Class 9 Urdu Jamuna Chapter 4 Ajanta aur Ellora Solutions (NCERT 2026–27) – اجنتا اور ایلورا

This page gives complete NCERT solutions for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 4 ‘Ajanta aur Ellora’ (اجنتا اور ایلورا) – an essay (مضمون) by Syed Mubariz uddin Rifat – with author introduction, خلاصہ (summary), word-meanings, تشریح, and original, exam-ready answers to every exercise question, plus extra questions, MCQs, Assertion-Reason and FAQs. اس صفحے پر آپ کو جمنا کے چوتھے سبق ‘اجنتا اور ایلورا’ کا تعارف، خلاصہ، مشکل الفاظ کے معنی، تشریح اور تمام سوالات کے مکمل، امتحانی جوابات ملیں گے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 4 صنف: مضمون (Essay) ادیب: سید مبارز الدین رفعت Session: 2026–27

ادیب کا تعارف (Author Introduction)

سید مبارز الدین رفعت اردو کے ممتاز ادیب، محقق اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 1918ء میں اور وفات 1976ء میں ہوئی۔ وہ حیدرآباد (دکن) سے تعلق رکھتے تھے اور اردو نثر کو سادہ، رواں اور معلوماتی انداز میں لکھنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے 1936ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا اور رسالوں و اخباروں کے ذریعے قارئین تک علم و ادب پہنچایا۔ رفعت کے مضامین میں تاریخ، تہذیب، فن اور سیر و سیاحت کے موضوعات نمایاں ہیں۔ زیرِ نظر مضمون ‘اجنتا اور ایلورا’ میں انھوں نے ہندوستان کے ان عالمی شہرت یافتہ غاروں کی تاریخی، فنی اور تہذیبی اہمیت کو نہایت دل نشین اور آسان زبان میں بیان کیا ہے، جس سے قاری کو وطن کے قدیم ورثے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

متن کا کلیدی اقتباس (Key Excerpt)

(مضمون سے ایک نمائندہ اقتباس – مرکزی خیال سمجھنے کے لیے۔)

اجنتا اور ایلورا کے غار ہندوستان کے قدیم فن و ہنر کا بے مثال نمونہ ہیں۔ ان پہاڑوں کو تراش کر جو غار، عبادت گاہیں اور مجسمے بنائے گئے ہیں، وہ آج بھی دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہاں کی مصوری اور سنگ تراشی ہماری قدیم تہذیب کی عظمت کا زندہ ثبوت ہے۔

خلاصہ (Summary)

یہ مضمون ہندوستان کے دو عالمی شہرت یافتہ مقامات – اجنتا اور ایلورا کے غاروں – کے بارے میں ہے۔ یہ غار مہاراشٹر (اورنگ آباد کے قریب) میں واقع ہیں اور پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ یہ غار صدیوں کی محنت اور بے پناہ فنی مہارت کا نتیجہ ہیں۔ اجنتا کے غار بدھ مت کی عبادت گاہیں اور خانقاہیں تھیں، جن کی دیواروں اور چھتوں پر کی گئی مصوری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ان تصویروں میں بدھ کی زندگی کے واقعات، جاتک کہانیاں اور اُس دور کی تہذیب و معاشرت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ رنگوں کی تازگی اور خطوط کی نزاکت آج بھی برقرار ہے۔

ایلورا کے غار اجنتا سے کچھ بعد کے ہیں اور یہاں بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے غار موجود ہیں، جو ہندوستان کی مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔ ایلورا کا سب سے شاندار نمونہ ‘کیلاش مندر’ ہے، جسے ایک ہی پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک تراش کر، یعنی ایک ہی پتھر (Monolithic) سے، بنایا گیا ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ ان غاروں کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اُس زمانے میں جدید آلات کے بغیر اتنا عظیم کام کیسے ممکن ہوا۔ یہ مقامات یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں۔ مضمون کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے قدیم فن، ہنر اور تہذیبی ورثے پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

हिन्दी सार: यह निबंध महाराष्ट्र में स्थित अजंता और एलोरा की पहाड़ी गुफाओं पर है, जो प्राचीन भारतीय कला, चित्रकारी और मूर्तिकला के बेजोड़ नमूने हैं। अजंता बौद्ध चित्रकारी के लिए तथा एलोरा (विशेषकर एक ही पत्थर से तराशा कैलाश मंदिर) मूर्तिकला के लिए प्रसिद्ध है। लेखक हमें अपनी इस सांस्कृतिक धरोहर पर गर्व करने और उसकी रक्षा करने की प्रेरणा देते हैं।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظ (Urdu)हिन्दी अर्थEnglish meaning
غارगुफाCave
سنگ تراشیपत्थर तराशना / शिल्पकलाStone carving / sculpture
مصوریचित्रकारीPainting
عبادت گاہउपासना स्थलPlace of worship
مجسمہमूर्ति / प्रतिमाStatue / sculpture
عظمتमहानता / भव्यताGrandeur / greatness
ورثہविरासत / धरोहरHeritage
تہذیبसभ्यता / संस्कृतिCivilization / culture
بے مثالअनुपम / बेजोड़Unparalleled
حیرت زدہआश्चर्यचकितAstonished
رواداریसहिष्णुताTolerance
خانقاہमठ / आश्रमMonastery
نزاکتकोमलता / नफ़ासतDelicacy / fineness
تازگیताज़गीFreshness
عالمی ورثہविश्व धरोहरWorld heritage
فن و ہنرकला और कौशलArt and craft
صدیوںशताब्दियोंCenturies
مہارتनिपुणता / दक्षताSkill / expertise
فخرगर्वPride
حفاظتरक्षा / संरक्षणProtection / conservation

مرکزی خیال و تشریح (Central Idea & Explanation)

اس مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اجنتا اور ایلورا کے غار ہماری قدیم تہذیب، فن اور ہنر کی بے مثال یادگار ہیں۔ مصنف نے ان غاروں کی تعمیر، ان میں موجود مصوری اور سنگ تراشی، اور ان کے پسِ منظر کو نہایت سادہ اور دل نشین انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ غار صدیوں کی محنت کا ثمر ہیں اور ان کاریگروں کی عظمت کا ثبوت ہیں جنھوں نے بغیر جدید آلات کے پہاڑوں کو تراش کر مندر، عبادت گاہیں اور مجسمے بنائے۔ خاص طور پر ایلورا کا کیلاش مندر، جو ایک ہی پتھر کو تراش کر بنایا گیا، انسانی محنت اور فن کا معجزہ ہے۔ مصنف کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے اس عظیم ورثے کی قدر کرنی چاہیے، اس پر فخر کرنا چاہیے اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

سوالات / مشق (Exercise Solutions)

(مشق کے عنوانات اور سوالات NCERT جمنا کتاب کے صفحات کی تصاویر سے لیے گئے ہیں؛ جوابات ClearStudy کے اصل، امتحانی انداز میں ہیں۔)

سوچیے اور بتائیے

(i) اجنتا اور ایلورا کے غاروں کو کن لوگوں نے کھدوایا اور ان میں کس قسم کے نمونے ملتے ہیں؟

جواباجنتا کے غار بدھ مت کے پیروکاروں اور راہبوں نے کھدوائے، جب کہ ایلورا کے غار بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے ماننے والوں نے بنوائے۔ ان میں نہایت خوب صورت مصوری (تصویریں) اور سنگ تراشی (مجسمے و نقش و نگار) کے بے مثال نمونے ملتے ہیں۔

(ii) اجنتا کے غار کس فن کے لیے مشہور ہیں اور ایلورا کے غار کس فن کے لیے؟

جواباجنتا کے غار خاص طور پر مصوری (چترکاری) کے لیے مشہور ہیں؛ یہاں کی دیواروں اور چھتوں پر بدھ کی زندگی اور جاتک کہانیوں کی تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ ایلورا کے غار بنیادی طور پر سنگ تراشی (مجسمہ سازی) کے لیے مشہور ہیں، جن میں کیلاش مندر سب سے نمایاں ہے۔

(iii) ان غاروں کی تعمیر کب اور کیسے ہوئی؟

جوابان غاروں کی تعمیر کئی صدیوں میں ہوئی۔ انھیں پہاڑوں کو اوپر سے نیچے کی طرف تراش کر بنایا گیا، یعنی پتھر کاٹ کاٹ کر غار، ستون، عبادت گاہیں اور مجسمے تیار کیے گئے۔ یہ کام چھینی اور ہتھوڑے جیسے سادہ اوزاروں سے، بے پناہ محنت اور مہارت کے ساتھ انجام دیا گیا۔

(iv) ان غاروں کو دیکھنے کے بعد آپ کے دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟

جوابان غاروں کو دیکھ کر دل حیرت اور فخر سے بھر جاتا ہے۔ یہ سوچ کر تعجب ہوتا ہے کہ جدید مشینوں کے بغیر ہمارے آبا و اجداد نے اتنا عظیم فن پارہ کیسے تخلیق کیا۔ ان مقامات کو دیکھنے سے اپنی قدیم تہذیب اور فن کی عظمت پر فخر محسوس ہوتا ہے اور اس کی حفاظت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

(الف) اس سبق میں بیان کیے گئے دونوں مقامات (اجنتا اور ایلورا) کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟

جواباجنتا بنیادی طور پر بدھ مت سے متعلق ہے اور یہاں مصوری (تصویروں) کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ ایلورا میں بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے غار ہیں اور یہاں سنگ تراشی (مجسمہ سازی) خاص طور پر کیلاش مندر کی صورت میں عروج پر نظر آتی ہے۔

(ب) کیلاش مندر کی کیا خصوصیت ہے کہ اسے فن کا شاہکار کہا جاتا ہے؟

جوابکیلاش مندر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ایک ہی پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک تراش کر، یعنی ایک ہی پتھر (Monolithic) سے بنایا گیا ہے۔ کہیں اینٹ یا الگ پتھر جوڑے نہیں گئے۔ اسی بے مثال محنت، منصوبہ بندی اور فنی مہارت کی وجہ سے اسے فن کا شاہکار کہا جاتا ہے۔

(ج) مصنف ان غاروں کی حفاظت پر کیوں زور دیتے ہیں؟

جوابمصنف زور دیتے ہیں کیونکہ یہ غار ہماری قدیم تہذیب اور فن کا قیمتی ورثہ ہیں۔ یہ مقامات یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و فخر کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ بے مثال خزانہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔

معنی اور الفاظ کی مشق

(د) درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے: عظمت، ورثہ، مصوری، سنگ تراشی، رواداری۔

جواب عظمت (बड़प्पन): اجنتا کے غار ہماری قدیم تہذیب کی عظمت کا ثبوت ہیں۔ ورثہ (धरोहर): یہ غار ہمارا قیمتی قومی ورثہ ہیں۔ مصوری (चित्रकारी): اجنتا کی مصوری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سنگ تراشی (शिल्पकला): ایلورا کی سنگ تراشی بے مثال ہے۔ رواداری (सहिष्णुता): ایلورا کے غار مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔

(کتاب میں مشق کے آخر میں ایک لفظی پہیلی/الفاظ کی گرڈ اور خانہ پُری کی سرگرمیاں بھی دی گئی ہیں؛ انھیں استاد کی رہنمائی میں اپنی کاپی پر حل کریں۔)

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. اجنتا اور ایلورا کے غار کہاں واقع ہیں؟

جوابیہ غار بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں اورنگ آباد (سمبھاجی نگر) کے قریب پہاڑیوں میں واقع ہیں۔ یہ دونوں مقامات اپنی مصوری اور سنگ تراشی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

2. اجنتا کی مصوری میں کس قسم کے مناظر دکھائے گئے ہیں؟

جواباجنتا کی مصوری میں مہاتما بدھ کی زندگی کے واقعات، جاتک کہانیاں اور اُس دور کی تہذیب و معاشرت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان تصویروں کے رنگ آج بھی تازہ معلوم ہوتے ہیں۔

3. ایلورا کا سب سے مشہور مقام کون سا ہے؟

جوابایلورا کا سب سے مشہور مقام کیلاش مندر ہے۔ یہ ایک ہی پتھر کو تراش کر بنایا گیا ہے اور سنگ تراشی کے فن کا بے مثال شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

4. ایلورا کے غاروں کو مذہبی رواداری کی علامت کیوں کہا جاتا ہے؟

جوابکیونکہ یہاں بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے غار اور عبادت گاہیں ایک ہی جگہ موجود ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ امن اور رواداری کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔

5. ان غاروں کو عالمی ورثہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟

جوابان غاروں کی منفرد فنی، تاریخی اور تہذیبی اہمیت کی وجہ سے یونیسکو نے انھیں عالمی ورثہ (World Heritage) کی فہرست میں شامل کیا ہے، تاکہ ان کی حفاظت ہو اور دنیا انھیں اہمیت دے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی تاریخی اور فنی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔

جواباجنتا اور ایلورا کے غار ہندوستان کے قدیم فن، ہنر اور تہذیب کی بے مثال یادگار ہیں۔ یہ پہاڑوں کو تراش کر صدیوں کی محنت سے بنائے گئے۔ اجنتا اپنی مصوری کے لیے مشہور ہے، جہاں بدھ کی زندگی اور جاتک کہانیوں کی رنگین تصویریں بنی ہیں، جن کے رنگ اور خطوط آج بھی تازہ ہیں۔ ایلورا اپنی سنگ تراشی، خاص طور پر کیلاش مندر کے لیے مشہور ہے، جو ایک ہی پتھر سے تراشا گیا ہے۔یہ غار اُس دور کے کاریگروں کی غیر معمولی مہارت اور لگن کا ثبوت ہیں، جنھوں نے سادہ اوزاروں سے ایسے عظیم فن پارے تخلیق کیے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقامات یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں اور پوری دنیا سے سیاح انھیں دیکھنے آتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے فخر اور تحفظ کا سرمایہ ہیں۔

7. اس مضمون سے ہمیں کیا سبق اور پیغام ملتا ہے؟

جواباس مضمون سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہمارا قدیم تہذیبی اور فنی ورثہ نہایت قیمتی ہے اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے۔ اجنتا اور ایلورا کے غار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے آبا و اجداد فن اور ہنر میں کس قدر بلند مقام رکھتے تھے۔ساتھ ہی مصنف ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ایسے قومی ورثے کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان مقامات کو نقصان سے بچانا چاہیے اور آنے والی نسلوں تک محفوظ پہنچانا چاہیے۔ یہ مضمون وطن سے محبت، تاریخ سے دلچسپی اور اپنی تہذیب کے احترام کا جذبہ بھی بیدار کرتا ہے۔

8. کیلاش مندر کو فن کا معجزہ کیوں کہا جاتا ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔

جوابکیلاش مندر کو فن کا معجزہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے کسی الگ پتھر یا اینٹ سے جوڑ کر نہیں بنایا گیا، بلکہ ایک ہی بڑے پہاڑ کو اوپر سے نیچے کی طرف تراش کر تیار کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی یک سنگی (Monolithic) عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔اس کام میں کاریگروں کو پہلے سے پورا نقشہ ذہن میں رکھنا پڑا کیونکہ پتھر کاٹنے کے بعد غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔ بغیر جدید مشینوں کے، صرف چھینی اور ہتھوڑے سے، اتنی نزاکت اور باریکی سے ستون، مجسمے اور نقش و نگار بنانا واقعی ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے انسانی محنت اور فن کا معجزہ کہا جاتا ہے۔

MCQ اور تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. ‘اجنتا اور ایلورا’ مضمون کے مصنف کون ہیں؟

(الف) سید مبارز الدین رفعت

(ب) مرزا غالب

(ج) سر سید احمد خان

(د) پریم چند

جواب(الف) سید مبارز الدین رفعت۔

2. اس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) غزل

(ب) مضمون (Essay)

(ج) افسانہ

(د) ڈراما

جواب(ب) مضمون۔

3. اجنتا اور ایلورا کے غار کس ریاست میں واقع ہیں؟

(الف) راجستھان

(ب) گجرات

(ج) مہاراشٹر

(د) کرناٹک

جواب(ج) مہاراشٹر۔

4. اجنتا کے غار خاص طور پر کس فن کے لیے مشہور ہیں؟

(الف) سنگ تراشی

(ب) مصوری

(ج) خطاطی

(د) موسیقی

جواب(ب) مصوری۔

5. ایلورا کا سب سے مشہور مندر کون سا ہے؟

(الف) سومناتھ مندر

(ب) کیلاش مندر

(ج) جگن ناتھ مندر

(د) مینا کشی مندر

جواب(ب) کیلاش مندر۔

6. کیلاش مندر کس طرح بنایا گیا ہے؟

(الف) اینٹوں سے

(ب) لکڑی سے

(ج) ایک ہی پتھر کو تراش کر (Monolithic)

(د) سنگ مرمر جوڑ کر

جواب(ج) ایک ہی پتھر کو تراش کر۔

7. ایلورا کے غاروں میں کن مذاہب کے نمونے ملتے ہیں؟

(الف) صرف بدھ

(ب) صرف ہندو

(ج) بدھ، ہندو اور جین

(د) صرف جین

جواب(ج) بدھ، ہندو اور جین۔

8. اجنتا کی مصوری میں زیادہ تر کس کی زندگی کے واقعات ہیں؟

(الف) مہاتما بدھ

(ب) مہاویر

(ج) اشوک

(د) اکبر

جواب(الف) مہاتما بدھ۔

9. ان غاروں کو کس عالمی ادارے نے ورثہ قرار دیا ہے؟

(الف) ورلڈ بینک

(ب) یونیسکو (UNESCO)

(ج) ڈبلیو ایچ او

(د) اقوامِ متحدہ کی فوج

جواب(ب) یونیسکو (UNESCO)۔

10. اس مضمون کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) دولت جمع کرنا

(ب) اپنے تہذیبی ورثے پر فخر اور اس کی حفاظت

(ج) جنگ اور دشمنی

(د) تنہائی پسندی

جواب(ب) اپنے تہذیبی ورثے پر فخر اور اس کی حفاظت۔
Answer Key: 1-(الف), 2-(ب), 3-(ج), 4-(ب), 5-(ب), 6-(ج), 7-(ج), 8-(الف), 9-(ب), 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason): نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہیں۔ درست متبادل چنیے— (الف) A اور R دونوں درست، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں درست، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A درست، R غلط۔ (د) A غلط، R درست۔

1. تصدیق (A): اجنتا کے غار مصوری کے لیے مشہور ہیں۔

وجہ (R): یہاں کی دیواروں اور چھتوں پر بدھ کی زندگی اور جاتک کہانیوں کی رنگین تصویریں بنی ہوئی ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

2. تصدیق (A): کیلاش مندر کو فن کا شاہکار کہا جاتا ہے۔

وجہ (R): اسے ایک ہی پہاڑ کو تراش کر ایک ہی پتھر سے بنایا گیا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

3. تصدیق (A): ایلورا کے غار مذہبی رواداری کی علامت ہیں۔

وجہ (R): یہاں صرف بدھ مذہب کے ہی غار موجود ہیں۔

جواب(ج) A درست ہے، مگر R غلط ہے – ایلورا میں بدھ، ہندو اور جین تینوں مذاہب کے غار ہیں۔

4. تصدیق (A): ان غاروں کو دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے۔

وجہ (R): یہ ہمارے آبا و اجداد کی غیر معمولی فنی مہارت اور محنت کا ثبوت ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

5. تصدیق (A): ان غاروں کی حفاظت ضروری ہے۔

وجہ (R): یہ یونیسکو کا عالمی ورثہ اور آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتی ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • اجنتا کو ‘مصوری’ اور ایلورا کو ‘سنگ تراشی’ سے جوڑ کر یاد رکھیے – یہی فرق اکثر پوچھا جاتا ہے۔
  • کیلاش مندر کی خاص بات – ایک ہی پتھر (Monolithic) سے تراشا جانا – ضرور یاد رکھیے۔
  • یہ غار مہاراشٹر میں اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہیں – یہ حقائق نمبر دلاتے ہیں۔
  • مشکل الفاظ (ورثہ، رواداری، عظمت، سنگ تراشی) کے معنی اردو، ہندی اور انگریزی میں یاد رکھیے۔
  • طویل جواب میں تعارف، تفصیل اور پیغام – تینوں حصے لکھیے۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • اجنتا اور ایلورا کی خصوصیات کو آپس میں خلط ملط کر دینا۔
  • ان غاروں کو غلط ریاست (مثلاً راجستھان) میں بتانا – یہ مہاراشٹر میں ہیں۔
  • کیلاش مندر کو اینٹوں سے بنا ہوا لکھ دینا – یہ ایک ہی پتھر سے تراشا گیا ہے۔
  • صنف کو غزل یا افسانہ لکھ دینا – یہ ایک مضمون (Essay) ہے۔
  • مصنف کا نام غلط لکھنا – درست نام سید مبارز الدین رفعت ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

‘اجنتا اور ایلورا’ کے مصنف کون ہیں اور اس کی صنف کیا ہے؟

اس سبق کے مصنف سید مبارز الدین رفعت ہیں اور اس کی صنف مضمون (Essay) ہے۔ یہ مہاراشٹر کے اجنتا اور ایلورا کے تاریخی غاروں کے بارے میں ہے۔

اجنتا اور ایلورا میں کیا فرق ہے؟

اجنتا بنیادی طور پر بدھ مت کی مصوری (چترکاری) کے لیے مشہور ہے، جب کہ ایلورا میں بدھ، ہندو اور جین مذاہب کے غار ہیں اور یہ خاص طور پر سنگ تراشی، یعنی کیلاش مندر کے لیے مشہور ہے۔

کیلاش مندر کی خاص بات کیا ہے؟

کیلاش مندر کو ایک ہی پہاڑ کو اوپر سے نیچے تک تراش کر، یعنی ایک ہی پتھر (Monolithic) سے بنایا گیا ہے۔ یہی اسے دنیا کے فن کا بے مثال شاہکار بناتا ہے۔

سوالات اور مشق کے عنوانات NCERT جمنا کتاب کے صفحات (تصاویر) سے لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، معنی، تشریح اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّف کردہ اصل مواد ہیں۔

Scroll to Top