Class 9 Urdu Jamuna Chapter 15 Qitaat Solutions (NCERT 2026–27) – قطعات

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 15 ‘Qitaat’ (قطعات) – four short, reflective qit’as by the poet Naresh Kumar Shad (نریش کمار شاد) – with poet intro, the اشعار reproduced verbatim, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، گفتگو کیجیے، تخلیقی اظہار), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے سبق ’قطعات‘ (نریش کمار شاد) کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 15 صنف: قطعہ (Qit’a) شاعر: نریش کمار شاد (1927–1969) Session: 2026–27

سبق کا تعارف (Chapter Overview)

’قطعات‘ اردو کے معروف شاعر نریش کمار شاد کے چار مختصر مگر پُرمعنی قطعے ہیں۔ قطعہ ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں کم از کم دو شعر کسی ایک موضوع یا خیال پر مرتب ہوتے ہیں اور پہلے شعر کا دوسرا مصرع بقیہ مصرعوں سے ہم قافیہ ہوتا ہے۔ ان چاروں قطعوں میں شاعر نے علم و آگہی، شاعر کی گہری نظر، زندگی کی نزاکت اور حُسنِ فطرت جیسے موضوعات کو نہایت سادہ اور دلنشین انداز میں پیش کیا ہے۔ پہلے قطعے میں یہ پیغام ہے کہ اچھا خیال اُسی وقت سود مند ہوتا ہے جب اُسے عمل میں ڈھالا جائے۔ دوسرے قطعے میں شاعرانہ بصیرت کی وسعت بیان ہوئی ہے۔ تیسرے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دے کر احتیاط اور توازن کی تلقین کی گئی ہے، اور چوتھے قطعے میں محبوب کے حُسن کو جمنا کی نرم لہروں میں جھلملاتے چاند کے عکس سے تشبیہ دی گئی ہے۔

شاعر کا تعارف – نریش کمار شاد (1927–1969)

نریش کمار شاد بیسویں صدی کے ایک منفرد اور خوش فکر اردو شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1927ء میں ہوئی اور 1969ء میں اِس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ شاد اردو غزل اور قطعہ نگاری میں اپنے سادہ، رواں اور تہ دار اندازِ بیان کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں زندگی کے عام مشاہدات، فطرت کے مناظر اور انسانی جذبات کو نہایت لطیف پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ مشکل بات کو آسان اور دلنشین زبان میں کہنے کا ہنر رکھتے تھے، اِسی لیے ان کے قطعے اور اشعار قاری کے دل میں اُتر جاتے ہیں۔ علم، آگہی، حُسنِ فطرت اور زندگی کی نزاکت ان کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں۔ ان کی شاعری نئی نسل کو سوچنے، سمجھنے اور زندگی کو احتیاط و توازن کے ساتھ گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی قطعہ نگاری ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

متن – قطعات

(چاروں قطعے NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)

(1)
ذہن کا کوئی نور پاش خیال
جب تک اعمال میں نہیں ڈھلتا
زندگی کے بجھے ہوئے دل میں
آگہی کا دیا نہیں جلتا

(2)
ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے
حُسنِ فطرت کو تول سکتی ہے
دیکھ سکتی ہے نکہتِ گُل کو
چاند، تاروں سے بول سکتی ہے

(3)
کھیل بن جائے خود وجود ترا
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھیل
زندگی کانچ کا کھلونا ہے
کھیلنا ہے تو احتیاط سے کھیل

(4)
شبنمی پیرہن میں رہ رہ کر
یوں ترا روپ مسکراتا ہے
جیسے جمنا کی نرم لہروں میں
چاند کا عکس جھلملاتا ہے
— نریش کمار شاد

خلاصہ (Summary)

اِس سبق میں نریش کمار شاد کے چار قطعے شامل ہیں جن میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہری اور حکیمانہ باتیں کہی گئی ہیں۔ پہلے قطعے میں شاعر کہتا ہے کہ ذہن میں آنے والا کتنا ہی اچھا اور روشن خیال کیوں نہ ہو، جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے تب تک انسان کو حقیقی بصیرت اور آگہی حاصل نہیں ہوتی۔ یعنی صرف اچھا سوچنا کافی نہیں، اُس پر عمل بھی ضروری ہے، تبھی زندگی کے بجھے ہوئے دل میں علم و آگہی کا چراغ روشن ہوتا ہے۔

دوسرے قطعے میں شاعر، شاعرانہ بصیرت کی وسعت کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک شاعر کی آنکھ اِتنی گہری اور حساس ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے فطرت کے حُسن کو تول سکتی ہے، پھول کی خوشبو کو دیکھ سکتی ہے اور چاند تاروں سے باتیں کر سکتی ہے۔ یہاں شاعر کے تخیل اور مشاہدے کی غیر معمولی قوت کا اظہار ہے۔ تیسرے قطعے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی گئی ہے، جو نہایت نازک اور زود شکست ہے۔ شاعر تلقین کرتا ہے کہ انسان کو اپنے غم اور خوشی دونوں میں توازن رکھنا چاہیے اور زندگی کو احتیاط کے ساتھ گزارنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بے احتیاطی سے یہ نازک کھلونا ٹوٹ جائے۔

چوتھے قطعے میں شاعر نے محبوب کے حُسن کی تعریف کی ہے۔ شبنم کے رنگ کے سفید چمکدار لباس میں محبوب کا روپ یوں مسکراتا اور دمکتا ہوا نظر آتا ہے جیسے جمنا ندی کی نرم اور ہلکی لہروں میں چاند کا عکس جھلمل جھلمل کرتا ہے۔ یوں ان چاروں قطعوں کے ذریعے شاعر نے علم پر عمل، شاعرانہ بصیرت، زندگی کی نزاکت اور حُسنِ فطرت جیسے خوبصورت موضوعات کو مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

Hindi gist: इन चार क़ितओं में नरेश कुमार शाद कहते हैं — अच्छा विचार तभी सार्थक है जब उस पर अमल हो; शायर की आँख फ़ितरत के हुस्न को परख लेती है; ज़िंदगी काँच के खिलौने जैसी नाज़ुक है, इसे एहतियात से जीना चाहिए; और महबूब का रूप जमुना की नरम लहरों में झिलमिलाते चाँद के अक्स जैसा है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظहिन्दी अर्थEnglish meaning
نور پاشनूर/रौशनी बिखेरने वालाLight-spreading, luminous
خیالविचार, सोचThought, idea
اعمالकर्म, काम (अमल का बहुवचन)Deeds, actions
ڈھلناरूप लेना, बदल जानाTo be moulded / cast into
آگہیबसीरत, वाक़फ़ियत, ज्ञानInsight, awareness, knowledge
دیاदीपक, चराग़Lamp, earthen lamp
حُسنِ فطرتप्रकृति का सौंदर्यThe beauty of nature
تولناपरखना, अंदाज़ा लगानाTo weigh / assess
نکہتِ گُلफूल की ख़ुशबूThe fragrance of a flower
وجودहस्ती, अस्तित्वExistence, being
نشاطख़ुशी, उल्लासJoy, delight
احتیاطसावधानीCaution, care
شبنمی پیرہنशबनम के रंग का सफ़ेद चमकदार लिबासA dewy/white shining garment
روپसूरत, सौंदर्यForm, beauty, appearance
جمناयमुना नदीThe river Yamuna (Jamuna)
نرم لہریںहल्की, मुलायम लहरेंGentle, soft waves
عکسपरछाईं, प्रतिबिंबReflection, image
جھلملاناझिलमिलाना, टिमटिमानाTo shimmer / glimmer

تشریح (Explanation of the Qit’as)

قطعہ (1) – ذہن کا کوئی نور پاش خیال…

اِس قطعے میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ صرف اچھا اور روشن خیال ذہن میں آ جانا کافی نہیں ہوتا۔ خیال خواہ کتنا ہی نور پاش (روشنی بکھیرنے والا) کیوں نہ ہو، جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے، اُس سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ جیسے بجھے ہوئے چراغ سے روشنی نہیں ملتی، اِسی طرح زندگی کے مردہ اور بجھے ہوئے دل میں آگہی کا چراغ تب تک روشن نہیں ہوتا جب تک علم کو عمل کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ علم پر عمل ہی اصل بصیرت اور کامیابی کی کنجی ہے۔

قطعہ (2) – ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے…

اِس قطعے میں شاعر، شاعر کی آنکھ یعنی شاعرانہ بصیرت اور تخیل کی غیر معمولی قوت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کی نظر اِتنی گہری اور حساس ہوتی ہے کہ وہ فطرت کے حُسن کو پرکھ اور تول سکتی ہے، پھول کی خوشبو کو محسوس کرنے کے بجائے گویا دیکھ بھی سکتی ہے، اور اپنے تخیل کے زور پر چاند اور تاروں سے باتیں تک کر سکتی ہے۔ یہ سب شاعر کے اِس مشاہدے اور تخیل کی وسعت کی طرف اشارہ ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ شاعر کی نگاہ کائنات کے پوشیدہ حُسن کو دیکھ اور بیان کر سکتی ہے۔

قطعہ (3) – کھیل بن جائے خود وجود ترا…

اِس قطعے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی گئی ہے، جو نہایت نازک اور آسانی سے ٹوٹ جانے والا ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ انسان کو اپنے غم اور خوشی (نشاط) دونوں کے ساتھ اِس طرح نہ کھیلنا چاہیے کہ خود اُس کی اپنی ہستی ہی کھیل تماشا بن کر رہ جائے۔ زندگی چونکہ کانچ کے کھلونے کی طرح نازک ہے، اِس لیے اگر اِس کے ساتھ کھیلنا ہی ہے تو پوری احتیاط اور توازن کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ زندگی بہت قیمتی اور نازک ہے، اِسے احتیاط اور سنجیدگی سے گزارنا چاہیے۔

قطعہ (4) – شبنمی پیرہن میں رہ رہ کر…

اِس قطعے میں شاعر نے محبوب کے حُسن کی تعریف ایک نہایت لطیف تشبیہ کے ذریعے کی ہے۔ محبوب جب شبنم کے رنگ کا سفید چمکدار لباس پہنے ہوتا ہے تو اُس کا روپ یوں رہ رہ کر مسکراتا اور دمکتا ہوا نظر آتا ہے جیسے جمنا (یمنا) ندی کی نرم اور ہلکی لہروں میں چاند کا عکس جھلمل جھلمل کرتا ہے۔ شاعر نے محبوب کے سراپا کو جمنا کی لہروں میں چاند کے لرزتے ہوئے عکس سے تشبیہ دے کر اُس کی نزاکت، چمک اور دلکشی کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ محبوب کا حُسن لطیف، چمکدار اور دلفریب ہے۔

سوالات و مشق (Exercise)

سوچیے اور بتائیے

(i) آگہی کا چراغ کس طرح روشن ہوتا ہے؟

جوابآگہی کا چراغ اُسی وقت روشن ہوتا ہے جب انسان اپنے اچھے اور روشن خیالات کو صرف سوچنے تک محدود نہ رکھے بلکہ اُنھیں عمل میں ڈھال دے۔ شاعر کے مطابق جب تک کوئی نور پاش خیال اعمال میں نہیں ڈھلتا، زندگی کے بجھے ہوئے دل میں علم و آگہی کا دیا نہیں جلتا۔ گویا علم پر عمل ہی آگہی کے چراغ کو روشن کرتا ہے۔

(ii) شاعر کی آنکھ کا چاند تاروں سے بات کرنے سے کیا مراد ہے؟

جواباِس سے مراد شاعر کے تخیل اور مشاہدے کی غیر معمولی وسعت ہے۔ شاعر کی نگاہ اِتنی گہری اور حساس ہوتی ہے کہ وہ کائنات کے پوشیدہ حُسن کو محسوس کر لیتی ہے۔ ’چاند تاروں سے بات کرنا‘ اِس بات کی علامت ہے کہ شاعر اپنے تخیل کے زور پر فطرت کے بے جان مظاہر سے بھی رشتہ جوڑ لیتا ہے اور اُن کے حُسن کو لفظوں میں بیان کر دیتا ہے۔

(iii) زندگی کو کانچ کا کھلونا کیوں کہا گیا ہے؟

جوابزندگی کو کانچ کا کھلونا اِس لیے کہا گیا ہے کہ کانچ کا کھلونا بہت نازک اور زود شکست ہوتا ہے، ذرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اِسی طرح انسانی زندگی بھی نہایت نازک اور قیمتی ہے۔ شاعر اِس تشبیہ کے ذریعے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ زندگی کو احتیاط، توازن اور سنجیدگی کے ساتھ گزارنا چاہیے، ورنہ بے احتیاطی سے یہ نازک کھلونا ٹوٹ سکتا ہے۔

(iv) چاند کا عکس جھلملانے سے کیا مفہوم واضح ہوتا ہے؟

جوابچاند کا عکس جھلملانے سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ محبوب کا حُسن نہایت لطیف، چمکدار اور دلکش ہے۔ جس طرح جمنا کی نرم لہروں میں چاند کا عکس جھلمل جھلمل کر کے لرزتا اور دمکتا ہے، اُسی طرح شبنمی سفید لباس میں محبوب کا روپ بھی رہ رہ کر مسکراتا اور چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تشبیہ محبوب کے حُسن کی نزاکت اور دلفریبی کو اجاگر کرتی ہے۔

(v) جمنا کی لہروں کو نرم کیوں کہا گیا ہے؟

جوابجمنا کی لہروں کو نرم اِس لیے کہا گیا ہے کہ یہ لہریں ہلکی، ملائم اور آہستہ آہستہ بہنے والی ہیں۔ ایسی نرم اور پُرسکون لہروں ہی میں چاند کا عکس آرام سے، جھلمل کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اگر لہریں تیز اور تند ہوتیں تو عکس بکھر جاتا۔ لہٰذا ’نرم لہریں‘ کہہ کر شاعر نے محبوب کے حُسن کی لطافت اور سکون کے ماحول کو خوبصورتی سے ظاہر کیا ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

درج ذیل شعر کو پڑھیے:

کھیل بن جائے خود وجود ترا
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھیل

سوال: پہلے مصرعے میں ’کھیل‘ اسم ہے جس کا مطلب تماشا ہے، جب کہ دوسرے مصرعے میں ’کھیل‘ فعل کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس سے مراد کھیلنا ہے۔ نیچے دیے گئے لفظوں کو اپنے جملوں میں اِس طرح استعمال کیجیے کہ ایک مرتبہ یہ لفظ اسم کے طور پر آئے اور دوسری بار فعل کے طور پر۔

 لفظاسم کے طور پر (نمونہ جملہ)فعل کے طور پر (نمونہ جملہ)
i.ڈربچے کے دل میں امتحان کا ڈر بیٹھ گیا۔ (اسم)اندھیرے سے ڈر کر بچہ ماں سے لپٹ گیا۔ (فعل)
ii.مانگدلہن کی مانگ سندور سے سجی ہوئی تھی۔ (اسم)ضرورت پڑنے پر دوست سے مدد مانگ لینا۔ (فعل)
iii.رنگآسمان کا رنگ شام کو سرخ ہو گیا۔ (اسم)بچوں نے دیوار پر نیلا رنگ دیا۔ (فعل)
iv.دوڑمیدان میں سو میٹر کی دوڑ ہوئی۔ (اسم)گھنٹی بجتے ہی بچے باہر دوڑ گئے۔ (فعل)
v.ترپزخمی پرندے کی ترپ دیکھی نہ جاتی تھی۔ (اسم)درد سے مریض ساری رات ترپ تا رہا۔ (فعل)

گفتگو کیجیے

اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے اور معلوم کیجیے کہ آنکھ سے اور کیا کام لیا جا سکتا ہے؟

رہنمائییہ سرگرمی پر مبنی سوال ہے، اِسے اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر کے حل کیجیے۔ گفتگو کے دوران بتایا جا سکتا ہے کہ آنکھ صرف دیکھنے کے کام نہیں آتی بلکہ اِس سے بہت سے کام لیے جاتے ہیں، جیسے: اشارہ کرنا، محبت یا غصے کا اظہار کرنا، حسن و خوبصورتی کا لطف اٹھانا، علم و مطالعہ کرنا، خواب دیکھنا، آنسو بہا کر جذبات ظاہر کرنا، اور کسی کو سمجھانا یا متنبہ کرنا۔ شاعر کی آنکھ تو اِس سے بھی آگے بڑھ کر فطرت کے پوشیدہ حُسن کو دیکھ اور بیان کر لیتی ہے۔

تخلیقی اظہار

اِس سبق کے ایک قطعے میں کھیل، کھیلنا، کھلونا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِن الفاظ کا مصدر ’کھیل‘ ہے۔ کھیل سے اور بھی الفاظ بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر — کھیلنا، کھیل، کھلاڑی، کھلنڈر، کھلونا، کھلواڑ — اِن کا استعمال کرتے ہوئے ایک پیراگراف لکھیے۔

نمونہ پیراگرافکھیل انسانی زندگی کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ بچپن میں ہر بچہ کھلونوں سے کھیلتا ہے اور کھیل کود میں خوب دل لگاتا ہے۔ کچھ بچے کھلنڈرے ہوتے ہیں جنھیں دن بھر کھیلنا ہی اچھا لگتا ہے۔ جب یہی بچے بڑے ہو کر کسی کھیل میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو اچھے کھلاڑی بن جاتے ہیں اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ مگر کھیل کو محض کھلواڑ سمجھ کر پڑھائی سے غافل ہو جانا درست نہیں؛ کھیل اور پڑھائی دونوں میں توازن رکھنا چاہیے، تبھی زندگی کامیاب اور خوشگوار بنتی ہے۔

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر جوابات والے سوالات

1. قطعہ کسے کہتے ہیں؟

جوابقطعہ اردو شاعری کی ایک صنف ہے جس میں کم از کم دو شعر کسی ایک موضوع یا خیال پر مرتب ہوتے ہیں۔ اِس کے اشعار خیال کے اعتبار سے باہم مربوط ہوتے ہیں اور عموماً ایک ہی بحر اور قافیہ میں ہوتے ہیں۔

2. پہلے قطعے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

جوابپہلے قطعے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ صرف اچھا خیال کافی نہیں؛ جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے، انسان کو حقیقی آگہی اور بصیرت حاصل نہیں ہوتی۔ یعنی علم پر عمل ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔

3. شاعر نے زندگی کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے اور کیوں؟

جوابشاعر نے زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ کانچ کا کھلونا بہت نازک اور جلد ٹوٹ جانے والا ہوتا ہے۔ اِسی طرح زندگی بھی نازک اور قیمتی ہے، اِس لیے اِسے احتیاط سے گزارنا چاہیے۔

4. چوتھے قطعے میں محبوب کے حُسن کو کس منظر سے تشبیہ دی گئی ہے؟

جوابچوتھے قطعے میں محبوب کے شبنمی لباس میں مسکراتے روپ کو جمنا ندی کی نرم لہروں میں جھلملاتے چاند کے عکس سے تشبیہ دی گئی ہے، جس سے اُس کے حُسن کی نزاکت اور چمک ظاہر ہوتی ہے۔

5. ’نور پاش خیال‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب’نور پاش خیال‘ سے شاعر کی مراد ایسا روشن، اچھا اور رہنمائی کرنے والا خیال ہے جو روشنی بکھیرتا ہے، یعنی جو انسان کو سچائی اور بھلائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

طویل جوابات والے سوالات

6. پہلے قطعے میں شاعر نے علم اور عمل کے رشتے کو کس طرح واضح کیا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔

جوابپہلے قطعے میں شاعر نے علم اور عمل کے گہرے رشتے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ذہن میں آنے والا کتنا ہی روشن اور اچھا خیال کیوں نہ ہو، جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے، وہ بے کار رہتا ہے۔ صرف سوچنا یا اچھی باتیں جان لینا کافی نہیں؛ جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے، انسان کو حقیقی بصیرت حاصل نہیں ہوتی۔ شاعر نے آگہی کو ایک چراغ سے تشبیہ دی ہے جو زندگی کے بجھے ہوئے دل میں اُسی وقت روشن ہوتا ہے جب علم کے ساتھ عمل بھی شامل ہو۔ گویا قطعے کا پیغام یہ ہے کہ نظریہ اور عمل کے امتزاج ہی سے انسان کی زندگی روشن اور بامقصد بنتی ہے۔

7. تیسرے قطعے کی روشنی میں زندگی کے بارے میں شاعر کا پیغام بیان کیجیے۔

جوابتیسرے قطعے میں شاعر نے زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دے کر اِس کی نزاکت اور قدر و قیمت کو اجاگر کیا ہے۔ شاعر سمجھاتا ہے کہ انسان کو اپنے غم اور خوشی دونوں کے ساتھ اِس قدر بے احتیاطی سے نہیں کھیلنا چاہیے کہ خود اُس کی اپنی ہستی ہی کھیل تماشا بن جائے۔ زندگی چونکہ نازک ہے، اِس لیے اِسے توازن، سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ نہ تو غم میں اِس قدر ڈوب جانا چاہیے کہ زندگی بوجھ بن جائے اور نہ ہی خوشی میں اِتنا بہک جانا چاہیے کہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔ یہ قطعہ ہمیں زندگی کی قدر کرنے اور اعتدال کے ساتھ جینے کی تلقین کرتا ہے۔

8. اِن قطعات میں شاعر کے مشاہدے اور تخیل کی خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔

جوابنریش کمار شاد کے اِن قطعات میں اُن کے گہرے مشاہدے اور بلند تخیل کی واضح جھلک ملتی ہے۔ دوسرے قطعے میں وہ شاعرانہ بصیرت کو اِس قدر وسعت دیتے ہیں کہ شاعر کی آنکھ فطرت کے حُسن کو تول سکتی ہے، پھول کی خوشبو کو دیکھ سکتی ہے اور چاند تاروں سے باتیں کر سکتی ہے۔ چوتھے قطعے میں محبوب کے روپ کو جمنا کی لہروں میں جھلملاتے چاند کے عکس سے تشبیہ دے کر اُنھوں نے اپنی تخیلی قوت کا ثبوت دیا ہے۔ ان قطعوں کی زبان سادہ مگر تہ دار ہے اور تشبیہات نہایت لطیف اور دلنشین ہیں۔ یوں شاعر عام مناظر میں چھپے غیر معمولی حُسن کو دیکھ کر اُسے مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، جو اُس کی شاعری کا خاص امتیاز ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. اِن قطعات کے شاعر کون ہیں؟

(الف) منشی پریم چند

(ب) نریش کمار شاد

(ج) علامہ اقبال

(د) میر تقی میر

جواب(ب) نریش کمار شاد۔

2. اِس سبق کی صنفِ سخن کیا ہے؟

(الف) غزل

(ب) افسانہ

(ج) قطعہ

(د) مرثیہ

جواب(ج) قطعہ۔

3. ’نور پاش‘ کا مطلب ہے—

(الف) اندھیرا پھیلانے والا

(ب) روشنی بکھیرنے والا

(ج) خاموش رہنے والا

(د) تیز چلنے والا

جواب(ب) روشنی بکھیرنے والا۔

4. آگہی کا دیا کب نہیں جلتا؟

(الف) جب خیال اعمال میں نہ ڈھلے

(ب) جب رات ہو جائے

(ج) جب تیل ختم ہو جائے

(د) جب ہوا چلے

جواب(الف) جب خیال اعمال میں نہ ڈھلے۔

5. ’نکہتِ گُل‘ سے کیا مراد ہے؟

(الف) پھول کا رنگ

(ب) پھول کا کانٹا

(ج) پھول کی خوشبو

(د) پھول کی پتی

جواب(ج) پھول کی خوشبو۔

6. شاعر نے زندگی کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟

(الف) لوہے کی سلاخ

(ب) کانچ کا کھلونا

(ج) پتھر کا مجسمہ

(د) لکڑی کی گاڑی

جواب(ب) کانچ کا کھلونا۔

7. شاعر کے مطابق زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا چاہیے؟

(الف) لاپروائی سے

(ب) احتیاط سے

(ج) جلدی میں

(د) غصے سے

جواب(ب) احتیاط سے۔

8. چوتھے قطعے میں محبوب کا روپ کس میں جھلملاتا دکھایا گیا ہے؟

(الف) سمندر کی تند لہروں میں

(ب) جمنا کی نرم لہروں میں چاند کے عکس کی طرح

(ج) صحرا کی ریت میں

(د) بادلوں کی گرج میں

جواب(ب) جمنا کی نرم لہروں میں چاند کے عکس کی طرح۔

9. ’نشاط‘ کا مطلب کیا ہے؟

(الف) غم

(ب) خوشی

(ج) غصہ

(د) خوف

جواب(ب) خوشی۔

10. شاعر کی آنکھ کس کا حُسن تول سکتی ہے؟

(الف) حُسنِ فطرت

(ب) حُسنِ بازار

(ج) حُسنِ مکان

(د) حُسنِ تجارت

جواب(الف) حُسنِ فطرت۔
جوابی کلید: 1-(ب)، 2-(ج)، 3-(ب)، 4-(الف)، 5-(ج)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(الف)

تصدیق-وجہ (Assertion–Reason): نیچے ایک تصدیق (A) اور ایک وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست ہیں مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): آگہی کا دیا تب جلتا ہے جب خیال کو عمل میں ڈھالا جائے۔

وجہ (R): شاعر کے نزدیک صرف خیال کافی نہیں، اُس پر عمل ضروری ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

2. تصدیق (A): شاعر نے زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی ہے۔

وجہ (R): زندگی نہایت نازک اور جلد ٹوٹ جانے والی ہے، اِس لیے احتیاط ضروری ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

3. تصدیق (A): یہ سبق ایک افسانہ ہے۔

وجہ (R): اِس میں نثری انداز میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔

جواب(د) A غلط ہے—یہ سبق قطعات (شاعری) پر مشتمل ہے، افسانہ نہیں؛ جب کہ R اپنی جگہ افسانے کی درست تعریف بیان کرتی ہے۔

4. تصدیق (A): شاعر کی آنکھ چاند تاروں سے بات کر سکتی ہے۔

وجہ (R): شاعر کا تخیل اور مشاہدہ عام لوگوں سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

5. تصدیق (A): چوتھے قطعے میں جمنا کی لہروں کو نرم کہا گیا ہے۔

وجہ (R): نرم اور پُرسکون لہروں ہی میں چاند کا عکس جھلملاتا اچھا دکھائی دیتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • چاروں قطعے ترتیب سے یاد کریں – شعر مکمل کرنے اور تشریح کے سوال انھی سے آتے ہیں۔
  • ہر قطعے کا مرکزی خیال ایک جملے میں یاد رکھیں (علم پر عمل، شاعرانہ بصیرت، زندگی کی نزاکت، حُسنِ محبوب)۔
  • مشکل الفاظ (نور پاش، آگہی، نکہتِ گُل، نشاط، شبنمی پیرہن) کے معانی اردو، ہندی اور انگریزی میں یاد کریں۔
  • ’اسم‘ اور ’فعل‘ کے فرق کو جملوں کے ذریعے سمجھیں (ڈر، مانگ، رنگ، دوڑ، ترپ)۔
  • تشبیہات (کانچ کا کھلونا، چاند کا عکس) لازمی یاد رکھیں، اِن پر اکثر سوال آتے ہیں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • شاعر کا نام غلط لکھ دینا – صحیح نام ’نریش کمار شاد‘ ہے۔
  • صنف کو غزل یا نظم لکھ دینا – یہ سبق ’قطعات‘ پر مشتمل ہے۔
  • پہلے قطعے کا پیغام صرف ’علم‘ لکھنا – دراصل پیغام ’علم پر عمل‘ ہے۔
  • ’نکہتِ گُل‘ کو پھول کا رنگ سمجھ لینا – اِس کا مطلب پھول کی خوشبو ہے۔
  • اشعار لکھتے وقت قافیہ یا الفاظ بدل دینا – اشعار بعینہٖ یاد کر کے لکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کے پندرہویں سبق ’قطعات‘ کے شاعر کون ہیں؟

اِس سبق کے چاروں قطعوں کے شاعر نریش کمار شاد (1927–1969) ہیں، جو اپنی سادہ اور تہ دار قطعہ نگاری کے لیے مشہور ہیں۔

پہلے قطعے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

پہلے قطعے کا پیغام یہ ہے کہ کوئی بھی اچھا اور روشن خیال اُسی وقت سود مند ہوتا ہے جب اُسے عمل میں ڈھالا جائے؛ علم پر عمل ہی آگہی کا چراغ روشن کرتا ہے۔

شاعر نے زندگی کو کانچ کا کھلونا کیوں کہا ہے؟

کیونکہ کانچ کا کھلونا نہایت نازک اور جلد ٹوٹ جانے والا ہوتا ہے۔ شاعر اِس تشبیہ سے یہ سمجھاتا ہے کہ زندگی بھی نازک اور قیمتی ہے، اِسے احتیاط اور توازن کے ساتھ گزارنا چاہیے۔

قطعات کے اشعار اور مشق کے سوالات NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top