Class 9 Urdu Jamuna Chapter 10 Ghazal (Jigar Moradabadi) Solutions (NCERT 2026–27) – غزل: اللہ اگر توفیق نہ دے

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 10 – the غزل “اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں” by Jigar Moradabadi (جگر مرادآبادی) – with the اشعار reproduced verbatim, شاعر کا تعارف, خلاصہ, مشکل الفاظ کے معانی, a detailed تشریح of every شعر, and original, exam-ready answers to the book’s سوالات (غور کیجیے / سوچیے اور بتائیے / پڑھیے اور لکھیے), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ جماعت نہم اردو “جمنا” کے دسویں سبق — جگر مرادآبادی کی غزل کا مکمل حل، تشریح اور سوال و جواب پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 10 صنف: غزل (Ghazal) شاعر: جگر مرادآبادی (1890–1960) Session: 2026–27

شاعر کا تعارف (About the Poet)

جگر مرادآبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور “جگر” ان کا تخلص تھا۔ آپ 1890ء میں مرادآباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے اور 1960ء میں گونڈہ میں وفات پائی۔ آپ بیسویں صدی کے سب سے مقبول اور سب سے زیادہ سنے جانے والے غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ جگر کی غزل میں حسن و عشق، سرمستی، روحانیت اور تصوف کا گہرا رنگ ملتا ہے۔ آپ نے کلاسیکی غزل کی روایت کو نئے جذبے اور سادگی کے ساتھ زندہ کیا۔ ان کا مشہور مجموعۂ کلام “آتشِ گل” ہے، جس پر آپ کو 1958ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جگر کا ترنم اور پُرسوز انداز مشاعروں کی جان تھا۔ ان کی شاعری میں ظاہری حسن کے پردے میں الٰہی عشق اور معرفت کی جھلک نمایاں ہے۔

منتخب اشعار (The Ghazal)

جگر مرادآبادی کی مشہور غزل — ردیف “کام نہیں / عام نہیں” — جمنا کتاب کے صفحے سے جیوں کے تیوں۔

اللہ اگر توفیق نہ دے انساں کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں ۱

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں، فیّاضیِ قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر، کیا چیز ہے جو انعام نہیں ۲

یارب یہ مقامِ عشق ہے کیا، گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں، آرام ہے اور آرام نہیں ۳

کیوں مستِ شرابِ عیش و طرب، تکلیفِ توجہ فرمائیں
آوازِ شکستِ دل ہی تو ہے، آوازِ شکستِ جام نہیں ۴

آنا ہے جو بزمِ جاناں میں، پندارِ خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں ۵

زاہد نے کچھ اس انداز سے پی، ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں
مے کش یہی اب تک سمجھے تھے، شائستۂ دورِ جام نہیں ۶

عشق اور گوارا خود کر لے، بے شرط شکستِ فاش اپنی
دل کی بھی کچھ اُن کے سازش ہے، تنہا یہ نظر کا کام نہیں ۷

سب جس کو اسیری کہتے ہیں، وہ تو ہے امیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں، جو آپ خود اپنا دام نہیں ۸
— جگر مرادآبادی

نوٹ: کتاب کے رنگین صفحے سے نستعلیق اشعار پڑھ کر نقل کیے گئے ہیں؛ معیاری متن سے توثیق کی گئی ہے۔ زیر، زبر اور اعراب کتاب میں موجود نہ ہوں تو پڑھنے کی سہولت کے لیے شامل کیے گئے ہیں۔

خلاصہ (Summary)

جگر مرادآبادی کی یہ غزل بظاہر حسن و عشق کی غزل ہے، مگر اس کے پردے میں الٰہی عشق، معرفت اور تصوف کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض تو عام ہے، لیکن محبت کی اصل معرفت (عرفان) ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتی — یہ صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے، انسان کے اپنے بس کا کام نہیں۔ آگے شاعر ناداں انسان کو سمجھاتا ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم نہیں؛ اگر تو فکر و نظر پیدا کرے تو کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام نظر آئے گی۔

شاعر عشق کی عجیب کیفیت بیان کرتا ہے — یہاں تسکین بھی ہے اور بے قراری بھی، آرام بھی ہے اور بے آرامی بھی۔ وہ کہتا ہے کہ عیش و طرب میں مست لوگ اس درد کو نہیں سمجھ سکتے؛ جو آواز سنائی دیتی ہے وہ ٹوٹے ہوئے دل کی ہے، شراب کے ٹوٹے پیالے کی نہیں۔ پھر وہ پیغام دیتا ہے کہ محبوب کی محفل میں آنا ہے تو اپنی خودی اور غرور کو توڑ کر آ؛ یہاں عقل و ہوش نہیں، بلکہ سپردگی اور عشق کام آتا ہے۔ آخر میں شاعر کہتا ہے کہ جسے لوگ قید (اسیری) کہتے ہیں وہی دراصل اصل امیری اور دولت ہے، اور یہاں کوئی آزادی ایسی نہیں جو خود اپنے لیے ایک جال (دام) نہ بن جائے۔ مجموعی طور پر غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ سچا عشق اور معرفت خودی کو مٹا کر، اللہ کی توفیق سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

हिन्दी सार: जिगर मुरादाबादी की यह ग़ज़ल बाहर से हुस्न-इश्क़ की है, पर भीतर से इलाही इश्क़, मारिफ़त और तसव्वुफ़ का पैग़ाम देती है — मोहब्बत का फ़ैज़ आम है पर उसका इरफ़ान (असली पहचान) सिर्फ़ अल्लाह की तौफ़ीक़ से मिलता है, इंसान के अपने बस का काम नहीं। महबूब की महफ़िल में अहंकार (खुदी) तोड़कर आना पड़ता है; यहाँ अक़्ल नहीं, इश्क़ काम आता है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
توفیقईश्वर की कृपा/सामर्थ्यDivine grace / enablement
فیضانकृपा का प्रवाह, अनुग्रहOutpouring of grace, blessing
عرفانगहरी पहचान, ज्ञानGnosis, deep knowledge
فیّاضیउदारता, दानशीलताGenerosity, bounty
قدرتईश्वर की शक्ति/प्रकृति(Divine) Power, Nature
انعامउपहार, पुरस्कारGift, reward
مقامِ عشقप्रेम की अवस्था/स्थानThe station of love
دیدہ و دلआँख और दिलThe eye and the heart
تسکینशांति, चैनSolace, peace
عیش و طربभोग-विलास और आनंदLuxury and merriment
شکستِ دلदिल का टूटनाBreaking of the heart
بزمِ جاناںप्रियतम की महफ़िलThe beloved’s gathering
پندارِ خودیअहंकार, स्वाभिमान का घमंडThe pride of the self/ego
ہوش و خردहोश और बुद्धिSense and reason
زاہدसंयमी, धर्मभीरुThe ascetic / pious one
ساقیमदिरा पिलाने वालाThe cup-bearer
مے کشशराब पीने वालाThe wine-drinker
شکستِ فاشखुली/स्पष्ट पराजयOpen, manifest defeat
اسیریक़ैद, बंधनCaptivity, bondage
دامजाल, फंदाNet, snare

تشریح (Explanation of اشعار)

شعر ۱ — مطلع

اللہ اگر توفیق نہ دے انساں کے بس کا کام نہیں / فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں
شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض (اثر و انعام) تو سب کو ملتا ہے اور عام ہے، لیکن محبت کی اصل پہچان اور گہری معرفت (عرفان) ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ یہ مرتبہ صرف اللہ کی توفیق سے ملتا ہے؛ انسان اپنی کوشش سے یہ بلندی نہیں پا سکتا۔ مطلب یہ کہ سچا عشق اور معرفت ایک عطا ہے، نہ کہ محض ذاتی محنت کا نتیجہ۔

شعر ۲

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں، فیّاضیِ قدرت عام نہیں / تو فکر و نظر تو پیدا کر، کیا چیز ہے جو انعام نہیں
شاعر ناداں انسان کو ٹوکتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم ہے۔ اگر تو سوچ اور دیکھنے کی صلاحیت (فکر و نظر) پیدا کرے تو تجھے کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام نظر آئے گی۔ یعنی کمی عطا میں نہیں، ہماری نظر اور سوچ میں ہے۔

شعر ۳

یارب یہ مقامِ عشق ہے کیا، گو دیدہ و دل ناکام نہیں / تسکین ہے اور تسکین نہیں، آرام ہے اور آرام نہیں
شاعر عشق کی عجیب و متضاد کیفیت بیان کرتا ہے۔ آنکھ اور دل ناکام تو نہیں، پھر بھی عجب حال ہے — سکون بھی ہے اور بے چینی بھی، آرام بھی ہے اور بے آرامی بھی۔ یہی عشق کا مقام ہے جہاں راحت اور بے قراری ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔

شعر ۵

آنا ہے جو بزمِ جاناں میں، پندارِ خودی کو توڑ کے آ / اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
یہ غزل کا مرکزی پیغام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر محبوب کی محفل (بزمِ جاناں) میں آنا چاہتے ہو تو اپنی خودی اور غرور توڑ کر آؤ۔ عقل و ہوش پر بھروسا کرنے والے سن لیں کہ یہاں عقل نہیں، بلکہ سپردگی، فنا اور عشق کام آتا ہے۔ خودی مٹائے بغیر عشق و معرفت کا مقام نہیں ملتا۔

شعر ۸ — مقطع کی کیفیت

سب جس کو اسیری کہتے ہیں، وہ تو ہے امیری ہی لیکن / وہ کون سی آزادی ہے یہاں، جو آپ خود اپنا دام نہیں
شاعر تصوف کا نکتہ بیان کرتا ہے کہ جسے دنیا قید (اسیری) سمجھتی ہے — یعنی عشق و سپردگی کا بندھن — وہی دراصل سب سے بڑی دولت (امیری) ہے۔ اور دنیا میں کوئی آزادی ایسی نہیں جو خود ایک نیا جال (دام) نہ بن جائے۔ یعنی محبوب کی اسیری ہی اصل آزادی اور سرفرازی ہے۔

سوالات / مشق (Exercise)

ذیل کے سوالات و مشق NCERT “جمنا” کتاب کے سبق کے آخری صفحات سے لیے گئے ہیں؛ جوابات ClearStudy کے مولِک ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

i. شاعر کے نزدیک کیا چیز اللہ کی توفیق کے بغیر انسان کے بس کا کام نہیں؟

جوابشاعر کے نزدیک محبت کی اصل معرفت (عرفانِ محبت) اللہ کی توفیق کے بغیر انسان کے بس کا کام نہیں۔ محبت کا فیض تو عام ہے، مگر اس کی گہری پہچان صرف اللہ کی عطا سے ملتی ہے۔

ii. “فیضانِ محبت” اور “عرفانِ محبت” میں شاعر نے کیا فرق بتایا ہے؟

جوابشاعر نے بتایا ہے کہ “فیضانِ محبت” یعنی محبت کا فیض و اثر تو عام ہے، سب تک پہنچتا ہے؛ لیکن “عرفانِ محبت” یعنی محبت کی اصل پہچان اور معرفت عام نہیں — یہ صرف چند خوش نصیبوں کو، اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے۔

iii. شاعر “ناداں” سے کیا کہنا چاہتا ہے؟

جوابشاعر ناداں انسان کو سمجھاتا ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم نہیں؛ کمی ہماری نظر اور سوچ میں ہے۔ اگر انسان فکر و نظر پیدا کرے تو اسے کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام دکھائی دے گی۔

iv. مقامِ عشق کی کیفیت کیسی ہے؟

جوابمقامِ عشق کی کیفیت عجیب و متضاد ہے — یہاں تسکین بھی ہے اور بے چینی بھی، آرام بھی ہے اور بے آرامی بھی۔ سکون اور بے قراری ساتھ ساتھ رہتے ہیں؛ یہی عشق کا مقام ہے۔

v. بزمِ جاناں میں آنے کے لیے شاعر کیا شرط بتاتا ہے؟

جوابشاعر شرط بتاتا ہے کہ بزمِ جاناں (محبوب کی محفل) میں آنے کے لیے اپنی خودی اور غرور (پندارِ خودی) توڑ کر آنا پڑتا ہے، کیونکہ یہاں عقل و ہوش نہیں بلکہ سپردگی اور عشق کام آتا ہے۔

پڑھیے اور لکھیے — مرکب الفاظ کے معنی

نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔

مرکب لفظمعنی (हिन्दी / English)
حسن و جمالसौंदर्य और रूप / Beauty and grace
عیش و طربभोग और आनंद / Luxury and merriment
عشق و محبتप्रेम और मोहब्बत / Love and affection
تابِ تواںशक्ति और ताक़त / Strength and stamina
غور و فکرचिंतन-मनन / Reflection and thought
رحم و کرمदया और कृपा / Mercy and kindness
عدل و انصافन्याय और इंसाफ़ / Justice and fairness
جنگ و جدالयुद्ध और झगड़ा / War and strife
جاری و ساریनिरंतर चलना/लागू होना / Continuous & in force
قدر و قیمتमान और मूल्य / Worth and value

“مقام” کے مرکب الفاظ کے معنی

غزل میں لفظ “مقام” (عشق) آیا ہے، جس کے معنی ہیں “عشق کی جگہ/درجہ”۔ نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔

مرکب لفظمعنیجملہ (نمونہ)
مقامِ شوقشوق و رغبت کی جگہ/درجہعلم حاصل کرنا ہر طالبِ علم کا مقامِ شوق ہے۔
مقامِ حیرتحیرانی کی باتیہ مقامِ حیرت ہے کہ وہ امتحان میں اوّل آیا۔
مقامِ بندگیعبادت و اطاعت کا درجہسجدہ بندے کا سب سے بلند مقامِ بندگی ہے۔

املا سدھری (الفاظ کی درست املا)

غزل میں آئے ہوئے درج ذیل الفاظ کی درست املا (ہجے) یاد کیجیے اور لکھیے۔

لفظدرست املا
فیضانف‌ی‌ض‌ا‌ن — فیضان
تسکینت‌س‌ک‌ی‌ن — تسکین
پندارپ‌ن‌د‌ا‌ر — پندار
معرفت / عرفانع‌ر‌ف‌ا‌ن — عرفان
قدرتق‌د‌ر‌ت — قدرت

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

۱۔ جگر مرادآبادی کا اصل نام اور تخلص کیا تھا؟

جوابجگر مرادآبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور “جگر” ان کا تخلص تھا۔ آپ 1890ء میں مرادآباد میں پیدا ہوئے اور 1960ء میں وفات پائی۔ آپ بیسویں صدی کے مشہور غزل گو شاعر تھے۔

۲۔ اس غزل کی صنف کیا ہے اور اس کی ردیف کیا ہے؟

جواباس کلام کی صنف غزل ہے۔ اس کی ردیف “کام نہیں / عام نہیں” (یعنی ہر شعر کا اختتام “نہیں” پر) ہے، جو غزل میں خاص آہنگ اور سوز پیدا کرتی ہے۔

۳۔ شاعر کے نزدیک قدرت کی فیّاضی کیسی ہے؟

جوابشاعر کے نزدیک قدرت کی فیّاضی بے حد عام اور وسیع ہے۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کا انعام ہے؛ بس انسان کو فکر و نظر پیدا کرنی چاہیے تاکہ وہ ان نعمتوں کو پہچان سکے۔

۴۔ “پندارِ خودی” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب“پندارِ خودی” سے مراد اپنی ذات کا غرور اور انانیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی محفل میں آنے کے لیے اس غرور کو توڑنا ضروری ہے، کیونکہ عشق میں خودی کو مٹانا ہی اصل شرط ہے۔

۵۔ مقطع میں “اسیری” اور “امیری” کا کیا رشتہ بیان ہوا ہے؟

جوابشاعر کہتا ہے کہ جسے دنیا اسیری (قید) کہتی ہے، یعنی عشق و سپردگی کا بندھن، وہی دراصل اصل امیری (دولت و سرفرازی) ہے۔ یعنی محبوب کی اسیری ہی سب سے بڑی آزادی اور دولت ہے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

۶۔ اس غزل کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔

جواباس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ سچا عشق اور محبت کی اصل معرفت انسان کی محنت سے نہیں، بلکہ اللہ کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے۔ شاعر بظاہر حسن و عشق کی بات کرتا ہے، مگر اس کے پردے میں تصوف اور الٰہی عشق کا پیغام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کا فیض تو عام ہے، مگر عرفان عام نہیں۔شاعر انسان کو سمجھاتا ہے کہ قدرت کی فیّاضی کم نہیں، کمی ہماری نظر میں ہے۔ عشق ایک ایسا مقام ہے جہاں تسکین اور بے قراری ساتھ رہتی ہیں۔ محبوب کی محفل میں آنے کے لیے خودی اور غرور کو توڑنا ضروری ہے، کیونکہ یہاں عقل نہیں عشق کام آتا ہے۔ غرض، خودی مٹا کر اور اللہ کی توفیق سے ہی معرفت کا اعلیٰ مقام ملتا ہے۔

۷۔ جگر مرادآبادی کی شاعری کی خصوصیات اس غزل کے حوالے سے واضح کیجیے۔

جوابجگر مرادآبادی کی شاعری حسن و عشق، سرمستی، روحانیت اور تصوف کا حسین امتزاج ہے۔ اس غزل میں بھی یہی خصوصیات نمایاں ہیں۔ ظاہری طور پر یہ حسن و عشق کی غزل ہے، مگر اس کے باطن میں الٰہی عشق اور معرفت کا گہرا پیغام ہے۔جگر کی زبان سادہ، رواں اور پُرسوز ہے۔ ان کے اشعار میں ترنم اور موسیقیت ہے جو سننے والے کو مسحور کر دیتی ہے۔ وہ کلاسیکی غزل کی روایت کو نئے جذبے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس غزل میں تضاد (تسکین/بے چینی، اسیری/امیری) کے ذریعے گہرے روحانی نکات کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ خودی کو مٹانے اور سپردگی کا درس جگر کے تصوف کا خاص رنگ ظاہر کرتا ہے۔

۸۔ “اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں” کی روشنی میں عشق اور عقل کے فرق پر روشنی ڈالیے۔

جواباس مصرعے میں شاعر عشق اور عقل کا فرق واضح کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کی محفل (بزمِ جاناں) عشق و سپردگی کی جگہ ہے، عقل و ہوش کی نہیں۔ جو لوگ صرف عقل پر بھروسا کرتے ہیں، وہ عشق کے اس مقام کو نہیں سمجھ سکتے۔عقل ناپ تول کرتی ہے، شرط لگاتی ہے اور فائدہ نقصان دیکھتی ہے؛ جبکہ عشق بے شرط سپردگی اور قربانی چاہتا ہے۔ عشق میں خودی اور غرور کو توڑنا پڑتا ہے، اور یہی عقل کے بس کی بات نہیں۔ تصوف میں بھی یہی نکتہ ہے کہ معرفتِ حق عقل سے نہیں بلکہ عشق اور سپردگی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے شاعر “ہوش و خرد کے دیوانوں” کو خبردار کرتا ہے کہ یہاں عقل کا کام نہیں۔

MCQ & تصدیق-وجہ

۱۔ اس غزل کے شاعر کون ہیں؟

(الف) علامہ اقبال

(ب) جگر مرادآبادی

(ج) فیض احمد فیض

(د) میر تقی میر

جواب(ب) جگر مرادآبادی۔

۲۔ جگر مرادآبادی کا اصل نام کیا تھا؟

(الف) علی سکندر

(ب) راس مسعود

(ج) اسد اللہ خاں

(د) سیّد علی

جواب(الف) علی سکندر۔

۳۔ اس کلام کی صنف کیا ہے؟

(الف) نظم

(ب) قطعہ

(ج) غزل

(د) مثنوی

جواب(ج) غزل۔

۴۔ شاعر کے نزدیک کیا چیز عام نہیں؟

(الف) فیضانِ محبت

(ب) عرفانِ محبت

(ج) فیّاضیِ قدرت

(د) انعام

جواب(ب) عرفانِ محبت۔

۵۔ “عرفان” کا مطلب ہے—

(الف) دولت

(ب) گہری پہچان / معرفت

(ج) فیض

(د) آزادی

جواب(ب) گہری پہچان / معرفت۔

۶۔ بزمِ جاناں میں آنے کے لیے کیا توڑنا ضروری ہے؟

(الف) شراب کا جام

(ب) پندارِ خودی (غرور)

(ج) دل

(د) قلم

جواب(ب) پندارِ خودی (غرور)۔

۷۔ مقامِ عشق کی کیفیت کیسی بیان کی گئی ہے؟

(الف) صرف آرام

(ب) صرف بے چینی

(ج) تسکین بھی اور بے چینی بھی

(د) بے حسی

جواب(ج) تسکین بھی اور بے چینی بھی۔

۸۔ “دام” کا معنی ہے—

(الف) قیمت

(ب) جال / پھندا

(ج) دروازہ

(د) راستہ

جواب(ب) جال / پھندا۔

۹۔ شاعر کے مطابق محفلِ جاناں میں کس کا کام نہیں؟

(الف) عشق کا

(ب) سپردگی کا

(ج) ہوش و خرد (عقل) کا

(د) محبت کا

جواب(ج) ہوش و خرد (عقل) کا۔

۱۰۔ جگر مرادآبادی کو کس مجموعۂ کلام پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا؟

(الف) داغِ جگر

(ب) آتشِ گل

(ج) شعلۂ طور

(د) نقشِ فریادی

جواب(ب) آتشِ گل۔
جوابی کلید (Answer Key): 1-(ب)، 2-(الف)، 3-(ج)، 4-(ب)، 5-(ب)، 6-(ب)، 7-(ج)، 8-(ب)، 9-(ج)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason): نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

۱۔ تصدیق (A): عرفانِ محبت اللہ کی توفیق سے ملتا ہے۔

وجہ (R): شاعر کے مطابق محبت کی اصل معرفت انسان کے اپنے بس کا کام نہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

۲۔ تصدیق (A): بزمِ جاناں میں عقل و ہوش کام آتے ہیں۔

وجہ (R): عشق میں خودی کو توڑنا اور سپرد ہونا ضروری ہے۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے — شاعر کے مطابق بزمِ جاناں میں ہوش و خرد کا نہیں بلکہ عشق و سپردگی کا کام ہے۔

۳۔ تصدیق (A): قدرت کی فیّاضی عام نہیں۔

وجہ (R): اگر انسان فکر و نظر پیدا کرے تو ہر چیز اسے اللہ کا انعام نظر آئے گی۔

جواب(د) A غلط ہے، R درست ہے — شاعر کہتا ہے کہ قدرت کی فیّاضی تو عام ہے، کمی ہماری نظر میں ہے۔

۴۔ تصدیق (A): جسے دنیا اسیری کہتی ہے، وہ دراصل امیری ہے۔

وجہ (R): عشق و سپردگی کا بندھن ہی اصل دولت اور سرفرازی ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

۵۔ تصدیق (A): جگر مرادآبادی بیسویں صدی کے مشہور غزل گو شاعر ہیں۔

وجہ (R): ان کی غزل میں حسن و عشق، سرمستی اور تصوف کا گہرا رنگ ملتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • مطلع (پہلا شعر) اور مقطع کے ساتھ بزمِ جاناں والا شعر ضرور یاد رکھیے — تشریح اور خالی جگہ کے سوالات اکثر انھی سے آتے ہیں۔
  • مشکل الفاظ (توفیق، فیضان، عرفان، پندارِ خودی، اسیری، دام) کے معنی اردو، ہندی اور انگریزی تینوں میں یاد کیجیے۔
  • شاعر کا اصل نام (علی سکندر)، تخلص (جگر)، سنہ (1890–1960) اور مجموعۂ کلام (آتشِ گل) یاد رکھیے۔
  • تشریح لکھتے وقت پہلے شعر کا مفہوم، پھر اس کا روحانی/تصوفانہ پہلو بیان کیجیے۔
  • اشعار نقل کرتے وقت ردیف “نہیں” اور قافیہ (عام، انعام، آرام، جام، کام، دام) کا خاص خیال رکھیے۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • “فیضان” اور “عرفان” کو ایک معنی سمجھ لینا — فیضان = فیض کا عام بہاؤ، عرفان = گہری معرفت۔
  • اس غزل کو علامہ اقبال یا کسی اور شاعر سے منسوب کر دینا — یہ جگر مرادآبادی کی غزل ہے۔
  • اشعار میں الفاظ کی غلط املا (پندار، تسکین، فیّاضی، اسیری) لکھنا۔
  • غزل کو محض حسن و عشق کی غزل سمجھنا اور اس کے تصوفانہ/روحانی پہلو کو نظر انداز کر دینا۔
  • “دام” کا معنی “قیمت” لکھ دینا — یہاں اس کا معنی “جال/پھندا” ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کے سبق 10 کی غزل کس شاعر کی ہے اور اس کی صنف کیا ہے؟

یہ غزل جگر مرادآبادی (اصل نام علی سکندر، 1890–1960) کی ہے۔ اس کلام کی صنف “غزل” ہے، جس کی ردیف “نہیں” اور قافیہ “عام، انعام، آرام، جام، کام، دام” ہے۔

“اللہ اگر توفیق نہ دے…” شعر کا مفہوم کیا ہے؟

اس مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبت کا فیض تو سب کو ملتا ہے، مگر محبت کی اصل معرفت (عرفان) صرف اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے — یہ انسان کی اپنی محنت سے حاصل ہونے والی چیز نہیں۔

اس غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ سچا عشق اور معرفت خودی و غرور مٹا کر، اللہ کی توفیق سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ بزمِ جاناں (محبوب کی محفل) میں عقل نہیں، بلکہ سپردگی اور عشق کام آتا ہے۔

اشعار اور مشق کے سوالات NCERT “جمنا” کتاب کے صفحات سے بحالتِ تصویر پڑھ کر جیوں کے تیوں لیے گئے ہیں؛ تشریح، خلاصہ، معنی اور جوابات ClearStudy کے مولِک ہیں۔

Scroll to Top