Class 9 Urdu Jamuna Chapter 7 Ghazal Solutions (NCERT 2026–27) – غزل – خواجہ میر درد

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 7 ‘Ghazal’ (غزل) by the great Sufi poet Khwaja Mir Dard – with the full text of every couplet (اشعار) reproduced verbatim, the poet’s intro, خلاصہ (summary), word-meanings, شعر-by-شعر تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، لسانی سرگرمی، علمی کام), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے ساتویں سبق ’غزل‘ (خواجہ میر درد) کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 7 صنف: غزل (Ghazal) شاعر: خواجہ میر درد Session: 2026–27

سبق کا تعارف (Chapter Overview)

یہ سبق خواجہ میر درد کی ایک مشہور غزل ہے۔ غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور دلکش صنف ہے، جس کے ہر شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں اور ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال رکھتا ہے۔ خواجہ میر درد بنیادی طور پر صوفی شاعر تھے، اِس لیے ان کی غزل میں عشق کا بیان زیادہ تر ’عشقِ حقیقی‘ یعنی خدا سے محبت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ زیرِ مطالعہ غزل میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں خدا کا جلوہ موجود ہے، اور دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھاؤ اُسی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ غزل میں عشق کی بے قراری، آہ و زاری، ہجر کی کیفیت اور محبوب کی بے رخی کو نہایت سادہ مگر پُراثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مقطع میں شاعر نے اپنے تخلص ’درد‘ کے ساتھ عشق کے زور اور سرشاری کا اظہار کیا ہے۔

شاعر کا تعارف – خواجہ میر درد (1720–1785)

خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز اردو شاعر اور بلند پایہ صوفی بزرگ تھے۔ ان کی پیدائش 1720ء (بعض روایات کے مطابق 1721ء) میں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و روحانی گھرانے سے تھا؛ ان کے والد خواجہ محمد ناصر ’عندلیب‘ خود ایک بزرگ اور شاعر تھے۔ میر درد کو اردو غزل کے اُن چند بڑے ناموں میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے میر تقی میر اور مرزا سودا کے ساتھ مل کر اردو شاعری کو عروج بخشا۔ درد کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو تصوف اور عشقِ حقیقی ہے۔ ان کے کلام میں روحانیت، خدا سے محبت، دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی بے بسی کا گہرا احساس ملتا ہے۔ ان کی زبان سادہ، رواں اور بامعنی ہے، اور ہر شعر میں ایک تڑپ اور سوز پایا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 1785ء میں دہلی میں ہوا۔

متن / مکمل غزل (The Ghazal)

(غزل کے تمام اشعار NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)

جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

زورِ عاشق مزاج ہے کوئی
دردؔ کو، قصّہ مختصر دیکھا
— خواجہ میر درد

خلاصہ (Summary)

خواجہ میر درد کی اِس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات کے ہر گوشے میں خدا کا جلوہ موجود ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں نے اِس دنیا میں آ کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو جدھر بھی دیکھا، مجھے تُو (محبوبِ حقیقی، یعنی خدا) ہی نظر آیا۔ یہ صوفیانہ خیال وحدتِ وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر شے میں اُسی کی جھلک ہے۔ آگے شاعر عشق کی بے خودی اور اثر کا ذکر کرتا ہے – محبوب نے جس طرف بھی نظر بھر کر دیکھا، اُس طرف کے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے، یعنی محبوب کی ایک نگاہ میں اِتنی تاثیر ہے کہ دیکھنے والے بے خود ہو جاتے ہیں۔

پھر شاعر اپنی بے قراری بیان کرتا ہے کہ اُس نے فریاد، آہ، نالہ اور زاری – غرض اظہارِ غم کا ہر طریقہ آزما کر دیکھ لیا، مگر محبوب کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اگلے شعر میں وہ شکوہ کرتا ہے کہ محبوب کے ہونٹوں نے اُسے زندگی نہ بخشی، حالانکہ عاشق نے سو سو طرح سے مر کر، یعنی ہر طرح کی تکلیف اٹھا کر دیکھ لی۔ یہاں ’مسیحائی‘ سے مراد حضرت عیسیٰؑ کا مُردوں کو زندہ کرنا ہے – شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے لب میں بھی ایسی ہی تاثیر تھی، مگر اُس نے بے رخی برتی۔ مقطع میں شاعر اپنے تخلص ’درد‘ کے ساتھ کہتا ہے کہ عاشق کا حوصلہ اور جذبہ بہت بلند ہوتا ہے؛ مختصر یہ کہ عشق کا سفر صبر، تڑپ اور قربانی کا سفر ہے۔ اِس طرح پوری غزل عشقِ حقیقی، خدا کے جلوے اور عاشق کی بے قراری کا خوبصورت اظہار ہے۔

Hindi gist: ख़्वाजा मीर दर्द की यह ग़ज़ल सूफ़ियाना है। शायर कहता है — दुनिया में जिधर देखा, उधर तू (ख़ुदा) ही नज़र आया। महबूब की एक नज़र में इतनी ताक़त है कि देखने वाले बेख़ुद हो जाते हैं। आशिक़ ने आह-ज़ारी और हर तरह की तकलीफ़ उठा कर देख ली, फिर भी महबूब बेरुख़ रहा। मक़ते में ‘दर्द’ तख़ल्लुस के साथ शायर इश्क़ के बुलंद हौसले का इज़हार करता है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظहिन्दी अर्थEnglish meaning
جگसंसार, दुनियाThe world
اِدھر اُدھرइधर-उधर, चारों ओरHere and there / all around
نظر آناदिखाई देनाTo be seen / appear
جدھرजिधर, जिस ओरWherever
بدنशरीर, जिस्मBody
خالی ہوناरिक्त हो जाना (यहाँ: बेजान होना)To be emptied (here: lifeless)
آنکھ بھر دیکھناभर नज़र देखना, ध्यान से देखनाTo gaze fully / look intently
نالہविलाप, कराहLament / wailing
فریادपुकार, गुहारCry for help / appeal
آہठंडी साँस, सिसकीSigh / groan
زاریरोना-गिड़गिड़ानाWeeping / supplication
آپ سےस्वयं से, ख़ुद सेBy oneself
لبहोंठLips
مسیحائیमुर्दों को जीवन देना (ईसा मसीह की तरह)To give life (like the Messiah)
سو سو طرحसैकड़ों तरीक़ों सेIn a hundred ways
مر دیکھاमर कर देख लियाTried even dying
زورबल, शक्ति, हौसलाForce / strength / spirit
عاشق مزاجआशिक़ स्वभाव वालाOf a lover’s temperament
قصّہ مختصرसंक्षेप में, क़िस्सा छोटाIn short / to cut it short
دردؔशायर का तख़ल्लुस (उपनाम)The poet’s pen-name (takhallus)

تشریح (Sher-by-Sher Explanation)

شعر 1 (مطلع)

جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
تشریحیہ غزل کا مطلع ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں اِس دنیا میں آیا اور چاروں طرف نظر دوڑائی تو مجھے ہر طرف تُو (محبوبِ حقیقی، خدا) ہی نظر آیا۔ یہ خالص صوفیانہ خیال ہے جو ’وحدتِ وجود‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی کائنات کے ذرّے ذرّے میں اُسی کا جلوہ موجود ہے۔ اِس شعر میں توحید اور خدا کی ہمہ گیر موجودگی کا گہرا فلسفہ سادہ الفاظ میں بیان ہوا ہے۔

شعر 2

جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
تشریحشاعر محبوب کی نگاہ کی تاثیر بیان کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ محبوب نے جس طرف بھی بھر نظر دیکھا، اُس طرف کے لوگوں کے بدن جان سے خالی ہو گئے، یعنی وہ بے خود اور بے جان ہو گئے۔ مطلب یہ کہ محبوب کی ایک نظر میں اِتنی کشش اور تاثیر ہے کہ دیکھنے والا اپنا آپ کھو بیٹھتا ہے۔ یہاں عشق کی بے خودی اور سپردگی کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

شعر 3

نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا
تشریحاِس شعر میں شاعر اپنی بے قراری اور تڑپ بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نالہ، فریاد، آہ اور زاری – غرض اظہارِ غم کا جو طریقہ بھی مجھ سے ہو سکا، میں نے سب کر کے دیکھ لیا۔ مراد یہ کہ عاشق نے محبوب کو منانے اور اپنی فریاد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر ڈالی، مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ شعر عشق میں صبر، تڑپ اور مسلسل کوشش کی تصویر پیش کرتا ہے۔

شعر 4

اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
تشریحیہاں شاعر محبوب کی بے رخی کا شکوہ کرتا ہے۔ ’مسیحائی‘ سے مراد حضرت عیسیٰؑ کا مُردوں کو زندہ کر دینا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم نے سو سو طرح سے مر کر دیکھ لیا، یعنی ہر طرح کی تکلیف اور موت کی سی کیفیت برداشت کی، مگر محبوب کے اُن (شفا بخش) ہونٹوں نے ہماری مسیحائی نہ کی – یعنی ہمیں نئی زندگی نہ بخشی۔ اِس شعر میں محبوب کے لب کی تاثیر کو حضرت مسیح کے معجزے سے تشبیہ دے کر اُس کی بے اعتنائی کا گلہ کیا گیا ہے۔

شعر 5 (مقطع)

زورِ عاشق مزاج ہے کوئی
دردؔ کو، قصّہ مختصر دیکھا
تشریحیہ غزل کا مقطع ہے، جس میں شاعر نے اپنا تخلص ’درد‘ استعمال کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ عاشق کا مزاج اور حوصلہ بہت بلند اور پُرزور ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ ’درد‘ (یعنی شاعر خود) کو لوگوں نے عشق کے اِس بلند جذبے کا حامل پایا۔ اِس شعر میں شاعر اپنی عاشقانہ سرشاری اور بلند ہمتی پر فخر کرتے ہوئے غزل کو ایک بھرپور اختتام دیتا ہے۔ (مقطع وہ شعر ہوتا ہے جس میں شاعر کا تخلص آتا ہے۔)

سوالات و مشق (Exercise)

سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لی گئی ہے؛ جوابات ClearStudy کے مولّفہ ہیں۔ (کتاب کے کئی حصے لسانی سرگرمی، تخلیقی اظہار اور عملی کام پر مبنی ہیں، جن کا مارگ-درشن دیا گیا ہے۔)

سوچیے اور بتائیے

i. ”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ اس مصرع میں ’تو‘ کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟

جواباِس مصرع میں ’تو‘ محبوبِ حقیقی، یعنی خدا کے لیے استعمال ہوا ہے۔ چونکہ خواجہ میر درد صوفی شاعر تھے، اِس لیے ان کے ہاں عشق سے مراد عشقِ حقیقی (خدا سے محبت) ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھائی، خدا ہی کا جلوہ نظر آیا۔

ii. ”جان سے ہو گئے بدن خالی“ سے کیا مراد ہے؟

جواباِس سے مراد یہ ہے کہ محبوب نے جس طرف بھی نظر بھر کر دیکھا، اُس طرف کے لوگ بے خود اور بے جان ہو گئے۔ یعنی محبوب کی نگاہ میں اِتنی تاثیر اور کشش ہے کہ دیکھنے والے اپنی جان اور ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ عشق کی بے خودی اور سپردگی کا علامتی اظہار ہے۔

iii. لبوں کی مسیحائی سے کیا معنی مراد لیے گئے ہیں؟

جواب’مسیحائی‘ کا مطلب ہے حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو زندہ کر دینا یا کسی کو نئی زندگی بخشنا۔ یہاں ’لبوں کی مسیحائی‘ سے مراد یہ ہے کہ محبوب کے ہونٹوں میں بھی وہ شفا بخش تاثیر تھی جو مُردہ دل کو زندہ کر سکتی تھی، مگر اُس نے بے رخی کی اور عاشق کو زندگی (توجہ و التفات) نہ بخشی۔

iv. غزل کے مقطع کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔

جوابمقطع وہ شعر ہے جس میں شاعر کا تخلص آتا ہے۔ اِس غزل کے مقطع ”زورِ عاشق مزاج ہے کوئی / دردؔ کو، قصّہ مختصر دیکھا“ میں شاعر کہتا ہے کہ عاشق کا حوصلہ اور جذبہ بہت بلند اور پُرزور ہوتا ہے۔ مختصراً، لوگوں نے ’درد‘ (شاعر) کو عشق کے اِسی بلند اور پُرجوش مزاج کا حامل پایا۔ شاعر اپنی عاشقانہ سرشاری اور بلند ہمتی پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

خواجہ میر درد کی غزلوں میں ’عشقِ حقیقی‘ کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس غزل کے شعر ”جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا / تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’عشقِ حقیقی‘ کا رنگ نمایاں ہے۔ خواجہ میر درد کے علاوہ دوسرے شاعروں نے بھی تصوف کے مضامین کو اپنی غزلوں میں نظم کیا ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی مدد سے تین ایسے اشعار معلوم کر کے لکھیے جو اسی موضوع کو پیش کرتے ہوں۔

مارگ-درشن و نمونہ اشعار (عشقِ حقیقی / تصوف) i. ”دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار / جب ذرا گردن جھکائی، دیکھ لی“ – (داغ دہلوی) ii. ”لاؤ اپنا حساب جاں والو / مر گئے ہم، خدا کے واسطے دیکھ“ کے انداز کا کوئی صوفیانہ شعر۔ iii. میر تقی میر، خواجہ میر درد یا غالب کا کوئی ایسا شعر جس میں خدا کے جلوے یا وحدتِ وجود کا بیان ہو۔ (طالبِ علم اپنے استاد و ساتھیوں کی مدد سے تین مستند صوفیانہ اشعار منتخب کر کے لکھیں۔)

• غزل کے ایک شعر میں ’قصہ مختصر‘ فقرہ استعمال ہوا ہے۔ اِس میں لفظ ’مختصر‘ ’اختصار‘ سے بنا ہے۔ یعنی ’مختصر‘ کا اختصار مصدر ہے۔ درج ذیل الفاظ کے مصدر معلوم کر کے لکھیے: محترم، معتمد، معتبر، مشترک۔

جواب محترم — مصدر: احترام (یعنی ’احترام‘ سے بنا) معتمد — مصدر: اعتماد معتبر — مصدر: اعتبار مشترک — مصدر: اشتراک

لسانی سرگرمی

نیچے دیے گئے لفظوں کو ملا کر شعر بنائیے: زاری، فریاد، آہ، سے، سو، ہو، کر، نالہ، دیکھا، اور، آپ، سکا۔

جوابدیے گئے سب الفاظ غزل کے تیسرے شعر سے لیے گئے ہیں؛ اِنھیں جوڑ کر یہی شعر بنتا ہے:نالہ، فریاد، آہ اور زاری / آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

تخلیقی اظہار (مارگ-درشن)

سرگرمی – اسکول میں اردو کلب کی جانب سے غزل خوانی کا مقابلہ منعقد کیجیے اور اِس پروگرام کی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

رہنمائی: رپورٹ میں پروگرام کا عنوان، تاریخ و مقام، شرکا اور غزلوں کے نام، فاتح طلبہ کے نام اور اپنا تاثر شامل کیجیے۔ یہ سرگرمی طالبِ علم خود انجام دیں۔

علمی کام (مارگ-درشن)

دیوان میں غزلوں کی ترتیب ردیف یا قافیے کے آخری حرف سے کی جاتی ہے؛ مثلاً پہلے وہ غزلیں رکھی جاتی ہیں جن کے ردیف یا قافیے کا آخری حرف ’الف‘ ہو۔ لائبریری سے میر درد کا مجموعۂ کلام حاصل کیجیے اور ردیف ’الف‘، ’نون‘ اور ’ی‘ سے ختم ہونے والی غزلوں کا انتخاب کیجیے اور ایک چارٹ پر لکھیے۔ میر درد کی شاعری کے بارے میں ایک پیراگراف بھی لکھیے۔

مارگ-درشنطالبِ علم لائبریری سے خواجہ میر درد کا دیوان لے کر اساتذہ کی مدد سے یہ کام انجام دیں۔ میر درد کی شاعری کے بارے میں یاد رہے کہ ان کی شاعری کا غالب رنگ تصوف اور عشقِ حقیقی ہے؛ ان کا کلام سادہ، پُرسوز اور روحانیت سے بھرپور ہے، اور انھیں میر و سودا کے ساتھ اردو غزل کا بڑا ستون مانا جاتا ہے۔

اصطلاحی الفاظ (شعری اصطلاحات)

(کتاب میں دی گئی شعری اصطلاحات کی وضاحت۔)

اصطلاحوضاحت
بحراُن چند موزوں لفظوں کا نام ہے جن پر شعر کا وزن ٹھیک کیا جاتا ہے (یعنی شعر کا آہنگ پیدا کرنے والا وزن)۔
وزندو مصرعوں کی حرکات و سکنات کے برابر ہونے کا نام ہے، یعنی دونوں مصرعوں کے وزن کا برابر ہونا۔
آہنگشاعری کی وہ موسیقی ہے جو الفاظ کے انتخاب اور معنی کے حسنِ ترتیب سے پیدا ہوتی ہے (Rhythm)۔
زمینشعری اصطلاح میں زمین شعر کی بحر اور قافیے سے مل کر بنتی ہے؛ جس بحر اور قافیے میں غزل کے اشعار کہے جائیں، وہی اُس غزل کی زمین کہلاتی ہے۔

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. زیرِ مطالعہ غزل کس شاعر کی ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟

جوابیہ غزل خواجہ میر درد کی ہے اور اِس کی صنف ’غزل‘ ہے۔ خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز صوفی شاعر تھے، اِس لیے اِن کی غزل میں عشقِ حقیقی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔

2. ’مطلع‘ اور ’مقطع‘ سے کیا مراد ہے؟

جوابغزل کے پہلے شعر کو، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہوتا ہے، ’مطلع‘ کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر کو، جس میں شاعر کا تخلص آتا ہے، ’مقطع‘ کہتے ہیں۔ اِس غزل کا مقطع ’درد‘ تخلص پر مشتمل ہے۔

3. غزل کے مطلع میں شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟

جوابمطلع میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا میں جدھر بھی نظر دوڑائی، خدا (محبوبِ حقیقی) ہی کا جلوہ نظر آیا۔ یہ خیال وحدتِ وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں اُسی کی جھلک موجود ہے۔

4. شاعر نے محبوب کو منانے کے لیے کیا کیا کوششیں کیں؟

جوابشاعر نے نالہ، فریاد، آہ اور زاری – یعنی اظہارِ غم کا ہر ممکن طریقہ آزما کر دیکھ لیا۔ اِس کے علاوہ اُس نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا، مگر محبوب نے بے رخی برتی اور اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔

5. خواجہ میر درد کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا ہے؟

جوابخواجہ میر درد کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت تصوف اور عشقِ حقیقی ہے۔ اِن کے کلام میں خدا سے محبت، روحانیت، دنیا کی بے ثباتی اور سوز و گداز پایا جاتا ہے۔ اِن کی زبان سادہ، رواں اور بامعنی ہے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. اِس غزل کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔

جواباِس غزل کا مرکزی خیال عشقِ حقیقی، یعنی خدا سے محبت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھائی، خدا ہی کا جلوہ نظر آیا – کائنات کے ہر گوشے میں اُسی کی جھلک ہے۔ آگے شاعر محبوب کی نگاہ کی تاثیر بیان کرتا ہے کہ اُس کی ایک نظر دیکھنے والوں کو بے خود کر دیتی ہے۔ پھر وہ اپنی بے قراری کا ذکر کرتا ہے کہ آہ و زاری اور سو سو طرح کی تکلیف اٹھانے کے باوجود محبوب بے رخ رہا اور اُس نے اپنے لبوں سے مسیحائی نہ کی۔ مقطع میں شاعر اپنے تخلص ’درد‘ کے ساتھ عاشق کے بلند حوصلے اور سرشاری کا اظہار کرتا ہے۔ یوں پوری غزل خدا کے جلوے، عشق کی بے قراری اور صبر و تڑپ کا خوبصورت بیان ہے۔

7. خواجہ میر درد کی شاعری میں ’عشقِ حقیقی‘ کیسے جھلکتا ہے؟ اِس غزل کی روشنی میں واضح کیجیے۔

جوابخواجہ میر درد بنیادی طور پر صوفی شاعر تھے، اِس لیے اُن کے ہاں عشق سے مراد عشقِ مجازی (انسانی محبت) نہیں بلکہ عشقِ حقیقی (خدا سے محبت) ہے۔ اِس غزل میں یہ رنگ کئی جگہ نمایاں ہے۔ مطلع ”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’تو‘ خدا کے لیے ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ ہر طرف اُسی کا جلوہ ہے – یہ وحدتِ وجود کا تصوف ہے۔ محبوب کی نگاہ کی تاثیر، اُس کے لبوں کی مسیحائی، اور عاشق کی بے قراری بظاہر مجازی محبت کے انداز میں ہیں، مگر درد کے ہاں اِن کے پیچھے خدا کی طلب اور روحانی سرشاری چھپی ہوتی ہے۔ یوں سادہ الفاظ میں شاعر نے دنیا کی بے ثباتی، خدا کی موجودگی اور عشقِ حقیقی کے سوز کو پیش کیا ہے۔

8. غزل ایک صنفِ سخن کے طور پر کن خصوصیات کی حامل ہے؟ اِس سبق کی روشنی میں لکھیے۔

جوابغزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اِس کے ہر شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں اور ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال رکھتا ہے، یعنی الگ الگ اشعار کا موضوع مختلف ہو سکتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو ’مطلع‘ اور آخری شعر کو ’مقطع‘ کہتے ہیں، اور مقطع میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ ہر غزل ایک خاص بحر، قافیہ اور ردیف کی پابند ہوتی ہے، جسے اُس کی ’زمین‘ کہتے ہیں۔ غزل میں عام طور پر عشق و محبت، حسن، فراق، تصوف اور زندگی کے گہرے جذبات بیان کیے جاتے ہیں۔ زیرِ مطالعہ غزل میں خواجہ میر درد نے اِنھی خصوصیات کے ساتھ عشقِ حقیقی کا پُراثر اظہار کیا ہے۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. زیرِ مطالعہ غزل کس شاعر کی ہے؟

(الف) میر تقی میر

(ب) مرزا غالب

(ج) خواجہ میر درد

(د) مرزا سودا

جواب(ج) خواجہ میر درد۔

2. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) نظم

(ب) غزل

(ج) افسانہ

(د) مرثیہ

جواب(ب) غزل۔

3. خواجہ میر درد کا تعلق کس صدی سے ہے؟

(الف) سترہویں صدی

(ب) اٹھارہویں صدی

(ج) انیسویں صدی

(د) بیسویں صدی

جواب(ب) اٹھارہویں صدی۔ (1720–1785)

4. خواجہ میر درد کی شاعری کا غالب رنگ کیا ہے؟

(الف) ہجو

(ب) قصیدہ

(ج) تصوف اور عشقِ حقیقی

(د) جنگی واقعات

جواب(ج) تصوف اور عشقِ حقیقی۔

5. ”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’تو‘ سے مراد کون ہے؟

(الف) دنیا

(ب) محبوبِ حقیقی (خدا)

(ج) دوست

(د) شاعر خود

جواب(ب) محبوبِ حقیقی (خدا)۔

6. ’مسیحائی‘ کا تعلق کس پیغمبر سے ہے؟

(الف) حضرت موسیٰؑ

(ب) حضرت عیسیٰؑ

(ج) حضرت یوسفؑ

(د) حضرت سلیمانؑ

جواب(ب) حضرت عیسیٰؑ (جو مُردوں کو زندہ کر دیتے تھے)۔

7. غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں؟

(الف) مقطع

(ب) مطلع

(ج) ردیف

(د) قافیہ

جواب(ب) مطلع۔

8. اِس غزل میں شاعر کا تخلص کیا ہے؟

(الف) میر

(ب) درد

(ج) سودا

(د) غالب

جواب(ب) درد۔

9. ’قصّہ مختصر‘ کا مفہوم ہے—

(الف) لمبی کہانی

(ب) مختصراً، خلاصہ یہ کہ

(ج) مشکل قصہ

(د) جھوٹی کہانی

جواب(ب) مختصراً، خلاصہ یہ کہ۔

10. وہ شعری اصطلاح جو شعر کی بحر اور قافیے سے مل کر بنتی ہے—

(الف) آہنگ

(ب) وزن

(ج) زمین

(د) ردیف

جواب(ج) زمین۔
جوابات کی کلید: 1-(ج)، 2-(ب)، 3-(ب)، 4-(ج)، 5-(ب)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(ج)۔

تصدیق-وجہ (Assertion–Reason)

ہر سوال میں ایک تصدیق (A) اور ایک وجہ (R) دی گئی ہے۔ بتائیے کہ کون سا درست ہے۔

1. تصدیق (A): اِس غزل میں عشقِ حقیقی کا رنگ نمایاں ہے۔

وجہ (R): خواجہ میر درد ایک صوفی شاعر تھے اور اُن کے ہاں عشق سے مراد خدا سے محبت ہے۔

جوابA اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

2. تصدیق (A): مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ ہر طرف اُسی (خدا) کا جلوہ نظر آیا۔

وجہ (R): یہ خیال وحدتِ وجود کے تصوف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جوابA اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

3. تصدیق (A): غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں۔

وجہ (R): مقطع میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔

جوابA اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے (اِس غزل کے مقطع میں ’درد‘ تخلص آیا ہے)۔

4. تصدیق (A): ’مسیحائی‘ کا مطلب مُردوں کو زندہ کرنا ہے۔

وجہ (R): یہ لفظ حضرت موسیٰؑ کے عصا کے معجزے سے نکلا ہے۔

جوابA درست ہے مگر R غلط ہے۔ ’مسیحائی‘ کا تعلق حضرت عیسیٰؑ (مسیح) سے ہے، جو مُردوں کو زندہ کر دیتے تھے، نہ کہ حضرت موسیٰؑ سے۔

5. تصدیق (A): غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال رکھتا ہے۔

وجہ (R): غزل کے مختلف اشعار کا موضوع الگ الگ ہو سکتا ہے۔

جوابA اور R دونوں درست ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے

  • اشعار من و عن (بعینہٖ) یاد کریں؛ امتحان میں اقتباس پر مبنی سوال میں اشعار درست لکھنے سے پورے نمبر ملتے ہیں۔
  • یاد رکھیں کہ ’تو‘ یہاں خدا (محبوبِ حقیقی) کے لیے ہے – یہی درد کی صوفیانہ شناخت ہے۔
  • مطلع (پہلا شعر) اور مقطع (آخری شعر، جس میں تخلص ’درد‘ ہے) کی تعریف اور پہچان ضرور یاد رکھیں۔
  • ’مسیحائی‘ کو حضرت عیسیٰؑ سے جوڑنا نہ بھولیں۔
  • تشریح میں پہلے شعر کا سادہ مفہوم لکھیں، پھر صوفیانہ/علامتی پہلو واضح کریں۔

عام غلطیاں

  • ’تو‘ کو محض انسانی محبوب سمجھ لینا – درد کے ہاں یہ عشقِ حقیقی (خدا) ہے۔
  • صنف کو غلطی سے نظم یا افسانہ لکھ دینا – یہ ’غزل‘ ہے۔
  • ’مسیحائی‘ کو حضرت موسیٰؑ یا کسی اور سے جوڑ دینا – یہ حضرت عیسیٰؑ سے متعلق ہے۔
  • مطلع اور مقطع کو آپس میں خلط ملط کر دینا۔
  • شاعر کا نام ’میر تقی میر‘ لکھ دینا – یہ غزل ’خواجہ میر درد‘ کی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کلاس 9 کا ساتواں سبق ’غزل‘ کس شاعر کا ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟

یہ غزل خواجہ میر درد کی ہے اور اِس کی صنف ’غزل‘ ہے۔ خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز صوفی شاعر تھے، اِسی لیے اِس غزل میں عشقِ حقیقی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔

”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’تو‘ سے کیا مراد ہے؟

یہاں ’تو‘ سے مراد محبوبِ حقیقی، یعنی خدا ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھائی، خدا ہی کا جلوہ نظر آیا – یہ وحدتِ وجود کا صوفیانہ تصور ہے۔

’لبوں کی مسیحائی‘ سے کیا مراد ہے؟

’مسیحائی‘ کا مطلب ہے حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو زندہ کرنا یا نئی زندگی بخشنا۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے لبوں میں بھی ایسی شفا بخش تاثیر تھی، مگر اُس نے بے رخی کی اور عاشق کو زندگی نہ بخشی۔

اشعار اور سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تعارف، معنی، تشریح اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top