Class 9 Urdu Jamuna Chapter 15 Qitaat Solutions (NCERT 2026–27) – قطعات
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 15 ‘Qitaat’ (قطعات) – four short, reflective qit’as by the poet Naresh Kumar Shad (نریش کمار شاد) – with poet intro, the اشعار reproduced verbatim, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، گفتگو کیجیے، تخلیقی اظہار), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے سبق ’قطعات‘ (نریش کمار شاد) کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔
- سبق کا تعارف (Overview)
- شاعر کا تعارف (About Naresh Kumar Shad)
- متن – قطعات (The Qit’as)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح (Explanation of the Qit’as)
- سوالات و مشق (Exercise)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
سبق کا تعارف (Chapter Overview)
’قطعات‘ اردو کے معروف شاعر نریش کمار شاد کے چار مختصر مگر پُرمعنی قطعے ہیں۔ قطعہ ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں کم از کم دو شعر کسی ایک موضوع یا خیال پر مرتب ہوتے ہیں اور پہلے شعر کا دوسرا مصرع بقیہ مصرعوں سے ہم قافیہ ہوتا ہے۔ ان چاروں قطعوں میں شاعر نے علم و آگہی، شاعر کی گہری نظر، زندگی کی نزاکت اور حُسنِ فطرت جیسے موضوعات کو نہایت سادہ اور دلنشین انداز میں پیش کیا ہے۔ پہلے قطعے میں یہ پیغام ہے کہ اچھا خیال اُسی وقت سود مند ہوتا ہے جب اُسے عمل میں ڈھالا جائے۔ دوسرے قطعے میں شاعرانہ بصیرت کی وسعت بیان ہوئی ہے۔ تیسرے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دے کر احتیاط اور توازن کی تلقین کی گئی ہے، اور چوتھے قطعے میں محبوب کے حُسن کو جمنا کی نرم لہروں میں جھلملاتے چاند کے عکس سے تشبیہ دی گئی ہے۔
شاعر کا تعارف – نریش کمار شاد (1927–1969)
نریش کمار شاد بیسویں صدی کے ایک منفرد اور خوش فکر اردو شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1927ء میں ہوئی اور 1969ء میں اِس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ شاد اردو غزل اور قطعہ نگاری میں اپنے سادہ، رواں اور تہ دار اندازِ بیان کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں زندگی کے عام مشاہدات، فطرت کے مناظر اور انسانی جذبات کو نہایت لطیف پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ مشکل بات کو آسان اور دلنشین زبان میں کہنے کا ہنر رکھتے تھے، اِسی لیے ان کے قطعے اور اشعار قاری کے دل میں اُتر جاتے ہیں۔ علم، آگہی، حُسنِ فطرت اور زندگی کی نزاکت ان کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں۔ ان کی شاعری نئی نسل کو سوچنے، سمجھنے اور زندگی کو احتیاط و توازن کے ساتھ گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اردو ادب میں ان کی قطعہ نگاری ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
متن – قطعات
(چاروں قطعے NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)
ذہن کا کوئی نور پاش خیال
جب تک اعمال میں نہیں ڈھلتا
زندگی کے بجھے ہوئے دل میں
آگہی کا دیا نہیں جلتا
(2)
ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے
حُسنِ فطرت کو تول سکتی ہے
دیکھ سکتی ہے نکہتِ گُل کو
چاند، تاروں سے بول سکتی ہے
(3)
کھیل بن جائے خود وجود ترا
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھیل
زندگی کانچ کا کھلونا ہے
کھیلنا ہے تو احتیاط سے کھیل
(4)
شبنمی پیرہن میں رہ رہ کر
یوں ترا روپ مسکراتا ہے
جیسے جمنا کی نرم لہروں میں
چاند کا عکس جھلملاتا ہے
— نریش کمار شاد
خلاصہ (Summary)
اِس سبق میں نریش کمار شاد کے چار قطعے شامل ہیں جن میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہری اور حکیمانہ باتیں کہی گئی ہیں۔ پہلے قطعے میں شاعر کہتا ہے کہ ذہن میں آنے والا کتنا ہی اچھا اور روشن خیال کیوں نہ ہو، جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے تب تک انسان کو حقیقی بصیرت اور آگہی حاصل نہیں ہوتی۔ یعنی صرف اچھا سوچنا کافی نہیں، اُس پر عمل بھی ضروری ہے، تبھی زندگی کے بجھے ہوئے دل میں علم و آگہی کا چراغ روشن ہوتا ہے۔
دوسرے قطعے میں شاعر، شاعرانہ بصیرت کی وسعت کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک شاعر کی آنکھ اِتنی گہری اور حساس ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے فطرت کے حُسن کو تول سکتی ہے، پھول کی خوشبو کو دیکھ سکتی ہے اور چاند تاروں سے باتیں کر سکتی ہے۔ یہاں شاعر کے تخیل اور مشاہدے کی غیر معمولی قوت کا اظہار ہے۔ تیسرے قطعے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی گئی ہے، جو نہایت نازک اور زود شکست ہے۔ شاعر تلقین کرتا ہے کہ انسان کو اپنے غم اور خوشی دونوں میں توازن رکھنا چاہیے اور زندگی کو احتیاط کے ساتھ گزارنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بے احتیاطی سے یہ نازک کھلونا ٹوٹ جائے۔
چوتھے قطعے میں شاعر نے محبوب کے حُسن کی تعریف کی ہے۔ شبنم کے رنگ کے سفید چمکدار لباس میں محبوب کا روپ یوں مسکراتا اور دمکتا ہوا نظر آتا ہے جیسے جمنا ندی کی نرم اور ہلکی لہروں میں چاند کا عکس جھلمل جھلمل کرتا ہے۔ یوں ان چاروں قطعوں کے ذریعے شاعر نے علم پر عمل، شاعرانہ بصیرت، زندگی کی نزاکت اور حُسنِ فطرت جیسے خوبصورت موضوعات کو مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
Hindi gist: इन चार क़ितओं में नरेश कुमार शाद कहते हैं — अच्छा विचार तभी सार्थक है जब उस पर अमल हो; शायर की आँख फ़ितरत के हुस्न को परख लेती है; ज़िंदगी काँच के खिलौने जैसी नाज़ुक है, इसे एहतियात से जीना चाहिए; और महबूब का रूप जमुना की नरम लहरों में झिलमिलाते चाँद के अक्स जैसा है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| نور پاش | नूर/रौशनी बिखेरने वाला | Light-spreading, luminous |
| خیال | विचार, सोच | Thought, idea |
| اعمال | कर्म, काम (अमल का बहुवचन) | Deeds, actions |
| ڈھلنا | रूप लेना, बदल जाना | To be moulded / cast into |
| آگہی | बसीरत, वाक़फ़ियत, ज्ञान | Insight, awareness, knowledge |
| دیا | दीपक, चराग़ | Lamp, earthen lamp |
| حُسنِ فطرت | प्रकृति का सौंदर्य | The beauty of nature |
| تولنا | परखना, अंदाज़ा लगाना | To weigh / assess |
| نکہتِ گُل | फूल की ख़ुशबू | The fragrance of a flower |
| وجود | हस्ती, अस्तित्व | Existence, being |
| نشاط | ख़ुशी, उल्लास | Joy, delight |
| احتیاط | सावधानी | Caution, care |
| شبنمی پیرہن | शबनम के रंग का सफ़ेद चमकदार लिबास | A dewy/white shining garment |
| روپ | सूरत, सौंदर्य | Form, beauty, appearance |
| جمنا | यमुना नदी | The river Yamuna (Jamuna) |
| نرم لہریں | हल्की, मुलायम लहरें | Gentle, soft waves |
| عکس | परछाईं, प्रतिबिंब | Reflection, image |
| جھلملانا | झिलमिलाना, टिमटिमाना | To shimmer / glimmer |
تشریح (Explanation of the Qit’as)
قطعہ (1) – ذہن کا کوئی نور پاش خیال…
اِس قطعے میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ صرف اچھا اور روشن خیال ذہن میں آ جانا کافی نہیں ہوتا۔ خیال خواہ کتنا ہی نور پاش (روشنی بکھیرنے والا) کیوں نہ ہو، جب تک اُسے عمل میں نہ ڈھالا جائے، اُس سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ جیسے بجھے ہوئے چراغ سے روشنی نہیں ملتی، اِسی طرح زندگی کے مردہ اور بجھے ہوئے دل میں آگہی کا چراغ تب تک روشن نہیں ہوتا جب تک علم کو عمل کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ علم پر عمل ہی اصل بصیرت اور کامیابی کی کنجی ہے۔
قطعہ (2) – ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے…
اِس قطعے میں شاعر، شاعر کی آنکھ یعنی شاعرانہ بصیرت اور تخیل کی غیر معمولی قوت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کی نظر اِتنی گہری اور حساس ہوتی ہے کہ وہ فطرت کے حُسن کو پرکھ اور تول سکتی ہے، پھول کی خوشبو کو محسوس کرنے کے بجائے گویا دیکھ بھی سکتی ہے، اور اپنے تخیل کے زور پر چاند اور تاروں سے باتیں تک کر سکتی ہے۔ یہ سب شاعر کے اِس مشاہدے اور تخیل کی وسعت کی طرف اشارہ ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ شاعر کی نگاہ کائنات کے پوشیدہ حُسن کو دیکھ اور بیان کر سکتی ہے۔
قطعہ (3) – کھیل بن جائے خود وجود ترا…
اِس قطعے میں زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی گئی ہے، جو نہایت نازک اور آسانی سے ٹوٹ جانے والا ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ انسان کو اپنے غم اور خوشی (نشاط) دونوں کے ساتھ اِس طرح نہ کھیلنا چاہیے کہ خود اُس کی اپنی ہستی ہی کھیل تماشا بن کر رہ جائے۔ زندگی چونکہ کانچ کے کھلونے کی طرح نازک ہے، اِس لیے اگر اِس کے ساتھ کھیلنا ہی ہے تو پوری احتیاط اور توازن کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ زندگی بہت قیمتی اور نازک ہے، اِسے احتیاط اور سنجیدگی سے گزارنا چاہیے۔
قطعہ (4) – شبنمی پیرہن میں رہ رہ کر…
اِس قطعے میں شاعر نے محبوب کے حُسن کی تعریف ایک نہایت لطیف تشبیہ کے ذریعے کی ہے۔ محبوب جب شبنم کے رنگ کا سفید چمکدار لباس پہنے ہوتا ہے تو اُس کا روپ یوں رہ رہ کر مسکراتا اور دمکتا ہوا نظر آتا ہے جیسے جمنا (یمنا) ندی کی نرم اور ہلکی لہروں میں چاند کا عکس جھلمل جھلمل کرتا ہے۔ شاعر نے محبوب کے سراپا کو جمنا کی لہروں میں چاند کے لرزتے ہوئے عکس سے تشبیہ دے کر اُس کی نزاکت، چمک اور دلکشی کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ محبوب کا حُسن لطیف، چمکدار اور دلفریب ہے۔
سوالات و مشق (Exercise)
سوچیے اور بتائیے
(i) آگہی کا چراغ کس طرح روشن ہوتا ہے؟
(ii) شاعر کی آنکھ کا چاند تاروں سے بات کرنے سے کیا مراد ہے؟
(iii) زندگی کو کانچ کا کھلونا کیوں کہا گیا ہے؟
(iv) چاند کا عکس جھلملانے سے کیا مفہوم واضح ہوتا ہے؟
(v) جمنا کی لہروں کو نرم کیوں کہا گیا ہے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
درج ذیل شعر کو پڑھیے:
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھیل
سوال: پہلے مصرعے میں ’کھیل‘ اسم ہے جس کا مطلب تماشا ہے، جب کہ دوسرے مصرعے میں ’کھیل‘ فعل کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس سے مراد کھیلنا ہے۔ نیچے دیے گئے لفظوں کو اپنے جملوں میں اِس طرح استعمال کیجیے کہ ایک مرتبہ یہ لفظ اسم کے طور پر آئے اور دوسری بار فعل کے طور پر۔
| لفظ | اسم کے طور پر (نمونہ جملہ) | فعل کے طور پر (نمونہ جملہ) | |
|---|---|---|---|
| i. | ڈر | بچے کے دل میں امتحان کا ڈر بیٹھ گیا۔ (اسم) | اندھیرے سے ڈر کر بچہ ماں سے لپٹ گیا۔ (فعل) |
| ii. | مانگ | دلہن کی مانگ سندور سے سجی ہوئی تھی۔ (اسم) | ضرورت پڑنے پر دوست سے مدد مانگ لینا۔ (فعل) |
| iii. | رنگ | آسمان کا رنگ شام کو سرخ ہو گیا۔ (اسم) | بچوں نے دیوار پر نیلا رنگ دیا۔ (فعل) |
| iv. | دوڑ | میدان میں سو میٹر کی دوڑ ہوئی۔ (اسم) | گھنٹی بجتے ہی بچے باہر دوڑ گئے۔ (فعل) |
| v. | ترپ | زخمی پرندے کی ترپ دیکھی نہ جاتی تھی۔ (اسم) | درد سے مریض ساری رات ترپ تا رہا۔ (فعل) |
گفتگو کیجیے
اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے اور معلوم کیجیے کہ آنکھ سے اور کیا کام لیا جا سکتا ہے؟
تخلیقی اظہار
اِس سبق کے ایک قطعے میں کھیل، کھیلنا، کھلونا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِن الفاظ کا مصدر ’کھیل‘ ہے۔ کھیل سے اور بھی الفاظ بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر — کھیلنا، کھیل، کھلاڑی، کھلنڈر، کھلونا، کھلواڑ — اِن کا استعمال کرتے ہوئے ایک پیراگراف لکھیے۔
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر جوابات والے سوالات
1. قطعہ کسے کہتے ہیں؟
2. پہلے قطعے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
3. شاعر نے زندگی کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے اور کیوں؟
4. چوتھے قطعے میں محبوب کے حُسن کو کس منظر سے تشبیہ دی گئی ہے؟
5. ’نور پاش خیال‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
طویل جوابات والے سوالات
6. پہلے قطعے میں شاعر نے علم اور عمل کے رشتے کو کس طرح واضح کیا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔
7. تیسرے قطعے کی روشنی میں زندگی کے بارے میں شاعر کا پیغام بیان کیجیے۔
8. اِن قطعات میں شاعر کے مشاہدے اور تخیل کی خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. اِن قطعات کے شاعر کون ہیں؟
(الف) منشی پریم چند
(ب) نریش کمار شاد
(ج) علامہ اقبال
(د) میر تقی میر
2. اِس سبق کی صنفِ سخن کیا ہے؟
(الف) غزل
(ب) افسانہ
(ج) قطعہ
(د) مرثیہ
3. ’نور پاش‘ کا مطلب ہے—
(الف) اندھیرا پھیلانے والا
(ب) روشنی بکھیرنے والا
(ج) خاموش رہنے والا
(د) تیز چلنے والا
4. آگہی کا دیا کب نہیں جلتا؟
(الف) جب خیال اعمال میں نہ ڈھلے
(ب) جب رات ہو جائے
(ج) جب تیل ختم ہو جائے
(د) جب ہوا چلے
5. ’نکہتِ گُل‘ سے کیا مراد ہے؟
(الف) پھول کا رنگ
(ب) پھول کا کانٹا
(ج) پھول کی خوشبو
(د) پھول کی پتی
6. شاعر نے زندگی کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
(الف) لوہے کی سلاخ
(ب) کانچ کا کھلونا
(ج) پتھر کا مجسمہ
(د) لکڑی کی گاڑی
7. شاعر کے مطابق زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا چاہیے؟
(الف) لاپروائی سے
(ب) احتیاط سے
(ج) جلدی میں
(د) غصے سے
8. چوتھے قطعے میں محبوب کا روپ کس میں جھلملاتا دکھایا گیا ہے؟
(الف) سمندر کی تند لہروں میں
(ب) جمنا کی نرم لہروں میں چاند کے عکس کی طرح
(ج) صحرا کی ریت میں
(د) بادلوں کی گرج میں
9. ’نشاط‘ کا مطلب کیا ہے؟
(الف) غم
(ب) خوشی
(ج) غصہ
(د) خوف
10. شاعر کی آنکھ کس کا حُسن تول سکتی ہے؟
(الف) حُسنِ فطرت
(ب) حُسنِ بازار
(ج) حُسنِ مکان
(د) حُسنِ تجارت
تصدیق-وجہ (Assertion–Reason): نیچے ایک تصدیق (A) اور ایک وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست ہیں مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
1. تصدیق (A): آگہی کا دیا تب جلتا ہے جب خیال کو عمل میں ڈھالا جائے۔
وجہ (R): شاعر کے نزدیک صرف خیال کافی نہیں، اُس پر عمل ضروری ہے۔
2. تصدیق (A): شاعر نے زندگی کو کانچ کے کھلونے سے تشبیہ دی ہے۔
وجہ (R): زندگی نہایت نازک اور جلد ٹوٹ جانے والی ہے، اِس لیے احتیاط ضروری ہے۔
3. تصدیق (A): یہ سبق ایک افسانہ ہے۔
وجہ (R): اِس میں نثری انداز میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔
4. تصدیق (A): شاعر کی آنکھ چاند تاروں سے بات کر سکتی ہے۔
وجہ (R): شاعر کا تخیل اور مشاہدہ عام لوگوں سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔
5. تصدیق (A): چوتھے قطعے میں جمنا کی لہروں کو نرم کہا گیا ہے۔
وجہ (R): نرم اور پُرسکون لہروں ہی میں چاند کا عکس جھلملاتا اچھا دکھائی دیتا ہے۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- چاروں قطعے ترتیب سے یاد کریں – شعر مکمل کرنے اور تشریح کے سوال انھی سے آتے ہیں۔
- ہر قطعے کا مرکزی خیال ایک جملے میں یاد رکھیں (علم پر عمل، شاعرانہ بصیرت، زندگی کی نزاکت، حُسنِ محبوب)۔
- مشکل الفاظ (نور پاش، آگہی، نکہتِ گُل، نشاط، شبنمی پیرہن) کے معانی اردو، ہندی اور انگریزی میں یاد کریں۔
- ’اسم‘ اور ’فعل‘ کے فرق کو جملوں کے ذریعے سمجھیں (ڈر، مانگ، رنگ، دوڑ، ترپ)۔
- تشبیہات (کانچ کا کھلونا، چاند کا عکس) لازمی یاد رکھیں، اِن پر اکثر سوال آتے ہیں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- شاعر کا نام غلط لکھ دینا – صحیح نام ’نریش کمار شاد‘ ہے۔
- صنف کو غزل یا نظم لکھ دینا – یہ سبق ’قطعات‘ پر مشتمل ہے۔
- پہلے قطعے کا پیغام صرف ’علم‘ لکھنا – دراصل پیغام ’علم پر عمل‘ ہے۔
- ’نکہتِ گُل‘ کو پھول کا رنگ سمجھ لینا – اِس کا مطلب پھول کی خوشبو ہے۔
- اشعار لکھتے وقت قافیہ یا الفاظ بدل دینا – اشعار بعینہٖ یاد کر کے لکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جمنا کے پندرہویں سبق ’قطعات‘ کے شاعر کون ہیں؟
اِس سبق کے چاروں قطعوں کے شاعر نریش کمار شاد (1927–1969) ہیں، جو اپنی سادہ اور تہ دار قطعہ نگاری کے لیے مشہور ہیں۔
پہلے قطعے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
پہلے قطعے کا پیغام یہ ہے کہ کوئی بھی اچھا اور روشن خیال اُسی وقت سود مند ہوتا ہے جب اُسے عمل میں ڈھالا جائے؛ علم پر عمل ہی آگہی کا چراغ روشن کرتا ہے۔
شاعر نے زندگی کو کانچ کا کھلونا کیوں کہا ہے؟
کیونکہ کانچ کا کھلونا نہایت نازک اور جلد ٹوٹ جانے والا ہوتا ہے۔ شاعر اِس تشبیہ سے یہ سمجھاتا ہے کہ زندگی بھی نازک اور قیمتی ہے، اِسے احتیاط اور توازن کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
قطعات کے اشعار اور مشق کے سوالات NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔
