Class 9 Urdu Jamuna Chapter 7 Ghazal Solutions (NCERT 2026–27) – غزل – خواجہ میر درد
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 7 ‘Ghazal’ (غزل) by the great Sufi poet Khwaja Mir Dard – with the full text of every couplet (اشعار) reproduced verbatim, the poet’s intro, خلاصہ (summary), word-meanings, شعر-by-شعر تشریح, and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، پڑھیے سمجھیے اور لکھیے، لسانی سرگرمی، علمی کام), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے ساتویں سبق ’غزل‘ (خواجہ میر درد) کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔
- سبق کا تعارف (Overview)
- شاعر کا تعارف (About the Poet)
- متن / مکمل غزل (The Ghazal)
- خلاصہ (Summary)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح (Sher-by-Sher Explanation)
- سوالات و مشق (Exercise)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
سبق کا تعارف (Chapter Overview)
یہ سبق خواجہ میر درد کی ایک مشہور غزل ہے۔ غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور دلکش صنف ہے، جس کے ہر شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں اور ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال رکھتا ہے۔ خواجہ میر درد بنیادی طور پر صوفی شاعر تھے، اِس لیے ان کی غزل میں عشق کا بیان زیادہ تر ’عشقِ حقیقی‘ یعنی خدا سے محبت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ زیرِ مطالعہ غزل میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں خدا کا جلوہ موجود ہے، اور دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھاؤ اُسی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ غزل میں عشق کی بے قراری، آہ و زاری، ہجر کی کیفیت اور محبوب کی بے رخی کو نہایت سادہ مگر پُراثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مقطع میں شاعر نے اپنے تخلص ’درد‘ کے ساتھ عشق کے زور اور سرشاری کا اظہار کیا ہے۔
شاعر کا تعارف – خواجہ میر درد (1720–1785)
خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز اردو شاعر اور بلند پایہ صوفی بزرگ تھے۔ ان کی پیدائش 1720ء (بعض روایات کے مطابق 1721ء) میں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و روحانی گھرانے سے تھا؛ ان کے والد خواجہ محمد ناصر ’عندلیب‘ خود ایک بزرگ اور شاعر تھے۔ میر درد کو اردو غزل کے اُن چند بڑے ناموں میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے میر تقی میر اور مرزا سودا کے ساتھ مل کر اردو شاعری کو عروج بخشا۔ درد کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو تصوف اور عشقِ حقیقی ہے۔ ان کے کلام میں روحانیت، خدا سے محبت، دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی بے بسی کا گہرا احساس ملتا ہے۔ ان کی زبان سادہ، رواں اور بامعنی ہے، اور ہر شعر میں ایک تڑپ اور سوز پایا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 1785ء میں دہلی میں ہوا۔
متن / مکمل غزل (The Ghazal)
(غزل کے تمام اشعار NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا
اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
زورِ عاشق مزاج ہے کوئی
دردؔ کو، قصّہ مختصر دیکھا
— خواجہ میر درد
خلاصہ (Summary)
خواجہ میر درد کی اِس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات کے ہر گوشے میں خدا کا جلوہ موجود ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں نے اِس دنیا میں آ کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو جدھر بھی دیکھا، مجھے تُو (محبوبِ حقیقی، یعنی خدا) ہی نظر آیا۔ یہ صوفیانہ خیال وحدتِ وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر شے میں اُسی کی جھلک ہے۔ آگے شاعر عشق کی بے خودی اور اثر کا ذکر کرتا ہے – محبوب نے جس طرف بھی نظر بھر کر دیکھا، اُس طرف کے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے، یعنی محبوب کی ایک نگاہ میں اِتنی تاثیر ہے کہ دیکھنے والے بے خود ہو جاتے ہیں۔
پھر شاعر اپنی بے قراری بیان کرتا ہے کہ اُس نے فریاد، آہ، نالہ اور زاری – غرض اظہارِ غم کا ہر طریقہ آزما کر دیکھ لیا، مگر محبوب کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اگلے شعر میں وہ شکوہ کرتا ہے کہ محبوب کے ہونٹوں نے اُسے زندگی نہ بخشی، حالانکہ عاشق نے سو سو طرح سے مر کر، یعنی ہر طرح کی تکلیف اٹھا کر دیکھ لی۔ یہاں ’مسیحائی‘ سے مراد حضرت عیسیٰؑ کا مُردوں کو زندہ کرنا ہے – شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے لب میں بھی ایسی ہی تاثیر تھی، مگر اُس نے بے رخی برتی۔ مقطع میں شاعر اپنے تخلص ’درد‘ کے ساتھ کہتا ہے کہ عاشق کا حوصلہ اور جذبہ بہت بلند ہوتا ہے؛ مختصر یہ کہ عشق کا سفر صبر، تڑپ اور قربانی کا سفر ہے۔ اِس طرح پوری غزل عشقِ حقیقی، خدا کے جلوے اور عاشق کی بے قراری کا خوبصورت اظہار ہے۔
Hindi gist: ख़्वाजा मीर दर्द की यह ग़ज़ल सूफ़ियाना है। शायर कहता है — दुनिया में जिधर देखा, उधर तू (ख़ुदा) ही नज़र आया। महबूब की एक नज़र में इतनी ताक़त है कि देखने वाले बेख़ुद हो जाते हैं। आशिक़ ने आह-ज़ारी और हर तरह की तकलीफ़ उठा कर देख ली, फिर भी महबूब बेरुख़ रहा। मक़ते में ‘दर्द’ तख़ल्लुस के साथ शायर इश्क़ के बुलंद हौसले का इज़हार करता है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| جگ | संसार, दुनिया | The world |
| اِدھر اُدھر | इधर-उधर, चारों ओर | Here and there / all around |
| نظر آنا | दिखाई देना | To be seen / appear |
| جدھر | जिधर, जिस ओर | Wherever |
| بدن | शरीर, जिस्म | Body |
| خالی ہونا | रिक्त हो जाना (यहाँ: बेजान होना) | To be emptied (here: lifeless) |
| آنکھ بھر دیکھنا | भर नज़र देखना, ध्यान से देखना | To gaze fully / look intently |
| نالہ | विलाप, कराह | Lament / wailing |
| فریاد | पुकार, गुहार | Cry for help / appeal |
| آہ | ठंडी साँस, सिसकी | Sigh / groan |
| زاری | रोना-गिड़गिड़ाना | Weeping / supplication |
| آپ سے | स्वयं से, ख़ुद से | By oneself |
| لب | होंठ | Lips |
| مسیحائی | मुर्दों को जीवन देना (ईसा मसीह की तरह) | To give life (like the Messiah) |
| سو سو طرح | सैकड़ों तरीक़ों से | In a hundred ways |
| مر دیکھا | मर कर देख लिया | Tried even dying |
| زور | बल, शक्ति, हौसला | Force / strength / spirit |
| عاشق مزاج | आशिक़ स्वभाव वाला | Of a lover’s temperament |
| قصّہ مختصر | संक्षेप में, क़िस्सा छोटा | In short / to cut it short |
| دردؔ | शायर का तख़ल्लुस (उपनाम) | The poet’s pen-name (takhallus) |
تشریح (Sher-by-Sher Explanation)
شعر 1 (مطلع)
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
شعر 2
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
شعر 3
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا
شعر 4
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
شعر 5 (مقطع)
دردؔ کو، قصّہ مختصر دیکھا
سوالات و مشق (Exercise)
سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لی گئی ہے؛ جوابات ClearStudy کے مولّفہ ہیں۔ (کتاب کے کئی حصے لسانی سرگرمی، تخلیقی اظہار اور عملی کام پر مبنی ہیں، جن کا مارگ-درشن دیا گیا ہے۔)
سوچیے اور بتائیے
i. ”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ اس مصرع میں ’تو‘ کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟
ii. ”جان سے ہو گئے بدن خالی“ سے کیا مراد ہے؟
iii. لبوں کی مسیحائی سے کیا معنی مراد لیے گئے ہیں؟
iv. غزل کے مقطع کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
خواجہ میر درد کی غزلوں میں ’عشقِ حقیقی‘ کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس غزل کے شعر ”جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا / تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’عشقِ حقیقی‘ کا رنگ نمایاں ہے۔ خواجہ میر درد کے علاوہ دوسرے شاعروں نے بھی تصوف کے مضامین کو اپنی غزلوں میں نظم کیا ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی مدد سے تین ایسے اشعار معلوم کر کے لکھیے جو اسی موضوع کو پیش کرتے ہوں۔
• غزل کے ایک شعر میں ’قصہ مختصر‘ فقرہ استعمال ہوا ہے۔ اِس میں لفظ ’مختصر‘ ’اختصار‘ سے بنا ہے۔ یعنی ’مختصر‘ کا اختصار مصدر ہے۔ درج ذیل الفاظ کے مصدر معلوم کر کے لکھیے: محترم، معتمد، معتبر، مشترک۔
لسانی سرگرمی
نیچے دیے گئے لفظوں کو ملا کر شعر بنائیے: زاری، فریاد، آہ، سے، سو، ہو، کر، نالہ، دیکھا، اور، آپ، سکا۔
تخلیقی اظہار (مارگ-درشن)
سرگرمی – اسکول میں اردو کلب کی جانب سے غزل خوانی کا مقابلہ منعقد کیجیے اور اِس پروگرام کی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔
رہنمائی: رپورٹ میں پروگرام کا عنوان، تاریخ و مقام، شرکا اور غزلوں کے نام، فاتح طلبہ کے نام اور اپنا تاثر شامل کیجیے۔ یہ سرگرمی طالبِ علم خود انجام دیں۔
علمی کام (مارگ-درشن)
دیوان میں غزلوں کی ترتیب ردیف یا قافیے کے آخری حرف سے کی جاتی ہے؛ مثلاً پہلے وہ غزلیں رکھی جاتی ہیں جن کے ردیف یا قافیے کا آخری حرف ’الف‘ ہو۔ لائبریری سے میر درد کا مجموعۂ کلام حاصل کیجیے اور ردیف ’الف‘، ’نون‘ اور ’ی‘ سے ختم ہونے والی غزلوں کا انتخاب کیجیے اور ایک چارٹ پر لکھیے۔ میر درد کی شاعری کے بارے میں ایک پیراگراف بھی لکھیے۔
اصطلاحی الفاظ (شعری اصطلاحات)
(کتاب میں دی گئی شعری اصطلاحات کی وضاحت۔)
| اصطلاح | وضاحت |
|---|---|
| بحر | اُن چند موزوں لفظوں کا نام ہے جن پر شعر کا وزن ٹھیک کیا جاتا ہے (یعنی شعر کا آہنگ پیدا کرنے والا وزن)۔ |
| وزن | دو مصرعوں کی حرکات و سکنات کے برابر ہونے کا نام ہے، یعنی دونوں مصرعوں کے وزن کا برابر ہونا۔ |
| آہنگ | شاعری کی وہ موسیقی ہے جو الفاظ کے انتخاب اور معنی کے حسنِ ترتیب سے پیدا ہوتی ہے (Rhythm)۔ |
| زمین | شعری اصطلاح میں زمین شعر کی بحر اور قافیے سے مل کر بنتی ہے؛ جس بحر اور قافیے میں غزل کے اشعار کہے جائیں، وہی اُس غزل کی زمین کہلاتی ہے۔ |
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
1. زیرِ مطالعہ غزل کس شاعر کی ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟
2. ’مطلع‘ اور ’مقطع‘ سے کیا مراد ہے؟
3. غزل کے مطلع میں شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟
4. شاعر نے محبوب کو منانے کے لیے کیا کیا کوششیں کیں؟
5. خواجہ میر درد کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
6. اِس غزل کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
7. خواجہ میر درد کی شاعری میں ’عشقِ حقیقی‘ کیسے جھلکتا ہے؟ اِس غزل کی روشنی میں واضح کیجیے۔
8. غزل ایک صنفِ سخن کے طور پر کن خصوصیات کی حامل ہے؟ اِس سبق کی روشنی میں لکھیے۔
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. زیرِ مطالعہ غزل کس شاعر کی ہے؟
(الف) میر تقی میر
(ب) مرزا غالب
(ج) خواجہ میر درد
(د) مرزا سودا
2. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟
(الف) نظم
(ب) غزل
(ج) افسانہ
(د) مرثیہ
3. خواجہ میر درد کا تعلق کس صدی سے ہے؟
(الف) سترہویں صدی
(ب) اٹھارہویں صدی
(ج) انیسویں صدی
(د) بیسویں صدی
4. خواجہ میر درد کی شاعری کا غالب رنگ کیا ہے؟
(الف) ہجو
(ب) قصیدہ
(ج) تصوف اور عشقِ حقیقی
(د) جنگی واقعات
5. ”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’تو‘ سے مراد کون ہے؟
(الف) دنیا
(ب) محبوبِ حقیقی (خدا)
(ج) دوست
(د) شاعر خود
6. ’مسیحائی‘ کا تعلق کس پیغمبر سے ہے؟
(الف) حضرت موسیٰؑ
(ب) حضرت عیسیٰؑ
(ج) حضرت یوسفؑ
(د) حضرت سلیمانؑ
7. غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں؟
(الف) مقطع
(ب) مطلع
(ج) ردیف
(د) قافیہ
8. اِس غزل میں شاعر کا تخلص کیا ہے؟
(الف) میر
(ب) درد
(ج) سودا
(د) غالب
9. ’قصّہ مختصر‘ کا مفہوم ہے—
(الف) لمبی کہانی
(ب) مختصراً، خلاصہ یہ کہ
(ج) مشکل قصہ
(د) جھوٹی کہانی
10. وہ شعری اصطلاح جو شعر کی بحر اور قافیے سے مل کر بنتی ہے—
(الف) آہنگ
(ب) وزن
(ج) زمین
(د) ردیف
تصدیق-وجہ (Assertion–Reason)
ہر سوال میں ایک تصدیق (A) اور ایک وجہ (R) دی گئی ہے۔ بتائیے کہ کون سا درست ہے۔
1. تصدیق (A): اِس غزل میں عشقِ حقیقی کا رنگ نمایاں ہے۔
وجہ (R): خواجہ میر درد ایک صوفی شاعر تھے اور اُن کے ہاں عشق سے مراد خدا سے محبت ہے۔
2. تصدیق (A): مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ ہر طرف اُسی (خدا) کا جلوہ نظر آیا۔
وجہ (R): یہ خیال وحدتِ وجود کے تصوف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
3. تصدیق (A): غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں۔
وجہ (R): مقطع میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔
4. تصدیق (A): ’مسیحائی‘ کا مطلب مُردوں کو زندہ کرنا ہے۔
وجہ (R): یہ لفظ حضرت موسیٰؑ کے عصا کے معجزے سے نکلا ہے۔
5. تصدیق (A): غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل خیال رکھتا ہے۔
وجہ (R): غزل کے مختلف اشعار کا موضوع الگ الگ ہو سکتا ہے۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے
- اشعار من و عن (بعینہٖ) یاد کریں؛ امتحان میں اقتباس پر مبنی سوال میں اشعار درست لکھنے سے پورے نمبر ملتے ہیں۔
- یاد رکھیں کہ ’تو‘ یہاں خدا (محبوبِ حقیقی) کے لیے ہے – یہی درد کی صوفیانہ شناخت ہے۔
- مطلع (پہلا شعر) اور مقطع (آخری شعر، جس میں تخلص ’درد‘ ہے) کی تعریف اور پہچان ضرور یاد رکھیں۔
- ’مسیحائی‘ کو حضرت عیسیٰؑ سے جوڑنا نہ بھولیں۔
- تشریح میں پہلے شعر کا سادہ مفہوم لکھیں، پھر صوفیانہ/علامتی پہلو واضح کریں۔
عام غلطیاں
- ’تو‘ کو محض انسانی محبوب سمجھ لینا – درد کے ہاں یہ عشقِ حقیقی (خدا) ہے۔
- صنف کو غلطی سے نظم یا افسانہ لکھ دینا – یہ ’غزل‘ ہے۔
- ’مسیحائی‘ کو حضرت موسیٰؑ یا کسی اور سے جوڑ دینا – یہ حضرت عیسیٰؑ سے متعلق ہے۔
- مطلع اور مقطع کو آپس میں خلط ملط کر دینا۔
- شاعر کا نام ’میر تقی میر‘ لکھ دینا – یہ غزل ’خواجہ میر درد‘ کی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جمنا کلاس 9 کا ساتواں سبق ’غزل‘ کس شاعر کا ہے اور اِس کی صنف کیا ہے؟
یہ غزل خواجہ میر درد کی ہے اور اِس کی صنف ’غزل‘ ہے۔ خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز صوفی شاعر تھے، اِسی لیے اِس غزل میں عشقِ حقیقی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔
”تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا“ میں ’تو‘ سے کیا مراد ہے؟
یہاں ’تو‘ سے مراد محبوبِ حقیقی، یعنی خدا ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دنیا میں جدھر بھی نظر اٹھائی، خدا ہی کا جلوہ نظر آیا – یہ وحدتِ وجود کا صوفیانہ تصور ہے۔
’لبوں کی مسیحائی‘ سے کیا مراد ہے؟
’مسیحائی‘ کا مطلب ہے حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو زندہ کرنا یا نئی زندگی بخشنا۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے لبوں میں بھی ایسی شفا بخش تاثیر تھی، مگر اُس نے بے رخی کی اور عاشق کو زندگی نہ بخشی۔
اشعار اور سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ خلاصہ، تعارف، معنی، تشریح اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔
