Class 9 Urdu Jamuna Chapter 12 Aitemaad Solutions (NCERT 2026–27) – اعتماد

This page gives complete NCERT solutions for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 12 ‘Aitemaad’ (اعتماد) – a poem (نظم) by Akhtar-ul-Iman (اخترالایمان) – with the verbatim اشعار, poet introduction, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every exercise question, plus extra questions, MCQs, Assertion-Reason and FAQs. اس صفحے پر آپ کو جمنا کے بارہویں سبق نظم ‘اعتماد’ کے اشعار، شاعر کا تعارف، خلاصہ، مشکل الفاظ کے معنی، تشریح اور تمام سوالات کے مکمل، امتحانی جوابات ملیں گے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 12 صنف: نظم (Nazm) شاعر: اخترالایمان (1915–1996) Session: 2026–27

شاعر کا تعارف (Poet Introduction)

اخترالایمان جدید اردو نظم کے ممتاز اور منفرد شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1915ء میں نجیب آباد (ضلع بجنور، اتر پردیش) کے قریب ایک قصبے میں ہوئی اور وفات 1996ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مختلف گاؤں اور قصبوں میں حاصل کرنے کے بعد انھوں نے دہلی سے میٹرک کیا اور پھر اردو میں اعلیٰ تعلیم پائی۔ اخترالایمان کو جدید اردو نظم کا معمار کہا جاتا ہے؛ انھوں نے غزل کے بجائے نظم کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا اور آزاد و معریٰ نظم کو نئی بلندی عطا کی۔ ان کا اندازِ بیان سادہ مگر گہرا، علامتی اور فکر انگیز ہے۔ ان کے مشہور مجموعوں میں ‘گرداب’، ‘تاریک سیارہ’، ‘آبِ جو’، ‘یادیں’، ‘بنتِ لمحات’، ‘نیا آہنگ’ اور ‘سرِ مژگاں’ شامل ہیں۔ انھوں نے فلموں کے لیے بھی مکالمے اور گیت لکھے۔ 1984ء میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری انسان کی عظمت، خود اعتمادی اور اندرونی کشمکش کی ترجمان ہے۔

متن (نظم کے اشعار) / Poem Text

(نظم ‘اعتماد’ کے اشعار NCERT جمنا کتاب کے صفحے کی تصویر سے بہ صورتِ نقل، اخترالایمان۔ یہ ایک مکالماتی/معریٰ نظم ہے جس میں ہوا، دریا، آگ اور زمین انسان سے مخاطب ہیں اور انسان جواب دیتا ہے۔)

بولی خود سر ہوا، ایک ذرّہ ہے تُو
یوں اُڑا دوں گی میں، موجِ دریا بڑھی
بولی میرے لیے ایک تنکا ہے تُو
یوں بہا دوں گی میں، آتشِ تُند کی
اک لپٹ نے کہا، جلا ڈالوں گی
اور زمیں نے کہا، میں نِگل جاؤں گی
میں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب
اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں
ابنِ آدم ہوں میں، یعنی انسان ہوں
— اخترالایمان

خلاصہ (Summary)

نظم ‘اعتماد’ اخترالایمان کی ایک علامتی اور مکالماتی نظم ہے، جس میں فطرت کی چار عظیم طاقتیں — ہوا، پانی (دریا)، آگ اور زمین — باری باری انسان سے مخاطب ہو کر اپنی قوت اور برتری کا اظہار کرتی ہیں۔ سب سے پہلے مغرور ہوا کہتی ہے کہ اے انسان! تو تو محض ایک ذرّہ ہے، میں تجھے یوں اُڑا دوں گی۔ پھر دریا کی موج بڑھ کر کہتی ہے کہ میرے سامنے تو ایک تنکے کے برابر ہے، میں تجھے بہا لے جاؤں گی۔ اس کے بعد آگ کا تیز شعلہ دھمکی دیتا ہے کہ میں تجھے جلا کر راکھ کر دوں گا اور زمین کہتی ہے کہ میں تجھے نِگل جاؤں گی۔

ان دھمکیوں کے جواب میں انسان نہ گھبراتا ہے، نہ ڈرتا ہے۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیتا ہے، یعنی اپنی اصل پہچان ظاہر کرتا ہے، اور ہنس کر فخر سے کہتا ہے کہ میں سلیمان ہوں، ابنِ آدم ہوں، یعنی انسان ہوں۔ مراد یہ کہ انسان اپنے علم، عقل، ہمت اور خود اعتمادی کے بل پر فطرت کی ان طاقتوں کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سلیمان کا حوالہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو ہوا، پانی اور دیگر مخلوقات پر اختیار اور حکومت حاصل ہے۔ نظم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ انسان خوف اور دھمکیوں سے نہیں دبتا؛ خود اعتمادی، حوصلے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہی ‘اعتماد’ (self-confidence) انسان کو اشرفُ المخلوقات بناتا ہے۔

हिन्दी सार: यह एक प्रतीकात्मक संवाद-कविता है जिसमें हवा, नदी (पानी), आग और धरती बारी-बारी से इंसान को अपनी ताक़त दिखाकर डराती हैं। पर इंसान घबराता नहीं; वह आत्मविश्वास के साथ हँसकर कहता है कि ‘मैं सुलैमान हूँ, आदम का बेटा यानी इंसान हूँ।’ संदेश यह है कि ज्ञान, हिम्मत और आत्मविश्वास से इंसान प्रकृति की इन शक्तियों पर भी विजय पा सकता है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
اعتمادभरोसा / आत्मविश्वासTrust / self-confidence
خود سرज़िद्दी / मग़रूरWilful / arrogant
ذرّہकण / रेत का कणTiny particle / speck
موجِ دریاदरिया की लहरWave of the river
تنکاतिनकाStraw / wisp
آتشِ تُندतेज़ आगFierce / blazing fire
لپٹलपट / शोलाFlame / blaze
نِگلناनिगल जानाTo swallow / devour
نقابनक़ाब / आवरणVeil / mask
سلیمانएक पैग़म्बर का नामSolomon (a prophet)
ابنِ آدمआदम का बेटाSon of Adam / human
انسانइंसान / मनुष्यHuman being
برتریश्रेष्ठताSuperiority
کم مائیگیतुच्छता / कमतरीInsignificance / smallness
کرامتकरामात / महानताMarvel / nobility
مغرورघमंडीProud / haughty
دھمکیधमकीThreat
حوصلہहौसला / साहसCourage / morale
صلاحیتयोग्यता / क्षमताAbility / capability

تشریح (Explanation of Verses)

اشعار: ‘بولی خود سر ہوا، ایک ذرّہ ہے تُو / یوں اُڑا دوں گی میں’ … ‘موجِ دریا بڑھی، بولی میرے لیے ایک تنکا ہے تُو / یوں بہا دوں گی میں’۔

تشریح: ان مصرعوں میں شاعر نے فطرت کی طاقتوں کو انسان نما کردار دے کر پیش کیا ہے (صنعتِ تجسیم)۔ سب سے پہلے مغرور ہوا انسان کو حقیر سمجھتے ہوئے کہتی ہے کہ تو محض ایک ذرّہ ہے، میں تجھے ہوا میں اُڑا دوں گی۔ پھر دریا کی بڑھتی ہوئی موج انسان کو تنکے کے برابر بے حیثیت قرار دیتی ہے اور اسے بہا لے جانے کی دھمکی دیتی ہے۔ یہاں شاعر نے انسان کی بظاہر کمزوری اور فطرت کی بظاہر برتری کو نمایاں کیا ہے۔

اشعار: ‘آتشِ تُند کی اک لپٹ نے کہا، جلا ڈالوں گی / اور زمیں نے کہا، میں نِگل جاؤں گی’ … ‘میں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب / اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں / ابنِ آدم ہوں میں، یعنی انسان ہوں’۔

تشریح: آگ کا تیز شعلہ انسان کو جلا کر راکھ کر دینے کی دھمکی دیتا ہے اور زمین اسے نگل جانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مگر ان تمام دھمکیوں کے باوجود انسان نہ خوف زدہ ہوتا ہے، نہ مایوس۔ وہ پورے اعتماد سے اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیتا ہے، یعنی اپنی اصل عظمت اور پہچان ظاہر کرتا ہے، اور ہنس کر فخر سے کہتا ہے کہ میں سلیمان ہوں، ابنِ آدم اور انسان ہوں۔ سلیمان کا حوالہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو علم، عقل اور خدا داد صلاحیت کی بدولت فطرت کی ان طاقتوں پر اختیار حاصل ہے۔ یہی نظم کا مرکزی خیال ہے – خود اعتمادی اور انسانی عظمت۔

سوالات / مشق (Exercise Solutions)

(مشق کے عنوانات اور سوالات NCERT جمنا کتاب کے صفحات کی تصاویر سے بحوالہ لیے گئے ہیں؛ جوابات ClearStudy کے اصل، امتحانی انداز میں ہیں۔)

سوچیے اور بتائیے

(i) خود سر ہوا کس طرح اپنی برتری ظاہر کر رہی ہے؟

جوابمغرور اور خود سر ہوا انسان کو نہایت حقیر اور بے حیثیت سمجھتے ہوئے کہتی ہے کہ ‘تو تو محض ایک ذرّہ ہے’، یعنی ریت کے ایک ذرّے کی طرح ناچیز ہے۔ وہ اپنی طاقت پر اِترا کر دھمکی دیتی ہے کہ ‘میں تجھے یوں اُڑا دوں گی’۔ اِس طرح ہوا اپنی قوت اور انسان کی بظاہر کمزوری کا موازنہ کر کے اپنی برتری ظاہر کرتی ہے۔

(ii) دریا کے سامنے تنکے کی کم مائیگی کیسی ہے؟

جوابدریا کی بڑھتی ہوئی موج کے سامنے ایک تنکا بالکل بے بس اور ناچیز ہوتا ہے۔ موج جدھر چاہے اسے بہا لے جاتی ہے اور تنکے میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کے بہاؤ کا مقابلہ کر سکے۔ نظم میں دریا انسان کو اِسی تنکے سے تشبیہ دے کر اس کی کم مائیگی، یعنی بے حیثیتی اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور اسے بہا لے جانے کی دھمکی دیتا ہے۔

(iii) ‘میں سلیمان ہوں’ کہہ کر انسان کی کون سی صفت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے؟

جواب‘میں سلیمان ہوں’ کہہ کر انسان کی عظمت، اختیار اور فطرت پر حکمرانی کی صفت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمانؑ ایک پیغمبر تھے جنھیں ہوا، پانی، جنّات اور دیگر مخلوقات پر اختیار حاصل تھا۔ اس حوالے سے شاعر بتاتے ہیں کہ انسان بھی اپنے علم، عقل اور خود اعتمادی کے بل پر فطرت کی طاقتوں کو زیر کرنے اور ان پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

(iv) نظم کے آخری مصرعے سے کیا تاثر قائم ہوتا ہے؟ اگر یہ مصرع نہ ہو تو نظم کے تاثر پر کیا اثر پڑے گا؟

جوابآخری مصرع ‘ابنِ آدم ہوں میں، یعنی انسان ہوں’ سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ انسان اپنی انسانیت، علم اور خود اعتمادی پر فخر کرتا ہے اور فطرت کی تمام دھمکیوں کے باوجود پُراعتماد رہتا ہے۔ یہی مصرع نظم کا نقطۂ عروج اور اصل پیغام ہے۔اگر یہ مصرع نہ ہو تو نظم نامکمل اور بے اثر معلوم ہوگی، کیونکہ تب انسان کی اصل پہچان اور اس کا فخریہ جواب واضح نہ ہو پاتا۔ نظم کا مرکزی خیال – یعنی انسان کی عظمت اور خود اعتمادی – دب جاتا اور قاری پر وہ گہرا، فاتحانہ تاثر نہ پڑتا جو اس مصرعے سے قائم ہوتا ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

(الف) نظم کے دوسرے شعر میں ‘موجِ دریا’ کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔ آپ ایسے پانچ الفاظ معلوم کر کے لکھیے جن میں اضافت (زیر) کا استعمال ہوا ہو۔

جواب (i) آتشِ تُند – تیز آگ (ii) ابنِ آدم – آدم کا بیٹا (iii) موجِ تلاطم – تلاطم کی لہر (iv) موجِ ساحل – ساحل کی لہر (v) موجِ نسیم – صبا/خوشگوار ہوا کی لہر

(ب) درج ذیل شعر پر غور کیجیے اور بتائیے کہ اس میں صنعتِ تلمیح کا استعمال کیسے ہوا ہے:
‘اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں / ابنِ آدم ہوں میں، یعنی انسان ہوں’۔

جواباس شعر میں حضرت سلیمانؑ اور حضرت آدمؑ کا حوالہ آیا ہے۔ حضرت سلیمانؑ ایک پیغمبر تھے، جنھیں ہوا، پانی اور تمام چرند پرند پر حکومت حاصل تھی۔ کسی تاریخی، مذہبی یا ادبی واقعے کی طرف اشارہ کرنا ‘صنعتِ تلمیح’ کہلاتا ہے۔ یہاں شاعر نے سلیمانؑ اور ابنِ آدم کے حوالوں سے انسان کی عظمت اور فطرت پر اس کے اختیار کی طرف اشارہ کیا ہے، اِس لیے اس شعر میں صنعتِ تلمیح کا خوبصورت استعمال ہوا ہے۔

(ج) آپ نے اب تک کئی نظمیں اور غزلیں پڑھی ہیں۔ ان میں قافیہ کی پابندی پر غور کیجیے۔ پھر بتائیے کہ یہ نظم آزاد ہے، معریٰ ہے یا پابند؟

جوابنظم ‘اعتماد’ میں شاعر نے قافیہ کی سخت پابندی نہیں کی، بلکہ خیال اور تاثر کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ جس نظم میں ردیف و قافیہ کی پابندی نہ ہو، اسے ‘آزاد نظم’ کہا جاتا ہے، اور جس میں قافیہ تو نہ ہو مگر مصرعے ایک ہی بحر اور وزن میں ہوں، اسے ‘معریٰ نظم’ کہتے ہیں۔ یہ نظم آزاد/معریٰ اندازِ بیان میں ہے، یعنی یہ پابند غزل کی طرح مقررہ قافیہ بندی پر مبنی نہیں ہے۔ (اپنی کاپی پر نظم کے قافیوں کا جائزہ لے کر استاد کی رہنمائی میں تصدیق کیجیے۔)

لسانی سرگرمی

(د) نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے: (i) موجِ دریا (ii) موجِ تلاطم (iii) موجِ ساحل (iv) موجِ نسیم (v) موجِ تبسم۔

جواب موجِ دریا (दरिया की लहर): موجِ دریا نے کنارے کی ریت کو بہا دیا۔ موجِ تلاطم (तूफ़ानी लहर): سمندر کی موجِ تلاطم نے کشتی کو ہلا کر رکھ دیا۔ موجِ ساحل (किनारे की लहर): شام کے وقت موجِ ساحل کا منظر دل کو بھاتا ہے۔ موجِ نسیم (मंद-सुगंध हवा की लहर): صبح کی موجِ نسیم نے دل و دماغ کو تازگی بخشی۔ موجِ تبسم (मुस्कान की लहर): اس کے چہرے پر موجِ تبسم دوڑ گئی۔

(ہ) لغت کی مدد سے لفظ ‘اعتماد’ کے کم از کم پانچ مترادفات تلاش کر کے لکھیے۔

جواب‘اعتماد’ کے مترادفات: (1) بھروسا (2) یقین (3) خود اعتمادی (4) وثوق (5) اعتبار (اور: توکّل، یقینِ کامل)۔

(کتاب میں ‘آپ کی رائے’، ‘تلاش کیجیے’، ‘تخلیقی جہت’، ‘عملی کام’ اور خانہ پُری/سرگرمی کی شکل میں چند سرگرمیاں بھی دی گئی ہیں؛ مثلاً ‘ہوا، پانی، آگ، مٹی اور انسان کے درمیان مکالموں میں اعتماد کیوں تھا اور انھیں اپنی کن طاقتوں پر اعتماد تھا’ پر کمرۂ جماعت میں ساتھیوں سے تبادلۂ خیال کیجیے، اور ‘اعتماد’ جیسی مکالماتی نظم تلاش کیجیے۔ ان سرگرمیوں کو استاد کی رہنمائی میں اپنی کاپی پر مکمل کیجیے۔)

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. نظم ‘اعتماد’ کے شاعر کون ہیں اور اس کی صنف کیا ہے؟

جوابنظم ‘اعتماد’ کے شاعر اخترالایمان ہیں، جو جدید اردو نظم کے ممتاز شاعر تھے۔ اس کی صنف ‘نظم’ (مکالماتی/معریٰ نظم) ہے، جس میں فطرت کی طاقتیں اور انسان آپس میں مکالمہ کرتے ہیں۔

2. نظم میں فطرت کی کون کون سی طاقتیں انسان سے مخاطب ہوتی ہیں؟

جوابنظم میں فطرت کی چار طاقتیں — ہوا، دریا (پانی)، آگ اور زمین — باری باری انسان سے مخاطب ہوتی ہیں اور ہر ایک اپنی قوت دکھا کر اسے ختم کر دینے کی دھمکی دیتی ہے۔

3. انسان فطرت کی دھمکیوں کا کیا جواب دیتا ہے؟

جوابانسان نہ ڈرتا ہے، نہ گھبراتا ہے۔ وہ پورے اعتماد سے اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیتا ہے اور ہنس کر کہتا ہے کہ ‘میں سلیمان ہوں، ابنِ آدم ہوں، یعنی انسان ہوں’، یعنی فطرت پر اختیار رکھنے والا ہوں۔

4. نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟

جوابنظم کا مرکزی خیال خود اعتمادی اور انسانی عظمت ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ انسان اپنے علم، عقل، ہمت اور اعتماد کے بل پر فطرت کی طاقتور قوتوں کو بھی زیر کر سکتا ہے اور دھمکیوں سے نہیں دبتا۔

5. ‘سلیمان’ کا حوالہ نظم میں کس بات کی علامت ہے؟

جوابحضرت سلیمانؑ کو ہوا، پانی اور دیگر مخلوقات پر اختیار حاصل تھا۔ نظم میں ‘سلیمان’ کا حوالہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان فطرت پر حکومت اور اختیار رکھتا ہے اور یہی اس کی عظمت ہے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. نظم ‘اعتماد’ میں فطرت اور انسان کے درمیان مکالمے کی وضاحت کیجیے۔

جوابنظم ‘اعتماد’ ایک علامتی مکالماتی نظم ہے۔ اس میں فطرت کی چار طاقتیں باری باری انسان سے مخاطب ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے مغرور ہوا کہتی ہے کہ تو محض ایک ذرّہ ہے، میں تجھے اُڑا دوں گی۔ پھر دریا کی موج اسے تنکے کے برابر کہہ کر بہا لے جانے کی دھمکی دیتی ہے۔ آگ کا شعلہ اسے جلا دینے اور زمین اسے نگل جانے کا دعویٰ کرتی ہے۔مگر انسان ان دھمکیوں سے ذرا نہیں ڈرتا۔ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیتا ہے اور ہنس کر کہتا ہے کہ ‘میں سلیمان ہوں، ابنِ آدم ہوں، یعنی انسان ہوں’۔ اس مکالمے سے شاعر یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان اپنے علم، عقل اور خود اعتمادی کے بل پر فطرت کی ان طاقتوں پر بھی غالب آ سکتا ہے۔

7. اس نظم سے ہمیں کیا سبق اور پیغام ملتا ہے؟

جواباس نظم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں مشکلات، خطرات اور دھمکیوں کا سامنا کرتے وقت گھبرانا یا مایوس ہونا نہیں چاہیے۔ انسان کی اصل طاقت اس کا علم، حوصلہ اور خود اعتمادی ہے۔شاعر بتاتے ہیں کہ انسان اشرفُ المخلوقات ہے اور اسے فطرت پر اختیار حاصل ہے۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھے اور ہمت سے کام لے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ کو بھی شکست دے سکتا ہے۔ یہ نظم ہمیں مثبت سوچ، خود اعتمادی اور اپنی عظمت کے احساس کا درس دیتی ہے، تاکہ ہم زندگی کی ہر آزمائش کا دلیری سے سامنا کر سکیں۔

8. اخترالایمان کی شاعری کی خصوصیات اور اردو نظم میں ان کے مقام پر روشنی ڈالیے۔

جواباخترالایمان جدید اردو نظم کے معمار اور منفرد شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے غزل کے بجائے نظم، خاص طور پر آزاد اور معریٰ نظم کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا اور اسے نئی فکری بلندی عطا کی۔ ان کی شاعری سادہ مگر گہری، علامتی اور فکر انگیز ہوتی ہے۔ان کے کلام میں انسان کی عظمت، اندرونی کشمکش، تنہائی اور خود اعتمادی کے موضوعات نمایاں ہیں۔ ‘گرداب’، ‘آبِ جو’ اور ‘یادیں’ جیسے مجموعے ان کی پہچان ہیں اور 1984ء میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نظم ‘اعتماد’ بھی ان کے اسی فکری مزاج کی عکاس ہے، جس میں انسان کو فطرت پر غالب اور پُراعتماد دکھایا گیا ہے۔

MCQ اور تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. نظم ‘اعتماد’ کے شاعر کون ہیں؟

(الف) اخترالایمان

(ب) علامہ اقبال

(ج) فیض احمد فیض

(د) میر تقی میر

جواب(الف) اخترالایمان۔

2. اس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) افسانہ

(ب) نظم

(ج) مضمون

(د) ڈراما

جواب(ب) نظم۔

3. نظم میں سب سے پہلے کون انسان سے مخاطب ہوتی ہے؟

(الف) آگ

(ب) زمین

(ج) خود سر ہوا

(د) آسمان

جواب(ج) خود سر ہوا۔

4. ہوا انسان کو کس چیز سے تشبیہ دیتی ہے؟

(الف) پہاڑ

(ب) ایک ذرّہ

(ج) سمندر

(د) درخت

جواب(ب) ایک ذرّہ۔

5. دریا کی موج انسان کو کس چیز کے برابر کہتی ہے؟

(الف) چٹان

(ب) کشتی

(ج) ایک تنکا

(د) پل

جواب(ج) ایک تنکا۔

6. آگ کا شعلہ انسان کو کیا دھمکی دیتا ہے؟

(الف) اُڑا دینے کی

(ب) بہا دینے کی

(ج) جلا ڈالنے کی

(د) نگل جانے کی

جواب(ج) جلا ڈالنے کی۔

7. زمین انسان کو کیا دھمکی دیتی ہے؟

(الف) نگل جانے کی

(ب) جلا دینے کی

(ج) اُڑا دینے کی

(د) ڈبو دینے کی

جواب(الف) نگل جانے کی۔

8. انسان فطرت کی طاقتوں کو کیا جواب دیتا ہے؟

(الف) ڈر کر بھاگ جاتا ہے

(ب) ہنس کر کہتا ہے ‘میں سلیمان ہوں’

(ج) رونے لگتا ہے

(د) خاموش رہتا ہے

جواب(ب) ہنس کر کہتا ہے ‘میں سلیمان ہوں’۔

9. شعر ‘میں سلیمان ہوں / ابنِ آدم ہوں’ میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے؟

(الف) صنعتِ تضاد

(ب) صنعتِ تلمیح

(ج) صنعتِ تکرار

(د) صنعتِ مراعاۃ النظیر

جواب(ب) صنعتِ تلمیح۔

10. نظم ‘اعتماد’ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) فطرت سے ڈرنا

(ب) مایوسی اور بے بسی

(ج) خود اعتمادی اور انسانی عظمت

(د) دولت کی محبت

جواب(ج) خود اعتمادی اور انسانی عظمت۔
Answer Key: 1-(الف), 2-(ب), 3-(ج), 4-(ب), 5-(ج), 6-(ج), 7-(الف), 8-(ب), 9-(ب), 10-(ج)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason): نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل چنیے— (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): نظم ‘اعتماد’ ایک مکالماتی نظم ہے۔

وجہ (R): اس میں ہوا، پانی، آگ اور زمین انسان سے باری باری مخاطب ہوتی ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

2. تصدیق (A): انسان فطرت کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔

وجہ (R): اسے اپنے علم، عقل اور خود اعتمادی پر بھروسا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

3. تصدیق (A): شعر میں ‘سلیمان’ کا حوالہ صنعتِ تلمیح کی مثال ہے۔

وجہ (R): اس میں کسی تاریخی یا مذہبی شخصیت/واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

4. تصدیق (A): دریا کی موج انسان کو تنکے سے تشبیہ دیتی ہے۔

وجہ (R): دریا انسان کی برتری اور طاقت کا اعتراف کرتا ہے۔

جواب(ج) A درست ہے، مگر R غلط ہے – دریا انسان کی برتری نہیں، بلکہ اس کی کم مائیگی (کمزوری) ظاہر کرتا ہے۔

5. تصدیق (A): نظم کا مرکزی خیال خود اعتمادی اور انسانی عظمت ہے۔

وجہ (R): انسان آخر میں ہار مان کر فطرت کے آگے جھک جاتا ہے۔

جواب(ج) A درست ہے، مگر R غلط ہے – انسان ہار نہیں مانتا، بلکہ اعتماد سے اپنی عظمت کا اعلان کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • شاعر کا نام (اخترالایمان) اور صنف (نظم) ضرور یاد رکھیے – یہ اکثر پوچھے جاتے ہیں۔
  • فطرت کی چار طاقتوں اور ان کی دھمکیوں کو ترتیب سے یاد کیجیے: ہوا (اُڑانا)، دریا (بہانا)، آگ (جلانا)، زمین (نگلنا)۔
  • ‘سلیمان’ اور ‘ابنِ آدم’ کے حوالے کو صنعتِ تلمیح سے جوڑ کر یاد رکھیے۔
  • نظم کا مرکزی خیال — خود اعتمادی اور انسانی عظمت — ہر طویل جواب میں ضرور لکھیے۔
  • مشکل الفاظ (اعتماد، خود سر، آتشِ تُند، لپٹ، نقاب) کے معنی اردو، ہندی اور انگریزی میں یاد رکھیے۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • شاعر کا نام غلط لکھنا – درست نام اخترالایمان ہے، علامہ اقبال یا فیض نہیں۔
  • صنف کو غزل یا افسانہ لکھ دینا – یہ ایک نظم ہے۔
  • فطرت کی طاقتوں کی دھمکیاں آپس میں خلط ملط کر دینا (مثلاً آگ کو ‘بہانے’ سے جوڑ دینا)۔
  • یہ سمجھنا کہ انسان آخر میں ہار جاتا ہے – دراصل انسان پُراعتماد رہتا اور غالب آتا ہے۔
  • صنعتِ تلمیح کو صنعتِ تضاد یا تشبیہ سمجھ لینا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

نظم ‘اعتماد’ کے شاعر کون ہیں اور اس کی صنف کیا ہے؟

نظم ‘اعتماد’ کے شاعر اخترالایمان (1915–1996) ہیں، جو جدید اردو نظم کے ممتاز شاعر تھے۔ اس کی صنف نظم (مکالماتی/معریٰ نظم) ہے، جس میں فطرت کی طاقتیں اور انسان آپس میں مکالمہ کرتے ہیں۔

نظم ‘اعتماد’ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

نظم کا مرکزی پیغام خود اعتمادی اور انسانی عظمت ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ انسان اپنے علم، عقل، ہمت اور خود اعتمادی کے بل پر فطرت کی طاقتور قوتوں کو بھی زیر کر سکتا ہے اور دھمکیوں سے نہیں دبتا۔

‘میں سلیمان ہوں’ کہنے کا کیا مطلب ہے؟

حضرت سلیمانؑ کو ہوا، پانی اور دیگر مخلوقات پر اختیار حاصل تھا۔ ‘میں سلیمان ہوں’ کہہ کر انسان اپنی عظمت اور فطرت پر اپنے اختیار کا اعلان کرتا ہے۔ یہ صنعتِ تلمیح کی مثال ہے۔

نظم کے اشعار اور سوالات و مشق کے عنوانات NCERT جمنا کتاب کے صفحات (تصاویر) سے بحوالہ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، معنی، تشریح اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّف کردہ اصل مواد ہیں۔

Scroll to Top