Class 9 Urdu Jamuna Chapter 8 Ghazal (Mir Taqi Mir) Solutions (NCERT 2026–27) – غزل: اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 8 – the غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ by Mir Taqi Mir (میر تقی میرؔ): the full اشعار reproduced verbatim, شاعر کا تعارف, خلاصہ, مشکل الفاظ کے معانی, شعر بہ شعر تشریح, and original, exam-ready answers to every سوال of the book’s سوچیے اور بتائیے / پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے / لسانی سرگرمی exercises, plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ جماعت نہم اردو ‘جمنا’ کے سبق 8، میر تقی میرؔ کی مشہور غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ کی مکمل، آسان اور امتحانی تیاری کے لیے ہے۔
شاعر کا تعارف (About the Poet)
میر تقی میرؔ اردو شاعری کے سب سے بڑے اور محترم شاعروں میں سے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد تقی اور تخلص میرؔ تھا۔ وہ 1722ء میں آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے اور 1810ء میں لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی مشکلات اور صدمات سے گزری، اسی لیے ان کے کلام میں دردِ دل، سوز و گداز اور اداسی کا گہرا رنگ نمایاں ہے۔ انھوں نے آگرہ، دہلی اور پھر لکھنؤ میں زندگی بسر کی۔ سادہ، بامحاورہ اور دل میں اُتر جانے والی زبان، اور انسانی جذبات کی سچی عکاسی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ان کی غزل گوئی اتنی بلند ہے کہ انھیں ‘خدائے سخن’ کہا جاتا ہے۔ اپنے بعد آنے والے کئی بڑے شاعروں نے ان کی استادی کا اعتراف کیا ہے۔
منتخب اشعار (The Ghazal)
(NCERT جمنا، سبق 8 سے غزل کے سات اشعار بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونسِ ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا
جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا بہ لب نہیں آتا
دور بیٹھا غبارِ میرؔ اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
— میر تقی میرؔ
خلاصہ (Summary)
یہ غزل میر تقی میرؔ کے اُس درد بھرے لہجے کی بہترین مثال ہے جس نے انھیں ‘خدائے سخن’ بنایا۔ مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ آنسو تو آنکھوں میں ہر وقت رہتے ہیں؛ اصل کیفیت اُس وقت کی ہے جب غم اتنا بڑھ جائے کہ آنسوؤں کی جگہ خون نکلنے لگے۔ اگلے شعر میں عشق کی عجیب حالت بیان ہوئی ہے—ہوش بالکل ختم نہیں ہوا، مگر جب محبوب سامنے آتا ہے تو ہوش باقی نہیں رہتا۔ تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جدائی کے دنوں میں صبر ہی اُس کا واحد ساتھی (مونس) تھا، مگر اب مدت سے وہ صبر بھی نہیں آتا، یعنی غم نے صبر کا دامن بھی چھین لیا ہے۔
آگے شاعر کہتا ہے کہ اب دل سے ہر خواہش رخصت ہو چکی ہے، اِسی لیے رونا بے سبب نہیں آتا—ہر آنسو کے پیچھے کوئی نہ کوئی دکھ ہوتا ہے۔ پھر وہ عشق کا اصول بیان کرتا ہے کہ عشق میں سب سے ضروری چیز حوصلہ ہے؛ حوصلہ نہ ہو تو بات کرنے کا کوئی سلیقہ یا ڈھنگ نہیں آتا۔ اگلے شعر میں دل کی بے بسی ہے کہ دل میں بہت کچھ کہنے کو ہے مگر بات ہونٹوں تک (تا بہ لب) نہیں آتی۔ مقطع میں شاعر اپنے آپ کو ‘غبارِ میر’ کہہ کر محبوب سے دوری اور عشق کے ادب کا ذکر کرتا ہے کہ عشق کے بغیر یہ ادب اور سلیقہ نہیں آتا۔ مختصراً، یہ غزل عشق، ہجر، صبر اور بے بسی کے جذبات کو نہایت سادہ اور پُراثر زبان میں پیش کرتی ہے۔
Hindi gist: इस ग़ज़ल में मीर तक़ी मीर ने इश्क़, हिज्र (जुदाई), सब्र और बेबसी के दर्द को बहुत सादा और असरदार ज़बान में बयान किया है – आँसू तो हमेशा रहते हैं, पर ग़म इतना है कि अब लहू बहता है, सब्र भी साथ छोड़ चुका है और दिल की बात होंठों तक नहीं आती।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
(NCERT جمنا کے ‘لفظ و معنی’ حصے سے، مع ہندی اور انگریزی مفہوم۔)
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| اشک | आँसू | Tear |
| لہو / لوہو | ख़ून, रक्त | Blood |
| مونس | दोस्त, उन्स रखने वाला | Companion, comforter |
| ہجراں / ہجر | जुदाई, विरह | Separation |
| مدت | लंबा समय, अरसा | A long while |
| گریہ | रोना | Weeping |
| بے سبب | बिना किसी कारण | Without reason |
| حوصلہ | हिम्मत, साहस | Courage, spirit |
| ارنہ (ورنہ) | वरना, अन्यथा | Otherwise |
| کسو (کسی) | किसी | Any (archaic form) |
| ڈھب | तरीक़ा, ढंग | Manner, way |
| ہمدم | साथी | Close companion |
| سخن | बात, गुफ़्तगू, शेर | Speech, words, verse |
| تا بہ لب | होंठों तक | Up to the lips |
| غبار | ख़ाक, मिट्टी, धूल | Dust |
| ادب | आदर, तमीज़, सलीक़ा | Decorum, etiquette |
تشریح (Tashreeh / Explanation)
شعر 1 — مطلع
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
شاعر کہتا ہے کہ آنسو تو ہر وقت آنکھوں میں موجود رہتے ہیں؛ آنسوؤں کا آنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل دکھ تو اُس لمحے کا ہے جب غم اِس قدر شدید ہو جائے کہ آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون نکلنے لگے۔ یہاں شاعر نے غم کی انتہائی شدت کو نہایت پُراثر انداز میں بیان کیا ہے۔
شعر 2
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
شاعر اپنی کیفیت بیان کرتا ہے کہ ویسے تو اُس کے ہوش و حواس قائم ہیں، مگر جب اُس کا محبوب سامنے آ جاتا ہے تو ہوش باقی نہیں رہتا۔ یعنی محبوب کی موجودگی شاعر کو بے خود اور بے ہوش کر دیتی ہے۔ یہ شعر عشق میں ہوش کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کیفیتوں کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے۔
شعر 3
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا
جدائی کے دنوں میں صبر ہی شاعر کا واحد ساتھی اور غم گسار تھا، مگر اب ایک مدت سے وہ صبر بھی نہیں آتا۔ یعنی غم اتنا بڑھ گیا ہے کہ صبر بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ اِس شعر میں صبر کو ایک جیتے جاگتے دوست کی صورت میں پیش کر کے ‘تجسیم کاری’ (شخصیت سازی) کی گئی ہے۔
شعر 5
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا
شاعر عشق کا ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے کہ عشق کے لیے سب سے ضروری چیز حوصلہ اور ہمت ہے۔ اگر حوصلہ نہ ہو تو بات کرنے کا، اپنے دل کی بات کہنے کا کوئی سلیقہ یا ڈھنگ نہیں آتا۔ یعنی عشق میں کامیابی کے لیے دل کا مضبوط اور پُرعزم ہونا لازمی ہے۔
شعر 7 — مقطع
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
مقطع میں شاعر اپنا تخلص ‘میر’ استعمال کرتے ہوئے خود کو ‘غبارِ میر’ یعنی خاک و مٹی کہتا ہے۔ وہ محبوب سے دور اور باادب بیٹھا ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ ادب، احترام اور تمیز عشق ہی سکھاتا ہے—عشق کے بغیر دل میں یہ سلیقہ اور ادب پیدا نہیں ہوتا۔
سوالات و مشق (Exercise)
سوچیے اور بتائیے
(i) ہجر کے ایام میں کس کو مونس قرار دیا گیا ہے؟
(ii) غم کے لمحے کی شدت کو کن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے؟
(iii) غمِ یار کا دورہ پیشتر کس صورت میں ظاہر ہوتا ہے؟
(iv) اس شعر میں کس جذبے کی تجسیم کاری کی گئی ہے؟‘صبر تھا ایک مونسِ ہجراں / سو وہ مدت سے اب نہیں آتا’
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
(1) غزل میں لفظ ‘تا بہ لب’ آیا ہے، جس کے معنی ہیں ‘ہونٹوں تک’، یہاں ‘تا’ سے مراد ‘تک’ ہے۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے معنی معلوم کر کے لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
(2) درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے، ان میں کہی گئی بات جن اشعار میں پیش کی گئی ہے، اسے تلاش کر کے لکھیے:
→ ہوش جاتا نہیں رہا لیکن / جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا (ii) دل کی بات زبان تک نہ آنے کا [ذکر]۔
→ جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم / پر سخن تا بہ لب نہیں آتا (iii) رونے کا سبب بیان کیا ہے۔
→ دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش / گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا (vi) عشق کے سلیقے کی بات کی گئی ہے۔
→ عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ / بات کا کسو ڈھب نہیں آتا (vii) جب دل میں جذبات کی یلغار ہو تب اظہار کے لیے الفاظ زبان تک نہیں آپاتے۔
→ جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم / پر سخن تا بہ لب نہیں آتا
(3) دیے گئے مصرعے کو غور سے پڑھیے: ‘بات کا کسو ڈھب نہیں آتا’ — اِس میں الفاظ ‘کسو’ اور ‘ڈھب’ کا مفہوم واضح کیجیے۔
(4) نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور بتائیے کہ کون سا جملہ سوالیہ ہے اور کس جملے میں سوال نہیں بلکہ محض اظہار ہے:
لسانی سرگرمی
(1) دیے گئے متروک الفاظ کے مروجہ (رائج) الفاظ معلوم کر کے لکھیے:
(2) غزل کو دوبارہ پڑھیے اور درج ذیل الفاظ کے مترادفات تلاش کر کے لکھیے:
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (Short, 30–40 الفاظ)
(1) اِس غزل کے شاعر کون ہیں اور انھیں کس لقب سے یاد کیا جاتا ہے؟
(2) شاعر نے گریہ (رونے) کو ‘بے سبب نہیں’ کیوں کہا ہے؟
(3) شاعر کے نزدیک عشق میں سب سے ضروری چیز کیا ہے؟
(4) ‘تا بہ لب’ سے شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟
(5) شاعر نے خود کو ‘غبارِ میر’ کیوں کہا ہے؟
طویل سوالات (Long, 100–120 الفاظ)
(1) اِس غزل میں میر تقی میرؔ نے غم اور درد کی کیفیت کو کس طرح پیش کیا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
(2) اِس غزل میں عشق سے متعلق شاعر کے کیا خیالات ہیں؟ تفصیل سے لکھیے۔
(3) میر تقی میرؔ کی زبان اور اندازِ بیان کی خصوصیات اِس غزل کی روشنی میں بیان کیجیے۔
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. اِس غزل کے شاعر کون ہیں؟
(الف) مرزا غالب
(ب) میر تقی میرؔ
(ج) علامہ اقبال
(د) مومن خاں مومن
2. میر تقی میرؔ کا اصل نام کیا تھا؟
(الف) محمد تقی
(ب) اسد اللہ
(ج) محمد رفیع
(د) نظیر احمد
3. اِس صنفِ سخن کا نام کیا ہے؟
(الف) نظم
(ب) غزل
(ج) قطعہ
(د) مرثیہ
4. مطلع کے مطابق غم بڑھ جانے پر آنکھوں سے کیا نکلتا ہے؟
(الف) آنسو
(ب) لہو (خون)
(ج) دھواں
(د) کچھ نہیں
5. جدائی میں شاعر کا مونس کون تھا؟
(الف) ہمدم
(ب) صبر
(ج) خواہش
(د) غبار
6. شاعر کے نزدیک عشق کی ‘شرط’ کیا ہے؟
(الف) دولت
(ب) حوصلہ
(ج) علم
(د) خاموشی
7. ‘تا بہ لب’ کے معنی ہیں—
(الف) دل تک
(ب) ہونٹوں تک
(ج) آنکھوں تک
(د) ہاتھوں تک
8. ‘ڈھب’ کا مفہوم کیا ہے؟
(الف) طریقہ، ڈھنگ
(ب) راستہ
(ج) آواز
(د) خوشبو
9. مقطع میں شاعر نے اپنے لیے کون سا لفظ استعمال کیا ہے؟
(الف) اشک
(ب) غبارِ میرؔ
(ج) ہمدم
(د) مونس
10. میر تقی میرؔ کس لقب سے مشہور ہیں؟
(الف) شاعرِ مشرق
(ب) خدائے سخن
(ج) ملک الشعرا
(د) لسان الغیب
تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) — نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
1. تصدیق (A): مطلع میں شاعر نے غم کی شدید ترین کیفیت بیان کی ہے۔
وجہ (R): شاعر کہتا ہے کہ غم بڑھ جانے پر آنکھوں سے آنسو کی جگہ خون نکلنے لگتا ہے۔
2. تصدیق (A): تیسرے شعر میں ‘صبر’ کی تجسیم کاری کی گئی ہے۔
وجہ (R): صبر کو ایک ساتھی (مونس) کی طرح پیش کیا گیا ہے جو پہلے ساتھ تھا اور اب نہیں آتا۔
3. تصدیق (A): شاعر کے نزدیک عشق کے لیے دولت سب سے ضروری ہے۔
وجہ (R): شاعر کہتا ہے ‘عشق کو حوصلہ ہے شرط’۔
4. تصدیق (A): مقطع میں شاعر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہے۔
وجہ (R): مقطع غزل کا وہ شعر ہوتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے، یہاں ‘میرؔ’ آیا ہے۔
5. تصدیق (A): شاعر کے دل کی بات آسانی سے ہونٹوں تک آ جاتی ہے۔
وجہ (R): شاعر کہتا ہے ‘پر سخن تا بہ لب نہیں آتا’۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- مطلع اور مقطع کی اصطلاحیں اور اِن کی پہچان یاد رکھیں—سوالات اکثر اِنہی سے آتے ہیں۔
- مشکل الفاظ (اشک، مونس، ہجراں، تا بہ لب، غبار، ڈھب) کے معنی زبانی یاد کریں۔
- تشریح لکھتے وقت پہلے شعر نقل کریں، پھر آسان زبان میں مفہوم اور شاعرانہ خوبی لکھیں۔
- تجسیم کاری، تلمیح اور استعارہ جیسی اصطلاحوں کی ایک ایک مثال غزل سے یاد رکھیں۔
- میرؔ کے بارے میں چند مستند حقائق (اصل نام، سنِ پیدائش 1722ء، لقب خدائے سخن) ضرور یاد ہوں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- میرؔ اور غالبؔ کو خلط ملط کر دینا—یہ غزل میر تقی میرؔ کی ہے۔
- اشعار کو غلط لکھنا یا الفاظ بدل دینا—اشعار بعینہٖ یاد کریں۔
- ‘مونس’ کو دشمن یا ‘ہجراں’ کو خوشی سمجھ لینا—مونس = ساتھی، ہجراں = جدائی۔
- متروک الفاظ (کسو، تلک، یاں، آوے، کاہے) کے رائج الفاظ غلط لکھنا۔
- تشریح میں صرف ترجمہ لکھ دینا—شعر کی شاعرانہ خوبی اور جذبہ بھی بیان کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جماعت نہم اردو جمنا سبق 8 کی غزل کس شاعر کی ہے؟
یہ غزل ‘اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا’ اردو کے عظیم شاعر میر تقی میرؔ کی ہے، جنھیں ‘خدائے سخن’ کہا جاتا ہے۔
مطلع میں ‘لہو آتا ہے’ سے شاعر کیا مراد لیتا ہے؟
اِس سے مراد غم کی انتہائی شدت ہے—جب دکھ حد سے بڑھ جائے تو آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ خون بہنے لگتا ہے۔
اِس غزل میں شاعر نے کس کو ‘مونسِ ہجراں’ کہا ہے؟
شاعر نے ‘صبر’ کو مونسِ ہجراں یعنی جدائی کا ساتھی کہا ہے، مگر کہتا ہے کہ اب وہ صبر بھی مدت سے ساتھ نہیں دیتا۔
غزل کے اشعار اور سوالات NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں؛ تشریح، خلاصہ، معنی اور جوابات ClearStudy کے مولّفہ و تصدیق شدہ ہیں۔
