Class 9 Urdu Jamuna Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene Solutions (NCERT 2026–27) – رامائن کا ایک سین

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 11 ‘Ramayan Ka Ek Scene’ (رامائن کا ایک سین) – a famous nazm (poem) by Pandit Brij Narayan Chakbast – with poet intro, the verbatim اشعار (couplets), خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح (explanation), and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، مشق کیجیے), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کی نظم ’رامائن کا ایک سین‘ کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 11 صنف: نظم (Nazm) شاعر: برج نارائن چکبست Session: 2026–27

شاعر کا تعارف (About the Poet)

پنڈت برج نارائن چکبست لکھنؤ کے ممتاز اردو شاعر تھے۔ آپ کی پیدائش 1882ء میں اور وفات 1926ء میں ہوئی۔ اِس مختصر عمر میں بھی آپ نے اردو شاعری میں ایک نمایاں اور پائیدار مقام حاصل کیا۔ آپ کا شمار اُن ہندو شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو زبان و ادب کی ترقی میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ چکبست کی شاعری میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ہندوستانی تہذیب و روایات کی جھلک نمایاں ہے۔ اُن کے کلام میں زبان کی سادگی، روانی اور جذبات کی سچائی پائی جاتی ہے۔ ’رامائن کا ایک سین‘ اُن کی مشہور و معروف نظم ہے، جس میں انھوں نے رام کے بن باس کے موقع پر ماں کوشلیا اور رام کے درمیان جذباتی مکالمے کو نہایت اثرانگیز انداز میں بیان کیا ہے۔

منتخب اشعار (The Nazm — رامائن کا ایک سین)

یہ اشعار NCERT جمنا کتاب کی رینڈر کی گئی تصویروں سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔ (نظم: رامائن کا ایک سین — برج نارائن چکبست)

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام
راہِ وفا کی منزلِ اوّل ہوئی تمام
منظور تھا یہ ماں کی زیارت کو انتظام
دامن سے اشک پونچھ کے دل کو کیا غلام
دیکھا تو سوئے قصرِ شہنشاہِ نامور
اِک نوجوان جاتا ہے گھر سے اداس سر

سوچا یہی کہ جان ہے اب کس گزر نہ جائے
ناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے
پھر عرض کی یہ مادرِ شفقت کے روبرو
صدمہ یہ شاقِ علم بپا ہے مرے ضرور
شاید خزاں کے شکل میں ہو پھر بہار کی
کچھ مصلحت اِسی میں ہو پروردگار کی
— پنڈت برج نارائن چکبست (رامائن کا ایک سین)

(نوٹ: نظم طویل ہے؛ اوپر ابتدائی منتخب اشعار درج ہیں۔ بعض الفاظ نسخے کی تصویر میں باریک ہونے کے باعث ممکن ہے املاء میں معمولی فرق ہو — کتابی متن کو حتمی سمجھا جائے۔)

خلاصہ (Summary)

نظم ’رامائن کا ایک سین‘ پنڈت برج نارائن چکبست کی ایک مشہور اور پُراثر نظم ہے، جو رامائن کے ایک نہایت جذباتی منظر پر مبنی ہے۔ اِس نظم میں شری رام چندر جی کے بن باس (جلاوطنی) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ راجہ دشرتھ کے وعدے اور کیکئی کی خواہش کے سبب رام کو چودہ برس کے لیے جنگل جانا پڑتا ہے۔ نظم کا مرکزی حصہ رام اور اُن کی والدہ ماں کوشلیا کے درمیان ہونے والے دل سوز مکالمے پر مشتمل ہے۔ رام جب باپ سے رخصت لے کر ماں سے ملنے اور اجازت لینے جاتے ہیں تو ماں کا دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔

رام نہایت ادب اور تحمل کے ساتھ ماں کو سمجھاتے ہیں کہ یہ سب پروردگار کی مرضی اور باپ کے حکم کی تعمیل ہے، اِس لیے انھیں صبر سے کام لینا چاہیے۔ وہ ماں کو دلاسا دیتے ہیں کہ غم کے بعد خوشی، اور خزاں کے بعد بہار کا آنا یقینی ہے۔ دوسری طرف ماں کوشلیا کا ممتا بھرا دل بیٹے کی جدائی کے تصور سے تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ رام کو سینے سے لگاتی ہیں، آنسو بہاتی ہیں اور اُن کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔ یہ منظر ماں اور بیٹے کی محبت، فرض شناسی، صبر اور قربانی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ چکبست نے سادہ مگر دل کش زبان میں اِس جذباتی منظر کو اِس طرح پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کا دل بھر آتا ہے۔ نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بڑوں کے حکم کی تعمیل، فرض کی ادائیگی اور مشکل وقت میں صبر و حوصلہ ہی انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

हिन्दी सार: चकबस्त की यह नज़्म रामायण के एक मार्मिक प्रसंग — राम के वनवास और माँ कौशल्या से उनकी विदाई — पर आधारित है। राम धैर्य से माँ को समझाते हैं कि यह सब ईश्वर की इच्छा और पिता की आज्ञा है, और माँ बेटे की जुदाई के दुख में आँसू बहाती हैं। नज़्म का संदेश है — कर्तव्य का पालन, बड़ों का आदर और कठिन समय में सब्र।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
نونہالबच्चा, नौजवानYoung one, child
ملالरंज, ग़मGrief, sorrow
جنبشहरकत, हिलनाMovement, motion
موئے تنजिस्म के बाल, रोंगटेBody hair
بہمसाथ-साथ, मिला हुआTogether, joined
حشمशान, ठाठ-बाटPomp, grandeur
منجدھارदरिया के बीच की धाराMid-stream, midst
تقصیرक़ुसूर, ख़ताFault, offence
بخشबख़्श, माफ़ करनाTo forgive, pardon
دردانگیزदर्द बढ़ाने वाला, तकलीफ़देहPainful, distressing
اشک ریزआँसू बहाने वालाTearful, weeping
گریزबचना, परहेज़ करनाTo avoid, flee
وفورज़्यादती, बहुतातAbundance, excess
رنج و محنग़म और तकलीफ़Grief and hardship
کردگارईश्वर, ख़ालिक़The Creator, God
ریاضमश्क़, अभ्यासPractice, exercise
موقوفमुलतवी करना, मुनहसिर होनाPostponed; dependent on
سمومलू, गर्म हवाHot scorching wind
مصلحتहित, भलाई की बातWise expediency, good
روبروसामने, मुक़ाबिलFace to face, before

تشریح (Explanation of key اشعار)

شعر: ”رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام / راہِ وفا کی منزلِ اوّل ہوئی تمام“

اِس شعر میں شاعر بتاتا ہے کہ رام چندر جی خدا کا نام لے کر اپنے باپ (راجہ دشرتھ) سے رخصت ہوئے۔ شاعر اِسے ’راہِ وفا‘ یعنی فرض اور وفاداری کی راہ کہتا ہے۔ باپ کے حکم کی تعمیل کرنا اور رخصت لینا اِس راہ کی پہلی منزل تھی، جو رام نے ادب اور صبر کے ساتھ مکمل کر لی۔ یہاں رام کے فرض شناس اور تحمل پسند کردار کی جھلک ملتی ہے۔

شعر: ”شاید خزاں کے شکل میں ہو پھر بہار کی / کچھ مصلحت اِسی میں ہو پروردگار کی“

اِس شعر میں رام اپنی والدہ کو دلاسا دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ غم اور مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی؛ ہو سکتا ہے کہ یہ خزاں (یعنی جدائی اور دکھ) دراصل آنے والی بہار (خوشی) کا پیش خیمہ ہو۔ ہر مشکل میں خدا کی کوئی نہ کوئی مصلحت اور بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے، اِس لیے انسان کو صبر اور توکّل سے کام لینا چاہیے۔ یہ شعر صبر، حوصلے اور خدا پر بھروسے کا پیغام دیتا ہے۔

سوالات / مشق (Exercise)

ذیل میں کتاب کے اپنے مشقی عنوانات (غور کیجیے، سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، مشق کیجیے) کے تحت سوالات بعینہٖ درج ہیں، اور اُن کے مولّفہ جوابات دیے گئے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

i. اِس نظم میں کس واقعے کو پیش کیا گیا ہے؟

جواباِس نظم میں رامائن کے ایک نہایت جذباتی منظر — شری رام چندر جی کے بن باس (جلاوطنی) اور ماں کوشلیا سے اُن کی رخصتی — کے واقعے کو پیش کیا گیا ہے۔ اِس میں ماں اور بیٹے کی محبت، فرض شناسی اور صبر کو دکھایا گیا ہے۔

ii. رام نے باپ سے رخصت کے وقت کیا کیا؟

جوابرام نے خدا کا نام لے کر، نہایت ادب اور تحمل کے ساتھ اپنے باپ راجہ دشرتھ سے رخصت لی۔ انھوں نے اپنے دل کے غم پر قابو پایا اور آنکھوں سے آنسو پونچھ کر فرض کی راہ پر آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھایا۔

iii. رام کو ماں کی فکر کیوں تھی؟

جوابرام کو فکر تھی کہ اُنھیں اداس اور غمگین دیکھ کر کہیں ماں کا دل اور زیادہ نہ ٹوٹ جائے اور وہ صدمے سے بے حال نہ ہو جائیں۔ بیٹے کی جدائی ماں کے لیے بڑا دکھ تھی، اِس لیے رام چاہتے تھے کہ ماں کو دلاسا دے کر اُن کا حوصلہ بندھایا جائے۔

iv. رام نے ماں کو کیا تسلی دی؟

جوابرام نے ماں کو سمجھایا کہ یہ سب پروردگار کی مرضی اور باپ کے حکم کی تعمیل ہے۔ انھوں نے کہا کہ غم کے بعد خوشی اور خزاں کے بعد بہار کا آنا یقینی ہے؛ ہر مشکل میں خدا کی کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے، اِس لیے صبر سے کام لینا چاہیے۔

v. ماں کوشلیا کے جذبات کو بیان کیجیے۔

جوابماں کوشلیا کا ممتا بھرا دل بیٹے کی جدائی کے تصور سے تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ غم سے نڈھال ہو جاتی ہیں، آنسو بہاتی ہیں، رام کو سینے سے لگاتی ہیں اور اُن کی سلامتی و خیریت کے لیے دل سے دعائیں کرتی ہیں۔ اُن کے جذبات میں ماں کی بے پایاں محبت اور قربانی جھلکتی ہے۔

vi. اِس نظم سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواباِس نظم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بڑوں کے حکم کی تعمیل، فرض کی ادائیگی، بزرگوں کا احترام اور مشکل وقت میں صبر و حوصلہ ہی انسان کی سب سے بڑی خوبیاں ہیں۔ خدا کی مرضی پر راضی رہنا اور توکّل کرنا ہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے

1. درج ذیل اشعار کی تشریح اپنے الفاظ میں لکھیے — ”رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام / راہِ وفا کی منزلِ اوّل ہوئی تمام“

جواباِس شعر میں شاعر بتاتا ہے کہ رام چندر جی نے خدا کا نام لے کر اپنے باپ راجہ دشرتھ سے رخصت لی۔ باپ کے حکم کی تعمیل کرنا اور صبر کے ساتھ بن باس کے لیے رخصت ہونا، فرض اور وفاداری (راہِ وفا) کی پہلی منزل تھی، جسے رام نے کامیابی سے طے کر لیا۔ شعر سے رام کے فرض شناس، تحمل پسند اور وفادار کردار کا اظہار ہوتا ہے۔

2. درج ذیل اشعار کی تشریح اپنے الفاظ میں لکھیے — ”شاید خزاں کے شکل میں ہو پھر بہار کی / کچھ مصلحت اِسی میں ہو پروردگار کی“

جواباِس شعر میں رام اپنی ماں کو تسلی دیتے ہیں کہ غم اور دکھ کبھی دائمی نہیں ہوتے۔ ہو سکتا ہے کہ موجودہ خزاں (جدائی اور دکھ) آنے والی بہار (خوشی) کی صورت اختیار کر لے۔ ہر مصیبت میں خدا کی کوئی نہ کوئی بھلائی اور مصلحت چھپی ہوتی ہے، اِس لیے انسان کو صبر اور خدا پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

مشق کیجیے (خالی جگہیں پُر کیجیے)

درج ذیل جملوں/اشعار میں خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پُر کیجیے —

جواب (نمونہ) i. رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام۔ ii. راہِ وفا کی منزلِ اوّل ہوئی تمام۔ iii. شاید خزاں کے شکل میں ہو پھر بہار کی۔ iv. کچھ مصلحت اِسی میں ہو پروردگار کی۔ v. اِس نظم کے شاعر برج نارائن چکبست ہیں۔

مزید سوالات (متن کی تفہیم)

i. اِس نظم کا عنوان ’رامائن کا ایک سین‘ کیوں رکھا گیا ہے؟

جوابکیونکہ یہ نظم پوری رامائن نہیں، بلکہ اُس کے ایک خاص ’سین‘ (منظر) — رام کے بن باس اور ماں کوشلیا سے رخصتی کے جذباتی لمحے — کو پیش کرتی ہے۔ اِسی لیے اِس کا عنوان ’رامائن کا ایک سین‘ رکھا گیا ہے۔

ii. اِس نظم کی زبان کی کیا خصوصیات ہیں؟

جوابنظم کی زبان سادہ، رواں اور دل کش ہے۔ چکبست نے مشکل الفاظ کے بجائے عام فہم زبان میں جذبات کی سچی عکاسی کی ہے، جس سے منظر کی اثرانگیزی اور بڑھ جاتی ہے اور پڑھنے والے کا دل بھر آتا ہے۔

iii. اِس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟

جوابمرکزی خیال یہ ہے کہ بڑوں کے حکم کی تعمیل، فرض شناسی، قربانی اور مشکل وقت میں صبر و توکّل ہی اعلیٰ کردار کی پہچان ہے۔ رام اِن خوبیوں کا مجسمہ ہیں اور ماں کوشلیا کی ممتا اِس منظر کو مزید پُراثر بنا دیتی ہے۔

(کتاب میں ’املا سیکھیے‘، ’تخلیقی صلاحیت‘ اور ’عملی کام‘ جیسی سرگرمیاں بھی شامل ہیں؛ اِنھیں طالبِ علم استاد کی رہنمائی میں خود انجام دیں۔)

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. نظم ’رامائن کا ایک سین‘ کس شاعر کی تخلیق ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟

جوابیہ نظم پنڈت برج نارائن چکبست کی تخلیق ہے اور اِس کی صنف ’نظم‘ ہے۔ یہ رامائن کے ایک جذباتی منظر — رام کے بن باس اور ماں سے رخصتی — پر مبنی ہے۔

2. برج نارائن چکبست کی پیدائش اور وفات کب ہوئی؟

جواببرج نارائن چکبست کی پیدائش 1882ء میں اور وفات 1926ء میں ہوئی۔ اِس مختصر عمر میں بھی انھوں نے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

3. رام کس وجہ سے بن باس پر گئے؟

جوابراجہ دشرتھ کے وعدے اور ملکہ کیکئی کی خواہش کے سبب رام کو چودہ برس کے لیے بن باس (جنگل کی جلاوطنی) اختیار کرنی پڑی۔ باپ کے حکم کی تعمیل میں انھوں نے یہ قربانی خوشی سے قبول کی۔

4. رام نے ماں کو کن الفاظ میں دلاسا دیا؟

جوابرام نے کہا کہ خزاں کے بعد بہار اور غم کے بعد خوشی کا آنا یقینی ہے؛ ہر مشکل میں خدا کی کوئی مصلحت ہوتی ہے، اِس لیے ماں کو صبر اور خدا پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

5. اِس نظم کا بنیادی پیغام کیا ہے؟

جواببنیادی پیغام یہ ہے کہ فرض کی ادائیگی، بزرگوں کا احترام، قربانی اور مشکل وقت میں صبر و توکّل ہی انسان کی سب سے بڑی خوبیاں ہیں۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. نظم ’رامائن کا ایک سین‘ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جوابیہ نظم رامائن کے ایک پُراثر منظر پر مبنی ہے۔ راجہ دشرتھ کے وعدے اور کیکئی کی خواہش کے سبب رام کو چودہ برس کے بن باس پر جانا پڑتا ہے۔ رام خدا کا نام لے کر باپ سے رخصت ہوتے ہیں اور پھر ماں کوشلیا کے پاس آتے ہیں۔ ماں بیٹے کی جدائی کے غم سے نڈھال ہو جاتی ہیں اور آنسو بہاتی ہیں۔ رام نہایت ادب سے انھیں سمجھاتے ہیں کہ یہ سب خدا کی مرضی اور باپ کے حکم کی تعمیل ہے، اور غم کے بعد خوشی ضرور آئے گی۔ یوں یہ نظم ماں کی ممتا، بیٹے کی فرض شناسی، قربانی اور صبر کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

7. اِس نظم میں رام کے کردار کی کون سی خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں؟

جواباِس نظم میں رام کے کردار کی کئی اعلیٰ خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں۔ سب سے نمایاں اُن کی فرض شناسی اور بزرگوں کا احترام ہے — وہ بِنا کسی شکایت کے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ دوسری خوبی تحمل اور صبر ہے؛ بن باس جیسے بڑے دکھ کو بھی وہ خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ تیسری خوبی ماں سے بے پایاں محبت اور حساسیت ہے — وہ خود غمگین ہونے کے باوجود ماں کو دلاسا دیتے اور اُن کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ خدا پر توکّل اور قربانی کا جذبہ بھی اُن کے کردار کو مثالی بناتا ہے۔ یہی خوبیاں رام کو مریادا پرشوتم کا درجہ دیتی ہیں۔

8. ماں کوشلیا کے کردار اور جذبات پر روشنی ڈالیے۔

جوابماں کوشلیا اِس نظم کا نہایت پُراثر کردار ہیں، جن میں ممتا اپنی انتہا پر دکھائی دیتی ہے۔ بیٹے کی چودہ سالہ جدائی کا تصور اُن کے دل کو چیر دیتا ہے۔ وہ غم سے نڈھال ہو جاتی ہیں، آنسو بہاتی ہیں اور رام کو سینے سے لگا کر اُن کی سلامتی کی دعائیں مانگتی ہیں۔ مگر اِس سب کے باوجود وہ بیٹے کو فرض کی راہ سے نہیں روکتیں، بلکہ دل پر پتھر رکھ کر اُسے رخصت کرتی ہیں۔ اِس طرح اُن کا کردار محبت، قربانی اور حوصلے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ چکبست نے ماں کے جذبات کو اِتنی سچائی سے بیان کیا ہے کہ پڑھنے والے کا دل بھر آتا ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. نظم ’رامائن کا ایک سین‘ کس شاعر کی تخلیق ہے؟

(الف) علامہ اقبال

(ب) برج نارائن چکبست

(ج) الطاف حسین حالی

(د) فراق گورکھپوری

جواب(ب) برج نارائن چکبست۔

2. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) افسانہ

(ب) ڈراما

(ج) نظم

(د) انشائیہ

جواب(ج) نظم۔

3. چکبست کی پیدائش کس سال ہوئی؟

(الف) 1882ء

(ب) 1857ء

(ج) 1900ء

(د) 1926ء

جواب(الف) 1882ء۔

4. یہ نظم کس مذہبی رزمیہ سے ماخوذ ہے؟

(الف) مہابھارت

(ب) رامائن

(ج) گیتا

(د) ویدوں

جواب(ب) رامائن۔

5. نظم میں رام کس کے حکم پر بن باس جاتے ہیں؟

(الف) ماں کوشلیا

(ب) لکشمن

(ج) باپ راجہ دشرتھ

(د) ہنومان

جواب(ج) باپ راجہ دشرتھ۔

6. نظم میں رام کس کو دلاسا دیتے ہیں؟

(الف) سیتا

(ب) اپنی ماں کوشلیا

(ج) بھرت

(د) دشرتھ

جواب(ب) اپنی ماں کوشلیا۔

7. ’راہِ وفا‘ سے کیا مراد ہے؟

(الف) سفر کا راستہ

(ب) فرض اور وفاداری کی راہ

(ج) جنگل کا راستہ

(د) محبت کی راہ

جواب(ب) فرض اور وفاداری کی راہ۔

8. ’خزاں‘ کا لفظ نظم میں کس کی علامت ہے؟

(الف) خوشی

(ب) غم اور جدائی

(ج) دولت

(د) فتح

جواب(ب) غم اور جدائی۔

9. ’مصلحت‘ کا مفہوم ہے—

(الف) مصیبت

(ب) بھلائی / حکمت کی بات

(ج) جنگ

(د) سفر

جواب(ب) بھلائی / حکمت کی بات۔

10. نظم کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) دولت ہی سب کچھ ہے

(ب) فرض شناسی، بزرگوں کا احترام اور صبر

(ج) انتقام لینا

(د) سیر و تفریح

جواب(ب) فرض شناسی، بزرگوں کا احترام اور صبر۔
جوابی کلید: 1-(ب)، 2-(ج)، 3-(الف)، 4-(ب)، 5-(ج)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason) – نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں صحیح، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں صحیح، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A صحیح، R غلط۔ (د) A غلط، R صحیح۔

1. تصدیق (A): رام نے بِنا کسی شکایت کے باپ کے حکم پر بن باس قبول کیا۔

وجہ (R): رام فرض شناس اور بزرگوں کا احترام کرنے والے تھے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

2. تصدیق (A): ماں کوشلیا بیٹے کی جدائی پر آنسو بہاتی ہیں۔

وجہ (R): ماں کوشلیا رام سے ناراض تھیں اور اُنھیں دور بھیجنا چاہتی تھیں۔

جواب(ج) A صحیح ہے، مگر R غلط ہے – ماں ممتا کے سبب جدائی کے غم میں روتی ہیں، ناراضگی کی وجہ سے نہیں۔

3. تصدیق (A): رام ماں کو دلاسا دیتے ہیں کہ خزاں کے بعد بہار ضرور آئے گی۔

وجہ (R): رام کو خدا پر مکمل بھروسا تھا اور وہ ہر مشکل میں خدا کی مصلحت دیکھتے تھے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

4. تصدیق (A): چکبست کی شاعری میں زبان کی سادگی اور جذبات کی سچائی پائی جاتی ہے۔

وجہ (R): چکبست ایک ممتاز اردو شاعر تھے جنھوں نے اردو ادب کی خدمت کی۔

جواب(ب) A اور R دونوں صحیح ہیں، مگر R، A کی براہِ راست وضاحت نہیں کرتا۔

5. تصدیق (A): ’رامائن کا ایک سین‘ ایک نظم ہے، افسانہ نہیں۔

وجہ (R): یہ تخلیق اشعار (شعری ہیئت) میں لکھی گئی ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • شاعر کا نام (برج نارائن چکبست)، پیدائش (1882ء) اور وفات (1926ء) درست یاد رکھیں۔
  • نظم کی صنف (نظم) اور اِس کا ماخذ (رامائن کا بن باس والا منظر) ہمیشہ واضح لکھیں۔
  • تشریح لکھتے وقت پہلے شعر کا سیاق بتائیں، پھر مفہوم اپنی زبان میں واضح کریں۔
  • مشکل الفاظ (ملال، حشم، مصلحت، وفور، کردگار) کے معانی جملے کے ساتھ یاد کریں۔
  • رام کی خوبیاں (فرض شناسی، صبر، احترامِ بزرگاں) اور ماں کی ممتا کو الگ الگ پہچانیں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • نظم کی صنف کو غلطی سے افسانہ یا ڈراما لکھ دینا – یہ نظم ہے۔
  • شاعر کا نام علامہ اقبال یا حالی لکھ دینا – شاعر برج نارائن چکبست ہیں۔
  • ’خزاں‘ اور ’بہار‘ کے علامتی مفہوم کو نظرانداز کر کے لفظی ترجمہ کر دینا۔
  • رام کے بن باس کی وجہ (باپ کا حکم/کیکئی کی خواہش) غلط لکھنا۔
  • ماں کوشلیا کے آنسو کو ناراضگی سمجھ لینا – یہ ممتا اور جدائی کے غم کے آنسو ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کلاس 9 کی نظم ’رامائن کا ایک سین‘ کس صنف سے تعلق رکھتی ہے اور اِس کے شاعر کون ہیں؟

’رامائن کا ایک سین‘ ایک نظم ہے اور اِس کے شاعر پنڈت برج نارائن چکبست ہیں۔ یہ نظم رامائن کے ایک جذباتی منظر — رام کے بن باس اور ماں سے رخصتی — پر مبنی ہے۔

اِس نظم کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

مرکزی پیغام یہ ہے کہ فرض کی ادائیگی، بزرگوں کا احترام، قربانی اور مشکل وقت میں صبر و توکّل ہی انسان کی سب سے بڑی خوبیاں ہیں۔

رام نے ماں کوشلیا کو کیا تسلی دی؟

رام نے ماں کو سمجھایا کہ یہ سب خدا کی مرضی اور باپ کے حکم کی تعمیل ہے، اور خزاں کے بعد بہار ضرور آئے گی؛ اِس لیے صبر اور خدا پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

نظم کے اشعار، مشق و سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں (رینڈر کی گئی تصویروں سے)؛ تشریح، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top