Class 9 Urdu Jamuna Chapter 14 Masnavi: Aaghaz-e-Dastan Solutions (NCERT 2026–27) – مثنوی: آغازِ داستان (سحر البیان)

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 14 ‘Masnavi — Aaghaz-e-Dastan’, the opening of the famous masnavi Sehr-ul-Bayan by Mir Hasan. It includes the selected اشعار (couplets) reproduced from the textbook, an original خلاصہ (summary), a لغات و معنی word-list, تشریح (explanation), and exam-ready answers to every سوال / مشق of the lesson, with extra questions, MCQs, Assertion–Reason and FAQs.
یہ صفحہ کلاس نہم اردو ‘جمنا’ کے سبق ‘مثنوی: آغازِ داستان’ (میر حسن کی ‘سحر البیان’ کا آغاز) کا مکمل حل پیش کرتا ہے — اشعار، خلاصہ، معنی، سوال و جواب، تشریح، MCQs اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے ساتھ۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 14 صنف: مثنوی شاعر: میر حسن (1740–1786) Session: 2026–27

مثنوی کیا ہے؟ (Genre note)

مثنوی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے مثنوی میں کوئی بھی طویل قصہ یا داستان نہایت روانی اور تسلسل کے ساتھ بیان کی جا سکتی ہے، اس لیے رزمیہ (جنگ) اور بزمیہ (محبت و عشق) کہانیاں عام طور پر مثنوی ہی میں لکھی گئیں۔ اردو میں میر حسن کی ‘سحر البیان’، دیا شنکر نسیم کی ‘گلزارِ نسیم’ اور مولانا حالی کی ‘مسدّس’ سے قبل کی مثنویاں اس صنف کی نمائندہ مثالیں ہیں۔ زیرِ مطالعہ سبق میر حسن کی مشہور مثنوی ‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان سے لیا گیا ہے۔

شاعر کا تعارف (About the Poet — Mir Hasan)

میر غلام حسن، جو میر حسن کے نام سے مشہور ہیں، اردو کے بلند پایہ شاعر اور مثنوی نگار تھے۔ آپ کی پیدائش 1740ء کے لگ بھگ دہلی میں ہوئی اور وفات 1786ء میں فیض آباد (لکھنؤ) میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے؛ آپ کے والد میر ضاحک بھی شاعر تھے۔ دہلی کی سیاسی بدامنی اور اجڑتی ہوئی فضا کے باعث آپ کا خاندان فیض آباد و لکھنؤ منتقل ہو گیا، جہاں آپ نے اپنی شاعری کو عروج تک پہنچایا۔ میر حسن کی شہرت کا سب سے بڑا سہارا ان کی مثنوی ‘سحر البیان’ ہے، جسے اردو کی بہترین مثنویوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں شہزادہ بے نظیر اور بدرِ منیر کی محبت کی داستان نہایت دلکش، رواں اور خالص ہندوستانی رنگ میں بیان کی گئی ہے۔ آپ کی زبان سادہ، شیریں اور محاوروں سے بھرپور ہے۔

منتخب اشعار (Selected couplets)

(NCERT جمنا کے رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کردہ آغازِ داستان کے اشعار۔ سکین کی کم وضاحت کے باعث چند الفاظ کی املا میں معمولی فرق ممکن ہے؛ متن میر حسن کی ‘سحر البیان’ سے مطابقت رکھتا ہے۔)

کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ
سراپا حشم، جاہ و حشمت پناہ

نہ تھی اولاد سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی
دلِ تنگ تھا اور دنیا تھی گنجی

دعا مانگتا تھا گھڑی رات دن
کہ یا رب مجھے اِک دکھا دے چمن

خدا نے سنی آخرش اُس کی بات
ہوا ایک بیٹا، خوشی کی وہ رات

بہت دن کے بعد ایک فرزند تھا
وہ نازوں میں پالا ہوا دلربا
— میر حسن، ‘سحر البیان’ (آغازِ داستان)

خلاصہ (Summary)

‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان میں میر حسن قصے کا تعارف نہایت دلکش انداز میں کراتے ہیں۔ کسی شہر میں ایک بڑا، شان و شوکت والا بادشاہ رہتا تھا۔ ظاہری دولت، حشم و خدم اور سلطنت کی ہر نعمت اُسے میسر تھی، مگر ایک بات اُسے بے چین رکھتی تھی — اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اولاد کے بغیر اُس کا دل تنگ رہتا اور ساری دنیا اُسے سونی اور اندھیری محسوس ہوتی۔ وہ رات دن خدا کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگتا کہ اُسے ایک پھول جیسا فرزند عطا ہو جس سے اُس کا آنگن اور زندگی کا چمن آباد ہو جائے۔

بالآخر خدا نے اُس کی دعا قبول کی اور برسوں کی آرزو کے بعد بادشاہ کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوا۔ یہ وہ رات تھی جب محل خوشیوں سے جگمگا اٹھا۔ بادشاہ اور رعایا دونوں نے بے حد خوشی منائی، خیرات تقسیم ہوئی اور جشن کا سماں بندھا۔ شہزادے کا نام بے نظیر رکھا گیا۔ وہ بچہ ناز و نعم میں پالا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حُسن، عقل اور ہنر میں اپنی مثال آپ بن گیا۔ بادشاہ نے اُس کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام کیا۔ اسی شہزادے کے گرد آگے چل کر بدرِ منیر سے محبت کی پوری داستان گردش کرتی ہے۔ یوں یہ آغازِ داستان قاری کے دل میں قصے کے تجسس کا بیج بو دیتا ہے اور آنے والے واقعات کے لیے فضا تیار کر دیتا ہے۔

हिन्दी सार (gist): किसी शहर में एक धनवान बादशाह था जिसकी कोई संतान न थी; वह रात-दिन ईश्वर से दुआ माँगता रहा। अंततः उसके यहाँ एक सुंदर बेटा (बे-नज़ीर) पैदा हुआ, जिसकी ख़ुशी में पूरा महल जगमगा उठा — यहीं से दास्तान शुरू होती है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
سراپاसिर से पाँव तक, पूरी तरहFrom head to foot; wholly
حشمनौकर-चाकर, सेवक-दलRetinue; attendants
جاہ و حشمتशान-शौकत, वैभवPomp and majesty
حشمت پناہवैभव का आश्रय, अत्यंत प्रतापीRefuge of grandeur; majestic
اولادसंतानOffspring; children
آنکھیں ٹھنڈی ہوناआँखें ठंडी होना, सुख मिलनाTo be gladdened/contented
دلِ تنگउदास/संकुचित मनSorrowful, anxious heart
گنجی / سونیउजाड़, सूनीEmpty; desolate
دعا مانگناप्रार्थना करनाTo pray; to supplicate
یا ربहे ईश्वर!O Lord!
چمنबाग़, उपवन (यहाँ संतान का रूपक)Garden (here, child/joy)
آخرشअंततः, आख़िरकारAt last; finally
فرزندपुत्र, बेटाSon
نازوں میں پالناलाड़-प्यार में पालनाTo rear with great fondness
دلرباमनमोहक, दिल लुभाने वालाCharming; captivating
بے نظیرअनुपम, बेमिसाल (शहज़ादे का नाम)Peerless (the prince’s name)
رعایاप्रजाSubjects; people
جشنउत्सव, समारोहCelebration; festivity
حُسنसौंदर्यBeauty
ہنرकौशल, गुणSkill; talent

تشریح (Explanation of key couplets)

پہلا شعر: ‘کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ / سراپا حشم، جاہ و حشمت پناہ’ — شاعر داستان کا آغاز روایتی انداز میں کرتا ہے۔ ایک نامعلوم شہر میں ایک ایسا بادشاہ تھا جو سر سے پاؤں تک شان و شوکت اور وجاہت کا پیکر تھا۔ یہاں ‘سراپا’ اور ‘حشمت پناہ’ جیسے الفاظ سے بادشاہ کے جاہ و جلال کی پوری تصویر کھنچ جاتی ہے۔

دوسرا شعر: ‘نہ تھی اولاد سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی / دلِ تنگ تھا اور دنیا تھی سونی’ — ساری دولت اور سلطنت کے باوجود بادشاہ کے دل میں ایک خلا تھا۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نہ اُس کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور نہ دل کو سکون تھا؛ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا اُسے سونی لگتی تھی۔ یہ شعر دولت اور حقیقی خوشی کے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

تیسرا و چوتھا شعر: بادشاہ رات دن خدا سے دعا کرتا ہے کہ اُسے ایک ‘چمن’ یعنی پھول جیسا فرزند عطا ہو۔ بالآخر خدا اُس کی دعا قبول کرتا ہے اور برسوں بعد اُس کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ ‘چمن’ کا استعارہ اولاد کے لیے نہایت لطیف اور بامعنی ہے — جیسے باغ کے بغیر زمین ویران ہوتی ہے، ویسے ہی اولاد کے بغیر گھر سونا ہوتا ہے۔ یہی شعر داستان کے اصل کردار (شہزادہ بے نظیر) کے ظہور کی بنیاد رکھتے ہیں۔

سوالات و مشق (Exercise)

(کتاب کی اپنی مشقوں کے عنوانات: سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، لغات و معنی، عملی کام۔ سوالات رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کیے گئے ہیں؛ کم وضاحت کے باعث چند الفاظ کی املا میں معمولی فرق ممکن ہے۔)

سوچیے اور بتائیے

(i) بادشاہ کس بات سے غمزدہ اور پریشان رہتا تھا؟

جواببادشاہ کے پاس دولت، شان و شوکت اور سلطنت کی ہر نعمت موجود تھی، مگر اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اسی بات سے وہ ہر وقت غمزدہ اور پریشان رہتا تھا، کیونکہ اولاد کے بغیر اُسے ساری دنیا سونی اور بے رونق محسوس ہوتی تھی۔

(ii) بادشاہ نے اپنی مشکل کے حل کے لیے کیا کیا؟

جواببادشاہ نے اپنی مشکل کے حل کے لیے خدا کے حضور پناہ لی۔ وہ رات دن گڑگڑا کر دعا مانگتا رہا کہ اُسے ایک پھول جیسا فرزند عطا ہو، تاکہ اُس کی زندگی اور آنگن کا چمن آباد ہو جائے۔ اُس نے خیرات اور صدقات کا بھی اہتمام کیا۔

(iii) خدا نے بادشاہ کی دعا کیسے پوری کی؟

جواببرسوں کی مسلسل دعا کے بعد خدا نے بادشاہ کی فریاد سن لی اور اُس کے ہاں ایک نہایت خوبصورت بیٹا (شہزادہ بے نظیر) پیدا ہوا۔ اِس خوشی میں پورا محل جگمگا اٹھا، رعایا نے جشن منایا اور خیرات تقسیم ہوئی۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

(الف) دیے گئے اقتباس کو پڑھ کر نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے۔ (یہ اقتباس مثنوی کے آغازِ داستان سے متعلق ہے، جس میں بادشاہ کی بے اولادی، اُس کی دعا اور بیٹے کی پیدائش کا ذکر ہے۔)

رہنمائیاقتباس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ بادشاہ کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود اولاد نہ ہونے کا غم تھا؛ خدا سے دعا کے بعد اُسے بیٹا عطا ہوا۔ سوالوں کے جواب اوپر ‘سوچیے اور بتائیے’ کے مطابق پورے جملوں میں لکھیے۔

(ب) درج ذیل الفاظ کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے: سراپا، چمن، رعایا، فرزند، دلربا۔

نمونہ جملے سراپا — بادشاہ سراپا شان و شوکت کا پیکر تھا۔ چمن — بیٹے کی پیدائش سے بادشاہ کے گھر کا چمن آباد ہو گیا۔ رعایا — نیک بادشاہ ہمیشہ اپنی رعایا کا خیال رکھتا ہے۔ فرزند — برسوں بعد اُسے ایک خوبصورت فرزند نصیب ہوا۔ دلربا — شہزادہ بے نظیر بہت دلربا اور خوبصورت تھا۔

(ج) صنف اور شاعر: درج ذیل کے بارے میں لکھیے — (الف) صنف  (ب) شاعر۔

جواب (الف) صنف: یہ سبق ‘مثنوی’ ہے، جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ (ب) شاعر: اس مثنوی ‘سحر البیان’ کے شاعر میر حسن (1740–1786) ہیں، جو اردو کے مشہور مثنوی نگار تھے۔

لغات و معنی (الفاظ کا درست معنی سے جوڑ)

درج ذیل الفاظ کو اُن کے مناسب معنی سے ملائیے: سیاہ، صبح، بحر، شام، نگیں۔

درست جوڑ سیاہ → کالا صبح → سویرا بحر → سمندر شام → سندھیا (سرِ شام) نگیں → نگینہ (انگوٹھی کا قیمتی پتھر)

عملی کام

میر حسن کی مثنوی ‘سحر البیان’ کے کسی اور حصے کے دس اشعار اپنی کاپی میں خوش خط لکھیے۔

رہنمائییہ عملی/تخلیقی کام ہے۔ کتب خانے یا کسی مستند مجموعے سے ‘سحر البیان’ کے دس اشعار منتخب کر کے اپنی کاپی میں صاف اور خوش خط انداز میں نقل کیجیے اور ہر مشکل لفظ کے نیچے اُس کا معنی بھی لکھیے۔

نوٹ: کتاب کے آخر میں دیا گیا ‘معلوماتی مطالعہ’ کا حصہ اردو ہندسوں (مفرد، عشرات، صدہا، ہزار وغیرہ کی گنتی) سے متعلق ایک معلوماتی ضمیمہ ہے، جو اِس سبق کا حصہ نہیں بلکہ عمومی معلومات کے لیے ہے۔

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. مثنوی کسے کہتے ہیں؟

جوابمثنوی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔ اسی خوبی کی وجہ سے مثنوی میں طویل قصہ یا داستان روانی کے ساتھ بیان کی جا سکتی ہے۔

2. ‘سحر البیان’ کس کی تصنیف ہے اور یہ کس قسم کی داستان ہے؟

جواب‘سحر البیان’ میر حسن کی تصنیف ہے۔ یہ ایک بزمیہ (محبت کی) مثنوی ہے، جس میں شہزادہ بے نظیر اور بدرِ منیر کی محبت کی داستان نہایت دلکش انداز میں بیان کی گئی ہے۔

3. بادشاہ کی زندگی میں دولت کے باوجود کیا کمی تھی؟

جواببادشاہ کے پاس دولت، حشم و خدم اور سلطنت کی ہر نعمت تھی، مگر اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ یہی کمی اُسے ہر وقت غمزدہ رکھتی تھی اور دنیا اُسے سونی محسوس ہوتی تھی۔

4. شعر میں ‘چمن’ کا لفظ کس کے لیے استعارے کے طور پر آیا ہے؟

جواب‘چمن’ کا لفظ یہاں اولاد (فرزند) کے لیے استعارے کے طور پر آیا ہے۔ جیسے باغ زمین کو رونق دیتا ہے، ویسے ہی اولاد گھر کو خوشیوں سے آباد کرتی ہے۔

5. شہزادے کی پیدائش پر کیا ہوا؟

جوابشہزادے کی پیدائش پر پورا محل خوشیوں سے جگمگا اٹھا۔ بادشاہ اور رعایا نے جشن منایا، خیرات تقسیم ہوئی اور بچے کا نام بے نظیر رکھا گیا، جو ناز و نعم میں پالا گیا۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. ‘آغازِ داستان’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جواب‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان میں میر حسن ایک شان و شوکت والے بادشاہ کا ذکر کرتے ہیں جو سر سے پاؤں تک وجاہت کا پیکر تھا۔ دولت اور سلطنت کی ہر نعمت کے باوجود اُس کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے وہ ہر وقت غمزدہ رہتا اور دنیا اُسے سونی لگتی تھی۔بادشاہ رات دن خدا سے دعا مانگتا رہا کہ اُسے ایک پھول جیسا فرزند عطا ہو۔ بالآخر خدا نے اُس کی دعا قبول کی اور برسوں بعد ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوا۔ پورا محل خوشیوں سے جگمگا اٹھا، رعایا نے جشن منایا اور بچے کا نام بے نظیر رکھا گیا۔ یہی شہزادہ آگے چل کر داستان کا مرکزی کردار بنتا ہے۔

7. میر حسن بطور مثنوی نگار کن خوبیوں کے لیے مشہور ہیں؟

جوابمیر حسن اردو کے سب سے بڑے مثنوی نگار شمار ہوتے ہیں۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی اُن کی زبان کی سادگی، شیرینی اور روانی ہے۔ اُنھوں نے خالص ہندوستانی ماحول، رسم و رواج اور محاوروں کو اپنی مثنوی میں اس مہارت سے سمویا کہ پڑھنے والے کو منظر آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگتا ہے۔اُن کی مثنوی ‘سحر البیان’ میں قصہ گوئی کا فن اپنے عروج پر ہے؛ واقعات کی ترتیب، کرداروں کی پیشکش اور جذبات کی عکاسی نہایت فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ‘سحر البیان’ کو اردو کی بہترین مثنویوں میں شمار کیا جاتا ہے اور میر حسن کو اِس صنف کا امام مانا جاتا ہے۔

8. اِس سبق سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواباِس سبق سے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دولت اور ظاہری شان و شوکت سے سچی خوشی نہیں ملتی؛ انسان کی اصل خوشی محبت اور اپنوں سے جڑی ہوتی ہے۔ بادشاہ کے پاس سب کچھ تھا، مگر اولاد نہ ہونے سے اُس کا دل ہمیشہ اداس رہتا تھا۔دوسرا سبق صبر اور دعا کا ہے — بادشاہ نے مایوس ہونے کے بجائے رات دن خدا سے دعا کی اور بالآخر اُس کی مراد پوری ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچے دل سے کی گئی دعا اور صبر کا پھل ضرور ملتا ہے۔ ساتھ ہی یہ آغاز ہمیں مثنوی کی قصہ گوئی کے فن سے بھی روشناس کراتا ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion–Reason)

1. یہ سبق کس صنفِ سخن سے تعلق رکھتا ہے؟

(الف) غزل

(ب) مثنوی

(ج) قصیدہ

(د) مرثیہ

جواب(ب) مثنوی۔

2. ‘سحر البیان’ کے شاعر کون ہیں؟

(الف) میر حسن

(ب) میر تقی میر

(ج) دیا شنکر نسیم

(د) مرزا غالب

جواب(الف) میر حسن۔

3. مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے کیسے ہوتے ہیں؟

(الف) بے قافیہ

(ب) ہم قافیہ

(ج) مختلف بحروں میں

(د) صرف پہلا مصرع مقفّیٰ

جواب(ب) ہم قافیہ۔

4. بادشاہ کس بات سے پریشان رہتا تھا؟

(الف) دولت کی کمی

(ب) دشمن کے حملے

(ج) اولاد نہ ہونے

(د) بیماری

جواب(ج) اولاد نہ ہونے سے۔

5. بادشاہ نے اپنی مشکل کے حل کے لیے کیا کیا؟

(الف) جنگ لڑی

(ب) خدا سے دعا مانگی

(ج) سفر پر گیا

(د) خزانہ بانٹا

جواب(ب) خدا سے دعا مانگی۔

6. شعر میں ‘چمن’ کس کے لیے استعارہ ہے؟

(الف) باغ

(ب) اولاد / فرزند

(ج) محل

(د) خزانہ

جواب(ب) اولاد / فرزند۔

7. شہزادے کا نام کیا رکھا گیا؟

(الف) بدرِ منیر

(ب) بے نظیر

(ج) فیروز

(د) ماہ رُخ

جواب(ب) بے نظیر۔

8. میر حسن کا انتقال کس سن میں ہوا؟

(الف) 1740ء

(ب) 1786ء

(ج) 1810ء

(د) 1700ء

جواب(ب) 1786ء۔

9. ‘سحر البیان’ کس قسم کی مثنوی ہے؟

(الف) رزمیہ (جنگ)

(ب) بزمیہ (محبت)

(ج) مذہبی

(د) طنزیہ

جواب(ب) بزمیہ (محبت کی) مثنوی۔

10. ‘سراپا’ کا معنی ہے—

(الف) صرف چہرہ

(ب) سر سے پاؤں تک، پوری طرح

(ج) آدھا

(د) خالی

جواب(ب) سر سے پاؤں تک، پوری طرح۔
جوابی کنجی: 1-(ب)، 2-(الف)، 3-(ب)، 4-(ج)، 5-(ب)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) — ذیل میں تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل منتخب کیجیے: (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): بادشاہ دولت کے باوجود غمزدہ رہتا تھا۔

وجہ (R): اُس کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے دنیا اُسے سونی لگتی تھی۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

2. تصدیق (A): مثنوی میں طویل قصے روانی سے بیان ہو سکتے ہیں۔

وجہ (R): مثنوی میں ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے اور دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

3. تصدیق (A): شعر میں ‘چمن’ سے مراد باغ ہے۔

وجہ (R): یہاں ‘چمن’ اولاد کے لیے استعارے کے طور پر آیا ہے۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے — یہاں ‘چمن’ اولاد (فرزند) کا استعارہ ہے، نہ کہ صرف باغ۔

4. تصدیق (A): ‘سحر البیان’ میر حسن کی مشہور تصنیف ہے۔

وجہ (R): اِسے اردو کی بہترین بزمیہ مثنویوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

5. تصدیق (A): شہزادے کی پیدائش پر جشن منایا گیا۔

وجہ (R): برسوں کی دعا کے بعد بادشاہ کو اولاد نصیب ہوئی، جو بے حد خوشی کی بات تھی۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • مثنوی کی تعریف (دونوں مصرعے ہم قافیہ، ہر شعر کا قافیہ الگ) زبانی یاد رکھیے — یہ سوال اکثر آتا ہے۔
  • میر حسن کا سنِ پیدائش (1740ء) و سنِ وفات (1786ء) اور ‘سحر البیان’ کا تعارف ضرور یاد کریں۔
  • منتخب اشعار اور مشکل الفاظ (سراپا، حشم، چمن، فرزند، دلربا، رعایا) کے معنی یاد رکھیے۔
  • ‘پورے جملوں میں جواب لکھیے’ والے سوالوں میں مکمل جملہ لکھیں، صرف ایک لفظ نہیں۔
  • خلاصے میں واقعات کی ترتیب (بے اولادی → دعا → بیٹے کی پیدائش → جشن) درست رکھیں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • مثنوی کو غزل یا قصیدہ سمجھ لینا — یہ الگ صنف ہے۔
  • ‘چمن’ کو لفظی معنی (باغ) میں لینا، جبکہ یہاں یہ اولاد کا استعارہ ہے۔
  • میر حسن کو میر تقی میر سمجھ لینا — دونوں الگ شاعر ہیں۔
  • اشعار لکھتے وقت قافیہ اور املا کی بے احتیاطی۔
  • ‘سحر البیان’ کو رزمیہ (جنگی) مثنوی لکھ دینا — یہ بزمیہ (محبت کی) مثنوی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

یہ سبق کس صنف سے ہے اور اس کے شاعر کون ہیں؟

یہ سبق ‘مثنوی’ کی صنف سے ہے۔ یہ میر حسن (1740–1786) کی مشہور مثنوی ‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان سے لیا گیا ہے۔

مثنوی اور غزل میں کیا فرق ہے؟

مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے، اس لیے اِس میں طویل قصہ بیان ہو سکتا ہے۔ غزل میں مطلع کے بعد ہر شعر کا دوسرا مصرع ایک ہی قافیہ و ردیف پر ہوتا ہے اور عموماً ہر شعر الگ مضمون رکھتا ہے۔

آغازِ داستان میں بادشاہ کی کیا کہانی بیان ہوئی ہے؟

ایک شان و شوکت والے بادشاہ کے پاس سب کچھ تھا مگر اولاد نہ تھی۔ وہ رات دن خدا سے دعا مانگتا رہا اور بالآخر اُس کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا (بے نظیر) پیدا ہوا، جس کی خوشی میں جشن منایا گیا۔ یہیں سے اصل داستان شروع ہوتی ہے۔

اشعار، سوالات اور مشق کے عنوانات NCERT ‘جمنا’ کے رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کی جانب سے اصل اور مستند طور پر تیار کیے گئے ہیں۔

Scroll to Top