Class 9 Urdu Jamuna Chapter 9 Ghazal Solutions (NCERT 2026–27) – غزل – تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
This page gives the complete solution for Class 9 Urdu Jamuna (جمنا) Chapter 9 ‘Ghazal’ (غزل) by Ameer Meenai (امیر مینائی) – the famous ghazal ‘Teer khane ki hawas hai to jigar paida kar’ – with poet intro, all اشعار transcribed verbatim, خلاصہ (gist), word-meanings, تشریح (explanation of every couplet), and original, exam-ready answers to every question of the book’s exercises (سوچیے اور بتائیے، صنعتِ مراعاۃ النظیر، معنی، صنعتِ تضاد، محاورے، لسانی سرگرمی، گفتگو، تلاش، پروجیکٹ، عملی کام), plus extra questions, MCQs, تصدیق-وجہ and FAQs. یہ صفحہ نویں جماعت کی اردو کتاب ’جمنا‘ کے نویں سبق — امیر مینائی کی غزل ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر‘ — کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔
- سبق کا تعارف (Overview)
- شاعر کا تعارف (About Ameer Meenai)
- منتخب اشعار / متنِ غزل (The Ghazal)
- خلاصہ (Summary / Gist)
- مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
- تشریح (Explanation of اشعار)
- سوالات و مشق (Exercise)
- اضافی سوالات (Extra Questions)
- MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
- امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
سبق کا تعارف (Chapter Overview)
یہ سبق امیر مینائی کی ایک مشہور و معروف غزل ہے، جس کا مطلع ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر، سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘ ہے۔ یہ غزل دراصل عشق و محبت کی روایتی غزل سے آگے بڑھ کر ہمت، حوصلے، قربانی اور جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے بڑی قربانی اور بڑا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ آزادی کی خوشبو پھیلانی ہو، محبوب کا دیدار کرنا ہو یا غم کی رات میں صبح لانی ہو – ہر منزل کے لیے اپنے اندر اُسی کے مطابق جذبہ اور صلاحیت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ انسان کو ہر آرزو کے ساتھ اُس کے لائق ظرف، ہمت اور قربانی کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے۔
شاعر کا تعارف – امیر مینائی (1828–1900)
امیر مینائی کا اصل نام امیر احمد تھا اور وہ 1828ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ’مینائی‘ اُن کا خاندانی نسبتی نام ہے۔ وہ اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ عربی زبان و ادب پر بھی گہری دسترس رکھتے تھے اور علمِ تصوف، فقہ اور لغت میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ابتدا میں وہ واجد علی شاہ کے دربارِ اودھ سے وابستہ رہے اور بعد میں ریاستِ رام پور اور پھر ریاستِ حیدرآباد سے منسلک ہوئے۔ امیر مینائی اپنے عہد کے مشہور استاد شاعر تھے اور داغ دہلوی کے ہم عصر سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں زبان کی صفائی، روانی، سلاست اور لطیف خیال آرائی نمایاں ہے۔ اُن کے کلام میں عشقیہ رنگ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور تصوفانہ پہلو بھی ملتے ہیں۔ اُن کی مشہور تصانیف میں ’مراۃ الغیب‘ اور دیوان ’صنمِ خانۂ عشق‘ شامل ہیں۔ امیر مینائی کا انتقال 1900ء میں حیدرآباد میں ہوا۔
منتخب اشعار / متنِ غزل (The Ghazal — verbatim)
(غزل کے تمام اشعار NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ نقل کیے گئے ہیں۔)
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا
نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر
کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر
اے فلک! آہ میں اتنا تو اثر پیدا کر
اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخِ کہن
جب میں جانوں کہ شبِ غم کی سحر پیدا کر
صدمے الفت کے اٹھانے ہیں ابھی مشکل
دل اگر ایک دیا، لاکھ جگر پیدا کر
عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔ
دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر
— امیر مینائی
خلاصہ (Summary / Gist)
یہ غزل امیر مینائی کے بلند خیال اور پُرعزم لہجے کی عمدہ مثال ہے۔ غزل کے مطلع میں شاعر یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جو شخص بڑی آرزو رکھتا ہے، اُسے اُس کے لائق ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے – تیر سہنے کی خواہش ہے تو جگر (حوصلہ) پیدا کرو، اور سرفروشی (جان دینے) کی تمنا ہے تو پہلے ویسا حوصلہ مند سر پیدا کرو۔ دوسرے شعر میں شاعر آزادی کا پیغام دیتا ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے ساتھ ہر طرف پھیل جاتی ہے، اِسی طرح آزادی کی خوشبو پھیلانے کے لیے سفر اور جدوجہد کا شوق پیدا کرنا چاہیے۔
آگے شاعر کہتا ہے کہ محبوب (خدا) کا جلوہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس دیکھنے والی نظر چاہیے – دیدار کا شوق ہے تو پہلے دیکھنے کی صلاحیت اور بصیرت پیدا کرو۔ پھر وہ آسمان (فلک) سے فریاد کرتا ہے کہ اُس کی آہ میں اتنا اثر ہو کہ بجلی بن کر اُسی کے دل پر گرے۔ ایک شعر میں شاعر پرانے آسمان (چرخِ کہن) سے کہتا ہے کہ تیری مسلسل گردش تبھی کارگر ہے جب تُو غم کی رات کے بعد سکھ کی صبح بھی لائے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ ہر بڑی منزل کے لیے بڑا حوصلہ، صبر اور قربانی درکار ہوتی ہے، اور انسان کو محض آرزو نہیں بلکہ اُس کے لائق ظرف اور ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ مقطع میں شاعر تخلص (امیرؔ) کے ساتھ کہتا ہے کہ عشق کا حوصلہ رکھنے والے کو لوہے جیسا مضبوط دل اور پتھر جیسا سخت جگر بنانا پڑتا ہے۔
Hindi gist: अमीर मीनाई की यह ग़ज़ल हिम्मत, हौसले और क़ुर्बानी का पैग़ाम देती है। शायर कहता है कि बड़ी आरज़ू के लिए वैसा ही बड़ा हौसला और जिगर पैदा करना पड़ता है — तीर खाने की चाह है तो जिगर पैदा करो, दीदार चाहते हो तो देखने वाली नज़र पैदा करो। हर मंज़िल के लिए उसके लायक़ हिम्मत और सब्र ज़रूरी है।
مشکل الفاظ کے معانی (Word-meanings)
| لفظ | हिन्दी अर्थ | English meaning |
|---|---|---|
| ہوس | लालच, तीव्र इच्छा | Greed, intense desire |
| جگر | हिम्मत, साहस; कलेजा | Courage, fortitude; liver |
| سرفروشی | जान न्योछावर करना, बलिदान | Self-sacrifice, martyrdom |
| تمنا | इच्छा, आरज़ू | Wish, longing |
| نکہت | ख़ुशबू, महक | Fragrance, scent |
| گل | फूल | Flower, rose |
| شوقِ سفر | यात्रा/जद्दोजहद का शौक़ | Zeal for the journey / struggle |
| جا | जगह, स्थान | Place |
| جلوہ | झलक, नज़ारा, दर्शन | Glimpse, manifestation |
| معشوق | प्रियतम, माशूक़ | The beloved |
| دیدار | दर्शन, देखना | Sight, seeing (the beloved) |
| نظر | दृष्टि, देखने की क्षमता/बसीरत | Sight, vision, insight |
| فلک | आसमान | Sky, heavens |
| آہ | ठंडी साँस, फ़र्याद | Sigh, lament |
| اثر | प्रभाव, असर | Effect, influence |
| چرخِ کہن | पुराना आसमान, गर्दिशे-ज़माना | The old sky / fate, time |
| گردش | घूमना, चक्कर; उतार-चढ़ाव | Revolving; vicissitude |
| شبِ غم | ग़म की रात | Night of sorrow |
| سحر | सुबह, भोर | Dawn, morning |
| الفت | मुहब्बत, प्रेम | Love, affection |
| صدمہ | आघात, चोट, दुख | Shock, blow, grief |
| حوصلہ | हिम्मत, धैर्य, हौसला | Courage, resolve |
تشریح (Explanation of اشعار)
شعر 1 (مطلع)
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
شاعر کہتا ہے کہ اگر تجھے تیر سہنے (مصیبت جھیلنے) کی آرزو ہے تو پہلے اپنے اندر اُتنا بڑا جگر یعنی حوصلہ اور برداشت پیدا کر۔ اِسی طرح اگر تُو جان قربان کرنے (سرفروشی) کا خواہش مند ہے تو پہلے ویسا ہی بہادر اور قربانی کے لیے تیار سر پیدا کر۔ مطلب یہ کہ ہر بڑی خواہش کے لیے اُس کے لائق ہمت اور صلاحیت بھی ضروری ہے۔
شعر 2
نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر
شاعر اِس دنیا (باغ) میں آزادی کا رنگ پھیلانے کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے دوش پر سفر کر کے ہر طرف پھیل جاتی ہے، اِسی طرح آزادی کا پیغام پھیلانے کے لیے بھی تجھے سفر، جدوجہد اور قربانی کا شوق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ شعر آزادی اور حرکت و عمل کا حوصلہ افزا پیغام دیتا ہے۔
شعر 3
شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
اِس شعر میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں محبوب (خدا) کا جلوہ موجود نہ ہو؛ اُس کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہیں۔ مسئلہ دیکھنے والی نظر کا ہے۔ اگر تجھے دیدار کا شوق ہے تو پہلے اپنے اندر دیکھنے والی بصیرت اور پاکیزہ نظر پیدا کر، تب ہر شے میں محبوب کا جلوہ دکھائی دے گا۔
شعر 6
دل اگر ایک دیا، لاکھ جگر پیدا کر
شاعر کہتا ہے کہ محبت کے راستے میں بے شمار صدمے اور دکھ اٹھانے پڑتے ہیں، اور یہ آسان نہیں۔ قدرت نے انسان کو ایک ہی دل دیا ہے، مگر عشق کی مشکلیں جھیلنے کے لیے ایک دل کافی نہیں۔ اِس لیے شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک دل ملا ہے تو اُس کے ساتھ لاکھ جگر (بے پناہ حوصلہ) بھی پیدا کر، تاکہ محبت کے صدمے برداشت کیے جا سکیں۔
شعر 7 (مقطع)
دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر
مقطع میں شاعر اپنے تخلص ’امیرؔ‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے امیر! اگر تُو واقعی عشق کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو محض جذبہ کافی نہیں۔ تجھے لوہے جیسا مضبوط دل اور پتھر جیسا سخت و مستحکم جگر بنانا ہوگا، تاکہ تُو عشق کی آزمائشوں اور مشکلوں کا مقابلہ کر سکے۔ یہ شعر بھی پوری غزل کے مرکزی پیغام — ہمت اور پختہ حوصلے — کو دہراتا ہے۔
سوالات و مشق (Exercise)
سوچیے اور بتائیے
(i) ’نکہتِ گل‘ کی طرح ’شوقِ سفر‘ پیدا کرنے کو کیوں کہا گیا ہے؟
(ii) ’آہ میں بجلی کا اثر پیدا کرنے‘ کے معنی کیا ہیں؟
(iii) ’شبِ غم کی سحر‘ پیدا کرنے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
(iv) ’لوہے کا دل اور پتھر کا جگر‘ سے کیا مراد ہے؟
پڑھیے سمجھیے اور لکھیے (صنعتِ مراعاۃ النظیر)
اِس شعر میں جن الفاظ میں صنعتِ مراعاۃ النظیر استعمال ہوئی ہے، اُنھیں تلاش کر کے لکھیے—
رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا / نکہتِ گل کی طرح شوقِ سفر پیدا کر
(معنی کے اعتبار سے ضد / صنعتِ تضاد)
اِس شعر میں صنعتِ تضاد تلاش کر کے لکھیے—
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے / جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
محاورے (جگر، سر، دل، نظر)
سبق میں آئے الفاظ ’جگر، سر، دل، نظر‘ سے متعلق اردو میں متعدد محاورے مستعمل ہیں۔ اِن کے معنی لکھ کر اِنھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔
| محاورہ | معنی | جملہ |
|---|---|---|
| جگر تھام کر بیٹھنا | صبر و ضبط سے کام لینا | بُری خبر سن کر سب جگر تھام کر بیٹھ گئے۔ |
| سر دھڑ کی بازی لگانا | جان کی پروا کیے بغیر جدوجہد کرنا | سپاہیوں نے وطن کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ |
| دل پر پتھر رکھنا | بڑے دکھ کو ضبط کرنا | ماں نے دل پر پتھر رکھ کر بیٹے کو پردیس بھیجا۔ |
| نظر پھیر لینا | بے رخی برتنا، بے توجہی کرنا | دولت آتے ہی اُس نے پرانے دوستوں سے نظر پھیر لی۔ |
لسانی سرگرمی (حرفِ تخصیص اور مرکب لفظ)
(الف) شعر ’میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر‘ میں لفظ ’مرے‘ اور ’اثر‘ پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ’حرفِ تخصیص‘ کہلاتے ہیں۔ ’ہی‘ جیسے حروفِ تخصیص استعمال کر کے دو جملے لکھیے۔
(ii) یہ کام تم ہی بہتر طور پر کر سکتے ہو۔
(یہاں ’صرف‘، ’ہی‘ حروفِ تخصیص ہیں جو کسی بات کو خاص کرتے ہیں۔)
(ب) ’نکہتِ گل‘ ایک مرکب لفظ ہے جو دو الفاظ کے درمیان زیر کی اضافت سے بنا ہے۔ غزل میں ایسے دو دیگر مرکب الفاظ تلاش کیجیے۔
گفتگو کیجیے
یہ غزل کا پہلا شعر ہے— ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘۔ اِسے غزل کا پہلا شعر کیا کہتے ہیں؟ اِس کی کیا خوبی ہے؟ ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔
تلاش کیجیے
درج ذیل مفہوم والے اشعار تلاش کیجیے اور لکھیے—
(الف) جاں بازی اور قربانی کا جذبہ
(ب) پھول کی خوشبو
آپ کی رائے
اِس غزل میں شوقِ سفر کے معنی مسلسل جدوجہد بھی ہے۔ آپ اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
پروجیکٹ
’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر / سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر‘ — اِس شعر پر غور کیجیے۔ اِن الفاظ جیسی ہم آواز الفاظ پر مشتمل دیگر اشعار تلاش کر کے لکھیے۔
عملی کام
بیت بازی کے لیے ایک ڈائری بنائیے جس میں الف سے لے کر ’ی‘ تک ہر حرف لکھ لیجیے اور ہر حرف کے لیے زیادہ سے زیادہ اشعار تلاش کر کے اپنی ڈائری میں لکھیے۔
اضافی سوالات (Extra Questions)
مختصر سوالات (30–40 الفاظ)
1. اِس سبق میں شامل غزل کس شاعر کی ہے اور اُس کا اصل نام کیا تھا؟
2. غزل کا مطلع کیا ہے اور اِس کا مرکزی خیال کیا ہے؟
3. ’جلوۂ معشوق‘ والے شعر میں شاعر کیا پیغام دیتا ہے؟
4. ’چرخِ کہن‘ سے شاعر کیا مطالبہ کرتا ہے؟
5. غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
طویل سوالات (100–120 الفاظ)
6. امیر مینائی کی اِس غزل کا مرکزی خیال اور پیغام تفصیل سے بیان کیجیے۔
7. اِس غزل میں آزادی اور جدوجہد کا تصور کیسے بیان ہوا ہے؟
8. اِس غزل میں تصوف اور اخلاقی پہلو کس طرح نمایاں ہیں؟
MCQ & تصدیق-وجہ (Assertion-Reason)
1. یہ غزل کس شاعر کی ہے؟
(الف) داغ دہلوی
(ب) امیر مینائی
(ج) مرزا غالب
(د) مومن خاں مومن
2. امیر مینائی کا اصل نام کیا تھا؟
(الف) امیر احمد
(ب) نواب مرزا
(ج) اسد اللہ
(د) محمد ابراہیم
3. اِس سبق کی صنف کیا ہے؟
(الف) نظم
(ب) افسانہ
(ج) غزل
(د) قطعہ
4. غزل کا قافیہ کیا ہے؟
(الف) پیدا کر
(ب) جگر، سر، نظر، اثر
(ج) باغ
(د) فلک
5. غزل کی ردیف کیا ہے؟
(الف) پیدا کر
(ب) ہوس
(ج) تمنا
(د) سفر
6. ’نکہت‘ کے معنی ہیں—
(الف) رنگ
(ب) خوشبو، مہک
(ج) کانٹا
(د) شاخ
7. ’سرفروشی‘ کا مطلب ہے—
(الف) سر جھکانا
(ب) جان قربان کرنا
(ج) سر اٹھانا
(د) سر چھپانا
8. شاعر کس سے فریاد کرتا ہے کہ ’آہ میں اتنا تو اثر پیدا کر‘؟
(الف) معشوق سے
(ب) فلک (آسمان) سے
(ج) زمین سے
(د) باغ سے
9. شعر ’رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا‘ میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے؟
(الف) صنعتِ تضاد
(ب) صنعتِ مراعاۃ النظیر
(ج) صنعتِ تلمیح
(د) صنعتِ تجنیس
10. غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
(الف) دولت ہی سب کچھ ہے
(ب) بڑے مقصد کے لیے بڑا حوصلہ اور قربانی چاہیے
(ج) ہر بات قسمت پر چھوڑ دینی چاہیے
(د) محبت سے بچنا چاہیے
تصدیق-وجہ (Assertion-Reason) – نیچے تصدیق (A) اور وجہ (R) دی گئی ہے۔ صحیح متبادل چنیے—
(الف) A اور R دونوں صحیح، R، A کی صحیح وضاحت ہے۔ (ب) A اور R دونوں صحیح، مگر R، A کی صحیح وضاحت نہیں۔ (ج) A صحیح، R غلط۔ (د) A غلط، R صحیح۔
1. تصدیق (A): شاعر کہتا ہے کہ تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر۔
وجہ (R): ہر بڑی خواہش اور آزمائش کے لیے اُس کے لائق حوصلہ اور برداشت بھی ضروری ہے۔
2. تصدیق (A): شاعر کے نزدیک محبوب کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے۔
وجہ (R): محبوب کا جلوہ دیکھنے کے لیے کسی نظر یا بصیرت کی ضرورت نہیں۔
3. تصدیق (A): شاعر فلک سے کہتا ہے کہ اُس کی آہ میں بجلی کا اثر پیدا کرے۔
وجہ (R): شاعر اپنی فریاد میں شدت اور تاثیر چاہتا ہے تاکہ وہ بے اثر نہ رہے۔
4. تصدیق (A): ’شبِ غم کی سحر پیدا کرنا‘ سے مراد غم کے بعد خوشی لانا ہے۔
وجہ (R): ’سحر‘ کے معنی صبح اور ’شبِ غم‘ کے معنی غم کی رات ہیں۔
5. تصدیق (A): غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں۔
وجہ (R): مقطع میں شاعر اپنا تخلص (یہاں ’امیرؔ‘) استعمال کرتا ہے۔
امتحانی مشورے اور عام غلطیاں
امتحانی مشورے (Exam Tips)
- غزل کا مطلع، مقطع، قافیہ (جگر، سر، نظر، اثر) اور ردیف (پیدا کر) اچھی طرح یاد رکھیں۔
- شاعر امیر مینائی کا اصل نام (امیر احمد)، سنہ پیدائش (1828) اور مقامِ پیدائش (لکھنؤ) درست لکھیں۔
- اہم اشعار زبانی یاد کریں اور اُن کی تشریح اپنے الفاظ میں واضح لکھنے کی مشق کریں۔
- صنعتیں (مراعاۃ النظیر، تضاد) اور مرکب الفاظ کی مثالیں شعر کے حوالے سے یاد رکھیں۔
- مشکل الفاظ کے معنی (نکہت، فلک، چرخِ کہن، سحر) جملوں کے ساتھ یاد کریں۔
عام غلطیاں (Common Mistakes)
- غزل کی صنف کو غلطی سے نظم یا قطعہ لکھ دینا – یہ غزل ہے۔
- قافیہ اور ردیف کو آپس میں اُلٹ دینا – قافیہ ’جگر، سر…‘ ہے اور ردیف ’پیدا کر‘ ہے۔
- ’جگر‘ کا لفظی ترجمہ (کلیجا) کر دینا، جبکہ یہاں اِس کا مطلب حوصلہ/ہمت ہے۔
- امیر مینائی کو غالب یا داغ کے ساتھ خلط ملط کر دینا۔
- ’سرفروشی‘ کا مطلب صرف ’سر بیچنا‘ لکھ دینا – اِس کا مطلب جان نچھاور کرنا/قربانی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
جمنا کلاس 9 کا نواں سبق کس صنف سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کے شاعر کون ہیں؟
یہ سبق ایک غزل ہے اور اِس کے شاعر امیر مینائی ہیں۔ غزل کا مطلع ’تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر‘ ہے، جو ہمت اور قربانی کا پیغام دیتی ہے۔
اِس غزل کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
مرکزی پیغام یہ ہے کہ بڑے مقصد اور بڑی آرزو کے لیے بڑا حوصلہ، صبر اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ انسان کو محض خواہش نہیں، بلکہ اُس کے لائق ظرف اور ہمت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔
’شوقِ دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر‘ سے شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟
شاعر کہتا ہے کہ محبوب (خدا) کا جلوہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس دیکھنے والی نظر اور بصیرت چاہیے۔ دیدار کا شوق رکھنے والے کو پہلے اپنے اندر دیکھنے کی پاکیزہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔
اشعار اور مشق/سوالات کے سوالات اور اُن کی ترتیب NCERT جمنا کتاب سے بعینہٖ لیے گئے ہیں؛ تشریح، تعارف، معنی اور تمام جوابات ClearStudy کے مولّفہ و ماہر-جانچے ہوئے ہیں۔
