Class 9 Urdu Jamuna Chapter 14 Masnavi: Aaghaz-e-Dastan Solutions (NCERT 2026–27) – مثنوی: آغازِ داستان (سحر البیان)
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 14 ‘Masnavi — Aaghaz-e-Dastan’, the opening of the famous masnavi Sehr-ul-Bayan by Mir Hasan. It includes the selected اشعار (couplets) reproduced from the textbook, an original خلاصہ (summary), a لغات و معنی word-list, تشریح (explanation), and exam-ready answers to every سوال / مشق of the lesson, with extra questions, MCQs, Assertion–Reason and FAQs.
یہ صفحہ کلاس نہم اردو ‘جمنا’ کے سبق ‘مثنوی: آغازِ داستان’ (میر حسن کی ‘سحر البیان’ کا آغاز) کا مکمل حل پیش کرتا ہے — اشعار، خلاصہ، معنی، سوال و جواب، تشریح، MCQs اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے ساتھ۔
- مثنوی کیا ہے؟ (Genre note)
- شاعر کا تعارف (About Mir Hasan)
- منتخب اشعار (Selected couplets)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح (Explanation)
- سوالات و مشق (Exercise)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق-وجہ (A–R)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
مثنوی کیا ہے؟ (Genre note)
مثنوی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے مثنوی میں کوئی بھی طویل قصہ یا داستان نہایت روانی اور تسلسل کے ساتھ بیان کی جا سکتی ہے، اس لیے رزمیہ (جنگ) اور بزمیہ (محبت و عشق) کہانیاں عام طور پر مثنوی ہی میں لکھی گئیں۔ اردو میں میر حسن کی ‘سحر البیان’، دیا شنکر نسیم کی ‘گلزارِ نسیم’ اور مولانا حالی کی ‘مسدّس’ سے قبل کی مثنویاں اس صنف کی نمائندہ مثالیں ہیں۔ زیرِ مطالعہ سبق میر حسن کی مشہور مثنوی ‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان سے لیا گیا ہے۔
شاعر کا تعارف (About the Poet — Mir Hasan)
میر غلام حسن، جو میر حسن کے نام سے مشہور ہیں، اردو کے بلند پایہ شاعر اور مثنوی نگار تھے۔ آپ کی پیدائش 1740ء کے لگ بھگ دہلی میں ہوئی اور وفات 1786ء میں فیض آباد (لکھنؤ) میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے؛ آپ کے والد میر ضاحک بھی شاعر تھے۔ دہلی کی سیاسی بدامنی اور اجڑتی ہوئی فضا کے باعث آپ کا خاندان فیض آباد و لکھنؤ منتقل ہو گیا، جہاں آپ نے اپنی شاعری کو عروج تک پہنچایا۔ میر حسن کی شہرت کا سب سے بڑا سہارا ان کی مثنوی ‘سحر البیان’ ہے، جسے اردو کی بہترین مثنویوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں شہزادہ بے نظیر اور بدرِ منیر کی محبت کی داستان نہایت دلکش، رواں اور خالص ہندوستانی رنگ میں بیان کی گئی ہے۔ آپ کی زبان سادہ، شیریں اور محاوروں سے بھرپور ہے۔
منتخب اشعار (Selected couplets)
(NCERT جمنا کے رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کردہ آغازِ داستان کے اشعار۔ سکین کی کم وضاحت کے باعث چند الفاظ کی املا میں معمولی فرق ممکن ہے؛ متن میر حسن کی ‘سحر البیان’ سے مطابقت رکھتا ہے۔)
سراپا حشم، جاہ و حشمت پناہ
نہ تھی اولاد سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی
دلِ تنگ تھا اور دنیا تھی گنجی
دعا مانگتا تھا گھڑی رات دن
کہ یا رب مجھے اِک دکھا دے چمن
خدا نے سنی آخرش اُس کی بات
ہوا ایک بیٹا، خوشی کی وہ رات
بہت دن کے بعد ایک فرزند تھا
وہ نازوں میں پالا ہوا دلربا
— میر حسن، ‘سحر البیان’ (آغازِ داستان)
خلاصہ (Summary)
‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان میں میر حسن قصے کا تعارف نہایت دلکش انداز میں کراتے ہیں۔ کسی شہر میں ایک بڑا، شان و شوکت والا بادشاہ رہتا تھا۔ ظاہری دولت، حشم و خدم اور سلطنت کی ہر نعمت اُسے میسر تھی، مگر ایک بات اُسے بے چین رکھتی تھی — اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اولاد کے بغیر اُس کا دل تنگ رہتا اور ساری دنیا اُسے سونی اور اندھیری محسوس ہوتی۔ وہ رات دن خدا کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگتا کہ اُسے ایک پھول جیسا فرزند عطا ہو جس سے اُس کا آنگن اور زندگی کا چمن آباد ہو جائے۔
بالآخر خدا نے اُس کی دعا قبول کی اور برسوں کی آرزو کے بعد بادشاہ کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوا۔ یہ وہ رات تھی جب محل خوشیوں سے جگمگا اٹھا۔ بادشاہ اور رعایا دونوں نے بے حد خوشی منائی، خیرات تقسیم ہوئی اور جشن کا سماں بندھا۔ شہزادے کا نام بے نظیر رکھا گیا۔ وہ بچہ ناز و نعم میں پالا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حُسن، عقل اور ہنر میں اپنی مثال آپ بن گیا۔ بادشاہ نے اُس کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام کیا۔ اسی شہزادے کے گرد آگے چل کر بدرِ منیر سے محبت کی پوری داستان گردش کرتی ہے۔ یوں یہ آغازِ داستان قاری کے دل میں قصے کے تجسس کا بیج بو دیتا ہے اور آنے والے واقعات کے لیے فضا تیار کر دیتا ہے۔
हिन्दी सार (gist): किसी शहर में एक धनवान बादशाह था जिसकी कोई संतान न थी; वह रात-दिन ईश्वर से दुआ माँगता रहा। अंततः उसके यहाँ एक सुंदर बेटा (बे-नज़ीर) पैदा हुआ, जिसकी ख़ुशी में पूरा महल जगमगा उठा — यहीं से दास्तान शुरू होती है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| سراپا | सिर से पाँव तक, पूरी तरह | From head to foot; wholly |
| حشم | नौकर-चाकर, सेवक-दल | Retinue; attendants |
| جاہ و حشمت | शान-शौकत, वैभव | Pomp and majesty |
| حشمت پناہ | वैभव का आश्रय, अत्यंत प्रतापी | Refuge of grandeur; majestic |
| اولاد | संतान | Offspring; children |
| آنکھیں ٹھنڈی ہونا | आँखें ठंडी होना, सुख मिलना | To be gladdened/contented |
| دلِ تنگ | उदास/संकुचित मन | Sorrowful, anxious heart |
| گنجی / سونی | उजाड़, सूनी | Empty; desolate |
| دعا مانگنا | प्रार्थना करना | To pray; to supplicate |
| یا رب | हे ईश्वर! | O Lord! |
| چمن | बाग़, उपवन (यहाँ संतान का रूपक) | Garden (here, child/joy) |
| آخرش | अंततः, आख़िरकार | At last; finally |
| فرزند | पुत्र, बेटा | Son |
| نازوں میں پالنا | लाड़-प्यार में पालना | To rear with great fondness |
| دلربا | मनमोहक, दिल लुभाने वाला | Charming; captivating |
| بے نظیر | अनुपम, बेमिसाल (शहज़ादे का नाम) | Peerless (the prince’s name) |
| رعایا | प्रजा | Subjects; people |
| جشن | उत्सव, समारोह | Celebration; festivity |
| حُسن | सौंदर्य | Beauty |
| ہنر | कौशल, गुण | Skill; talent |
تشریح (Explanation of key couplets)
پہلا شعر: ‘کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ / سراپا حشم، جاہ و حشمت پناہ’ — شاعر داستان کا آغاز روایتی انداز میں کرتا ہے۔ ایک نامعلوم شہر میں ایک ایسا بادشاہ تھا جو سر سے پاؤں تک شان و شوکت اور وجاہت کا پیکر تھا۔ یہاں ‘سراپا’ اور ‘حشمت پناہ’ جیسے الفاظ سے بادشاہ کے جاہ و جلال کی پوری تصویر کھنچ جاتی ہے۔
دوسرا شعر: ‘نہ تھی اولاد سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی / دلِ تنگ تھا اور دنیا تھی سونی’ — ساری دولت اور سلطنت کے باوجود بادشاہ کے دل میں ایک خلا تھا۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نہ اُس کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور نہ دل کو سکون تھا؛ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا اُسے سونی لگتی تھی۔ یہ شعر دولت اور حقیقی خوشی کے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔
تیسرا و چوتھا شعر: بادشاہ رات دن خدا سے دعا کرتا ہے کہ اُسے ایک ‘چمن’ یعنی پھول جیسا فرزند عطا ہو۔ بالآخر خدا اُس کی دعا قبول کرتا ہے اور برسوں بعد اُس کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ ‘چمن’ کا استعارہ اولاد کے لیے نہایت لطیف اور بامعنی ہے — جیسے باغ کے بغیر زمین ویران ہوتی ہے، ویسے ہی اولاد کے بغیر گھر سونا ہوتا ہے۔ یہی شعر داستان کے اصل کردار (شہزادہ بے نظیر) کے ظہور کی بنیاد رکھتے ہیں۔
سوالات و مشق (Exercise)
(کتاب کی اپنی مشقوں کے عنوانات: سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، لغات و معنی، عملی کام۔ سوالات رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کیے گئے ہیں؛ کم وضاحت کے باعث چند الفاظ کی املا میں معمولی فرق ممکن ہے۔)
سوچیے اور بتائیے
(i) بادشاہ کس بات سے غمزدہ اور پریشان رہتا تھا؟
(ii) بادشاہ نے اپنی مشکل کے حل کے لیے کیا کیا؟
(iii) خدا نے بادشاہ کی دعا کیسے پوری کی؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
(الف) دیے گئے اقتباس کو پڑھ کر نیچے دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے۔ (یہ اقتباس مثنوی کے آغازِ داستان سے متعلق ہے، جس میں بادشاہ کی بے اولادی، اُس کی دعا اور بیٹے کی پیدائش کا ذکر ہے۔)
(ب) درج ذیل الفاظ کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے: سراپا، چمن، رعایا، فرزند، دلربا۔
(ج) صنف اور شاعر: درج ذیل کے بارے میں لکھیے — (الف) صنف (ب) شاعر۔
لغات و معنی (الفاظ کا درست معنی سے جوڑ)
درج ذیل الفاظ کو اُن کے مناسب معنی سے ملائیے: سیاہ، صبح، بحر، شام، نگیں۔
عملی کام
میر حسن کی مثنوی ‘سحر البیان’ کے کسی اور حصے کے دس اشعار اپنی کاپی میں خوش خط لکھیے۔
نوٹ: کتاب کے آخر میں دیا گیا ‘معلوماتی مطالعہ’ کا حصہ اردو ہندسوں (مفرد، عشرات، صدہا، ہزار وغیرہ کی گنتی) سے متعلق ایک معلوماتی ضمیمہ ہے، جو اِس سبق کا حصہ نہیں بلکہ عمومی معلومات کے لیے ہے۔
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
1. مثنوی کسے کہتے ہیں؟
2. ‘سحر البیان’ کس کی تصنیف ہے اور یہ کس قسم کی داستان ہے؟
3. بادشاہ کی زندگی میں دولت کے باوجود کیا کمی تھی؟
4. شعر میں ‘چمن’ کا لفظ کس کے لیے استعارے کے طور پر آیا ہے؟
5. شہزادے کی پیدائش پر کیا ہوا؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
6. ‘آغازِ داستان’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
7. میر حسن بطور مثنوی نگار کن خوبیوں کے لیے مشہور ہیں؟
8. اِس سبق سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion–Reason)
1. یہ سبق کس صنفِ سخن سے تعلق رکھتا ہے؟
(الف) غزل
(ب) مثنوی
(ج) قصیدہ
(د) مرثیہ
2. ‘سحر البیان’ کے شاعر کون ہیں؟
(الف) میر حسن
(ب) میر تقی میر
(ج) دیا شنکر نسیم
(د) مرزا غالب
3. مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے کیسے ہوتے ہیں؟
(الف) بے قافیہ
(ب) ہم قافیہ
(ج) مختلف بحروں میں
(د) صرف پہلا مصرع مقفّیٰ
4. بادشاہ کس بات سے پریشان رہتا تھا؟
(الف) دولت کی کمی
(ب) دشمن کے حملے
(ج) اولاد نہ ہونے
(د) بیماری
5. بادشاہ نے اپنی مشکل کے حل کے لیے کیا کیا؟
(الف) جنگ لڑی
(ب) خدا سے دعا مانگی
(ج) سفر پر گیا
(د) خزانہ بانٹا
6. شعر میں ‘چمن’ کس کے لیے استعارہ ہے؟
(الف) باغ
(ب) اولاد / فرزند
(ج) محل
(د) خزانہ
7. شہزادے کا نام کیا رکھا گیا؟
(الف) بدرِ منیر
(ب) بے نظیر
(ج) فیروز
(د) ماہ رُخ
8. میر حسن کا انتقال کس سن میں ہوا؟
(الف) 1740ء
(ب) 1786ء
(ج) 1810ء
(د) 1700ء
9. ‘سحر البیان’ کس قسم کی مثنوی ہے؟
(الف) رزمیہ (جنگ)
(ب) بزمیہ (محبت)
(ج) مذہبی
(د) طنزیہ
10. ‘سراپا’ کا معنی ہے—
(الف) صرف چہرہ
(ب) سر سے پاؤں تک، پوری طرح
(ج) آدھا
(د) خالی
تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) — ذیل میں تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل منتخب کیجیے: (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
1. تصدیق (A): بادشاہ دولت کے باوجود غمزدہ رہتا تھا۔
وجہ (R): اُس کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے دنیا اُسے سونی لگتی تھی۔
2. تصدیق (A): مثنوی میں طویل قصے روانی سے بیان ہو سکتے ہیں۔
وجہ (R): مثنوی میں ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے اور دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
3. تصدیق (A): شعر میں ‘چمن’ سے مراد باغ ہے۔
وجہ (R): یہاں ‘چمن’ اولاد کے لیے استعارے کے طور پر آیا ہے۔
4. تصدیق (A): ‘سحر البیان’ میر حسن کی مشہور تصنیف ہے۔
وجہ (R): اِسے اردو کی بہترین بزمیہ مثنویوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
5. تصدیق (A): شہزادے کی پیدائش پر جشن منایا گیا۔
وجہ (R): برسوں کی دعا کے بعد بادشاہ کو اولاد نصیب ہوئی، جو بے حد خوشی کی بات تھی۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- مثنوی کی تعریف (دونوں مصرعے ہم قافیہ، ہر شعر کا قافیہ الگ) زبانی یاد رکھیے — یہ سوال اکثر آتا ہے۔
- میر حسن کا سنِ پیدائش (1740ء) و سنِ وفات (1786ء) اور ‘سحر البیان’ کا تعارف ضرور یاد کریں۔
- منتخب اشعار اور مشکل الفاظ (سراپا، حشم، چمن، فرزند، دلربا، رعایا) کے معنی یاد رکھیے۔
- ‘پورے جملوں میں جواب لکھیے’ والے سوالوں میں مکمل جملہ لکھیں، صرف ایک لفظ نہیں۔
- خلاصے میں واقعات کی ترتیب (بے اولادی → دعا → بیٹے کی پیدائش → جشن) درست رکھیں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- مثنوی کو غزل یا قصیدہ سمجھ لینا — یہ الگ صنف ہے۔
- ‘چمن’ کو لفظی معنی (باغ) میں لینا، جبکہ یہاں یہ اولاد کا استعارہ ہے۔
- میر حسن کو میر تقی میر سمجھ لینا — دونوں الگ شاعر ہیں۔
- اشعار لکھتے وقت قافیہ اور املا کی بے احتیاطی۔
- ‘سحر البیان’ کو رزمیہ (جنگی) مثنوی لکھ دینا — یہ بزمیہ (محبت کی) مثنوی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
یہ سبق کس صنف سے ہے اور اس کے شاعر کون ہیں؟
یہ سبق ‘مثنوی’ کی صنف سے ہے۔ یہ میر حسن (1740–1786) کی مشہور مثنوی ‘سحر البیان’ کے آغازِ داستان سے لیا گیا ہے۔
مثنوی اور غزل میں کیا فرق ہے؟
مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے، اس لیے اِس میں طویل قصہ بیان ہو سکتا ہے۔ غزل میں مطلع کے بعد ہر شعر کا دوسرا مصرع ایک ہی قافیہ و ردیف پر ہوتا ہے اور عموماً ہر شعر الگ مضمون رکھتا ہے۔
آغازِ داستان میں بادشاہ کی کیا کہانی بیان ہوئی ہے؟
ایک شان و شوکت والے بادشاہ کے پاس سب کچھ تھا مگر اولاد نہ تھی۔ وہ رات دن خدا سے دعا مانگتا رہا اور بالآخر اُس کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا (بے نظیر) پیدا ہوا، جس کی خوشی میں جشن منایا گیا۔ یہیں سے اصل داستان شروع ہوتی ہے۔
اشعار، سوالات اور مشق کے عنوانات NCERT ‘جمنا’ کے رینڈر کیے گئے صفحات سے اخذ کیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کی جانب سے اصل اور مستند طور پر تیار کیے گئے ہیں۔
