Class 9 Urdu Jamuna Chapter 9 Ghazal Solutions (NCERT 2026–27) – غزل – تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 9 ‘Ghazal’ (غزل) by Ameer Meenai (امیر مینائی) – the famous ghazal ‘Teer khane ki hawas hai to jigar paida kar’ – with poet intro, all اشعار transcribed verbatim, خلاصہ (gist), word-meanings, تشریح (explanation of every couplet), and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، صنعتِ مراعاۃ النظیر، معنی، صنعتِ تضاد، محاورے، لسانی سرگرمی، گفتگو، تلاش، پروجیکٹ، عملی کام), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے نویں سبق — امیر مینائی کی غزل ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر‘ — کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔

Class: 9 Subject: Urdu Book: Jamuna (جمنا) Chapter: 9 صنف: غزل (Ghazal) شاعر: امیر مینائی Session: 2026–27

سبق کا تعارف (Chapter Overview)

یہ سبق امیر مینائی کی ایک مشہور و معروف غزل ہے، جس کا مطلع ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر، سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘ ہے۔ یہ غزل دراصل عشق و محبت کی روایتی غزل سے آگے بڑھ کر ہمت، حوصلے، قربانی اور جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے بڑی قربانی اور بڑا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ آزادی کی خوشبو پھیلانی ہو، محبوب کا دیدار کرنا ہو یا غم کی رات میں صبح لانی ہو – ہر منزل کے لیے اپنے اندر اُسی کے مطابق جذبہ اور صلاحیت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ انسان کو ہر آرزو کے ساتھ اُس کے لائق ظرف، ہمت اور قربانی کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔

شاعر کا تعارف – امیر مینائی (1828–1900)

امیر مینائی کا اصل نام امیر احمد تھا اور وہ 1828ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ’مینائی‘ اُن کا خاندانی نسبتی نام ہے۔ وہ اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ عربی زبان و ادب پر بھی گہری دسترس رکھتے تھے اور علمِ تصوف، فقہ اور لغت میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ابتدا میں وہ واجد علی شاہ کے دربارِ اودھ سے وابستہ رہے اور بعد میں ریاستِ رام پور اور پھر ریاستِ حیدرآباد سے منسلک ہوئے۔ امیر مینائی اپنے عہد کے مشہور استاد شاعر تھے اور داغ دہلوی کے ہم عصر سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں زبان کی صفائی، روانی، سلاست اور لطیف خیال آرائی نمایاں ہے۔ اُن کے کلام میں عشقیہ رنگ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور تصوفانہ پہلو بھی ملتے ہیں۔ اُن کی مشہور تصانیف میں ’مراۃ الغیب‘ اور دیوان ’صنمِ خانۂ عشق‘ شامل ہیں۔ امیر مینائی کا انتقال 1900ء میں حیدرآباد میں ہوا۔

منتخب اشعار / متنِ غزل (The Ghazal — verbatim)

(غزل کے تمام اشعار NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا
نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر
اے فلک! آہ میں اتنا تو اثر پیدا کر

اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخِ کہن
جب میں جانوں کہ شبِ غم کی سحر پیدا کر

صدمے الفت کے اٹھانے ہیں ابھی مشکل
دل اگر ایک دیا، لاکھ جگر پیدا کر

عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ
دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر
— امیر مینائی

خلاصہ (Summary / Gist)

یہ غزل امیر مینائی کے بلند خیال اور پُرعزم لہجے کی عمدہ مثال ہے۔ غزل کے مطلع میں شاعر یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جو شخص بڑی آرزو رکھتا ہے، اُسے اُس کے لائق ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے – تیر سہنے کی خواہش ہے تو جگر (حوصلہ) پیدا کرو، اور سرفروشی (جان دینے) کی تمنا ہے تو پہلے ویسا حوصلہ مند سر پیدا کرو۔ دوسرے شعر میں شاعر آزادی کا پیغام دیتا ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے ساتھ ہر طرف پھیل جاتی ہے، اِسی طرح آزادی کی خوشبو پھیلانے کے لیے سفر اور جدوجہد کا شوق پیدا کرنا چاہیے۔

آگے شاعر کہتا ہے کہ محبوب (خدا) کا جلوہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس دیکھنے والی نظر چاہیے – دیدار کا شوق ہے تو پہلے دیکھنے کی صلاحیت اور بصیرت پیدا کرو۔ پھر وہ آسمان (فلک) سے فریاد کرتا ہے کہ اُس کی آہ میں اتنا اثر ہو کہ بجلی بن کر اُسی کے دل پر گرے۔ ایک شعر میں شاعر پرانے آسمان (چرخِ کہن) سے کہتا ہے کہ تیری مسلسل گردش تبھی کارگر ہے جب تُو غم کی رات کے بعد سکھ کی صبح بھی لائے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ ہر بڑی منزل کے لیے بڑا حوصلہ، صبر اور قربانی درکار ہوتی ہے، اور انسان کو محض آرزو نہیں بلکہ اُس کے لائق ظرف اور ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ مقطع میں شاعر تخلص (امیرؔ) کے ساتھ کہتا ہے کہ عشق کا حوصلہ رکھنے والے کو لوہے جیسا مضبوط دل اور پتھر جیسا سخت جگر بنانا پڑتا ہے۔

Hindi gist: अमीर मीनाई की यह ग़ज़ल हिम्मत, हौसले और क़ुर्बानी का पैग़ाम देती है। शायर कहता है कि बड़ी आरज़ू के लिए वैसा ही बड़ा हौसला और जिगर पैदा करना पड़ता है — तीर खाने की चाह है तो जिगर पैदा करो, दीदार चाहते हो तो देखने वाली नज़र पैदा करो। हर मंज़िल के लिए उसके लायक़ हिम्मत और सब्र ज़रूरी है।

مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)

لفظहिन्दी अर्थEnglish meaning
ہوسलालच, तीव्र इच्छाGreed, intense desire
جگرहिम्मत, साहस; कलेजाCourage, fortitude; liver
سرفروشیजान न्योछावर करना, बलिदानSelf-sacrifice, martyrdom
تمناइच्छा, आरज़ूWish, longing
نکہتख़ुशबू, महकFragrance, scent
گلफूलFlower, rose
شوقِ سفرयात्रा/जद्दोजहद का शौक़Zeal for the journey / struggle
جاजगह, स्थानPlace
جلوہझलक, नज़ारा, दर्शनGlimpse, manifestation
معشوقप्रियतम, माशूक़The beloved
دیدارदर्शन, देखनाSight, seeing (the beloved)
نظرदृष्टि, देखने की क्षमता/बसीरतSight, vision, insight
فلکआसमानSky, heavens
آہठंडी साँस, फ़र्यादSigh, lament
اثرप्रभाव, असरEffect, influence
چرخِ کہنपुराना आसमान, गर्दिशे-ज़मानाThe old sky / fate, time
گردشघूमना, चक्कर; उतार-चढ़ावRevolving; vicissitude
شبِ غمग़म की रातNight of sorrow
سحرसुबह, भोरDawn, morning
الفتमुहब्बत, प्रेमLove, affection
صدمہआघात, चोट, दुखShock, blow, grief
حوصلہहिम्मत, धैर्य, हौसलाCourage, resolve

تشریح (Explanation of اشعار)

شعر 1 (مطلع)

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

شاعر کہتا ہے کہ اگر تجھے تیر سہنے (مصیبت جھیلنے) کی آرزو ہے تو پہلے اپنے اندر اُتنا بڑا جگر یعنی حوصلہ اور برداشت پیدا کر۔ اِسی طرح اگر تُو جان قربان کرنے (سرفروشی) کا خواہش مند ہے تو پہلے ویسا ہی بہادر اور قربانی کے لیے تیار سر پیدا کر۔ مطلب یہ کہ ہر بڑی خواہش کے لیے اُس کے لائق ہمت اور صلاحیت بھی ضروری ہے۔

شعر 2

رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا
نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر

شاعر اِس دنیا (باغ) میں آزادی کا رنگ پھیلانے کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے دوش پر سفر کر کے ہر طرف پھیل جاتی ہے، اِسی طرح آزادی کا پیغام پھیلانے کے لیے بھی تجھے سفر، جدوجہد اور قربانی کا شوق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ شعر آزادی اور حرکت و عمل کا حوصلہ افزا پیغام دیتا ہے۔

شعر 3

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

اِس شعر میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں محبوب (خدا) کا جلوہ موجود نہ ہو؛ اُس کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہیں۔ مسئلہ دیکھنے والی نظر کا ہے۔ اگر تجھے دیدار کا شوق ہے تو پہلے اپنے اندر دیکھنے والی بصیرت اور پاکیزہ نظر پیدا کر، تب ہر شے میں محبوب کا جلوہ دکھائی دے گا۔

شعر 6

صدمے الفت کے اٹھانے ہیں ابھی مشکل
دل اگر ایک دیا، لاکھ جگر پیدا کر

شاعر کہتا ہے کہ محبت کے راستے میں بے شمار صدمے اور دکھ اٹھانے پڑتے ہیں، اور یہ آسان نہیں۔ قدرت نے انسان کو ایک ہی دل دیا ہے، مگر عشق کی مشکلیں جھیلنے کے لیے ایک دل کافی نہیں۔ اِس لیے شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک دل ملا ہے تو اُس کے ساتھ لاکھ جگر (بے پناہ حوصلہ) بھی پیدا کر، تاکہ محبت کے صدمے برداشت کیے جا سکیں۔

شعر 7 (مقطع)

عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ
دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر

مقطع میں شاعر اپنے تخلص ’امیرؔ‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے امیر! اگر تُو واقعی عشق کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو محض جذبہ کافی نہیں۔ تجھے لوہے جیسا مضبوط دل اور پتھر جیسا سخت و مستحکم جگر بنانا ہوگا، تاکہ تُو عشق کی آزمائشوں اور مشکلوں کا مقابلہ کر سکے۔ یہ شعر بھی پوری غزل کے مرکزی پیغام — ہمت اور پختہ حوصلے — کو دہراتا ہے۔

سوالات و مشق (Exercise)

سوچیے اور بتائیے

(i) ’نکہتِ گل‘ کی طرح ’شوقِ سفر‘ پیدا کرنے کو کیوں کہا گیا ہے؟

جوابپھول کی خوشبو (نکہتِ گل) ایک جگہ ٹھہری نہیں رہتی، بلکہ ہوا کے ساتھ سفر کر کے ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ آزادی کا پیغام بھی اِسی خوشبو کی طرح ہر سو پھیلے۔ اِسی لیے اُس نے ’نکہتِ گل‘ کی طرح ’شوقِ سفر‘ یعنی مسلسل حرکت، جدوجہد اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کو کہا ہے، تاکہ آزادی کا رنگ ساری دنیا میں پھیل سکے۔

(ii) ’آہ میں بجلی کا اثر پیدا کرنے‘ کے معنی کیا ہیں؟

جواباِس کا مطلب ہے کہ شاعر اپنی آہ و فریاد میں اتنی شدت اور تاثیر پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ بجلی کی طرح کارگر ہو۔ یعنی اُس کی فریاد بے اثر نہ رہے، بلکہ آسمان تک پہنچ کر اپنا اثر دکھائے اور اُسی کے دل پر بجلی بن کر گرے۔ یہ تڑپ، شدتِ جذبہ اور اثرانگیزی کی علامت ہے۔

(iii) ’شبِ غم کی سحر‘ پیدا کرنے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

جواب’شبِ غم کی سحر پیدا کرنا‘ کا مطلب ہے دکھ اور تکلیف کی رات کے بعد خوشی اور راحت کی صبح لانا۔ شاعر آسمان (چرخِ کہن) سے کہتا ہے کہ اُس کی مسلسل گردش تبھی بامقصد ہے جب وہ غم کے اندھیرے کے بعد سکھ کا اجالا بھی لائے۔ یہ امید اور بہتر مستقبل کی علامت ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔

(iv) ’لوہے کا دل اور پتھر کا جگر‘ سے کیا مراد ہے؟

جواب’لوہے کا دل‘ اور ’پتھر کا جگر‘ سے مراد نہایت مضبوط حوصلہ، پختہ ارادہ اور بے پناہ برداشت ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ عشق اور بڑے مقاصد کی راہ میں اتنی آزمائشیں آتی ہیں کہ اُن کا مقابلہ صرف انتہائی مضبوط دل اور مستحکم جگر ہی کر سکتا ہے۔ یعنی کمزور دل والے یہ راستہ طے نہیں کر سکتے۔

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے (صنعتِ مراعاۃ النظیر)

اِس شعر میں جن الفاظ میں صنعتِ مراعاۃ النظیر استعمال ہوئی ہے، اُنھیں تلاش کر کے لکھیے—
رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا / نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر

جوابصنعتِ مراعاۃ النظیر اُس صنعت کو کہتے ہیں جس میں ایک ہی موضوع یا مناسبت سے تعلق رکھنے والے کئی الفاظ ایک ساتھ لائے جائیں۔ اِس شعر میں رنگ، باغ، نکہت، گل — یہ تمام الفاظ باغ اور پھول کی مناسبت سے ہیں، اِس لیے اِن میں صنعتِ مراعاۃ النظیر پائی جاتی ہے۔

(معنی کے اعتبار سے ضد / صنعتِ تضاد)

اِس شعر میں صنعتِ تضاد تلاش کر کے لکھیے—
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے / جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے

جوابصنعتِ تضاد اُس صنعت کو کہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کی ضد رکھنے والے الفاظ شعر میں لائے جائیں۔ اِس شعر میں زمیں اور آسماں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اِسی طرح ’تیرے لیے‘ اور ’جہاں کے لیے‘ میں بھی تضاد کی کیفیت ہے، اِس لیے یہاں صنعتِ تضاد پائی جاتی ہے۔

محاورے (جگر، سر، دل، نظر)

سبق میں آئے الفاظ ’جگر، سر، دل، نظر‘ سے متعلق اردو میں متعدد محاورے مستعمل ہیں۔ اِن کے معنی لکھ کر اِنھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔

جواب
محاورہمعنیجملہ
جگر تھام کر بیٹھناصبر و ضبط سے کام لینابُری خبر سن کر سب جگر تھام کر بیٹھ گئے۔
سر دھڑ کی بازی لگاناجان کی پروا کیے بغیر جدوجہد کرناسپاہیوں نے وطن کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
دل پر پتھر رکھنابڑے دکھ کو ضبط کرناماں نے دل پر پتھر رکھ کر بیٹے کو پردیس بھیجا۔
نظر پھیر لینابے رخی برتنا، بے توجہی کرنادولت آتے ہی اُس نے پرانے دوستوں سے نظر پھیر لی۔

لسانی سرگرمی (حرفِ تخصیص اور مرکب لفظ)

(الف) شعر ’میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر‘ میں لفظ ’مرے‘ اور ’اثر‘ پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ’حرفِ تخصیص‘ کہلاتے ہیں۔ ’ہی‘ جیسے حروفِ تخصیص استعمال کر کے دو جملے لکھیے۔

جواب(i) صرف محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
(ii) یہ کام تم ہی بہتر طور پر کر سکتے ہو۔
(یہاں ’صرف‘، ’ہی‘ حروفِ تخصیص ہیں جو کسی بات کو خاص کرتے ہیں۔)

(ب) ’نکہتِ گل‘ ایک مرکب لفظ ہے جو دو الفاظ کے درمیان زیر کی اضافت سے بنا ہے۔ غزل میں ایسے دو دیگر مرکب الفاظ تلاش کیجیے۔

جوابغزل میں ایسے مرکب الفاظ ہیں— شوقِ سفر، جلوۂ معشوق، شوقِ دیدار، چرخِ کہن اور شبِ غم۔ اِن سب میں دو الفاظ اضافت (زیر یا ہمزہ) کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔

گفتگو کیجیے

یہ غزل کا پہلا شعر ہے— ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘۔ اِسے غزل کا پہلا شعر کیا کہتے ہیں؟ اِس کی کیا خوبی ہے؟ ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔

جوابغزل کے پہلے شعر کو ’مطلع‘ کہتے ہیں۔ اِس کی خاص خوبی یہ ہے کہ مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں (یہاں قافیہ ’جگر، سر‘ اور ردیف ’پیدا کر‘ ہے)۔ مطلع سے غزل کی بحر اور زمین کا اندازہ ہو جاتا ہے اور یہ پوری غزل کا تعارف کراتا ہے۔ (طلبہ آپس میں اِس پر گفتگو کریں۔)

تلاش کیجیے

درج ذیل مفہوم والے اشعار تلاش کیجیے اور لکھیے—

(الف) جاں بازی اور قربانی کا جذبہ

جوابتیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

(ب) پھول کی خوشبو

جوابرنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا / نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر

آپ کی رائے

اِس غزل میں شوقِ سفر کے معنی مسلسل جدوجہد بھی ہے۔ آپ اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔

جوابمیرے نزدیک تعلیمی سفر بھی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ جیسے پھول کی خوشبو سفر کر کے پھیلتی ہے، اِسی طرح علم بھی محنت، لگن اور مسلسل کوشش سے حاصل ہوتا ہے۔ راستے میں مشکلیں آتی ہیں، مگر حوصلہ اور تسلسل رکھنے والا ہی منزل تک پہنچتا ہے۔ (طلبہ اپنی رائے اپنے الفاظ میں لکھیں۔)

پروجیکٹ

’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘ — اِس شعر پر غور کیجیے۔ اِن الفاظ جیسی ہم آواز الفاظ پر مشتمل دیگر اشعار تلاش کر کے لکھیے۔

جوابیہ تخلیقی و تلاشی کام طلبہ خود اپنی نصابی کتاب، دیوان اور لائبریری کی مدد سے انجام دیں۔ ہم آواز (ہم قافیہ) الفاظ جیسے ’جگر، سر، نظر، اثر، سحر‘ پر مشتمل اشعار مختلف شعرا کے کلام سے چن کر کاپی میں لکھیں۔ (رہنمائی فراہم کر دی گئی ہے۔)

عملی کام

بیت بازی کے لیے ایک ڈائری بنائیے جس میں الف سے لے کر ’ی‘ تک ہر حرف لکھ لیجیے اور ہر حرف کے لیے زیادہ سے زیادہ اشعار تلاش کر کے اپنی ڈائری میں لکھیے۔

جوابیہ عملی و سرگرمی پر مبنی کام ہے جو طالبِ علم خود انجام دے۔ ایک ڈائری بنا کر ہر حرف (الف، ب، پ … ی) کے لیے اُس حرف سے شروع ہونے والے اشعار جمع کر کے لکھیں، تاکہ بیت بازی میں مدد ملے۔ (رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔)

اضافی سوالات (Extra Questions)

مختصر سوالات (30–40 الفاظ)

1. اِس سبق میں شامل غزل کس شاعر کی ہے اور اُس کا اصل نام کیا تھا؟

جوابیہ غزل امیر مینائی کی ہے۔ اُن کا اصل نام امیر احمد تھا اور ’مینائی‘ اُن کا خاندانی نسبتی نام ہے۔ وہ 1828ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور اپنے عہد کے مشہور استاد شاعر تھے۔

2. غزل کا مطلع کیا ہے اور اِس کا مرکزی خیال کیا ہے؟

جوابمطلع ہے— ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘۔ اِس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہر بڑی آرزو کے لیے اُس کے لائق حوصلہ اور قربانی کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔

3. ’جلوۂ معشوق‘ والے شعر میں شاعر کیا پیغام دیتا ہے؟

جوابشاعر کہتا ہے کہ محبوب (خدا) کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے، صرف دیکھنے والی نظر چاہیے۔ اگر دیدار کا شوق ہے تو پہلے اپنے اندر بصیرت اور پاکیزہ نظر پیدا کرنی چاہیے۔ اِس شعر میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔

4. ’چرخِ کہن‘ سے شاعر کیا مطالبہ کرتا ہے؟

جوابشاعر پرانے آسمان (چرخِ کہن) سے کہتا ہے کہ تیری مسلسل گردش تبھی کارگر اور بامقصد ہے جب تُو غم کی رات کے بعد سکھ کی صبح بھی لائے، یعنی دکھ کے بعد خوشی کا اجالا بھی نصیب کرے۔

5. غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

جوابغزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے بڑا حوصلہ، صبر اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ انسان کو محض آرزو نہیں، بلکہ اُس کے لائق ظرف، ہمت اور پختہ ارادہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔

طویل سوالات (100–120 الفاظ)

6. امیر مینائی کی اِس غزل کا مرکزی خیال اور پیغام تفصیل سے بیان کیجیے۔

جوابامیر مینائی کی یہ غزل عشق و محبت کی روایتی غزل سے آگے بڑھ کر ہمت، حوصلے اور قربانی کا پیغام دیتی ہے۔ مطلع میں شاعر یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جو شخص بڑی آرزو رکھتا ہے، اُسے اُس کے لائق حوصلہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔ آگے وہ آزادی کی خوشبو پھیلانے، محبوب کے جلوے کو دیکھنے کے لیے بصیرت پیدا کرنے، اور غم کی رات کے بعد خوشی کی صبح لانے کی بات کرتا ہے۔ پوری غزل کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ کامیابی اور بڑے مقاصد کے لیے مستحکم دل، پختہ ارادہ، صبر اور قربانی ناگزیر ہیں۔ کمزور دل والے بڑی منزلیں سر نہیں کر سکتے۔

7. اِس غزل میں آزادی اور جدوجہد کا تصور کیسے بیان ہوا ہے؟

جواباِس غزل میں آزادی اور جدوجہد کا تصور نہایت لطیف انداز میں بیان ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر اِس دنیا کے باغ میں آزادی کا رنگ بھرنا ہے تو پھول کی خوشبو کی طرح سفر اور جدوجہد کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔ جیسے خوشبو ایک جگہ ٹھہرتی نہیں بلکہ ہوا کے ساتھ ہر طرف پھیل جاتی ہے، اِسی طرح آزادی کا پیغام بھی مسلسل عمل، حرکت اور قربانی سے ہی پھیلتا ہے۔ مطلع کا ’سرفروشی‘ اور ’جگر‘ کا ذکر بھی قربانی اور جانثاری کے جذبے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یوں شاعر بتاتا ہے کہ آزادی محض آرزو سے نہیں، عمل اور قربانی سے ملتی ہے۔

8. اِس غزل میں تصوف اور اخلاقی پہلو کس طرح نمایاں ہیں؟

جوابامیر مینائی کی شاعری میں عشقیہ رنگ کے ساتھ تصوف اور اخلاق کا پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے، جو اِس غزل میں صاف جھلکتا ہے۔ ’کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں‘ میں یہ تصوفانہ خیال ہے کہ خدا کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے، صرف دیکھنے والی نظر اور بصیرت درکار ہے۔ اخلاقی پہلو یہ ہے کہ شاعر بار بار ہمت، صبر، قربانی اور پختہ ارادے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ انسان کو محض خواہش نہیں، بلکہ اُس کے لائق حوصلہ بھی پیدا کرنا چاہیے۔ یوں یہ غزل قاری کو دیدۂ بینا، صبر اور بلند حوصلگی کی تعلیم دیتی ہے، جو تصوف اور اخلاق دونوں کی اساس ہیں۔

MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)

1. یہ غزل کس شاعر کی ہے؟

(الف) داغ دہلوی

(ب) امیر مینائی

(ج) مرزا غالب

(د) مومن خاں مومن

جواب(ب) امیر مینائی۔

2. امیر مینائی کا اصل نام کیا تھا؟

(الف) امیر احمد

(ب) نواب مرزا

(ج) اسد اللہ

(د) محمد ابراہیم

جواب(الف) امیر احمد۔

3. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟

(الف) نظم

(ب) افسانہ

(ج) غزل

(د) قطعہ

جواب(ج) غزل۔

4. غزل کا قافیہ کیا ہے؟

(الف) پیدا کر

(ب) جگر، سر، نظر، اثر

(ج) باغ

(د) فلک

جواب(ب) جگر، سر، نظر، اثر۔

5. غزل کی ردیف کیا ہے؟

(الف) پیدا کر

(ب) ہوس

(ج) تمنا

(د) سفر

جواب(الف) پیدا کر۔

6. ’نکہت‘ کے معنی ہیں—

(الف) رنگ

(ب) خوشبو، مہک

(ج) کانٹا

(د) شاخ

جواب(ب) خوشبو، مہک۔

7. ’سرفروشی‘ کا مطلب ہے—

(الف) سر جھکانا

(ب) جان قربان کرنا

(ج) سر اٹھانا

(د) سر چھپانا

جواب(ب) جان قربان کرنا۔

8. شاعر کس سے فریاد کرتا ہے کہ ’آہ میں اتنا تو اثر پیدا کر‘؟

(الف) معشوق سے

(ب) فلک (آسمان) سے

(ج) زمین سے

(د) باغ سے

جواب(ب) فلک (آسمان) سے۔

9. شعر ’رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا‘ میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے؟

(الف) صنعتِ تضاد

(ب) صنعتِ مراعاۃ النظیر

(ج) صنعتِ تلمیح

(د) صنعتِ تجنیس

جواب(ب) صنعتِ مراعاۃ النظیر (رنگ، باغ، نکہت، گل)۔

10. غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

(الف) دولت ہی سب کچھ ہے

(ب) بڑے مقصد کے لیے بڑا حوصلہ اور قربانی چاہیے

(ج) ہر بات قسمت پر چھوڑ دینی چاہیے

(د) محبت سے بچنا چاہیے

جواب(ب) بڑے مقصد کے لیے بڑا حوصلہ اور قربانی چاہیے۔
جوابی کلید: 1-(ب)، 2-(الف)، 3-(ج)، 4-(ب)، 5-(الف)، 6-(ب)، 7-(ب)، 8-(ب)، 9-(ب)، 10-(ب)

تصدیق-وجہ (Assertion-Reason) – نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں صحیح، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں صحیح، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A صحیح، R غلط۔ (د) A غلط، R صحیح۔

1. تصدیق (A): شاعر کہتا ہے کہ تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر۔

وجہ (R): ہر بڑی خواہش اور آزمائش کے لیے اُس کے لائق حوصلہ اور برداشت بھی ضروری ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

2. تصدیق (A): شاعر کے نزدیک محبوب کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے۔

وجہ (R): محبوب کا جلوہ دیکھنے کے لیے کسی نظر یا بصیرت کی ضرورت نہیں۔

جواب(ج) A صحیح ہے، مگر R غلط ہے – شاعر کے مطابق دیدار کے لیے دیکھنے والی نظر پیدا کرنا ضروری ہے۔

3. تصدیق (A): شاعر فلک سے کہتا ہے کہ اُس کی آہ میں بجلی کا اثر پیدا کرے۔

وجہ (R): شاعر اپنی فریاد میں شدت اور تاثیر چاہتا ہے تاکہ وہ بے اثر نہ رہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

4. تصدیق (A): ’شبِ غم کی سحر پیدا کرنا‘ سے مراد غم کے بعد خوشی لانا ہے۔

وجہ (R): ’سحر‘ کے معنی صبح اور ’شبِ غم‘ کے معنی غم کی رات ہیں۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

5. تصدیق (A): غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں۔

وجہ (R): مقطع میں شاعر اپنا تخلص (یہاں ’امیرؔ‘) استعمال کرتا ہے۔

جواب(الف) A اور R دونوں صحیح ہیں اور R، A کی صحیح وضاحت کرتا ہے۔

امتحانی مشورے اور عام غلطیاں

امتحانی مشورے (Exam Tips)

  • غزل کا مطلع، مقطع، قافیہ (جگر، سر، نظر، اثر) اور ردیف (پیدا کر) اچھی طرح یاد رکھیں۔
  • شاعر امیر مینائی کا اصل نام (امیر احمد)، سنہ پیدائش (1828) اور مقامِ پیدائش (لکھنؤ) درست لکھیں۔
  • اہم اشعار زبانی یاد کریں اور اُن کی تشریح اپنے الفاظ میں واضح لکھنے کی مشق کریں۔
  • صنعتیں (مراعاۃ النظیر، تضاد) اور مرکب الفاظ کی مثالیں شعر کے حوالے سے یاد رکھیں۔
  • مشکل الفاظ کے معنی (نکہت، فلک، چرخِ کہن، سحر) جملوں کے ساتھ یاد کریں۔

عام غلطیاں (Common Mistakes)

  • غزل کی صنف کو غلطی سے نظم یا قطعہ لکھ دینا – یہ غزل ہے۔
  • قافیہ اور ردیف کو آپس میں اُلٹ دینا – قافیہ ’جگر، سر…‘ ہے اور ردیف ’پیدا کر‘ ہے۔
  • ’جگر‘ کا لفظی ترجمہ (کلیجا) کر دینا، جبکہ یہاں اِس کا مطلب حوصلہ/ہمت ہے۔
  • امیر مینائی کو غالب یا داغ کے ساتھ خلط ملط کر دینا۔
  • ’سرفروشی‘ کا مطلب صرف ’سر بیچنا‘ لکھ دینا – اِس کا مطلب جان نچھاور کرنا/قربانی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

جمنا کلاس 9 کا نواں سبق کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کے شاعر کون ہیں؟

یہ سبق ایک غزل ہے اور اِس کے شاعر امیر مینائی ہیں۔ غزل کا مطلع ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر‘ ہے، جو ہمت اور قربانی کا پیغام دیتی ہے۔

اِس غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

مرکزی پیغام یہ ہے کہ بڑے مقصد اور بڑی آرزو کے لیے بڑا حوصلہ، صبر اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ انسان کو محض خواہش نہیں، بلکہ اُس کے لائق ظرف اور ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔

’شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر‘ سے شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

شاعر کہتا ہے کہ محبوب (خدا) کا جلوہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس دیکھنے والی نظر اور بصیرت چاہیے۔ دیدار کا شوق رکھنے والے کو پہلے اپنے اندر دیکھنے کی پاکیزہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔

اشعار اور مشق/سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ تشریح، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top