Class 9 Urdu Jamuna Chapter 10 Ghazal (Jigar Moradabadi) Solutions (NCERT 2026–27) – غزل: اللہ اگر توفیق نہ دے
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 10 – the غزل “اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں” by Jigar Moradabadi (جگر مرادآبادی) – with the اشعار reproduced verbatim, شاعر کا تعارف, خلاصہ, مشکل الفاظ کے معانی, a detailed تشریح of every شعر, and original, exam-ready answers to the book’s سوالات (غور کیجیے / سوچیے اور بتائیے / پڑھیے اور لکھیے), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ جماعت نہم اردو “جمنا” کے دسویں سبق — جگر مرادآبادی کی غزل کا مکمل حل، تشریح اور سوال و جواب پیش کرتا ہے۔
شاعر کا تعارف (About the Poet)
جگر مرادآبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور “جگر” ان کا تخلص تھا۔ آپ 1890ء میں مرادآباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے اور 1960ء میں گونڈہ میں وفات پائی۔ آپ بیسویں صدی کے سب سے مقبول اور سب سے زیادہ سنے جانے والے غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ جگر کی غزل میں حسن و عشق، سرمستی، روحانیت اور تصوف کا گہرا رنگ ملتا ہے۔ آپ نے کلاسیکی غزل کی روایت کو نئے جذبے اور سادگی کے ساتھ زندہ کیا۔ ان کا مشہور مجموعۂ کلام “آتشِ گل” ہے، جس پر آپ کو 1958ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر کا ترنم اور پُرسوز انداز مشاعروں کی جان تھا۔ ان کی شاعری میں ظاہری حسن کے پردے میں الٰہی عشق اور معرفت کی جھلک نمایاں ہے۔
منتخب اشعار (The Ghazal)
جگر مرادآبادی کی مشہور غزل — ردیف “کام نہیں / عام نہیں” — جمنا کتاب کے صفحے سے جیوں کے تیوں۔
فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں ۱
یہ تو نے کہا کیا اے ناداں، فیّاضیِ قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر، کیا چیز ہے جو انعام نہیں ۲
یارب یہ مقامِ عشق ہے کیا، گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں، آرام ہے اور آرام نہیں ۳
کیوں مستِ شرابِ عیش و طرب، تکلیفِ توجہ فرمائیں
آوازِ شکستِ دل ہی تو ہے، آوازِ شکستِ جام نہیں ۴
آنا ہے جو بزمِ جاناں میں، پندارِ خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں ۵
زاہد نے کچھ اس انداز سے پی، ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں
مے کش یہی اب تک سمجھے تھے، شائستۂ دورِ جام نہیں ۶
عشق اور گوارا خود کر لے، بے شرط شکستِ فاش اپنی
دل کی بھی کچھ اُن کے سازش ہے، تنہا یہ نظر کا کام نہیں ۷
سب جس کو اسیری کہتے ہیں، وہ تو ہے امیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں، جو آپ خود اپنا دام نہیں ۸
— جگر مرادآبادی
نوٹ: کتاب کے رنگین صفحے سے نستعلیق اشعار پڑھ کر نقل کیے گئے ہیں؛ معیاری متن سے توثیق کی گئی ہے۔ زیر، زبر اور اعراب کتاب میں موجود نہ ہوں تو پڑھنے کی سہولت کے لیے شامل کیے گئے ہیں۔
خلاصہ (Summary)
جگر مرادآبادی کی یہ غزل بظاہر حسن و عشق کی غزل ہے، مگر اس کے پردے میں الٰہی عشق، معرفت اور تصوف کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض تو عام ہے، لیکن محبت کی اصل معرفت (عرفان) ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتی — یہ صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے، انسان کے اپنے بس کا کام نہیں۔ آگے شاعر ناداں انسان کو سمجھاتا ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم نہیں؛ اگر تو فکر و نظر پیدا کرے تو کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام نظر آئے گی۔
شاعر عشق کی عجیب کیفیت بیان کرتا ہے — یہاں تسکین بھی ہے اور بے قراری بھی، آرام بھی ہے اور بے آرامی بھی۔ وہ کہتا ہے کہ عیش و طرب میں مست لوگ اس درد کو نہیں سمجھ سکتے؛ جو آواز سنائی دیتی ہے وہ ٹوٹے ہوئے دل کی ہے، شراب کے ٹوٹے پیالے کی نہیں۔ پھر وہ پیغام دیتا ہے کہ محبوب کی محفل میں آنا ہے تو اپنی خودی اور غرور کو توڑ کر آ؛ یہاں عقل و ہوش نہیں، بلکہ سپردگی اور عشق کام آتا ہے۔ آخر میں شاعر کہتا ہے کہ جسے لوگ قید (اسیری) کہتے ہیں وہی دراصل اصل امیری اور دولت ہے، اور یہاں کوئی آزادی ایسی نہیں جو خود اپنے لیے ایک جال (دام) نہ بن جائے۔ مجموعی طور پر غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ سچا عشق اور معرفت خودی کو مٹا کر، اللہ کی توفیق سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
हिन्दी सार: जिगर मुरादाबादी की यह ग़ज़ल बाहर से हुस्न-इश्क़ की है, पर भीतर से इलाही इश्क़, मारिफ़त और तसव्वुफ़ का पैग़ाम देती है — मोहब्बत का फ़ैज़ आम है पर उसका इरफ़ान (असली पहचान) सिर्फ़ अल्लाह की तौफ़ीक़ से मिलता है, इंसान के अपने बस का काम नहीं। महबूब की महफ़िल में अहंकार (खुदी) तोड़कर आना पड़ता है; यहाँ अक़्ल नहीं, इश्क़ काम आता है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| توفیق | ईश्वर की कृपा/सामर्थ्य | Divine grace / enablement |
| فیضان | कृपा का प्रवाह, अनुग्रह | Outpouring of grace, blessing |
| عرفان | गहरी पहचान, ज्ञान | Gnosis, deep knowledge |
| فیّاضی | उदारता, दानशीलता | Generosity, bounty |
| قدرت | ईश्वर की शक्ति/प्रकृति | (Divine) Power, Nature |
| انعام | उपहार, पुरस्कार | Gift, reward |
| مقامِ عشق | प्रेम की अवस्था/स्थान | The station of love |
| دیدہ و دل | आँख और दिल | The eye and the heart |
| تسکین | शांति, चैन | Solace, peace |
| عیش و طرب | भोग-विलास और आनंद | Luxury and merriment |
| شکستِ دل | दिल का टूटना | Breaking of the heart |
| بزمِ جاناں | प्रियतम की महफ़िल | The beloved’s gathering |
| پندارِ خودی | अहंकार, स्वाभिमान का घमंड | The pride of the self/ego |
| ہوش و خرد | होश और बुद्धि | Sense and reason |
| زاہد | संयमी, धर्मभीरु | The ascetic / pious one |
| ساقی | मदिरा पिलाने वाला | The cup-bearer |
| مے کش | शराब पीने वाला | The wine-drinker |
| شکستِ فاش | खुली/स्पष्ट पराजय | Open, manifest defeat |
| اسیری | क़ैद, बंधन | Captivity, bondage |
| دام | जाल, फंदा | Net, snare |
تشریح (Explanation of اشعار)
شعر ۱ — مطلع
اللہ اگر توفیق نہ دے انساں کے بس کا کام نہیں / فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں
شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض (اثر و انعام) تو سب کو ملتا ہے اور عام ہے، لیکن محبت کی اصل پہچان اور گہری معرفت (عرفان) ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ یہ مرتبہ صرف اللہ کی توفیق سے ملتا ہے؛ انسان اپنی کوشش سے یہ بلندی نہیں پا سکتا۔ مطلب یہ کہ سچا عشق اور معرفت ایک عطا ہے، نہ کہ محض ذاتی محنت کا نتیجہ۔
شعر ۲
یہ تو نے کہا کیا اے ناداں، فیّاضیِ قدرت عام نہیں / تو فکر و نظر تو پیدا کر، کیا چیز ہے جو انعام نہیں
شاعر ناداں انسان کو ٹوکتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم ہے۔ اگر تو سوچ اور دیکھنے کی صلاحیت (فکر و نظر) پیدا کرے تو تجھے کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام نظر آئے گی۔ یعنی کمی عطا میں نہیں، ہماری نظر اور سوچ میں ہے۔
شعر ۳
یارب یہ مقامِ عشق ہے کیا، گو دیدہ و دل ناکام نہیں / تسکین ہے اور تسکین نہیں، آرام ہے اور آرام نہیں
شاعر عشق کی عجیب و متضاد کیفیت بیان کرتا ہے۔ آنکھ اور دل ناکام تو نہیں، پھر بھی عجب حال ہے — سکون بھی ہے اور بے چینی بھی، آرام بھی ہے اور بے آرامی بھی۔ یہی عشق کا مقام ہے جہاں راحت اور بے قراری ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔
شعر ۵
آنا ہے جو بزمِ جاناں میں، پندارِ خودی کو توڑ کے آ / اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
یہ غزل کا مرکزی پیغام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر محبوب کی محفل (بزمِ جاناں) میں آنا چاہتے ہو تو اپنی خودی اور غرور توڑ کر آؤ۔ عقل و ہوش پر بھروسا کرنے والے سن لیں کہ یہاں عقل نہیں، بلکہ سپردگی، فنا اور عشق کام آتا ہے۔ خودی مٹائے بغیر عشق و معرفت کا مقام نہیں ملتا۔
شعر ۸ — مقطع کی کیفیت
سب جس کو اسیری کہتے ہیں، وہ تو ہے امیری ہی لیکن / وہ کون سی آزادی ہے یہاں، جو آپ خود اپنا دام نہیں
شاعر تصوف کا نکتہ بیان کرتا ہے کہ جسے دنیا قید (اسیری) سمجھتی ہے — یعنی عشق و سپردگی کا بندھن — وہی دراصل سب سے بڑی دولت (امیری) ہے۔ اور دنیا میں کوئی آزادی ایسی نہیں جو خود ایک نیا جال (دام) نہ بن جائے۔ یعنی محبوب کی اسیری ہی اصل آزادی اور سرفرازی ہے۔
سوالات / مشق (Exercise)
ذیل کے سوالات و مشق NCERT “جمنا” کتاب کے سبق کے آخری صفحات سے لیے گئے ہیں؛ جوابات ClearStudy کے مولِک ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
i. شاعر کے نزدیک کیا چیز اللہ کی توفیق کے بغیر انسان کے بس کا کام نہیں؟
ii. “فیضانِ محبت” اور “عرفانِ محبت” میں شاعر نے کیا فرق بتایا ہے؟
iii. شاعر “ناداں” سے کیا کہنا چاہتا ہے؟
iv. مقامِ عشق کی کیفیت کیسی ہے؟
v. بزمِ جاناں میں آنے کے لیے شاعر کیا شرط بتاتا ہے؟
پڑھیے اور لکھیے — مرکب الفاظ کے معنی
نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔
| مرکب لفظ | معنی (हिन्दी / English) |
|---|---|
| حسن و جمال | सौंदर्य और रूप / Beauty and grace |
| عیش و طرب | भोग और आनंद / Luxury and merriment |
| عشق و محبت | प्रेम और मोहब्बत / Love and affection |
| تابِ تواں | शक्ति और ताक़त / Strength and stamina |
| غور و فکر | चिंतन-मनन / Reflection and thought |
| رحم و کرم | दया और कृपा / Mercy and kindness |
| عدل و انصاف | न्याय और इंसाफ़ / Justice and fairness |
| جنگ و جدال | युद्ध और झगड़ा / War and strife |
| جاری و ساری | निरंतर चलना/लागू होना / Continuous & in force |
| قدر و قیمت | मान और मूल्य / Worth and value |
“مقام” کے مرکب الفاظ کے معنی
غزل میں لفظ “مقام” (عشق) آیا ہے، جس کے معنی ہیں “عشق کی جگہ/درجہ”۔ نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔
| مرکب لفظ | معنی | جملہ (نمونہ) |
|---|---|---|
| مقامِ شوق | شوق و رغبت کی جگہ/درجہ | علم حاصل کرنا ہر طالبِ علم کا مقامِ شوق ہے۔ |
| مقامِ حیرت | حیرانی کی بات | یہ مقامِ حیرت ہے کہ وہ امتحان میں اوّل آیا۔ |
| مقامِ بندگی | عبادت و اطاعت کا درجہ | سجدہ بندے کا سب سے بلند مقامِ بندگی ہے۔ |
املا سدھری (الفاظ کی درست املا)
غزل میں آئے ہوئے درج ذیل الفاظ کی درست املا (ہجے) یاد کیجیے اور لکھیے۔
| لفظ | درست املا |
|---|---|
| فیضان | فیضان — فیضان |
| تسکین | تسکین — تسکین |
| پندار | پندار — پندار |
| معرفت / عرفان | عرفان — عرفان |
| قدرت | قدرت — قدرت |
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
۱۔ جگر مرادآبادی کا اصل نام اور تخلص کیا تھا؟
۲۔ اس غزل کی صنف کیا ہے اور اس کی ردیف کیا ہے؟
۳۔ شاعر کے نزدیک قدرت کی فیّاضی کیسی ہے؟
۴۔ “پندارِ خودی” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
۵۔ مقطع میں “اسیری” اور “امیری” کا کیا رشتہ بیان ہوا ہے؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
۶۔ اس غزل کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
۷۔ جگر مرادآبادی کی شاعری کی خصوصیات اس غزل کے حوالے سے واضح کیجیے۔
۸۔ “اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں” کی روشنی میں عشق اور عقل کے فرق پر روشنی ڈالیے۔
MCQ & تصدیق-وجہ
۱۔ اس غزل کے شاعر کون ہیں؟
(الف) علامہ اقبال
(ب) جگر مرادآبادی
(ج) فیض احمد فیض
(د) میر تقی میر
۲۔ جگر مرادآبادی کا اصل نام کیا تھا؟
(الف) علی سکندر
(ب) راس مسعود
(ج) اسد اللہ خاں
(د) سیّد علی
۳۔ اس کلام کی صنف کیا ہے؟
(الف) نظم
(ب) قطعہ
(ج) غزل
(د) مثنوی
۴۔ شاعر کے نزدیک کیا چیز عام نہیں؟
(الف) فیضانِ محبت
(ب) عرفانِ محبت
(ج) فیّاضیِ قدرت
(د) انعام
۵۔ “عرفان” کا مطلب ہے—
(الف) دولت
(ب) گہری پہچان / معرفت
(ج) فیض
(د) آزادی
۶۔ بزمِ جاناں میں آنے کے لیے کیا توڑنا ضروری ہے؟
(الف) شراب کا جام
(ب) پندارِ خودی (غرور)
(ج) دل
(د) قلم
۷۔ مقامِ عشق کی کیفیت کیسی بیان کی گئی ہے؟
(الف) صرف آرام
(ب) صرف بے چینی
(ج) تسکین بھی اور بے چینی بھی
(د) بے حسی
۸۔ “دام” کا معنی ہے—
(الف) قیمت
(ب) جال / پھندا
(ج) دروازہ
(د) راستہ
۹۔ شاعر کے مطابق محفلِ جاناں میں کس کا کام نہیں؟
(الف) عشق کا
(ب) سپردگی کا
(ج) ہوش و خرد (عقل) کا
(د) محبت کا
۱۰۔ جگر مرادآبادی کو کس مجموعۂ کلام پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا؟
(الف) داغِ جگر
(ب) آتشِ گل
(ج) شعلۂ طور
(د) نقشِ فریادی
تصدیق-وجہ (Assertion-Reason): نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
۱۔ تصدیق (A): عرفانِ محبت اللہ کی توفیق سے ملتا ہے۔
وجہ (R): شاعر کے مطابق محبت کی اصل معرفت انسان کے اپنے بس کا کام نہیں۔
۲۔ تصدیق (A): بزمِ جاناں میں عقل و ہوش کام آتے ہیں۔
وجہ (R): عشق میں خودی کو توڑنا اور سپرد ہونا ضروری ہے۔
۳۔ تصدیق (A): قدرت کی فیّاضی عام نہیں۔
وجہ (R): اگر انسان فکر و نظر پیدا کرے تو ہر چیز اسے اللہ کا انعام نظر آئے گی۔
۴۔ تصدیق (A): جسے دنیا اسیری کہتی ہے، وہ دراصل امیری ہے۔
وجہ (R): عشق و سپردگی کا بندھن ہی اصل دولت اور سرفرازی ہے۔
۵۔ تصدیق (A): جگر مرادآبادی بیسویں صدی کے مشہور غزل گو شاعر ہیں۔
وجہ (R): ان کی غزل میں حسن و عشق، سرمستی اور تصوف کا گہرا رنگ ملتا ہے۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- مطلع (پہلا شعر) اور مقطع کے ساتھ بزمِ جاناں والا شعر ضرور یاد رکھیے — تشریح اور خالی جگہ کے سوالات اکثر انھی سے آتے ہیں۔
- مشکل الفاظ (توفیق، فیضان، عرفان، پندارِ خودی، اسیری، دام) کے معنی اردو، ہندی اور انگریزی تینوں میں یاد کیجیے۔
- شاعر کا اصل نام (علی سکندر)، تخلص (جگر)، سنہ (1890–1960) اور مجموعۂ کلام (آتشِ گل) یاد رکھیے۔
- تشریح لکھتے وقت پہلے شعر کا مفہوم، پھر اس کا روحانی/تصوفانہ پہلو بیان کیجیے۔
- اشعار نقل کرتے وقت ردیف “نہیں” اور قافیہ (عام، انعام، آرام، جام، کام، دام) کا خاص خیال رکھیے۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- “فیضان” اور “عرفان” کو ایک معنی سمجھ لینا — فیضان = فیض کا عام بہاؤ، عرفان = گہری معرفت۔
- اس غزل کو علامہ اقبال یا کسی اور شاعر سے منسوب کر دینا — یہ جگر مرادآبادی کی غزل ہے۔
- اشعار میں الفاظ کی غلط املا (پندار، تسکین، فیّاضی، اسیری) لکھنا۔
- غزل کو محض حسن و عشق کی غزل سمجھنا اور اس کے تصوفانہ/روحانی پہلو کو نظر انداز کر دینا۔
- “دام” کا معنی “قیمت” لکھ دینا — یہاں اس کا معنی “جال/پھندا” ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جمنا کے سبق 10 کی غزل کس شاعر کی ہے اور اس کی صنف کیا ہے؟
یہ غزل جگر مرادآبادی (اصل نام علی سکندر، 1890–1960) کی ہے۔ اس کلام کی صنف “غزل” ہے، جس کی ردیف “نہیں” اور قافیہ “عام، انعام، آرام، جام، کام، دام” ہے۔
“اللہ اگر توفیق نہ دے…” شعر کا مفہوم کیا ہے؟
اس مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض تو سب کو ملتا ہے، مگر محبت کی اصل معرفت (عرفان) صرف اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے — یہ انسان کی اپنی محنت سے حاصل ہونے والی چیز نہیں۔
اس غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ سچا عشق اور معرفت خودی و غرور مٹا کر، اللہ کی توفیق سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ بزمِ جاناں (محبوب کی محفل) میں عقل نہیں، بلکہ سپردگی اور عشق کام آتا ہے۔
اشعار اور مشق کے سوالات NCERT “جمنا” کتاب کے صفحات سے بحالتِ تصویر پڑھ کر جیوں کے تیوں لیے گئے ہیں؛ تشریح، خلاصہ، معنی اور جوابات ClearStudy کے مولِک ہیں۔
