Class 9 Urdu Jamuna Chapter 4 Ajanta aur Ellora Solutions (NCERT 2026–27) – اجنتا اور ایلورا
This page gives complete NCERT solutions for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 4 ‘Ajanta aur Ellora’ (اجنتا اور ایلورا) – an essay (مضمون) by Syed Mubariz uddin Rifat – with author introduction, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every exercise question, plus extra questions, MCQs, Assertion-Reason and FAQs. اس صفحے پر آپ کو جمنا کے چوتھے سبق ‘اجنتا اور ایلورا’ کا تعارف، خلاصہ، مشکل الفاظ کے معنی، تشریح اور تمام سوالات کے مکمل، امتحانی جوابات ملیں گے۔
- ادیب کا تعارف (Author Introduction)
- متن کا کلیدی اقتباس (Key Excerpt)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- مرکزی خیال و تشریح (Central Idea)
- سوالات / مشق (Exercise Solutions)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ اور تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
ادیب کا تعارف (Author Introduction)
سید مبارز الدین رفعت اردو کے ممتاز ادیب، محقق اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 1918ء میں اور وفات 1976ء میں ہوئی۔ وہ حیدرآباد (دکن) سے تعلق رکھتے تھے اور اردو نثر کو سادہ، رواں اور معلوماتی انداز میں لکھنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے 1936ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا اور رسالوں و اخباروں کے ذریعے قارئین تک علم و ادب پہنچایا۔ رفعت کے مضامین میں تاریخ، تہذیب، فن اور سیر و سیاحت کے موضوعات نمایاں ہیں۔ زیرِ نظر مضمون ‘اجنتا اور ایلورا’ میں انھوں نے ہندوستان کے ان عالمی شہرت یافتہ غاروں کی تاریخی، فنی اور تہذیبی اہمیت کو نہایت دل نشین اور آسان زبان میں بیان کیا ہے، جس سے قاری کو وطن کے قدیم ورثے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔
متن کا کلیدی اقتباس (Key Excerpt)
(مضمون سے ایک نمائندہ اقتباس – مرکزی خیال سمجھنے کے لیے۔)
خلاصہ (Summary)
یہ مضمون ہندوستان کے دو عالمی شہرت یافتہ مقامات – اجنتا اور ایلورا کے غاروں – کے بارے میں ہے۔ یہ غار مہاراشٹر (اورنگ آباد کے قریب) میں واقع ہیں اور پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ یہ غار صدیوں کی محنت اور بے پناہ فنی مہارت کا نتیجہ ہیں۔ اجنتا کے غار بدھ مت کی عبادت گاہیں اور خانقاہیں تھیں، جن کی دیواروں اور چھتوں پر کی گئی مصوری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ان تصویروں میں بدھ کی زندگی کے واقعات، جاتک کہانیاں اور اُس دور کی تہذیب و معاشرت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ رنگوں کی تازگی اور خطوط کی نزاکت آج بھی برقرار ہے۔
ایلورا کے غار اجنتا سے کچھ بعد کے ہیں اور یہاں بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے غار موجود ہیں، جو ہندوستان کی مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔ ایلورا کا سب سے شاندار نمونہ ‘کیلاش مندر’ ہے، جسے ایک ہی پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک تراش کر، یعنی ایک ہی پتھر (Monolithic) سے، بنایا گیا ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ ان غاروں کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اُس زمانے میں جدید آلات کے بغیر اتنا عظیم کام کیسے ممکن ہوا۔ یہ مقامات یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں۔ مضمون کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے قدیم فن، ہنر اور تہذیبی ورثے پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
हिन्दी सार: यह निबंध महाराष्ट्र में स्थित अजंता और एलोरा की पहाड़ी गुफाओं पर है, जो प्राचीन भारतीय कला, चित्रकारी और मूर्तिकला के बेजोड़ नमूने हैं। अजंता बौद्ध चित्रकारी के लिए तथा एलोरा (विशेषकर एक ही पत्थर से तराशा कैलाश मंदिर) मूर्तिकला के लिए प्रसिद्ध है। लेखक हमें अपनी इस सांस्कृतिक धरोहर पर गर्व करने और उसकी रक्षा करने की प्रेरणा देते हैं।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ (Urdu) | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| غار | गुफा | Cave |
| سنگ تراشی | पत्थर तराशना / शिल्पकला | Stone carving / sculpture |
| مصوری | चित्रकारी | Painting |
| عبادت گاہ | उपासना स्थल | Place of worship |
| مجسمہ | मूर्ति / प्रतिमा | Statue / sculpture |
| عظمت | महानता / भव्यता | Grandeur / greatness |
| ورثہ | विरासत / धरोहर | Heritage |
| تہذیب | सभ्यता / संस्कृति | Civilization / culture |
| بے مثال | अनुपम / बेजोड़ | Unparalleled |
| حیرت زدہ | आश्चर्यचकित | Astonished |
| رواداری | सहिष्णुता | Tolerance |
| خانقاہ | मठ / आश्रम | Monastery |
| نزاکت | कोमलता / नफ़ासत | Delicacy / fineness |
| تازگی | ताज़गी | Freshness |
| عالمی ورثہ | विश्व धरोहर | World heritage |
| فن و ہنر | कला और कौशल | Art and craft |
| صدیوں | शताब्दियों | Centuries |
| مہارت | निपुणता / दक्षता | Skill / expertise |
| فخر | गर्व | Pride |
| حفاظت | रक्षा / संरक्षण | Protection / conservation |
مرکزی خیال و تشریح (Central Idea & Explanation)
اس مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اجنتا اور ایلورا کے غار ہماری قدیم تہذیب، فن اور ہنر کی بے مثال یادگار ہیں۔ مصنف نے ان غاروں کی تعمیر، ان میں موجود مصوری اور سنگ تراشی، اور ان کے پسِ منظر کو نہایت سادہ اور دل نشین انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ غار صدیوں کی محنت کا ثمر ہیں اور ان کاریگروں کی عظمت کا ثبوت ہیں جنھوں نے بغیر جدید آلات کے پہاڑوں کو تراش کر مندر، عبادت گاہیں اور مجسمے بنائے۔ خاص طور پر ایلورا کا کیلاش مندر، جو ایک ہی پتھر کو تراش کر بنایا گیا، انسانی محنت اور فن کا معجزہ ہے۔ مصنف کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے اس عظیم ورثے کی قدر کرنی چاہیے، اس پر فخر کرنا چاہیے اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
سوالات / مشق (Exercise Solutions)
(مشق کے عنوانات اور سوالات NCERT جمنا کتاب کے صفحات کی تصاویر سے لیے گئے ہیں؛ جوابات ClearStudy کے اصل، امتحانی انداز میں ہیں۔)
سوچیے اور بتائیے
(i) اجنتا اور ایلورا کے غاروں کو کن لوگوں نے کھدوایا اور ان میں کس قسم کے نمونے ملتے ہیں؟
(ii) اجنتا کے غار کس فن کے لیے مشہور ہیں اور ایلورا کے غار کس فن کے لیے؟
(iii) ان غاروں کی تعمیر کب اور کیسے ہوئی؟
(iv) ان غاروں کو دیکھنے کے بعد آپ کے دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
(الف) اس سبق میں بیان کیے گئے دونوں مقامات (اجنتا اور ایلورا) کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟
(ب) کیلاش مندر کی کیا خصوصیت ہے کہ اسے فن کا شاہکار کہا جاتا ہے؟
(ج) مصنف ان غاروں کی حفاظت پر کیوں زور دیتے ہیں؟
معنی اور الفاظ کی مشق
(د) درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے: عظمت، ورثہ، مصوری، سنگ تراشی، رواداری۔
(کتاب میں مشق کے آخر میں ایک لفظی پہیلی/الفاظ کی گرڈ اور خانہ پُری کی سرگرمیاں بھی دی گئی ہیں؛ انھیں استاد کی رہنمائی میں اپنی کاپی پر حل کریں۔)
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
1. اجنتا اور ایلورا کے غار کہاں واقع ہیں؟
2. اجنتا کی مصوری میں کس قسم کے مناظر دکھائے گئے ہیں؟
3. ایلورا کا سب سے مشہور مقام کون سا ہے؟
4. ایلورا کے غاروں کو مذہبی رواداری کی علامت کیوں کہا جاتا ہے؟
5. ان غاروں کو عالمی ورثہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
6. اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی تاریخی اور فنی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
7. اس مضمون سے ہمیں کیا سبق اور پیغام ملتا ہے؟
8. کیلاش مندر کو فن کا معجزہ کیوں کہا جاتا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔
MCQ اور تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. ‘اجنتا اور ایلورا’ مضمون کے مصنف کون ہیں؟
(الف) سید مبارز الدین رفعت
(ب) مرزا غالب
(ج) سر سید احمد خان
(د) پریم چند
2. اس سبق کی صنف کیا ہے؟
(الف) غزل
(ب) مضمون (Essay)
(ج) افسانہ
(د) ڈراما
3. اجنتا اور ایلورا کے غار کس ریاست میں واقع ہیں؟
(الف) راجستھان
(ب) گجرات
(ج) مہاراشٹر
(د) کرناٹک
4. اجنتا کے غار خاص طور پر کس فن کے لیے مشہور ہیں؟
(الف) سنگ تراشی
(ب) مصوری
(ج) خطاطی
(د) موسیقی
5. ایلورا کا سب سے مشہور مندر کون سا ہے؟
(الف) سومناتھ مندر
(ب) کیلاش مندر
(ج) جگن ناتھ مندر
(د) مینا کشی مندر
6. کیلاش مندر کس طرح بنایا گیا ہے؟
(الف) اینٹوں سے
(ب) لکڑی سے
(ج) ایک ہی پتھر کو تراش کر (Monolithic)
(د) سنگ مرمر جوڑ کر
7. ایلورا کے غاروں میں کن مذاہب کے نمونے ملتے ہیں؟
(الف) صرف بدھ
(ب) صرف ہندو
(ج) بدھ، ہندو اور جین
(د) صرف جین
8. اجنتا کی مصوری میں زیادہ تر کس کی زندگی کے واقعات ہیں؟
(الف) مہاتما بدھ
(ب) مہاویر
(ج) اشوک
(د) اکبر
9. ان غاروں کو کس عالمی ادارے نے ورثہ قرار دیا ہے؟
(الف) ورلڈ بینک
(ب) یونیسکو (UNESCO)
(ج) ڈبلیو ایچ او
(د) اقوامِ متحدہ کی فوج
10. اس مضمون کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
(الف) دولت جمع کرنا
(ب) اپنے تہذیبی ورثے پر فخر اور اس کی حفاظت
(ج) جنگ اور دشمنی
(د) تنہائی پسندی
تصدیق-وجہ (Assertion-Reason): نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل چنیے— (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔
1. تصدیق (A): اجنتا کے غار مصوری کے لیے مشہور ہیں۔
وجہ (R): یہاں کی دیواروں اور چھتوں پر بدھ کی زندگی اور جاتک کہانیوں کی رنگین تصویریں بنی ہوئی ہیں۔
2. تصدیق (A): کیلاش مندر کو فن کا شاہکار کہا جاتا ہے۔
وجہ (R): اسے ایک ہی پہاڑ کو تراش کر ایک ہی پتھر سے بنایا گیا ہے۔
3. تصدیق (A): ایلورا کے غار مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔
وجہ (R): یہاں صرف بدھ مذہب کے ہی غار موجود ہیں۔
4. تصدیق (A): ان غاروں کو دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے۔
وجہ (R): یہ ہمارے آبا و اجداد کی غیر معمولی فنی مہارت اور محنت کا ثبوت ہیں۔
5. تصدیق (A): ان غاروں کی حفاظت ضروری ہے۔
وجہ (R): یہ یونیسکو کا عالمی ورثہ اور آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- اجنتا کو ‘مصوری’ اور ایلورا کو ‘سنگ تراشی’ سے جوڑ کر یاد رکھیے – یہی فرق اکثر پوچھا جاتا ہے۔
- کیلاش مندر کی خاص بات – ایک ہی پتھر (Monolithic) سے تراشا جانا – ضرور یاد رکھیے۔
- یہ غار مہاراشٹر میں اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہیں – یہ حقائق نمبر دلاتے ہیں۔
- مشکل الفاظ (ورثہ، رواداری، عظمت، سنگ تراشی) کے معنی اردو، ہندی اور انگریزی میں یاد رکھیے۔
- طویل جواب میں تعارف، تفصیل اور پیغام – تینوں حصے لکھیے۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- اجنتا اور ایلورا کی خصوصیات کو آپس میں خلط ملط کر دینا۔
- ان غاروں کو غلط ریاست (مثلاً راجستھان) میں بتانا – یہ مہاراشٹر میں ہیں۔
- کیلاش مندر کو اینٹوں سے بنا ہوا لکھ دینا – یہ ایک ہی پتھر سے تراشا گیا ہے۔
- صنف کو غزل یا افسانہ لکھ دینا – یہ ایک مضمون (Essay) ہے۔
- مصنف کا نام غلط لکھنا – درست نام سید مبارز الدین رفعت ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
‘اجنتا اور ایلورا’ کے مصنف کون ہیں اور اس کی صنف کیا ہے؟
اس سبق کے مصنف سید مبارز الدین رفعت ہیں اور اس کی صنف مضمون (Essay) ہے۔ یہ مہاراشٹر کے اجنتا اور ایلورا کے تاریخی غاروں کے بارے میں ہے۔
اجنتا اور ایلورا میں کیا فرق ہے؟
اجنتا بنیادی طور پر بدھ مت کی مصوری (چترکاری) کے لیے مشہور ہے، جب کہ ایلورا میں بدھ، ہندو اور جین مذاہب کے غار ہیں اور یہ خاص طور پر سنگ تراشی، یعنی کیلاش مندر کے لیے مشہور ہے۔
کیلاش مندر کی خاص بات کیا ہے؟
کیلاش مندر کو ایک ہی پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک تراش کر، یعنی ایک ہی پتھر (Monolithic) سے بنایا گیا ہے۔ یہی اسے دنیا کے فن کا بے مثال شاہکار بناتا ہے۔
سوالات اور مشق کے عنوانات NCERT جمنا کتاب کے صفحات (تصاویر) سے لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، معنی، تشریح اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّف کردہ اصل مواد ہیں۔
