वादTaste, flavour
مہارتदक्षता, निपुणताSkill, mastery
ریاضتसाधना, कठिन अभ्यासHard practice, discipline
کاریگرकारीगर, शिल्पीCraftsman, artisan
خود داریआत्म-सम्मानSelf-respect, dignity
فخرगर्व, अभिमानPride
شگفتہ مزاجیखुशमिज़ाजी, हँसमुख स्वभावCheerful disposition, wit
بے تکلفیबेतकल्लुफ़ी, सहजताInformality, candidness
نسل در نسلपीढ़ी-दर-पीढ़ीGeneration after generation
بے مثالअद्वितीय, बेमिसालUnmatched, unique
مرقع نگاریचित्र-सा शब्द-चित्रणVivid portraiture (in words)
قدرक़द्र, सम्मानAppreciation, value

تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)

اس خاکے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا حقیر نہیں ہوتا؛ اگر اسے دل، لگن اور مہارت سے کیا جائے تو وہ ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے۔ کرشن چندر نے میاں نصیر الدین کی شخصیت کے ذریعے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ایک سچا کاریگر اپنے ہنر کو محض روزی کمانے کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک علم اور فن کا درجہ دیتا ہے۔ میاں صاحب کھانا پکانے جیسے بظاہر معمولی کام کو بھی شاہی فن اور آبائی ورثے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں، اور اپنے ہنر پر فخر کرتے ہیں۔

مصنف نے اس خاکے میں پرانی دلی کے کاریگروں کی خود داری، ان کے فن سے محبت اور ان کی شگفتہ گفتگو کو نہایت دلکش انداز میں محفوظ کیا ہے۔ خاکے کی زبان سادہ، رواں اور بامحاورہ ہے، اور مکالموں کے ذریعے میاں نصیر الدین کا کردار قاری کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی کرشن چندر کے فنِ مرقع نگاری کی خوبی ہے۔

سوالات (Exercise)

سوچیے اور بتائیے

(i) میاں نصیر الدین کون تھے اور ان کا تعلق کہاں سے تھا؟

جوابمیاں نصیر الدین پرانی دلی کے ایک مشہور ماہرِ فن نان باز (روٹی اور نان پکانے والے) تھے۔ ان کا تعلق دلی کے علاقے مٹیا محل سے تھا، جہاں وہ تنور پر طرح طرح کی نانیں اور روٹیاں بنانے کے لیے بے مثال شہرت رکھتے تھے۔ ان کا خاندان نسلوں سے یہی فن اختیار کیے ہوئے تھا۔

(ii) میاں نصیر الدین نے اپنے فن کے بارے میں مصنف کو کیا بتایا؟

جوابمیاں نصیر الدین نے بڑے فخر کے ساتھ مصنف کو بتایا کہ کھانا پکانا ان کا آبائی فن ہے جو انھیں ورثے میں ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ چھپن قسم کی نان اور بے شمار طرح کی روٹیاں بنانا جانتے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا الگ نام، ذائقہ اور بنانے کا انداز ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض پیٹ بھرنے کا کام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فن اور علم ہے۔

(iii) مغل بادشاہوں کے باورچی خانوں سے میاں نصیر الدین کا کیا تعلق تھا؟

جوابمیاں نصیر الدین کا دعویٰ تھا کہ ان کے بزرگ مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے وابستہ رہے ہیں۔ کھانا پکانے کا یہ نفیس اور شاہی فن ان کے خاندان کو وہیں سے ورثے میں ملا اور نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آیا۔ اسی لیے وہ اپنے ہنر کو ایک شاہی اور باوقار فن سمجھتے تھے۔

(iv) میاں صاحب کے نزدیک کھانا پکانا کیسا فن ہے؟

جوابمیاں نصیر الدین کے نزدیک کھانا پکانا ایک نہایت اعلیٰ اور باقاعدہ فن ہے، نہ کہ کوئی معمولی کام۔ ان کا خیال تھا کہ اس فن میں مہارت برسوں کی محنت، ریاضت اور تجربے سے آتی ہے۔ ہر پکوان کا اپنا انداز، ذائقہ اور خوشبو ہوتی ہے، اور ایک سچے کاریگر کو اپنے اس فن پر فخر ہونا چاہیے۔

(v) میاں نصیر الدین کس قسم کی نانیں اور روٹیاں بنانا جانتے تھے؟

جوابمیاں نصیر الدین کے بقول وہ چھپن قسم کی نان اور کئی طرح کی روٹیاں بنانا جانتے تھے۔ ہر نان اور روٹی کا اپنا الگ نام، ذائقہ، خوشبو اور بنانے کا خاص طریقہ تھا۔ یہی ان کے فن کی وسعت اور مہارت کا ثبوت تھا، جس پر انھیں بجا طور پر فخر تھا۔

مختصر لکھیے

میاں نصیر الدین کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات مختصراً بیان کیجیے۔

جوابمیاں نصیر الدین ایک خوددار، خوش مزاج اور اپنے فن پر فخر کرنے والے بزرگ کاریگر تھے۔ وہ بے تکلف اور شگفتہ گفتگو کرنے والے ٹھیٹھ دلی والے تھے۔ کھانا پکانے کے فن میں انھیں بے مثال مہارت حاصل تھی اور وہ اسے ایک شاہی، آبائی اور باوقار ہنر سمجھتے تھے۔

انشا پردازی کیجیے / علمِ زبان

‘فن’ اور ‘ورثہ’ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

جواب فن – کھانا پکانا میاں نصیر الدین کے نزدیک ایک اعلیٰ فن تھا۔ ورثہ – یہ ہنر انھیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا تھا۔

نوٹ: کتاب کے ‘پڑھیے اور لکھیے’، ‘مجھے بھی کہیے’، ‘تخلیقی ہنر’ اور ‘انشائی ملکہ’ کے خانے زبانی/تخلیقی مشقیں ہیں؛ انھیں اپنے استاد کی رہنمائی میں اپنے الفاظ میں مکمل کیجیے۔

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. ‘خاکہ’ سے کیا مراد ہے؟

جوابخاکہ نثر کی وہ صنف ہے جس میں کسی شخصیت کے ظاہری حلیے، عادات، مزاج اور نمایاں خوبیوں خامیوں کو الفاظ میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ کردار قاری کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جائے۔ ‘میاں نصیر الدین’ اسی صنف کی عمدہ مثال ہے۔

2. مصنف کی ملاقات میاں نصیر الدین سے کہاں ہوئی؟

جوابمصنف کی ملاقات میاں نصیر الدین سے پرانی دلی کے علاقے مٹیا محل میں ہوئی، جہاں وہ اپنے تنور کے پاس کھڑے نان اور روٹیاں بنا رہے تھے۔

3. میاں نصیر الدین کو اپنے فن پر فخر کیوں تھا؟

جوابانھیں اپنے فن پر اس لیے فخر تھا کہ یہ ان کا آبائی ہنر تھا جو مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے ورثے میں ملا تھا، اور اس میں انھیں بے مثال مہارت حاصل تھی۔

4. اس خاکے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواباس خاکے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا؛ اگر اسے دل، لگن اور مہارت سے کیا جائے تو وہ ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے، اور ہر کاریگر کو اپنے ہنر کی قدر اور اس پر فخر کرنا چاہیے۔

5. کرشن چندر کی نثر کی نمایاں خوبی کیا ہے؟

جوابکرشن چندر کی نثر کی نمایاں خوبی اس کی شاعرانہ روانی، جاندار منظر کشی اور سادہ بامحاورہ زبان ہے۔ وہ مکالموں اور باریک مشاہدے سے کرداروں کو زندہ کر دیتے ہیں۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. ‘میاں نصیر الدین’ خاکے کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جوابیہ کرشن چندر کا ایک دلچسپ خاکہ ہے جس میں پرانی دلی کے ماہرِ فن نان باز میاں نصیر الدین کی شخصیت پیش کی گئی ہے۔ مصنف مٹیا محل کے بازار میں ان سے ملتا ہے اور ان کے فن کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ میاں صاحب فخر سے بتاتے ہیں کہ کھانا پکانا ان کا آبائی فن ہے جو مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے ورثے میں ملا ہے۔وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چھپن قسم کی نان اور بے شمار روٹیاں بنانا جانتے ہیں، اور ہر ایک کا الگ ذائقہ اور انداز ہے۔ ان کی گفتگو سے خود داری، فن سے محبت اور شگفتہ مزاجی جھلکتی ہے۔ مصنف نے یہ پیغام دیا ہے کہ لگن سے کیا گیا ہر کام ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے۔

7. میاں نصیر الدین کی شخصیت اور کردار پر روشنی ڈالیے۔

جوابمیاں نصیر الدین پرانی دلی کے ایک ایسے بزرگ کاریگر ہیں جن کی شخصیت میں خود داری، اعتماد اور اپنے فن پر فخر نمایاں ہے۔ وہ کھانا پکانے کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک شاہی، آبائی اور باوقار فن سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہنر انھیں مغل دور کے باورچی خانوں سے ملا ہے۔اپنی مہارت کے باوجود وہ مغرور نہیں بلکہ خوش مزاج، بے تکلف اور شگفتہ گفتگو کرنے والے ٹھیٹھ دلی والے ہیں۔ ان کی باتوں میں مزاح، اپنائیت اور کاریگری کا شعور ساتھ ساتھ ملتا ہے۔ کرشن چندر نے ان کے کردار کو اتنی جاندار منظر کشی سے پیش کیا ہے کہ وہ قاری کے ذہن پر ایک یادگار نقش چھوڑ جاتے ہیں۔

8. اس خاکے کے ذریعے کرشن چندر نے فن اور کاریگر کی عظمت کو کس طرح اجاگر کیا ہے؟

جوابکرشن چندر نے میاں نصیر الدین کے خاکے کے ذریعے یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ ہر فن، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اپنے اندر عظمت رکھتا ہے۔ کھانا پکانے جیسا روزمرہ کا کام بھی جب پوری مہارت، لگن اور ریاضت سے کیا جائے تو ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے۔مصنف نے دکھایا ہے کہ ایک سچا کاریگر اپنے ہنر سے محبت کرتا ہے، اس پر فخر کرتا ہے اور اسے روزی سے بڑھ کر علم اور آرٹ کا درجہ دیتا ہے۔ اس طرح ادیب نے محنت کش کاریگروں کی خود داری اور ان کے فن کی قدر و قیمت کو نہایت محبت اور احترام کے ساتھ پیش کیا ہے، جو ترقی پسند ادب کی روح کے عین مطابق ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ

1. ‘میاں نصیر الدین’ کس ادیب کی تحریر ہے؟

(الف) منشی پریم چند

(ب) کرشن چندر

(ج) سعادت حسن منٹو

(د) رشید احمد صدیقی

جواب(ب) کرشن چندر۔

2. یہ سبق نثر کی کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟

(الف) افسانہ

(ب) ڈراما

(ج) خاکہ

(د) سفرنامہ

جواب(ج) خاکہ۔

3. میاں نصیر الدین کا پیشہ کیا تھا؟

(الف) درزی

(ب) نان باز (نان/روٹی پکانے والے)

(ج) لوہار

(د) معمار

جواب(ب) نان باز۔

4. میاں صاحب کا تعلق دلی کے کس علاقے سے تھا؟

(الف) چاندنی چوک

(ب) مٹیا محل

(ج) جامع مسجد

(د) نظام الدین

جواب(ب) مٹیا محل۔

5. میاں صاحب کے بقول وہ کتنی قسم کی نان بنانا جانتے تھے؟

(الف) چھپن (56)

(ب) دس

(ج) بیس

(د) سو

جواب(الف) چھپن (56)۔

6. میاں صاحب کے دعوے کے مطابق ان کا فن کہاں سے ورثے میں ملا تھا؟

(الف) انگریز افسروں سے

(ب) مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے

(ج) ایک ولی سے

(د) ایک ہوٹل سے

جواب(ب) مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے۔

7. میاں صاحب کے نزدیک کھانا پکانا کیا تھا؟

(الف) محض پیٹ بھرنے کا کام

(ب) ایک اعلیٰ فن اور علم

(ج) ایک بوجھ

(د) ایک معمولی مزدوری

جواب(ب) ایک اعلیٰ فن اور علم۔

8. کرشن چندر کا تعلق کس ادبی تحریک سے تھا؟

(الف) رومانوی تحریک

(ب) ترقی پسند تحریک

(ج) جدیدیت

(د) علی گڑھ تحریک

جواب(ب) ترقی پسند تحریک۔

9. میاں نصیر الدین کی گفتگو میں کون سی صفت نمایاں ہے؟

(الف) مایوسی

(ب) خود داری اور شگفتہ مزاجی

(ج) خوف

(د) لالچ

جواب(ب) خود داری اور شگفتہ مزاجی۔

10. کرشن چندر کا انتقال کس سال ہوا؟ (سنِ پیدائش 1925)

(الف) 1977

(ب) 2019

(ج) 1947

(د) 1965

جواب(ب) 2019۔ (کتاب کے سرورق پر 1925–2019 درج ہے۔)
اطلاعی کلید (Answer Key): 1-(ب)، 2-(ج)، 3-(ب)، 4-(ب)، 5-(الف)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق اور وجہ (Assertion–Reason): نیچے ایک تصدیق (A) اور ایک وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست ہیں مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): میاں نصیر الدین کو اپنے فن پر فخر تھا۔

وجہ (R): کھانا پکانے کا فن انھیں مغل بادشاہوں کے شاہی باورچی خانوں سے ورثے میں ملا تھا۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔

2. تصدیق (A): ‘میاں نصیر الدین’ ایک خاکہ ہے۔

وجہ (R): اس میں شاعری کے ذریعے کسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

جواب(ج) A درست ہے مگر R غلط ہے – خاکہ نثر کی صنف ہے، شاعری کی نہیں؛ اس میں کسی شخصیت کا قلمی نقشہ کھینچا جاتا ہے۔

3. تصدیق (A): میاں صاحب کھانا پکانے کو ایک اعلیٰ فن سمجھتے تھے۔

وجہ (R): ان کے نزدیک اس میں مہارت برسوں کی محنت اور ریاضت سے آتی ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔

4. تصدیق (A): کرشن چندر ترقی پسند ادیب تھے۔

وجہ (R): انھوں نے اپنی تحریروں میں عام انسان اور محنت کشوں کی زندگی کو موضوع بنایا۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔

5. تصدیق (A): میاں نصیر الدین کا کردار قاری کے ذہن پر یادگار نقش چھوڑتا ہے۔

وجہ (R): کرشن چندر نے مکالموں اور جاندار منظر کشی سے ان کے کردار کو زندہ کر دیا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • سبق کی صنف (خاکہ) اور ادیب (کرشن چندر، 1925–2019) ضرور یاد رکھیے – یہ سوال اکثر آتا ہے۔
  • میاں نصیر الدین کے کردار کی نمایاں خوبیاں (خود داری، فن پر فخر، شگفتہ مزاجی) نکتہ وار یاد کیجیے۔
  • اہم نکات – مٹیا محل، چھپن قسم کی نان، شاہی باورچی خانوں سے ورثہ – جواب میں ضرور لکھیے۔
  • معنی (خاکہ، ورثہ، فن، کاریگر، خود داری) ہندی اور انگریزی دونوں میں یاد رکھیے۔
  • طویل جواب میں خلاصہ، کردار اور مرکزی پیغام تینوں کو ترتیب سے پیش کیجیے۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • سبق کو افسانہ یا ڈراما لکھ دینا – یہ ‘خاکہ’ ہے۔
  • ادیب کا نام غلط لکھنا – یہ کرشن چندر کی تحریر ہے، کسی اور کی نہیں۔
  • میاں صاحب کا پیشہ غلط بتانا – وہ نان باز (روٹی پکانے والے) تھے۔
  • اردو املا کی غلطیاں – باورچی خانہ، ریاضت، خود داری کو درست لکھیے۔
  • جواب میں صرف ایک جملہ لکھنا – مکمل اور مدلل جواب لکھیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

‘میاں نصیر الدین’ سبق کس ادیب کی تحریر ہے اور کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟

یہ سبق کرشن چندر (1925–2019) کی تحریر ہے اور نثر کی صنف ‘خاکہ’ سے تعلق رکھتا ہے، جس میں دلی کے ماہرِ فن نان باز میاں نصیر الدین کا قلمی نقشہ کھینچا گیا ہے۔

میاں نصیر الدین کون تھے؟

میاں نصیر الدین پرانی دلی کے مٹیا محل کے ایک مشہور نان باز تھے جو چھپن قسم کی نان اور بے شمار روٹیاں بنانے میں بے مثال مہارت رکھتے تھے اور اپنے اس آبائی فن پر فخر کرتے تھے۔

اس خاکے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

اس خاکے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا؛ اگر اسے لگن اور مہارت سے کیا جائے تو وہ ایک اعلیٰ فن بن جاتا ہے، اور ہر کاریگر کو اپنے ہنر پر فخر کرنا چاہیے۔

متن، عنوان اور سوالات NCERT جمنا کتاب کے صفحات سے ہو بہو لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، معنی، تشریح اور جوابات ClearStudy کے مولف نے اصل اور امتحانی انداز میں تیار کیے ہیں۔

Scroll to Top