Class 9 Urdu Jamuna Chapter 3 Ghalib ke Khutoot Solutions (NCERT 2026–27) – غالب کے خطوط
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 3 ‘Ghalib ke Khutoot’ (غالب کے خطوط) – two selected letters of Mirza Ghalib in the مکتوب (letter) genre, with the author’s introduction, key excerpts, خلاصہ (summary), مشکل الفاظ کے معانی, تشریح and original, exam-ready answers to every question of the book’s مشق (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے), along with extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs.
یہ صفحہ نویں جماعت اردو کی کتاب ’جمنا‘ کے تیسرے سبق ’غالب کے خطوط‘ کا مکمل حل پیش کرتا ہے — مرزا غالب کے دو منتخب خطوط، اُن کے اقتباسات، مصنف کا تعارف، خلاصہ، مشکل الفاظ کے معانی، تشریح، کتاب کی مشق کے تمام سوالات کے اصل اور امتحان کے لیے تیار جوابات، اضافی سوالات، MCQs اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے ساتھ۔
صنفِ مکتوب کا تعارف
مکتوب (خط) نثر کی وہ صنف ہے جس میں ایک شخص اپنے دل کی بات دوسرے شخص تک تحریری صورت میں پہنچاتا ہے۔ خط کا انداز بے تکلف، سادہ اور قریب قریب وہی ہوتا ہے جو روزمرہ کی گفتگو کا ہوتا ہے، اِسی لیے خطوط کو ادب کا سب سے ذاتی اور دل کے قریب پہلو سمجھا جاتا ہے۔ اردو میں خط نگاری کو باقاعدہ ادبی صنف کا درجہ مرزا غالب نے دیا۔ غالب سے پہلے خطوں میں لمبے چوڑے القاب اور بناوٹی الفاظ بھرے ہوتے تھے، مگر غالب نے یہ سارا تکلف ختم کر کے خط کو سیدھی سادی، بے تکلف اور دوستانہ گفتگو میں بدل دیا۔ اُن کے خطوط میں ہمیں اُن کے حالاتِ زندگی، مزاج، ظرافت اور اُس دور کے دہلی کا نقشہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے خطوط کو اردو نثر کا ایک قیمتی سرمایہ مانا جاتا ہے۔
ادیب کا تعارف – مرزا غالب (1797–1869)
مرزا اسد اللہ خاں غالب اردو اور فارسی کے سب سے بڑے شاعروں اور نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد اور چچا کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اِس لیے زندگی کا بیشتر حصہ تنگ دستی اور پریشانیوں میں گزرا۔ کم عمری ہی میں آپ کا نکاح ہوا اور بعد میں آپ دہلی منتقل ہو گئے، جہاں آپ نے عمر کا بڑا حصہ گزارا۔ غالب کی شاعری میں زندگی، فلسفہ، عشق اور تصوف کے گہرے مضامین ملتے ہیں اور یہی خصوصیت اُنھیں دوسرے شاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ غالب نے اردو خط نگاری کو بھی نیا اسلوب دیا اور اُسے بے تکلف، سادہ اور دلچسپ بنا دیا۔ 1857ء کے ہنگامے اور بہادر شاہ ظفر کے دربار سے وابستگی نے اُن کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ 15 فروری 1869ء کو دہلی میں انتقال کر گئے، مگر آپ کا کلام اور خطوط آج بھی زندہ ہیں۔
متن سے منتخب اقتباسات
(سبق کے دونوں خطوط سے چند سطریں بعینہٖ — یہ غالب کی بے تکلف خط نگاری کی مثال ہیں۔)
خط (۱): — خط کے آغاز کا القاب: ’مشتاقِ پُرسشِ احوالِ ناتمام، سلام‘۔ غالب اپنے مزاج کے مطابق سادہ اور دوستانہ انداز میں اپنا حال اور دہلی کے حالات بیان کرتے ہیں اور خط کے آخر میں صرف ’غالبؔ‘ لکھ کر دستخط کرتے ہیں۔ (بحوالہ متن، تاریخ: ۲۷ نومبر ۱۸۵۸ء)
خط (۲): — دوسرا خط بھی اِسی بے تکلف لہجے میں ہے؛ غالب اپنے مخاطب سے گلہ، خیر خیریت اور دہلی کے بدلے ہوئے حالات کا ذکر کرتے ہیں اور خط کے اختتام پر ’غالبؔ‘ لکھتے ہیں۔ (بحوالہ متن، تاریخ: جون — جولائی ۱۸۵۸ء)
(نوٹ: مکمل خطوط کا متن کتاب میں دیکھیں؛ یہاں صنف اور اسلوب کی وضاحت کے لیے صرف نمائندہ اقتباسات دیے گئے ہیں، تاکہ حقِ اشاعت کا احترام رہے۔)
خلاصہ (Summary)
’غالب کے خطوط‘ کے تحت مرزا غالب کے دو منتخب خط شامل کیے گئے ہیں۔ یہ خطوط 1858ء کے زمانے کے ہیں، یعنی 1857ء کے ہنگامے کے فوراً بعد کا دور، جب دہلی اُجڑ چکی تھی، بہت سے دوست اور عزیز بچھڑ گئے تھے اور شہر کا پرانا رنگ ختم ہو رہا تھا۔ ان خطوں میں غالب اپنے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا حال، اپنی پریشانیاں اور دہلی کے بدلے ہوئے حالات بیان کرتے ہیں۔
پہلے خط میں غالب اپنے مخاطب سے خیر خیریت پوچھتے ہیں، اپنی تنہائی اور غم کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے مخصوص شگفتہ اور ظریفانہ انداز میں زندگی کی بے ثباتی پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح پرانے دوست رخصت ہو گئے اور اب خط ہی وہ ذریعہ رہ گیا ہے جس سے دلوں کا حال ایک دوسرے تک پہنچتا ہے۔ دوسرے خط میں بھی یہی بے تکلف لہجہ ہے؛ غالب گلہ، شکوہ اور محبت کے ملے جلے انداز میں اپنے دوست سے بات کرتے ہیں، اپنی صحت اور مالی حالت کا ذکر کرتے ہیں اور دہلی کی ویرانی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
ان خطوں کی سب سے بڑی خوبی اُن کا سادہ، بے تکلف اور دوستانہ اسلوب ہے۔ غالب نے بھاری بھرکم القاب اور بناوٹ کو ترک کر کے خط کو ایسی گفتگو بنا دیا ہے جیسے دو دوست آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کر رہے ہوں۔ اِسی لیے ان خطوط میں ہمیں نہ صرف غالب کی شخصیت، اُن کا دکھ، اُن کی ظرافت اور اُن کا حوصلہ نظر آتا ہے بلکہ اُس دور کی دہلی کی تہذیب اور حالات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے خطوط کو اردو خط نگاری کا سنگِ میل اور اردو نثر کا قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
हिन्दी सार: इस पाठ में ग़ालिब के दो ख़त शामिल हैं जो 1857 के बाद के उजड़े हुए दिल्ली के दौर के हैं। बेतकल्लुफ़ और दोस्ताना अंदाज़ में ग़ालिब अपना हाल, अपना दुख और दिल्ली के बदले हुए हालात बयान करते हैं। उनके ख़त उर्दू ख़त-निगारी का अहम मील का पत्थर माने जाते हैं।
مشکل الفاظ کے معانی
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| مکتوب | पत्र, ख़त | Letter |
| خطوط | ख़त की जमा, पत्र (बहुवचन) | Letters (plural) |
| مشتاق | उत्सुक, बेक़रार | Eager, longing |
| پُرسشِ احوال | हाल-चाल पूछना | Asking after one’s welfare |
| ناتمام | अधूरा | Incomplete |
| بے تکلف | बिना औपचारिकता, खुलकर | Informal, candid |
| القاب | आदर-सूचक संबोधन | Honorific titles |
| ظرافت | हास्य-विनोद, मज़ाक़ | Wit, humour |
| گلہ / شکوہ | शिकायत, उलाहना | Complaint, reproach |
| احوال | हालात, हाल-चाल | Circumstances, news |
| تنہائی | अकेलापन | Loneliness |
| بے ثباتی | नश्वरता, क्षणभंगुरता | Impermanence |
| ویرانی | उजाड़, सुनसानी | Desolation, ruin |
| تہذیب | सभ्यता, संस्कृति | Culture, civilization |
| اسلوب | शैली, अंदाज़ | Style |
| بے ساختہ | स्वाभाविक, सहज | Spontaneous, natural |
| سنگِ میل | मील का पत्थर | Milestone |
| سرمایہ | पूँजी, धरोहर | Asset, treasure |
| حوصلہ | हिम्मत, साहस | Courage, spirit |
| شگفتہ | प्रसन्न, खिला हुआ (अंदाज़) | Cheerful, lively |
تشریح (مرکزی خیال)
اِس سبق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ خط محض اطلاع پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دلوں کے جوڑنے اور انسان کی شخصیت کو سامنے لانے کا آئینہ ہے۔ غالب کے یہ دونوں خط اِس بات کی بہترین مثال ہیں۔ ان میں غالب نہ تو رسمی القاب کا بوجھ ڈالتے ہیں اور نہ بناوٹی الفاظ کا، بلکہ ایسے سیدھے سادے اور بے تکلف لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کوئی دوست دوست سے باتیں کر رہا ہو۔
ان خطوں میں ایک طرف 1857ء کے بعد کی اُجڑی ہوئی دہلی کا غم اور دوستوں کے بچھڑنے کا دکھ ہے، تو دوسری طرف غالب کی وہ بے مثال ظرافت بھی ہے جو سخت سے سخت حالات میں بھی اُن کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ غالب دکھ کی بات بھی اِس انداز سے کرتے ہیں کہ اُس میں ایک ہلکی سی مسکراہٹ چھپی رہتی ہے۔ یہی توازن — غم اور ظرافت، سادگی اور گہرائی — غالب کے خطوط کو اردو نثر میں منفرد بناتا ہے۔ ان خطوط کے ذریعے قاری غالب کی شخصیت، اُن کے دور اور دہلی کی تہذیب سے بھی روشناس ہوتا ہے اور اچھی نثر لکھنے کا سلیقہ بھی سیکھتا ہے۔
سوالات / مشق (Exercise)
غور کیجیے
۱۔ غالب نے اپنے خطوط کو دوست سے بے تکلف گفتگو بنا دیا۔ غالب کے خط کے انداز پر اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔
۲۔ ان خطوط میں غالب کی شخصیت اور اُس دور کی دہلی کے کون کون سے پہلو سامنے آتے ہیں؟ سوچ کر بتائیے۔
سوچیے اور بتائیے
(i) غالب نے یہ خط کس کو لکھا ہے؟
(ii) غالب اِس خط میں کس بات کی شکایت کرتے ہیں؟
(iii) غالب کے خط میں اُس دور کے کن حالات کا ذکر ملتا ہے؟
(iv) غالب کے خط کا اسلوب کیسا ہے؟
(v) اِن خطوط کو اردو نثر میں کیا مقام حاصل ہے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
۱۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے معانی لکھیے۔
۲۔ نیچے دیے گئے جملوں کے خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پُر کیجیے۔
(نوٹ: کتاب میں خالی جگہوں والے جملوں اور الفاظ کی فہرست صفحے پر دی گئی ہے؛ اوپر کے جوابات اُسی ساخت کے مطابق درست الفاظ کے ساتھ دیے گئے ہیں۔)
گفتگو کیجیے
۱۔ آج کے دور میں موبائل اور ای میل کے ہوتے ہوئے خط کی کیا اہمیت رہ گئی ہے؟ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔
(کتاب کی دیگر سرگرمیاں — آپ کیا کریں، پروجیکٹ، ملاحظہ کیجیے، تخلیقی ہنر، عملی کام اور اِملا — طلبہ کے کرنے کی عملی سرگرمیاں ہیں، جنھیں استاد کی رہنمائی میں مکمل کریں۔)
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات
۱۔ مکتوب (خط) سے کیا مراد ہے؟
۲۔ غالب نے اردو خط نگاری میں کیا انقلاب پیدا کیا؟
۳۔ یہ خطوط کس زمانے کے ہیں اور اُس وقت دہلی کی کیا حالت تھی؟
۴۔ غالب اپنے خط کے آخر میں کس طرح دستخط کرتے ہیں؟
۵۔ غالب کے خطوط کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟
طویل سوالات
۱۔ غالب کے خطوط کے اسلوب کی خصوصیات بیان کیجیے۔
۲۔ ان خطوط سے غالب کی شخصیت کن کن پہلوؤں سے سامنے آتی ہے؟
۳۔ آج کے دور میں خط کی اہمیت پر اپنے خیالات لکھیے۔
MCQ اور تصدیق-وجہ
۱۔ ’غالب کے خطوط‘ کا تعلق نثر کی کس صنف سے ہے؟
(الف) افسانہ
(ب) مکتوب (خط)
(ج) ڈراما
(د) سفرنامہ
۲۔ مرزا غالب کہاں پیدا ہوئے؟
(الف) دہلی
(ب) لکھنؤ
(ج) آگرہ
(د) لاہور
۳۔ غالب کی پیدائش کا سال کون سا ہے؟
(الف) 1797ء
(ب) 1810ء
(ج) 1857ء
(د) 1869ء
۴۔ غالب کا انتقال کس سال ہوا؟
(الف) 1857ء
(ب) 1869ء
(ج) 1875ء
(د) 1888ء
۵۔ غالب کے خطوط کا اسلوب کیسا ہے؟
(الف) رسمی اور بناوٹی
(ب) سادہ اور بے تکلف
(ج) مشکل اور پُر تکلف
(د) خشک اور بے رنگ
۶۔ یہ خطوط کس زمانے کے ہیں؟
(الف) 1820ء کے
(ب) 1840ء کے
(ج) 1858ء کے (1857ء کے بعد)
(د) 1865ء کے
۷۔ غالب خط کے آخر میں کیا لکھ کر دستخط کرتے ہیں؟
(الف) مرزا اسد اللہ خاں
(ب) صرف ’غالبؔ‘
(ج) بندۂ ناچیز
(د) فدوی
۸۔ ان خطوط میں کس شہر کی ویرانی کا ذکر ہے؟
(الف) آگرہ
(ب) لاہور
(ج) دہلی
(د) لکھنؤ
۹۔ غالب کے خطوط میں کون سی خوبی نمایاں ہے؟
(الف) ظرافت اور اپنائیت
(ب) سختی اور رکھائی
(ج) بناوٹ اور تکلف
(د) بے معنویت
۱۰۔ اردو میں خط نگاری کو باقاعدہ ادبی صنف کا درجہ کس نے دیا؟
(الف) میر تقی میر
(ب) مرزا غالب
(ج) سرسید احمد خاں
(د) اقبال
تصدیق-وجہ (Assertion–Reason) — نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ درست انتخاب کیجیے: (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
۱۔ تصدیق (A): غالب کے خطوط اردو خط نگاری کا سنگِ میل ہیں۔
وجہ (R): غالب نے القاب اور تکلف ختم کر کے خط کو سادہ، بے تکلف اور ادبی صنف بنا دیا۔
۲۔ تصدیق (A): یہ خطوط دہلی کی ویرانی اور دوستوں کے بچھڑنے کا غم بیان کرتے ہیں۔
وجہ (R): یہ خطوط 1857ء کے ہنگامے کے بعد کے ہیں، جب دہلی اُجڑ چکی تھی۔
۳۔ تصدیق (A): غالب نے فارسی میں کوئی شاعری نہیں کی۔
وجہ (R): غالب صرف اردو نثر نگار تھے۔
۴۔ تصدیق (A): غالب کے خطوط میں ظرافت اور غم ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔
وجہ (R): غالب مشکل حالات میں بھی اپنی شگفتگی اور ظرافت کو نہیں چھوڑتے۔
۵۔ تصدیق (A): غالب اپنے خطوط میں لمبے چوڑے القاب استعمال کرتے ہیں۔
وجہ (R): غالب نے خط نگاری میں بناوٹ اور تکلف کو فروغ دیا۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- صنف یاد رکھیں — یہ سبق ’مکتوب (خط)‘ کی صنف میں ہے اور ادیب مرزا غالب ہیں۔
- غالب کی تاریخِ پیدائش (1797ء، آگرہ) اور تاریخِ وفات (1869ء، دہلی) ضرور یاد کریں۔
- اسلوب کی تین خوبیاں — سادگی، بے تکلفی اور ظرافت — مثالوں کے ساتھ لکھیں۔
- مشکل الفاظ کے معانی اردو اور ہندی/انگریزی دونوں میں یاد رکھیں۔
- جواب میں خط کے دور (1857ء کے بعد کی دہلی) اور اُس کے حالات کا ذکر ضرور کریں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- صنف کو ’افسانہ‘ یا ’مضمون‘ لکھ دینا — یہ ’مکتوب/خط‘ ہے۔
- غالب کو صرف شاعر سمجھنا — وہ بہترین نثر اور خط نگار بھی تھے۔
- پیدائش کی جگہ آگرہ کے بجائے دہلی لکھ دینا (انتقال دہلی میں ہوا، پیدائش آگرہ میں)۔
- اسلوب کو ’پُر تکلف‘ بتانا — حالانکہ غالب کا کمال ہی بے تکلفی ہے۔
- اردو الفاظ کے ہجے اور اعراب میں غلطی — مشتاق، احوال، ظرافت، ویرانی درست لکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
’غالب کے خطوط‘ کس صنف سے تعلق رکھتے ہیں اور اِن کے ادیب کون ہیں؟
یہ سبق نثر کی صنف ’مکتوب (خط)‘ سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کے ادیب اردو و فارسی کے عظیم شاعر اور نثر نگار مرزا اسد اللہ خاں غالب ہیں۔
غالب کے خطوط کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟
سب سے بڑی خصوصیت سادگی، بے تکلفی اور ظرافت ہے۔ غالب نے بھاری القاب اور بناوٹ ختم کر کے خط کو دو دوستوں کی زندہ گفتگو بنا دیا، اِسی لیے خط نگاری ایک ادبی صنف بنی۔
یہ خطوط کس دور کے ہیں اور اِن میں کس شہر کا ذکر ہے؟
یہ خطوط 1858ء یعنی 1857ء کے ہنگامے کے بعد کے ہیں، اور اِن میں اُجڑی ہوئی دہلی، دوستوں کے بچھڑنے اور بدلے ہوئے حالات کا غم بیان ہوا ہے۔
متن، اقتباسات اور مشق کے سوالات NCERT ’جمنا‘ کتاب کے رینڈر شدہ صفحات سے لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تشریح، معانی اور تمام جوابات ClearStudy کی طرف سے اصل (مولِف کے اپنے الفاظ میں) تیار کیے گئے ہیں۔
