Class 9 Urdu Jamuna Chapter 2 Manoos Ajnabi Solutions (NCERT 2026–27) – مانوس اجنبی
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 2 ‘Manoos Ajnabi’ (مانوس اجنبی) – an afsana (short story) by the celebrated fiction-writer Intizar Husain. You will find the khulasa (summary), word-meanings, original exam-ready answers to every exercise question, tashreeh, extra questions, MCQs, Assertion–Reason and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت اردو کتاب ’جمنا‘ کے دوسرے سبق ’مانوس اجنبی‘ (افسانہنگار: انتظار حسین) کا مکمل حل پیش کرتا ہے — خلاصہ، مشکل الفاظ کے معانی، تمام سوالات کے مولِف کے اپنے الفاظ میں جوابات، تشریح، اضافی سوالات، MCQs اور FAQs کے ساتھ۔
- ادیب کا تعارف (About the Author)
- متن سے اقتباس (Key Excerpt)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)
- سوالات (Exercise Solutions)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق–وجہ (Assertion–Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
ادیب کا تعارف (About the Author)
انتظار حسین (1925–2016) اردو کے ممتاز افسانہنگار، ناولنگار، کالمنگار اور نقاد تھے۔ آپ ضلع بلندشہر (ہندوستان) کے قصبے ڈبائی میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد لاہور ہجرت کر گئے۔ آپ کی تحریروں کا سب سے نمایاں موضوع ہجرت، یادِ ماضی، کھویا ہوا وطن اور تہذیبی شناخت ہے۔ آپ نے داستان، قصص، اساطیر اور مذہبی روایات کے رنگوں کو جدید افسانے میں سمو دیا، جس سے آپ کا اسلوب منفرد اور دلنشین بن گیا۔ ’گلی کوچے‘، ’آخری آدمی‘، ’شہرِ افسوس‘ اور ناول ’بستی‘ آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ آپ کو ’بستی‘ پر بینالاقوامی پہچان ملی اور آپ کئی اعلیٰ ادبی اعزازات سے نوازے گئے۔ 2016ء میں لاہور میں آپ کا انتقال ہوا۔ ’مانوس اجنبی‘ بھی اسی موضوعِ ہجرت اور یادِ ماضی کی عمدہ مثال ہے۔
متن سے اقتباس (Key Excerpt)
(پورا افسانہ یہاں نقل نہیں کیا گیا؛ صرف فضا سمجھانے کے لیے ابتدائی سطریں دی گئی ہیں۔ مکمل متن NCERT کتاب جمنا میں دیکھیے۔)
خلاصہ (Summary)
’مانوس اجنبی‘ انتظار حسین کا ایک نہایت پُراثر افسانہ ہے جس کا مرکزی موضوع ہجرت، یادِ ماضی اور بدلتے ہوئے ماحول میں اجنبیت کا احساس ہے۔ افسانے کا راوی برسوں بعد اپنے پرانے گھر اور محلے کو لوٹتا ہے۔ بچپن کی یادیں، گلی کوچے، پرانے درودیوار اور جانےپہچانے چہرے اس کے ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب وہ حقیقت میں اس جگہ پہنچتا ہے تو سب کچھ بدلا ہوا پاتا ہے۔
گھر، گلی اور محلہ بظاہر وہی ہیں، مگر وقت نے اُن کا رنگروپ تبدیل کر دیا ہے۔ پرانے لوگ یا تو رخصت ہو چکے ہیں یا بدل گئے ہیں۔ جو منظر کبھی مانوس اور اپنا تھا، اب اجنبی محسوس ہوتا ہے۔ راوی ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے — ایک طرف یادوں کی کشش اسے ماضی کی طرف کھینچتی ہے، دوسری طرف بدلی ہوئی حقیقت اسے اجنبیت کا احساس دلاتی ہے۔ وہ اپنے ہی شہر میں ایک مسافر کی طرح کھڑا رہ جاتا ہے۔
افسانہ نگار نہایت لطیف انداز میں یہ بتاتا ہے کہ وقت اور حالات کسی بھی جگہ کو ظاہری طور پر تو باقی رکھ سکتے ہیں، مگر اس کی روح اور اپنائیت بدل دیتے ہیں۔ انسان جب طویل عرصے بعد اپنی جڑوں کی طرف لوٹتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ’واپسی‘ دراصل ممکن نہیں؛ کیونکہ نہ وہ خود پہلے جیسا رہا اور نہ ہی وہ جگہ۔ یہی ”مانوس ہوتے ہوئے بھی اجنبی“ ہونے کا کرب افسانے کا حسن ہے۔ افسانہ قاری کو محبت، یاد، شناخت اور وقت کی بےرحمی پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ سادہ اسلوب، علامتی فضا اور جذباتی گہرائی اس افسانے کو انتظار حسین کے بہترین افسانوں میں شامل کرتی ہے۔
Hindi gist: ‘मानूस अजनबी’ इंतज़ार हुसैन का एक मार्मिक अफ़साना है। बरसों बाद कथावाचक अपने पुराने घर और मोहल्ले लौटता है, पर सब कुछ बदला हुआ पाता है। जगह वही है मगर उसकी अपनापन वाली रूह बदल चुकी है — इसलिए वह जाना-पहचाना होकर भी अजनबी महसूस होता है। कहानी हिजरत, याद और वक़्त की बेरहमी का दर्द बयान करती है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| آراستہ | सजा हुआ | Decorated, adorned |
| طراوت | ताज़गी, ठंडक | Freshness, coolness |
| لبریز | भरा हुआ, छलकता हुआ | Brimful, overflowing |
| عشرہ | दस (का समूह) | A group of ten, a decade |
| گرد و پیش | आस-पास | Surroundings, vicinity |
| غالب | प्रबल, हावी होने वाला | Dominant, overpowering |
| درہم برہم | बिखरा हुआ, अस्त-व्यस्त | Disordered, scattered |
| جارحانہ | हमलावर, आक्रामक | Aggressive, offensive |
| مطلق | बिल्कुल, पूर्णतया | Absolute, entirely |
| سازگار | अनुकूल, मुवाफ़िक़ | Favourable, suitable |
| صحبت | साथ, संगत | Company, companionship |
| شتابی | जल्दी | Haste, quickness |
| اقلیم | मुल्क, वतन, क्षेत्र | Region, country |
| ماورائی | ग़ैरमादी, तसव्वुराती | Transcendental, metaphysical |
| ڈار | झुंड, गिरोह, टोली | Flock, group |
| شرفِ قبولیت | क़बूल होने का सम्मान, मंज़ूरी | Honour of acceptance |
| نفور | नफ़रत, घृणा | Aversion, hatred |
| خلوت | तन्हाई, एकांत | Solitude, seclusion |
| اربابِ شہر | शहर के लोग | Townsfolk, city-dwellers |
| وسعت | फैलाव, विस्तार | Expanse, vastness |
| طالب | तलबगार, इच्छुक | Seeker, desirous |
تشریح / مرکزی خیال (Central Idea)
افسانے کا عنوان ہی اس کا مرکزی خیال ہے — ”مانوس اجنبی“ یعنی ’جاناپہچانا ہوتے ہوئے بھی اجنبی‘۔ یہ بظاہر متضاد ترکیب اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جب کوئی شخص برسوں بعد اپنے گھر یا وطن کی طرف لوٹتا ہے۔ جگہ تو وہی ہوتی ہے جس سے گہری مانوسیت ہوتی ہے، مگر وقت کے بدلاؤ، لوگوں کے رخصت ہونے اور حالات کی تبدیلی نے اسے اجنبی بنا دیا ہوتا ہے۔
انتظار حسین اس کیفیت کے ذریعے انسان کی ہجرت، یادِ ماضی اور شناخت کے بحران کو اجاگر کرتے ہیں۔ افسانہ یہ پیغام دیتا ہے کہ وقت کبھی رکتا نہیں؛ یادیں خوبصورت ہوتی ہیں مگر ماضی کی صورت میں واپسی ممکن نہیں۔ سادہ زبان، علامتی فضا اور داخلی کشمکش کے ذریعے افسانہ نگار قاری کو محبت، اپنائیت، تنہائی اور وقت کی بےرحمی پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی اس افسانے کی اصل خوبصورتی اور اثرانگیزی ہے۔
سوالات (Exercise Solutions)
سوچیے اور بتائیے
(i) افسانے کا راوی برسوں بعد جب اپنے پرانے گھر اور محلے میں پہنچتا ہے تو اسے کیا کیفیت محسوس ہوتی ہے؟
(ii) راوی کو اپنا گھر اور محلہ پہلے جیسا کیوں محسوس نہیں ہوتا؟
(iii) ”مانوس اجنبی“ کا عنوان افسانے کے مضمون سے کس طرح مطابقت رکھتا ہے؟
(iv) اس افسانے میں وقت اور یادِ ماضی کا کیا کردار ہے؟
(v) اس افسانے سے ہمیں کیا پیغام ملتا ہے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے (ضرب الامثال / محاورے)
سبق میں آئے ہوئے محاورات اور ضربالامثال کو سمجھ کر اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔ نمونے کے طور پر:
| محاورہ / ضربالمثل | مفہوم (अर्थ) | جملے میں استعمال |
|---|---|---|
| پرانے زخم تازہ ہونا | भूली बातें फिर याद आना | پرانی گلی میں قدم رکھتے ہی اس کے پرانے زخم تازہ ہو گئے۔ |
| آنکھوں کے سامنے پھر جانا | दृश्य का बार-बार स्मरण होना | بچپن کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ |
| اپنے ہی گھر میں اجنبی ہونا | परिचित जगह में पराया लगना | برسوں بعد لوٹ کر وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گیا۔ |
| وقت کا پہیہ گھومنا | समय का बदलते रहना | وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ سب کچھ بدل گیا۔ |
عملی کام (Practical / Project)
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات
1۔ ’مانوس اجنبی‘ کس صنفِ ادب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے ادیب کون ہیں؟
2۔ افسانے کا مرکزی موضوع کیا ہے؟
3۔ راوی کو واپسی پر سب سے زیادہ کس بات کا احساس ہوا؟
4۔ انتظار حسین کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
5۔ ”مانوس اجنبی“ ترکیب میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے؟
طویل سوالات
1۔ افسانہ ’مانوس اجنبی‘ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
2۔ افسانے کے مرکزی خیال اور پیغام پر روشنی ڈالیے۔
3۔ انتظار حسین کے فن اور اسلوب کا مختصر جائزہ لیجیے۔
MCQ & تصدیق–وجہ (Assertion–Reason)
1۔ ’مانوس اجنبی‘ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟
(الف) غزل (ب) افسانہ (ج) نظم (د) ڈرامہ
2۔ ’مانوس اجنبی‘ کے ادیب کون ہیں؟
(الف) منٹو (ب) قرۃالعین حیدر (ج) انتظار حسین (د) راجندر سنگھ بیدی
3۔ انتظار حسین کا سنِ پیدائش ہے:
(الف) 1912ء (ب) 1925ء (ج) 1935ء (د) 1947ء
4۔ افسانے کا مرکزی موضوع ہے:
(الف) جنگ (ب) ہجرت اور یادِ ماضی (ج) محنت کی عظمت (د) قدرت کا حسن
5۔ راوی برسوں بعد اپنے گھر کو کیسا پاتا ہے؟
(الف) بالکل ویسا ہی (ب) بدلا ہوا (ج) نیا تعمیر شدہ (د) ویران
6۔ ”مانوس اجنبی“ ترکیب میں کون سی صنعت ہے؟
(الف) تضاد (ب) تشبیہ (ج) استعارہ (د) تلمیح
7۔ انتظار حسین کا مشہور ناول کون سا ہے؟
(الف) آگ کا دریا (ب) بستی (ج) اداس نسلیں (د) خدا کی بستی
8۔ تقسیمِ ہند کے بعد انتظار حسین کہاں ہجرت کر گئے؟
(الف) دہلی (ب) لاہور (ج) کراچی (د) لکھنؤ
9۔ افسانے سے ہمیں کیا پیغام ملتا ہے؟
(الف) دولت ہی سب کچھ ہے (ب) وقت کبھی نہیں رکتا، ماضی میں واپسی ممکن نہیں (ج) ہجرت اچھی نہیں (د) شہر گاؤں سے بہتر ہے
10۔ راوی کو اپنے ہی شہر میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
(الف) بادشاہ کی طرح (ب) ایک مسافر/اجنبی کی طرح (ج) مہمان کی طرح (د) فاتح کی طرح
تصدیق–وجہ (Assertion–Reason)
In each, mark: (A) both true & R explains A, (B) both true but R does not explain A, (C) A true R false, (D) A false R true.
1۔ تصدیق (A): راوی کو اپنا گھر اجنبی محسوس ہوتا ہے۔
وجہ (R): وقت گزرنے سے گھر اور محلے کا ماحول بدل چکا ہے۔
جواب: (A) — دونوں درست ہیں اور وجہ تصدیق کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔
2۔ تصدیق (A): ’مانوس اجنبی‘ ایک افسانہ ہے۔
وجہ (R): اس کے مصنف انتظار حسین ایک افسانہنگار ہیں۔
جواب: (B) — دونوں درست ہیں مگر R، A کی براہِ راست وجہ نہیں (صنف خود متن سے طے ہوتی ہے)۔
3۔ تصدیق (A): افسانے کا مرکزی موضوع ہجرت اور یادِ ماضی ہے۔
وجہ (R): انتظار حسین تقسیمِ ہند کے بعد لاہور ہجرت کر گئے تھے۔
جواب: (B) — دونوں بیانات درست ہیں، مگر R موضوع کی واحد و براہِ راست وجہ نہیں۔
4۔ تصدیق (A): ”مانوس اجنبی“ ترکیب میں صنعتِ تضاد ہے۔
وجہ (R): ’مانوس‘ اور ’اجنبی‘ ایک دوسرے کے متضاد الفاظ ہیں۔
جواب: (A) — دونوں درست اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔
5۔ تصدیق (A): راوی ماضی میں واپس جا کر بسنا چاہتا ہے۔
وجہ (R): افسانہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ماضی کی صورت میں واپسی ممکن نہیں۔
جواب: (D) — تصدیق غلط ہے (راوی صرف یاد کرتا ہے، بسنا ممکن نہیں)، جبکہ وجہ درست ہے۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- عنوان ”مانوس اجنبی“ کے تضاد کو سمجھ کر جواب لکھیں — یہی افسانے کی جان ہے۔
- ادیب کا نام، سنِ پیدائش/وفات (1925–2016) اور صنف (افسانہ) ضرور یاد رکھیں۔
- خلاصہ لکھتے وقت ہجرت، یادِ ماضی اور بدلتے وقت کے تینوں نکات شامل کریں۔
- جوابات اپنے الفاظ میں، سادہ اور صاف اردو میں لکھیں؛ غیر ضروری طوالت سے بچیں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- افسانے کو نظم یا غزل سمجھ لینا — یہ نثری صنف ’افسانہ‘ ہے۔
- ادیب کا نام ’انتظار حسین‘ کی جگہ کسی دوسرے افسانہنگار کا لکھ دینا۔
- عنوان کے تضاد (صنعتِ تضاد) کو نظرانداز کر دینا۔
- خلاصے میں صرف کہانی سنانا اور مرکزی پیغام نہ لکھنا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
’مانوس اجنبی‘ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے ادیب کون ہیں؟
’مانوس اجنبی‘ صنفِ افسانہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے ادیب اردو کے مشہور افسانہنگار انتظار حسین (1925–2016) ہیں۔
افسانے کے عنوان ”مانوس اجنبی“ کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب ہے ’جاناپہچانا ہوتے ہوئے بھی اجنبی‘۔ یہ اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جب کوئی برسوں بعد اپنے پرانے گھر یا وطن لوٹتا ہے اور اسے بدلے ہوئے ماحول میں سب کچھ اجنبی محسوس ہوتا ہے۔
اس افسانے کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
افسانے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ وقت کبھی نہیں رکتا اور ماضی کی صورت میں واپسی ممکن نہیں؛ یادیں قیمتی ہیں مگر انسان کو حقیقت کو قبول کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔
نوٹ: سوالات اور مشق کے عنوانات NCERT کتاب ’جمنا‘ سے لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، معانی اور تمام جوابات مولِف کے اپنے الفاظ میں اور امتحانی معیار کے مطابق ہیں۔
