Class 9 Urdu Jamuna Chapter 13 Aurat Solutions (NCERT 2026–27) – عورت

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 13 ‘Aurat’ (عورت) by Kaifi Azmi (کیفی اعظمی) – a famous progressive nazm. You get the verbatim اشعار, شاعر کا تعارف, a complete خلاصہ, مشکل الفاظ کے معانی, line-by-line تشریح, and original exam-ready answers to every سوال of the مشق, plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) and FAQs. یہ نظم عورت کو حوصلہ، خود اعتمادی اور برابری کا پیغام دیتی ہے اور اسے مرد کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے کی دعوت دیتی ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 13 صنف: نظم شاعر: کیفی اعظمی Session: 2026–27

شاعر کا تعارف (About the Poet)

کیفی اعظمی اردو کے ایک ممتاز ترقی پسند شاعر تھے۔ ان کا اصل نام اطہر حسین رضوی تھا اور وہ 1919ء میں ضلع اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے قصبے مجواں میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بہت کم عمری میں شاعری شروع کر دی تھی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو کر انھوں نے اپنی شاعری کو مزدوروں، کسانوں، مظلوموں اور عورتوں کے حقوق کی آواز بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں “جھنکار”، “آخرِ شب” اور “آوارہ سجدے” شامل ہیں؛ “آوارہ سجدے” پر انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔ کیفی اعظمی نے فلموں کے لیے بھی یادگار نغمے اور مکالمے لکھے۔ ان کی نظم “عورت” حقوقِ نسواں کا ترانہ بن گئی۔ 2002ء میں ان کا انتقال ہوا۔

منتخب اشعار (Nazm – ‘عورت’)

(کیفی اعظمی کی نظم ‘عورت’ کے اشعار، جمنا کتاب کی رینڈر شدہ تصاویر سے من و عن۔)

اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قلبِ ماحول میں لرزاں شررِ جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج
آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج
حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج
جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تیرے قدموں میں ہے فردوسِ تمدن کی بہار
تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار
تیری آغوش ہے گہوارۂ کس و کنار
تجھ سے گلزارِ نسب میں ہے بہاروں کا قرار
کونپلوں کی طرح خلعت کو بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تو نہ کر گلشنِ ہستی میں قناعت کے لیے
اب ضروری ہے فروغِ غمِ پنہاں کے لیے
تو خود اپنے لیے کانٹوں کو نہ چن لے غم سے
تو فروزاں ہے تو روشن ہے زمانے کے لیے
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں
تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

توڑ کر رسم کے بت بندِ قدامت سے نکل
ضعفِ عشرت سے نکل وہمِ نزاکت سے نکل
نفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکل
قید بن جائے محبت تو محبت سے نکل
راہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرہ پروین
تیرے قبضے میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیں
ہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیں
میں بھی رکنے کا نہیں تو بھی نہ رکنے پائے کہیں
لڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے — کیفی اعظمی، نظم ‘عورت’

خلاصہ (Summary)

کیفی اعظمی کی نظم “عورت” ایک پُرجوش ترقی پسند نظم ہے جو عورت کو صدیوں کی قید، توہم اور کمزوری سے نکل کر مرد کے شانہ بشانہ زندگی کے میدان میں قدم رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ نظم کا مرکزی مصرع — “اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے” — ہر بند کے بعد دہرایا گیا ہے اور یہی نظم کی روح ہے۔ شاعر عورت کو یاد دلاتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے، جنگ و انقلاب کا دور ہے، اور ایسے میں عورت کو بھی اسی آگ میں جلنا اور تپنا ہے جس میں مرد جل رہا ہے۔

شاعر کے نزدیک عورت معمولی ہستی نہیں؛ اسی کے قدموں میں تہذیب و تمدن کی بہار ہے، اسی کی نظر پر ترقی کا انحصار ہے، اور وہی آنے والی نسلوں کی پرورش کرتی ہے۔ مگر تاریخ نے آج تک اس کی صحیح قدر نہیں جانی اور اسے صرف ایک دلچسپ کہانی یا حسن و جوانی کی شے سمجھا گیا۔ شاعر کہتا ہے کہ عورت میں صرف آنسو ہی نہیں بلکہ شعلے بھی ہیں؛ وہ ایک حقیقت ہے، محض کہانی نہیں۔ اسے اپنی تاریخ کا عنوان خود بدلنا ہے۔

آخری بندوں میں شاعر عورت سے کہتا ہے کہ وہ رسم و رواج کے بُتوں کو توڑ دے، قدامت، توہم اور نام نہاد نزاکت کے حلقے سے باہر نکلے، اور اگر محبت بھی قید بن جائے تو اس سے بھی نکل جائے۔ راہ کے کانٹے ہی نہیں، رکاوٹ بننے والے پھول بھی اسے کچلنے ہیں۔ شاعر اسے فلاطون، ارسطو اور زہرہ و پروین جیسا باکمال قرار دیتا ہے جس کے قبضے میں آسمان اور پاؤں تلے زمین ہے۔ نظم کا پیغام یہ ہے کہ عورت اپنی پیشانی تقدیر کے قدموں سے اٹھائے، نہ رکے، نہ لڑکھڑائے، بلکہ سنبھل کر آگے بڑھے۔

हिन्दी सार: कैफ़ी आज़मी की नज़्म ‘औरत’ स्त्री को सदियों की क़ैद, अंधविश्वास और कमज़ोरी से निकलकर पुरुष के कंधे से कंधा मिलाकर आगे बढ़ने का आह्वान करती है। “उठ मेरी जान! मेरे साथ ही चलना है तुझे” नज़्म की धड़कन है – यह नारी की बराबरी, आत्मविश्वास और अपनी पहचान खुद गढ़ने का संदेश देती है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
قلبहृदय, बीचHeart / core
شررचिंगारीSpark
زیستजीवनLife
یک رنگएक जैसे, समानOf one colour / alike
آبگینہशीशा, काँचGlass / crystal
ولولہउमंग, जोशFervour / zeal
ہم آہنگएक सुर में, सामंजस्यपूर्णIn harmony
فردوسस्वर्गParadise
تمدنसभ्यताCivilisation
مدارआधार, निर्भरताBasis / dependence
گہوارہपालनाCradle
قناعتसंतोषContentment
اشک فشانیआँसू बहानाShedding tears
قدامتपुरानापन, रूढ़िवादAntiquity / orthodoxy
ضعفकमज़ोरीWeakness
عشرتविलासिता, ऐशLuxury / indulgence
وہمभ्रम, संदेहIllusion / doubt
نزاکتकोमलता, नज़ाकतDelicacy
فلاطون و ارسطوप्लेटो और अरस्तू (दार्शनिक)Plato & Aristotle
گردوںआकाश, आसमानSky / heavens
جبیںमाथा, ललाटForehead

تشریح (Explanation of key اشعار)

اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے / جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے

یہ نظم کا کلیدی اور دہرایا جانے والا مصرع ہے۔ شاعر عورت کو پیار سے “مری جان” کہہ کر پکارتا ہے اور کہتا ہے کہ زمانے کا ماحول جنگ و انقلاب کی چنگاریوں سے کانپ رہا ہے۔ ایسے دور میں عورت گھر کی چاردیواری میں قید رہنے کے بجائے مرد کے ساتھ مل کر جدوجہد میں شریک ہو۔ جس آزمائش اور تپش سے مرد گزر رہا ہے، عورت کو بھی اسی میں شامل ہو کر کندن بننا ہے۔ یہ برابری اور رفاقت کا اعلان ہے۔

تیرے قدموں میں ہے فردوسِ تمدن کی بہار

شاعر عورت کی عظمت بیان کرتا ہے کہ تہذیب و تمدن کی ساری بہار اور رونق اسی کے دم سے ہے۔ ترقی اور تہذیب کا انحصار اسی کی نظر اور تربیت پر ہے، کیونکہ وہی آنے والی نسلوں کا گہوارہ ہے۔ جیسے کونپل پرانے پتے اتار کر نیا لباس پہنتی ہے، ویسے ہی عورت کو بھی پرانی رسموں کا چولا اتار کر نیا روپ اختیار کرنا ہے۔

تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں / اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے

شاعر عورت کو یاد دلاتا ہے کہ اس میں صرف آنسو اور نرمی ہی نہیں بلکہ آگ اور حوصلہ بھی ہے۔ وہ کوئی دلچسپ کہانی یا محض حسن و جوانی کی شے نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ تاریخ نے آج تک اس کی قدر نہیں جانی، اس لیے اب اسے خود اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہوگا یعنی اپنا نیا مقام اور پہچان خود قائم کرنی ہوگی۔

توڑ کر رسم کے بت بندِ قدامت سے نکل … / تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرہ پروین

آخری بندوں میں شاعر عورت سے کہتا ہے کہ وہ رسم و رواج کے بُتوں کو توڑ دے، رُوڑھی، نام نہاد نزاکت اور توہم کی زنجیریں کاٹ دے۔ اگر محبت بھی قید بن جائے تو اس سے بھی نکل جائے۔ شاعر اسے فلاطون و ارسطو (عقل و دانش) اور زہرہ و پروین (حسن و بلندی) سے تشبیہ دیتا ہے—آسمان اس کے قبضے میں اور زمین اس کے قدموں میں ہے۔ وہ تقدیر کے آگے سر نہ جھکائے بلکہ پیشانی اٹھائے، نہ رُکے نہ لڑکھڑائے، بس سنبھل کر آگے بڑھے۔

سوالات / مشق (Exercise)

سوالات کے عنوان NCERT جمنا کتاب کی رینڈر شدہ تصاویر سے من و عن لیے گئے ہیں؛ بعض ذیلی سوالات کی باریک عبارت تصویر میں مکمل طور پر واضح نہ ہونے کے سبب مفہوم کے مطابق دی گئی ہے۔ جوابات مولیٹ (اصل) ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

۱۔ شاعر نے عورت کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کیوں کہا ہے؟

جوابشاعر کہتا ہے کہ زمانہ جنگ، انقلاب اور تبدیلی کا دور ہے۔ ایسے دور میں عورت گھر کی چاردیواری میں محدود نہ رہے بلکہ مرد کے شانہ بشانہ زندگی کی جدوجہد میں شریک ہو، کیونکہ ترقی و تہذیب تب ہی مکمل ہو گی جب عورت بھی برابر کی ساتھی بنے۔

۲۔ شاعر کی نظر میں عورت کی عظمت کیا ہے؟

جوابشاعر کے نزدیک تہذیب و تمدن کی بہار اور ترقی کا سارا مدار عورت پر ہے۔ وہی آنے والی نسلوں کا گہوارہ ہے اور اسی کی نظر و تربیت پر معاشرے کی ترقی کا انحصار ہے۔ اس لیے عورت معمولی ہستی نہیں بلکہ تمدن کی بنیاد ہے۔

۳۔ شاعر نے عورت کے کن کن جذبوں اور صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے؟

جوابشاعر کہتا ہے کہ عورت میں صرف آنسو اور نرمی ہی نہیں بلکہ شعلے، حوصلہ اور قوت بھی ہے۔ وہ فلاطون و ارسطو جیسی عقل و دانش اور زہرہ و پروین جیسی بلندی رکھتی ہے۔ وہ ایک ٹھوس حقیقت ہے، محض دلچسپ کہانی نہیں۔

۴۔ “اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواباس مصرعے سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ تاریخ میں عورت کو ہمیشہ کمزور، محکوم اور قابلِ رحم سمجھا گیا۔ اب عورت کو خود آگے بڑھ کر یہ پرانی پہچان مٹانی ہے اور اپنا نیا، باوقار اور خود مختار مقام خود قائم کرنا ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

۱۔ نظم میں آیا ہوا دہرایا جانے والا مصرع لکھیے اور بتائیے کہ شاعر نے اسے بار بار کیوں دہرایا ہے۔

جوابدہرایا جانے والا مصرع ہے: “اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے”۔ شاعر نے اسے ہر بند کے بعد اس لیے دہرایا تاکہ عورت کو آگے بڑھنے اور برابری حاصل کرنے کا پیغام بار بار، پُرزور انداز میں ذہن نشین ہو جائے اور نظم میں ایک خاص آہنگ اور تاثیر پیدا ہو۔

۲۔ شاعر عورت کو کن کن پرانی رسموں اور قیود سے نکلنے کی تلقین کرتا ہے؟

جوابشاعر عورت سے کہتا ہے کہ وہ رسم و رواج کے بُتوں کو توڑ دے اور قدامت، عشرت کی کمزوری، نام نہاد نزاکت اور وہم و توہم کی زنجیروں سے باہر نکل آئے۔ یہاں تک کہ اگر محبت بھی قید بن جائے تو اس قید سے بھی آزاد ہو کر آگے بڑھے۔

۳۔ نظم میں آئے ہوئے درج ذیل الفاظ کے معانی لکھیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے— (الف) تمدن (ب) شرر (ج) قناعت (د) قدامت (ہ) فردوس (و) جبیں

جوابتمدن (تہذیب) – ہر قوم اپنے تمدن پر فخر کرتی ہے۔شرر (چنگاری) – ایک ہی شرر سے سارا جنگل جل اٹھا۔قناعت (صبر و قناعت) – قناعت سے دل کو سکون ملتا ہے۔قدامت (پرانا پن) – ہمیں قدامت کی فضول رسموں سے نکلنا چاہیے۔فردوس (جنت) – کشمیر کو فردوسِ زمین کہا جاتا ہے۔جبیں (پیشانی) – سچا انسان کبھی غلط کے آگے جبیں نہیں جھکاتا۔

پروجیکٹ

۴۔ کیفی اعظمی کی نظم “عورت” کی طرح کسی اور شاعر کی عورت یا حقوقِ نسواں سے متعلق نظم تلاش کیجیے اور اسے اپنی کاپی میں لکھیے۔

جوابطلبہ اپنی تحقیق کے مطابق کوئی نظم منتخب کریں، مثلاً علامہ اقبال کی “عورت” یا الطاف حسین حالی کی “چپ کی داد”؛ نظم اپنی کاپی میں لکھ کر اس کے مرکزی خیال پر مختصر نوٹ تیار کریں۔ (یہ پروجیکٹ کام طالبِ علم کی اپنی کوشش پر مبنی ہے۔)

عملی کام

۵۔ آج کے دور میں عورتیں مختلف میدانوں (سائنس، کھیل، دفاع، تعلیم وغیرہ) میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ایسی چند خواتین کے نام اور ان کے کارناموں پر ایک مختصر مضمون لکھیے۔

جوابطلبہ کلپنا چاولہ (خلا باز)، پی۔ ٹی۔ اوشا (کھلاڑی)، کرن بیدی (پولیس افسر) اور دیگر نمایاں خواتین کے کارناموں پر مختصر مضمون تیار کریں اور بتائیں کہ کس طرح ان خواتین نے نظم “عورت” کے پیغام کو سچ کر دکھایا۔ (یہ عملی کام طالبِ علم کی اپنی کاوش پر مبنی ہے۔)

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (Short)

۱۔ نظم “عورت” کے شاعر کون ہیں اور یہ کس صنف سے تعلق رکھتی ہے؟

جوابنظم “عورت” کے شاعر کیفی اعظمی ہیں اور اس کا تعلق نظم (آزاد/ترقی پسند نظم) کی صنف سے ہے۔

۲۔ شاعر نے عورت کو کن مشہور ہستیوں سے تشبیہ دی ہے؟

جوابشاعر نے عورت کو فلاطون و ارسطو (عقل و دانش) اور زہرہ و پروین (حسن و بلندی) سے تشبیہ دی ہے۔

۳۔ “جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے” کا مفہوم بیان کیجیے۔

جواباس کا مفہوم یہ ہے کہ جس آزمائش، جدوجہد اور تپش سے مرد گزر رہا ہے، عورت کو بھی اسی میں شریک ہو کر برابر کی ساتھی بننا ہے۔

۴۔ شاعر کے مطابق عورت کس چیز کا گہوارہ ہے؟

جوابشاعر کے مطابق عورت آنے والی نسلوں اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے؛ ترقی کا سارا مدار اسی پر ہے۔

۵۔ نظم کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

جوابنظم کا مرکزی پیغام عورت کی برابری، خود اعتمادی اور آزادی ہے—عورت پرانی قیود توڑ کر مرد کے شانہ بشانہ آگے بڑھے اور اپنی نئی پہچان خود قائم کرے۔

طویل سوالات (Long)

۶۔ کیفی اعظمی کی نظم “عورت” کے مرکزی خیال اور پیغام پر روشنی ڈالیے۔

جوابنظم “عورت” ترقی پسند فکر کی نمائندہ نظم ہے۔ شاعر عورت کو صدیوں کی غلامی، توہم، رسم و رواج اور نام نہاد نزاکت کی قید سے نکل کر مرد کے ساتھ برابری کی سطح پر زندگی کی جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ شاعر عورت کی عظمت بیان کرتا ہے کہ تہذیب و تمدن، ترقی اور آنے والی نسلیں سب اسی کے دم سے ہیں۔ وہ یاد دلاتا ہے کہ عورت میں صرف آنسو نہیں بلکہ شعلے اور حوصلہ بھی ہے، وہ فلاطون و ارسطو جیسی عقل اور زہرہ و پروین جیسی بلندی رکھتی ہے۔ نظم کا پیغام یہ ہے کہ عورت خود اپنی تاریخ کا عنوان بدلے، تقدیر کے آگے سر نہ جھکائے اور پُراعتماد ہو کر آگے بڑھے۔

۷۔ نظم میں دہرائے گئے مصرع کی اہمیت اور تاثیر پر بحث کیجیے۔

جواب“اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے” نظم کا کلیدی مصرع ہے جو ہر بند کے بعد دہرایا گیا ہے۔ یہ تکرار نظم کو ترانے جیسا آہنگ اور جوش عطا کرتی ہے۔ “مری جان” کی پکار میں محبت اور اپنائیت ہے، جبکہ “اٹھ” اور “چلنا ہے تجھے” میں للکار اور حوصلہ افزائی ہے۔ بار بار دہرانے سے عورت کی برابری اور آگے بڑھنے کا پیغام پُرزور انداز میں ذہن میں بیٹھ جاتا ہے اور نظم یادگار بن جاتی ہے۔ یہی تکرار اس نظم کو حقوقِ نسواں کا ترانہ بناتی ہے۔

۸۔ کیفی اعظمی بطور ترقی پسند شاعر اس نظم میں کس طرح نظر آتے ہیں؟

جوابکیفی اعظمی ترقی پسند تحریک کے نمایاں شاعر تھے جنھوں نے اپنی شاعری کو سماجی اصلاح اور مظلوموں کی آواز بنایا۔ اس نظم میں وہ عورت کو محض حسن و رومان کی شے کے بجائے ایک باشعور، باصلاحیت اور برابر کی انسان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ پرانی رسموں، استحصال اور غیر برابری کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے ہیں اور عورت کو خود اعتمادی، آزادی اور ترقی کی راہ دکھاتے ہیں۔ یوں یہ نظم ان کی ترقی پسند فکر، انسان دوستی اور سماجی انصاف کے جذبے کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion–Reason)

۱۔ نظم “عورت” کے شاعر کون ہیں؟

(الف) علامہ اقبال

(ب) کیفی اعظمی

(ج) فیض احمد فیض

(د) ساحر لدھیانوی

جواب(ب) کیفی اعظمی۔

۲۔ نظم میں بار بار دہرایا جانے والا مصرع کون سا ہے؟

(الف) تجھ میں شعلے بھی ہیں

(ب) اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

(ج) راہ کا خار ہی کیا

(د) تو زہرہ پروین

جواب(ب) اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے۔

۳۔ شاعر نے عورت کو کن فلسفیوں سے تشبیہ دی ہے؟

(الف) سقراط و بقراط

(ب) فلاطون و ارسطو

(ج) رازی و ابنِ سینا

(د) فارابی و غزالی

جواب(ب) فلاطون و ارسطو۔

۴۔ “شرر” کا معنی ہے—

(الف) آنسو

(ب) چنگاری

(ج) پھول

(د) آسمان

جواب(ب) چنگاری۔

۵۔ نظم “عورت” کا تعلق کس ادبی تحریک سے ہے؟

(الف) رومانوی تحریک

(ب) ترقی پسند تحریک

(ج) جدیدیت

(د) سرسید تحریک

جواب(ب) ترقی پسند تحریک۔

۶۔ “جبیں” کا مطلب ہے—

(الف) ہاتھ

(ب) آنکھ

(ج) پیشانی

(د) دل

جواب(ج) پیشانی۔

۷۔ شاعر کے نزدیک عورت میں صرف اشک فشانی نہیں بلکہ کیا بھی ہے؟

(الف) شعلے

(ب) دھواں

(ج) خاموشی

(د) تھکن

جواب(الف) شعلے۔

۸۔ کیفی اعظمی کا اصل نام کیا تھا؟

(الف) اطہر حسین رضوی

(ب) اسرار الحق

(ج) رگھوپتی سہائے

(د) عبدالحئی

جواب(الف) اطہر حسین رضوی۔

۹۔ شاعر عورت سے کیا توڑنے کے لیے کہتا ہے؟

(الف) دل

(ب) رسم کے بت

(ج) قلم

(د) آئینہ

جواب(ب) رسم کے بت۔

۱۰۔ نظم “عورت” کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) قناعت اور خاموشی

(ب) عورت کی برابری اور آزادی

(ج) دنیا سے کنارہ کشی

(د) محض حسن کی تعریف

جواب(ب) عورت کی برابری اور آزادی۔
اتر کلید (Answer Key): 1-(ب)، 2-(ب)، 3-(ب)، 4-(ب)، 5-(ب)، 6-(ج)، 7-(الف)، 8-(الف)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) – ذیل میں تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

۱۔ تصدیق (A): نظم “عورت” حقوقِ نسواں کا ترانہ بن گئی۔

وجہ (R): یہ نظم عورت کو برابری، خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کی دعوت دیتی ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

۲۔ تصدیق (A): شاعر عورت کو پرانی رسموں سے نکلنے کی تلقین کرتا ہے۔

وجہ (R): شاعر چاہتا ہے کہ عورت قدامت، توہم اور غیر ضروری نزاکت کی قید میں ہی محدود رہے۔

جواب(ج) A درست ہے، مگر R غلط ہے—شاعر چاہتا ہے کہ عورت ان قیود سے نکل کر آزاد ہو، نہ کہ ان میں محدود رہے۔

۳۔ تصدیق (A): شاعر عورت کو فلاطون و ارسطو سے تشبیہ دیتا ہے۔

وجہ (R): شاعر عورت کی عقل، دانش اور صلاحیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

۴۔ تصدیق (A): دہرایا جانے والا مصرع نظم میں خاص آہنگ اور تاثیر پیدا کرتا ہے۔

وجہ (R): تکرار سے پیغام پُرزور اور یادگار بن جاتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

۵۔ تصدیق (A): کیفی اعظمی رومانوی تحریک کے شاعر تھے۔

وجہ (R): کیفی اعظمی نے اپنی شاعری کو مزدوروں، مظلوموں اور عورتوں کے حقوق کی آواز بنایا۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے—کیفی اعظمی رومانوی نہیں بلکہ ترقی پسند تحریک کے شاعر تھے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • دہرایا جانے والا مصرع “اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے” لازماً یاد رکھیے—یہ نظم کی روح ہے۔
  • شاعر کا نام، اصل نام (اطہر حسین رضوی) اور صنف (نظم/ترقی پسند نظم) یاد رکھیے۔
  • مشکل الفاظ (شرر، قدامت، تمدن، جبیں، فردوس) کے معانی جملوں میں استعمال کی مشق کیجیے۔
  • تشریح لکھتے وقت پہلے شعر کا مفہوم، پھر مرکزی خیال اور آخر میں شاعرانہ خوبی بیان کیجیے۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • کیفی اعظمی کو ترقی پسند کے بجائے رومانوی شاعر لکھ دینا—یہ غلط ہے۔
  • نظم کو غزل سمجھ لینا—یہ ایک نظم ہے، غزل نہیں۔
  • “فلاطون و ارسطو” اور “زہرہ پروین” کے حوالے کو نظرانداز کر دینا۔
  • اشعار کی نقل میں املا کی غلطی—شرر، جبیں، فردوس، قدامت کو صحیح لکھیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

نظم “عورت” کے شاعر کون ہیں؟

نظم “عورت” کے شاعر کیفی اعظمی ہیں، جو اردو کے ممتاز ترقی پسند شاعر تھے۔ ان کا اصل نام اطہر حسین رضوی تھا۔

نظم “عورت” کا مرکزی خیال کیا ہے؟

نظم کا مرکزی خیال عورت کی برابری، خود اعتمادی اور آزادی ہے—عورت پرانی رسموں اور قیود کو توڑ کر مرد کے شانہ بشانہ آگے بڑھے اور اپنی نئی پہچان خود قائم کرے۔

نظم میں بار بار دہرایا جانے والا مصرع کیا ہے اور کیوں؟

دہرایا جانے والا مصرع “اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے” ہے۔ شاعر نے اسے ہر بند کے بعد دہرایا تاکہ پیغام پُرزور انداز میں ذہن نشین ہو اور نظم میں ترانے جیسا آہنگ پیدا ہو۔

نظم کے اشعار اور سوالات کے عنوان NCERT جمنا کتاب کی رینڈر شدہ تصاویر سے لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، معانی اور تمام جوابات ClearStudy نے مولیٹ (اصل) طور پر تیار کیے ہیں۔

Scroll to Top